لیڈر بننے کا سفر- وژن: قیادت کی پہلی پہچان(1)-مصور خان

قیادت کا پہلا اور سب سے بنیادی وصف وژن ہے۔ وژن کے بغیر لیڈر محض ایک وقتی آواز بن کر رہ جاتا ہے، وہ رہنما نہیں بن پاتا جو قوموں کی تقدیر بدل سکے۔ وژن دراصل مستقبل کو حال میں دیکھنے کی صلاحیت ہے، یہ وہ فکری آنکھ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہوتی۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن معاشروں کو واضح سمت ملی، وہاں قیادت نعروں یا طاقت کے زور پر نہیں بلکہ دور اندیش وژن کی بنیاد پر کھڑی تھی۔ آج بھی اقوام کی ترقی یا زوال اسی ایک عنصر پر منحصر ہے۔
وژن رکھنے والا رہنما حالات کا اسیر نہیں ہوتا بلکہ حالات کو اپنے وژن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ فوری فائدے کے بجائے طویل المدتی نتائج پر نظر رکھتا ہے، اسی لیے اس کے فیصلے بعض اوقات غیر مقبول بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ یہی فیصلے قوموں کے حق میں درست ہوتے ہیں۔ وژن صرف سوچ یا خواب دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ اسے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو عام رہنما کو عظیم رہنما سے ممتاز کرتا ہے۔ وژن دراصل ذمہ داری کا دوسرا نام ہے، کیونکہ جو شخص مستقبل دیکھ سکتا ہے وہ حال سے لاپرواہ نہیں رہ سکتا۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت اس بات کی روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں قیادت کی جہاں قبائلی تعصب، ناانصافی اور انتشار عام تھا۔ آپ ﷺ کا وژن صرف ایک قوم یا ایک دور تک محدود نہیں تھا بلکہ انسانیت کی فلاح، عدل اور اخلاقی اصلاح سے جڑا ہوا تھا۔ مکہ کے مشکل حالات ہوں یا مدینہ میں ریاست کی تشکیل، ہر مرحلے پر یہ بات نمایاں رہی کہ قیادت وقتی ردِعمل نہیں بلکہ واضح سمت اور طویل المدتی وژن کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے وژن کو عملی اقدام میں ڈھالا اور اخلاق، عدل اور خدمت کی بنیاد پر معاشرہ تشکیل دیا۔
دنیا کی تاریخ میں بھی عظیم لیڈرز کی کامیابی کا راز وژن ہی رہا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے ایک ایسے معاشرے کی قیادت کی جو نفرت اور نسلی تقسیم میں جکڑا ہوا تھا۔ ان کے سامنے انتقام کا راستہ موجود تھا، مگر انہوں نے مفاہمت اور قومی اتحاد کا وژن اختیار کیا۔ اسی وژن نے جنوبی افریقہ کو خانہ جنگی سے بچا کر ایک نئی زندگی دی۔
برصغیر کی تاریخ میں خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، وژنری قیادت کی ایک بے مثال مثال ہیں۔ انہوں نے تشدد، نفرت اور انتقام کے ماحول میں عدم تشدد، برداشت اور اصلاح کا وژن پیش کیا۔ ان کی قیادت کا مرکز اقتدار نہیں بلکہ کردار سازی تھی۔ باچا خان کا وژن یہ تھا کہ حقیقی آزادی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان خوف، جہالت اور نفرت سے آزاد ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست دان سے بڑھ کر ایک اخلاقی رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح مہاتما گاندھی نے بھی عدم تشدد اور اخلاقی جرات کا ایسا وژن پیش کیا جو صرف ایک قوم تک محدود نہ رہا۔ گاندھی کا وژن یہ تھا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ ہتھیار نہیں بلکہ کردار اور حق پر ڈٹ جانے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک کمزور نظر آنے والا راستہ بھی، اگر وژن واضح ہو، تو بڑی سلطنتوں کو جھکا سکتا ہے۔
ابراہم لنکن نے امریکی تاریخ کے سب سے مشکل دور میں قیادت سنبھالی۔ خانہ جنگی کے دوران ان کا مقصد صرف جنگ جیتنا نہیں بلکہ ریاست کو متحد رکھنا اور انسانی وقار کو بحال کرنا تھا۔ غلامی کے خاتمے کا فیصلہ ان کے وژن کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، جو وقتی سیاست سے کہیں آگے کی سوچ کا عکاس تھا۔
یورپ میں ونسٹن چرچل کی مثال بھی اہم ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب مایوسی نے برطانیہ کو گھیر رکھا تھا، چرچل کا وژن صرف جنگ لڑنے کا نہیں بلکہ قوم کے حوصلے کو زندہ رکھنے کا تھا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ شکست پہلے ذہن میں جنم لیتی ہے، میدان میں بعد میں۔ ان کا وژن امید اور استقلال پر مبنی تھا، جس نے قوم کو مشکل ترین حالات میں سہارا دیا۔
ان تمام مثالوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وژن کسی ایک مذہب، قوم یا خطے کی میراث نہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قیادت ہو، باچا خان اور گاندھی کی عدم تشدد پر مبنی جدوجہد ہو، یا منڈیلا، لنکن اور چرچل کی قومی بصیرت — مشترک نکتہ یہی ہے کہ سچا لیڈر ذاتی مفاد اور وقتی مقبولیت سے بلند ہو کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیتا ہے۔
عظیم وژن کے لیے قربانی بھی ضروری ہے۔ اکثر ایسے فیصلے جو قوم کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں، لیڈر کے ذاتی سکون یا فوری فوائد کے خلاف ہوتے ہیں۔ اسی لیے بہترین رہنما وہ ہے جو لوگوں کے فائدے کے لیے وقتی مشکلات اور تنقید برداشت کر سکے۔ اسی وژن کو حقیقی بنانے کے لیے عوام اور ٹیم کا تعاون بھی لازم ہے، کیونکہ لیڈر اکیلا نہیں بلکہ ایک اجتماعی مشن کی قیادت کرتا ہے۔
آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ ہم وژن کے بجائے شور کو قیادت سمجھنے لگے ہیں۔ بلند آوازیں، جذباتی تقاریر اور فوری وعدے وقتی جوش تو پیدا کر دیتے ہیں، مگر یہ وژن کا متبادل نہیں بن سکتے۔ وژن کے بغیر قیادت اندھی ہو جاتی ہے، اور اندھی قیادت قوموں کو ترقی کے بجائے مایوسی اور انتشار کی طرف لے جاتی ہے۔
میری ناقص رائے کے مطابق سچا لیڈر وہی ہے جو صرف موجودہ حالات کا جواب نہ دے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی راستہ متعین کرے۔ وژن قیادت کی بنیاد ہے، اور جب یہ بنیاد مضبوط ہو تو قومیں مشکل ترین حالات میں بھی امید، سمت اور استقامت برقرار رکھتی ہیں۔
جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply