کچھ کماؤ پوت ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ کھاؤو پوت ہوتے ہیں ۔ لیکن کبھی بھی نہ تو کماؤ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ تے ہیں اور نہ کھاؤو پوت کے۔ جب دونوں کے پاؤں پالنے سے نکل کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں، بلکہ بھاگ دوڑ کرنے لگتے ہیں تو کماؤ پوت کے بھاگ جاگ جاتے ہیں۔ وہ جیبیں بھر کر، مال کما کرگھر لا کردیتےہیں، یا لاکرمیں رکھتے ہیں، جبکہ لوگ ان کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔ جبکہ کھاؤ پوت بھاگنے سے بھاگتے ہیں اور کھا کھا کر پھسڈی رہ جاتے ہیں، پھسڈی اس لئے رہ جاتے ہیں کہ ان کی نکلتی توند اور غبارے کی طرح پھولتے بدن انہیں کسی کارن کے نہیں چھوڑتے۔ تب ان کے ماں باپ دن رات ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ بیٹا جی ڈائٹنگ کرو یا جم جوائن کرو ورنہ تمہارا پیٹ اور بھی بڑھ جاۓ گا کوئی بعید نہیں کہ سب تمہیں پیٹو کہہ کر پکاریں گے۔ مگر کھاؤ پوتوں پر کسی بات بات کا اثر نہیں ہوتا۔ کیوںکہ وہ کھاتے کھاتے مرنے اور مرتے مرتے کھانے کے نظرئیے کے قائل ہوتے ہیں۔
ہم نے ایک مثل اپنے بچپن میں سنی تھی۔ اس کا متن یہ تھا کہ ” سر بڑا سردار کا، پاؤں بڑا زمیندار کا اور پیٹ بڑا ساہوکار کا”۔ اس میں تھوڑی سی ترمیم کر لی جاۓ تو کوئی حرج نہیں اور وہ یہ کہ پیٹ بڑا تھانیدار کا۔ کیونکہ آج کل ہمارے کچھ پولیس والوں کے خاص طور پر پولیس افسران کے پیٹ نکلے ہوتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وہ چوروں اور ڈکیتوں کو پکڑنے سے قاصر رہتے ہیں اور چوریاں کم نہیں ہو پاتیں۔ پیٹ بڑا ہو جاۓ تو ناصرف چال ڈھال صحیح نہیں رہتی بلکہ جسم بھی بے ڈھب ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ ڈھول پیٹنے کے کام آجاتا ہے۔ پیٹ کے بڑھ جانے سے وزن بھی بڑھ جاتا ہے اورموٹاپا بھی۔ موٹاپے کے شکار لوگوں کو کام کاج میں دقتیں اور مشکلات پیش آنے لگتی ہیں۔ انہیں سستی اور کاہلی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ انہیں اسمارٹ بننے کی تگ و دو میں یا تو زیادہ کھانے پینے سے پرہیز کرنا پڑتا ہے، یا ڈنڈ بیٹھک نکالنا پڑتی ہے بمشکل تمام، دو دنوں کی چاندنی، پھراندھیری رات کی طرح ورزش اور کسرت کی مشقت بھی گراں گزرنے لگتی ہے، پھر پرنالہ وہیں گرنے لگتا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انکا رشتہ طے نہیں ہو پاتا ۔ ۔ شادی سے پہلے شادی کے انتظار میں عمر ڈھل جاتی ہے۔ کیا کریں لڑکیوں کی طرح، اب معاشرے میں لڑکوں کے لئے بھی سلم اسمارٹ لڑکے کی کڑی شرط عائد ہونے لگی ہے۔ بیشک دبلے پتلے لڑ کے کی شادی کے بعد کی زندگی لڑ کے گزرے۔ اگر موٹوں کی شادی ہو بھی جاۓ توچھیڑ چھاڑسے ان کی جان نہیں چھوٹتی۔ کوئی چھیڑتے ہوئے کہتا ہے کہ ‘جس کا میاں موٹا، اس کی بڑی شان ہے، کپڑوں پہ بٹھا دو تو استری کا کیا کام ہے’. کوئی میاں بیوی کو ایک ساتھ جاتا دیکھ کر کہنے لگتا ہے کہ دیکھو یہ الف نون کی جوڑی جا رہی ہے۔
بڑے پیٹ کی تکلیفوں کے پیش نظرہمارا ماننا ہے کہ پیٹ جتنا ہلکا ہو اتنا بہتر ہوتا ہے۔ پیٹ ہلکا ہو تو بدن میں چستی اور چابک دستی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے. مگر اس میں بھی ایک قباحت ہے، اور وہ یہ کہ جو لوگ پیٹ کے ہلکے ہوتے ہیں، ان کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ انکے پیٹ میں کوئی بات نہیں کھپتی بلکہ اس خواہش پر کھلبلی مچی رہتی ہے کہ انہیں ادھر سے کسی کے بارے میں کوئی سن گن مل جائے، اسے فورآ ادھر جاکردوسرے کے کان میں ڈال دی جاۓ۔ وہ ساری عمر اسی مشغلے میں بتا دیتے ہیں۔ ادھر کی ادھر لگانے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر لیا کریں اوراپنے دوستوں سے ادھر ادھر کی بات کر لیا کریں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بھاری بھرکم جسموں میں سارا قصور ہمارے زائد از ضرورت کھانے پینے کا ہے۔ کچھ کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ کھاؤ پیئو عیش کرو، کچھ کہتے ہیں کہ پہلے پیٹ پوجا، پھر کام دوجا۔ اس بات پہ ہمارا اتفاق ہے کہ کھانے پینے کے شوقین لوگوں کا کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق ہونا کھانے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ ایک تو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کا شوق بہت مہنگا ہوتا ہے، دوسرے، پیٹ گڑبڑہوجاۓ تو ڈاکٹروں کی فیسیں بھی بھرنا پڑتی ہیں۔ بیچارہ کوئی مفلس ہو تو ہر روز اسے صبر و قناعت کے کڑے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کا دل کچھ کھانے کو اگر چاہے تو اس بھلے مانس کو بھنے ہوۓ چنے کھا کرگزارا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی صبرآ جمیلآ.
محاورتاً کہا جاتا ہے کہ انسان کا پیٹ کھانے پینے سے تو بھر جاتا ہے لیکن طمع سے نہیں بھرتا۔ کیونکہ طمع کے اندر کثرت کی خواہش شامل ہوتی ہے، اس لئے خواہشات جتنی چاہے پوری ہو جائیں، مزید خواہشات اسے بے چین کئے رکھتی ہیں۔ دولت سے پیٹ بھرتا ہے، نہ اقتدار سے، شہرت سے پیٹ بھرتا ہے، نہ مصاحبین کی طرف سے تعریفوں اور خدمت گزاروں کی جانب سے خوشامدیں کرنے سے۔ البتہ زور کی بھوک لگ رہی ہو تو وہ بات کاٹ کر کہتے ہیں کہ جلدی کھانا کھلاؤ، ہمارا پیٹ تمہاری باتوں سے نہیں بھرتا۔ خاص طور پر جب ذکر فوڈ اسٹریٹس کا ہو رہا ہو، حلوہ پوری کے ناشتے کا ہو، یا تلی ہوئی مچھلی کا، تو کھانے کی خواہش اور کھانے کی خوشبو سے منہ میں آنے والا پانی بھوکوں کو ماہی بے آب کی طرح تڑپا دیتا ہے۔
خوش خوراکی معیوب بات نہیں۔ لیکن مسلمہ بات یہ ہے کہ بسیار خوری بری شے ہے۔ اسکا مطلب یوں بھی لیا جاسکتا ہے کہ جیسے کھانے پینے کی تمام حدیں پار کرنے والے سے کوئی کہہ رہا ہو کہ اے بسیار خور! بس یار۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ خوش خوراکی کو پسند کرنے والوں کی ادائیں کچھ کچھ ادبی ذوق رکھنے والوں سے ملتی جلتی ہیں ۔ جب وہ خوش ذائقہ کھانوں کی داد دیتے ہیں تو واہ واہ، بہت خووووب، عممممدہ ذوق، بہت اچھے، کممممال ہے، اعلیٰ جیسے لفظوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ اچھی غداؤں کی پر ستائش صداؤں پہ ہم بھی ہم آواز ہو کر ستائش کریں کہ مکرر، مکرر۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم خوش خوراکی اور خوش ذائقہ کھانوں کی دعوتوں کی طرح خوش لباسی، خوش دلی، خوش خیالی خوش گفتاری، خوش کلامی، خوش الحانی، خوش گمانی اور خوش خلقی کے ساتھ اپنی خوش بختی اور خوش انجامی کی دعوت کا اہتمام کریں۔ اس طرح ہماری بعد کی زندگی خوشگوار گزرے گی۔ ان شاء اللہ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں