نیلی روشنیوں کا نروان/مقصود جعفری

فٹ پاتھ کے کنارے لگے سگنل کی سرخ بتی نے ٹھیک اسی لمحے آنکھ جھپکائی جب سدھارتھ نے اپنی پرانی سوزوکی مہران کا انجن بند کیا۔ باہر ٹریفک کا ایک سمندر تھا جو پائپ لائن میں پھنسے ہوئے گندے پانی کی طرح شور مچا رہا تھا۔ دھوئیں کے مرغولوں نے شہر کے ماتھے پر ایک سیاہ تلک لگا دیا تھا۔
سدھارتھ نے برابر والی سیٹ پر رکھا ہوا چمڑے کا بریف کیس کھولا، لیپ ٹاپ کی سکرین روشن کی اور پھر کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھنے لگا۔ سامنے ایک بڑا سا بل بورڈ تھا جس پر ایک خوبصورت ماڈل ہاتھ میں سمارٹ واچ پہنے مسکرا رہی تھی۔ اس کے نیچے جلی حروف میں لکھا تھا۔ وقت آپ کی مٹھی میں ہے۔وقت مٹھی میں نہیں ہوتا، مٹھی وقت میں ہوتی ہے۔سدھارتھ نے سرگوشی کی۔
برابر میں کھڑے رکشے سے ایک ادھیڑ عمر آدمی نے گردن باہر نکالی اور پان کی پیک تھوکتے ہوئے پوچھا۔باو جی ! یہ سگنل کھلے گا یا یہیں تپسیا کرنی پڑے گی؟۔سدھارتھ مسکرایا۔ تپسیا کے لیے جنگل کی ضرورت نہیں ہوتی، بھائی صاحب۔ یہ دھواں، یہ ہارن، یہ بے چینی… یہی ہمارا آج کا نروان ہے۔رکشے والے نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا اور ریڈیو کی آواز تیز کر دی۔ ریڈیو پر سٹاک ایکسچینج کے گرتے ہوئے پوائنٹس کا نوحہ پڑھا جا رہا تھا۔
سگنل سبز ہوا تو گاڑیوں کا ہجوم ایک وحشی ریلے کی طرح دوڑنے لگا۔ سدھارتھ نے گاڑی ایک کثیر المنزلہ شیشے کی عمارت کے سامنے روکی۔ یہ اس کا دفتر تھا۔ لابی میں داخل ہوتے ہی اسے ٹھنڈی اے سی کی ہوا نے چھوا، جو کسی غار کی ٹھنڈک جیسی مصنوعی تھی۔ تیرہویں منزل پر اس کا کیبن تھا۔ وہاں دیوار پر ایک پینٹنگ لگی تھی جس میں بدھ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے اور بدھ کے کانوں میں بلوٹوتھ ہینڈز فری لگی ہوئی تھی۔
شام کے پانچ بجے باس نے اسے بلایا۔ باس کی آنکھیں نیند کی کمی سے سرخ تھیں اور وہ مسلسل کافی پی رہا تھا۔سدھارتھ ! ہمیں اس پراجیکٹ کی ڈیڈ لائن کل تک ختم کرنی ہے۔ تم جانتے ہو۔ڈیزائر ہی سب کچھ ہے۔ اگر ہم یہ کلائنٹ ہار گئے تو ہماری مارکیٹ ویلیو ختم ہو جائے گی۔سدھارتھ نے میز پر پڑے ہوئے پیپر ویٹ کو دیکھا۔ سر ! خواہش تو دکھ کی بنیاد ہے۔ کیا ہم تھوڑی دیر کے لیے رک نہیں سکتے؟۔باس کھلکھلا کر ہنسا۔ رکنا موت ہے سدھارتھ۔ یہ میٹرو پولیٹن زندگی کا پہلا اصول ہے۔ یہاں بدھ بھی پیدا ہو تو اسے بھی ٹارگٹ پورا کرنا پڑے۔”
سدھارتھ اپنے کیبن میں واپس آگیا۔ اس نے کمپیوٹر شٹ ڈاؤن کیا۔ اسے اچانک محسوس ہوا کہ اس کے جسم سے ایک عجیب سی خوشبو آ رہی ہے—چندن کی نہیں، بلکہ جلے ہوئے ٹائروں اور فوٹو کاپیئر کی سیاہی کی ملی جلی خوشبو۔وہ لفٹ کے بجائے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا۔ ہر منزل پر لوگ فون پر چیخ رہے تھے، ای میلز ٹائپ کر رہے تھے، اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں تھے۔ جب وہ گراؤنڈ فلور پر پہنچا تو رات پھیل چکی تھی۔ شہر اب نیلی اور پیلی روشنیوں کا ایک جال بن چکا تھا۔
وہ اپنی گاڑی میں نہیں بیٹھا۔ وہ پیدل چلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ شہر کے اس حصے میں پہنچ گیا جہاں کچی بستیاں شروع ہوتی تھیں۔ وہاں ایک بوڑھی عورت کچرے کے ڈھیر سے پلاسٹک کی بوتلیں چن رہی تھی۔مائی، تم تھکتی نہیں ہو؟۔ سدھارتھ نے پوچھا۔عورت نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو سدھارتھ نے کارپوریٹ میٹنگز میں کبھی نہیں دیکھی تھی۔ بیٹا، پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے پاؤں کی آگ جلانی پڑتی ہے۔ تم جیسے بابو لوگ نروان ڈھونڈتے ہو، ہم روٹی ڈھونڈتے ہیں۔سدھارتھ رک گیا۔ اسے لگا جیسے سچائی کا پہلا پہر گزر گیا ہو۔
وہ ایک سستی سی چائے کی دکان پر بیٹھ گیا۔ وہاں ایک ٹی وی لگا تھا جس پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔شہر کے مشہور بزنس کنسلٹنٹ سدھارتھ لاپتہ۔ گاڑی سڑک کے کنارے کھلی پائی گئی۔سدھارتھ نے چائے کا گھونٹ بھرا اور اپنے مہنگے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دیے۔ اس نے اپنا سمارٹ فون نکالا ۔ فون کی سکرین پر نوٹیفیکیشن چمکا۔ Your storage is full. سدھارتھ نے فون قریب بہتے ہوئے گندے نالے میں پھینک دیا۔
وہ ننگے پاؤں سڑک پر چلنے لگا۔ اس کے ارد گرد ٹریفک کا شور اب ایک مدھم موسیقی میں بدل گیا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ لاکھوں لوگ چل رہے ہیں، سب کے سب سدھارتھ ہیں، سب کے سب یشودھرا کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں، لیکن کسی کے پاس کوئی بوُدھی کا درخت نہیں ہے۔اچانک وہ ایک بڑے شاپنگ مال کے سامنے رکا۔ مال کے باہر ایک بہت بڑا آئینہ لگا تھا۔ سدھارتھ نے اپنا عکس دیکھنا چاہا۔ لیکن شیشے میں اس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہاں صرف ایک بار کوڈ’ چمک رہا تھا۔
اس نے اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرا۔ وہاں گوشت پوست نہیں تھا، بلکہ پلاسٹک کی ٹھنڈک تھی۔پیچھے سے ایک پولیس والے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اے بھائی ! یہاں کھڑے ہو کر کیا دیکھ رہے ہو؟۔سدھارتھ مڑا۔ اس کی آنکھیں اب پتھرا چکی تھیں۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ نروان کے لیے اب جنگل جانے کی ضرورت نہیں۔ بس ڈسکنیکٹ (Disconnect) ہونا کافی ہے۔
پولیس والے نے وائرلیس پر کہا، کوڈ 404… ایک اور پاگل مل گیا ہے۔ یہ خود کو بدھ کہہ رہا ہے لیکن اس کی جیب میں آئی فون کا چارجر ہے۔سدھارتھ ہنسا۔ اس کی ہنسی کی آواز بلند ہوئی اور بلند ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ شہر کی تمام بلڈنگوں کے شیشے چٹخنے لگے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے نہیں تھے۔ وہاں صرف ڈرون اڑ رہے تھے جو روشنیوں کی مدد سے آسمان پر ایک نیا اشتہار لکھ رہے تھے۔
نروان—اب صرف999 روپے میں۔ ابھی آرڈر کریں !
سدھارتھ نے آنکھیں بند کر لیں اور فٹ پاتھ کے عین درمیان سکھ آسن میں بیٹھ گیا۔ ٹریفک اس کے ارد گرد سے گزرتی رہی، لیکن وہ اب ایک ٹریفک سگنل بن چکا تھا جس کی بتی ہمیشہ کے لیے سفید ہو گئی تھی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply