• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • قانون کی حکمرانی : خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا(پہلا حصّہ)-محمد مشتاق

قانون کی حکمرانی : خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا(پہلا حصّہ)-محمد مشتاق

“قانون کی حکمرانی کسی بھی انسان کی حکمرانی سے بہتر ہے۔” ارسطو نے کہا تھا۔
(Rule of law is better than the rule of any individual.)
ایسا ہی ہوگا لیکن قانون کی حکمرانی کہتے کسے ہیں اور قانون کی حکمرانی کے تقاضے کیا ہیں؟ برطانیۂ عظمیٰ کے دستوری نظام کے گن گانے والے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی سے مراد یہ ہے کہ ریاست کا نظام دستور کے مطابق چلتا ہو ۔ برطانیہ کا دستور ایک طرح سے “ام الدساتیر” مانا جاتا ہے کیونکہ کئی ریاستوں نے اپنے دستور میں اس کے دیے گئے نظام کی پیروی کی ہے۔ جب امریکا نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کی اور کچھ عرصے بعد وفاق کی تشکیل کی تو اس وفاق کے دستور میں بھی کئی بنیادی نکات برطانیہ ہی کے دستور سے لیے گئے۔ البتہ دستور سازی کے دوران میں اور پھر اس کے بعد عدالتِ عظمی کی کاوشوں سے امریکی دستوری نظام نے بعض خصوصیات ایسی حاصل کرلیں جو برطانیہ میں اب بھی نہیں پائی جاتیں۔ برطانیہ اور امریکا کے دساتیر کا موازنہ کسی اور وقت۔ فی الحال توجہ “قانون کی حکمرانی” (Rule of Law) کے تصور پر مرکوز کرتے ہیں۔
ڈائسی (Dicey) نے، جس کی کتاب کو برطانیہ کے دستوری قانون کے موضوع پر کلاسیکس میں شمار کیا جاتا ہے، قراردیا تھا کہ برطانیہ کے دستوری نظام کی بنیادی خصوصیات دو ہیں: پارلیمانی نظام ِ حکومت اور قانون کی حکمرانی۔ پھر وہ قانون کی حکمرانی کی تین علامات ذکر کرتے ہیں:
1۔ یہ کہ طاقت کا جانب دارانہ استعمال نہ کیا جاسکے؛
2 ۔ یہ کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں؛ اور
3۔ برطانوی دستور کےقواعدِ عامہ (جن میں بیش تر “تحریر شدہ صورت”میں نہیں پائے جاتے بلکہ ججز کو دریافت کرنے پڑتے ہیں)۔
ڈائسی کے کئی ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی نظامِ حکومت میں تطبیق کیسے کی جاسکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پارلیمانی نظامِ حکومت میں حکمران (یعنی وزیر اعظم اور اس کی کابینہ) پارلیمان کے رکن ہوتے ہیں اور پارلیمان ہی قانون بناتی ہے۔ تو یہ قانون کی حکمرانی ہوئی یا حکمرانوں کی قانون سازی؟
مزید یہ کہ برطانیہ میں کیسے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں جبکہ برطانیہ میں ایک جانب “مقتدر اعلیٰ کے اختیارات” (sovereign prerogatives)بھی تسلیم کیے جاتے ہیں، جیسے عدالتوں سے سزایافتہ کسی بھی شخص کو معاف کرنا، اور دوسری جانب حکمرانوں اور سرکاری افسروں بلکہ ملازمین تک کو قانون اور عدالت سے استثنا اور خصوصی استحقاق (Immunities and Privileges) حاصل ہوتے ہیں؟ (ذرا اپنے دستور کی دفعہ 248 کا بھی جائزہ لیجیے جو صدر مملکت، گورنر، وزیر اعظم ،وفاقی وزرا، وزراے مملکت، وزیر اعلی اور صوبائی وزراے اعلی کو مقدمات سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور قرار دیتی ہے کہ ان افراد کے بجاے وفاق یا صوبے کے خلاف مقدمہ ہوسکتا ہے۔)
فرانس کے دستوری نظام کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی قانونی نظام وضع کیا جسے droit administratiff کہا جاتا ہے (انگریزی میں administrative lawاور اردو میں “انتظامی قانون “)۔ ڈائسی کا خیال یہ تھا کہ یہ نظام قانون کی حکمرانی کے تصور کے خلاف ہے کیونکہ اس طرح بعض لوگوں کے لیے خصوصی قانون ہوتا ہے اور عام قانون کا اطلاق ان خاص لوگوں پر نہیں ہوتا جو مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔ تاہم دستوری قانون کے کئی ماہرین اس نظام کو قانون کی حکمرانی کے تصور کے خلاف نہیں سمجھتے اور اسے ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہیں کیونکہ عام قانون کے اطلاق سے سرکار کا کاروبار ٹھپ ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے!
برطانیہ میں عدالتوں کے لیے یہ اختیار مانا گیا کہ وہ انتظامیہ کے انتظامی عمل کا جائزہ لے کر فیصلہ کرسکتی ہیں کہ وہ عمل قانون کے مطابق تھا یا نہیں لیکن ایسا صرف استثنائی صورتوں میں اور نہایت کڑی شرائط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اسے judicial review of administrative action کہا جاتا ہے۔
البتہ برطانیہ کے دستوری نظام میں عدالت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ پارلیمان کے وضع کردہ قانون کا جائزہ لے کر بتاسکے کہ یہ قانون دستور کے مطابق ہے یا اس سے متصادم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کی اساس “پارلیمان کی بالادستی” (Supremacy of the Parliament) کے تصور پر ہے۔ گویا اس نظام میں judicial review of legislative action ممکن نہیں تھا۔ اس کی راہ امریکی سپریم کورٹ نے نکال لی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply