• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انفینيٹ ریگریشن کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے ؟-سلطان محمد(۱)

انفینيٹ ریگریشن کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے ؟-سلطان محمد(۱)

گزشتہ دنوں ایک ڈیبیٹ میں تین اصطلاحات کا چرچا رہا:
انفينیٹ رگریشن
کنٹینجينسی آرگیومنٹ، اور
نيسیسری بِینگ
پہلے انفینيٹ رگریس پر بات کر لیتے ہیں ۔
رگریس کی اصل لاطینی زبان کا گریس (-gress) ہے جس کے معنی ہیں قدم بڑھانا یا حرکت کرنا۔ انگریزی میں اس کے ساتھ مختلف سابقے لگا کر ایک سے زائد مرکب الفاظ بنائے گئے ہیں جیسے پروگریس (پرو+گریس) قدم آگے بڑھانا ، رگريس (ری+گریس) پیچھے ہٹنا ، اور کانگریس (کون+گریس) ساتھ مل کر آگے بڑھنا۔
کاز اینڈ ایفیکٹ یا سلسلہ علّت و معلول:
یہ دُنیا علّت و معلول یا كاز اینڈ ایفیکٹ کے سلسلے میں بندھی ہوئی ہے ۔ یعنی ہر سبب (cause)
کا ایک نتیجہ (effect)
ہوتا ہے اور ہر نتیجے کے پیچھے کوئی سبب کارفرما ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ایک سبب بذاتِ خود کسی اور سبب کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جیسے ایک بیٹے کا باپ ہوتا ہے ، لیکن وہ باپ بھی کسی اور باپ کا بیٹا ہوتا ہے، وعلیٰ ھذہ القیاس۔ اس طرح کسی بھی مظہر کے پیچھے کارفرما اسباب کا ایک وسیع سلسلہ ہو سکتا ہے جس کی جڑ تک پہنچنے کے سفر یا اصل کارفرما سبب کو معلوم کرنے کی علمی کاوش کو ریگرس کہا جاتا ہے۔ اگر علّت و معلول کا یہ سلسلہ کسی طور رُکنے میں نہ آرہا ہو تو اسے انفینيٹ رگریس کہا جاتا ہے۔ قدیم فلاسفہ نے اس لامتناہی یا انفینيٹ رگریشن سے بچنے کے لئے پرائمری کاز یا علّتِ اولیٰ کا تصور پیش کیا۔ یعنی ایک ایسا سبب جس پر ہم رُک جاتے ہیں اور اسے ہی اصل سبب تصور کر لیتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال ارسطو (384-322 ق م) کے محرک اولیٰ کی ہے جس کے ذریعے ارسطو نے کائنات میں حرکت کی تشریح کرنے کی کوشش کی تھی ۔ واضح رہے کہ حرکت اور تبدیلی سمیت بہت سے موضوعات شروع شروع میں فلسفے کے دائرہ کار میں آتے تھے تاآنکہ سائنس نے ان کی تشریح و توجیہ کر کے انہیں فلسفے کی ڈومین سے نکال لیا۔ ہم کسی بھی حرکت کرتی ہوئی چیز کو دیکھتے ہیں تو ذہن میں خیال آتا ہے کہ اسے کسی نہ کسی نے جرکت دی ہوگی۔ مگر ممکن ہے کہ وہ حرکت دینے والا خود بھی حرکت میں ہو اور اسے بھی کسی نے حرکت دی ہو۔ تو پھر وہ پرائمری کاز، علّت ، یا سبب کیا ہے جس کے زیرِ اثر سب چیزیں حرکت میں ہیں؟ ارسطو نے اس “چیز” یا ہستی کو پرائم موور یا “محرک اولیٰ” کا نام دیا اور ساتھ میں یہ اضافی شرط بھی عائد کر دی کہ محرک اولیٰ کو بذاتِ خود ساکن اور تبدیلی سے پاک ہونا چاہیے ورنہ یہ علت و معلول کا سلسلہ کہیں نہیں رکے گا اور ہم پرائم موور تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ اِس محرک اولیٰ کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے دھکا دے کر چیزوں میں حرکت پیدا کرے۔ بس اسے تمام حرکت کرتی ہوئی چیزوں کے پیچھے اولین سبب کے طور پر موجود ہونا چاہیے ۔ (اسی پرائم موور کے قریب قریب دوسرا نام نیسیسری بینگ ہے جس پر الگ سے بات ہوگی)
ارسطو کا یہ نظریہ فلسفے اور طبیعات کے میدان میں غالب رہا تاآنکہ نیوٹن (1642-1727 ع) نے سکون اور حرکت کی تشریح کرنے کے لئے تین قوانین پیش کیے۔
۱- کوئی بھی جسم اپنی سکون یا یکساں حرکت والی حالت کو جاری رکھے گا جب تک کہ اس پر کوئی بیرونی قوت عمل نہ کرے۔ اسے جمود کا قانون بھی کہا جاتا ہے۔
۲- جب کسی جسم پر کوئی قوت عمل کرتی ہے تو اس کی سکون یا یکساں حرکت والی حالت میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ حرکت کی یہ تبدیلی اس جسم کی کمیت کے بالعکس اور اس پر لگنے والی قوت کے براہِ راست متناسب ہوتی ہے۔ اسکا فارمولا ہے: f = ma
جہاں f قوت ، m کمیت ، اور a اسراع یا حرکت میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانونِ حرکت ہے۔
۳- جب ایک جسم کسی دوسرے جسم پر کوئی قوت لگاتا ہے تو وہ جسم بھی اتنی ہی قوت مخالف سمت میں لگاتا ہے ۔ اسے عمل اور رد عمل کا قانون بھی کہا جاتا ہے۔
اِس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ یہ قوانین آج تک کھیلوں کے میدان سے لے کر ہوائی جہاز اڑانے ، میزائل چلانے ، اور چاند پر اترنے تک ہر جگہ کارآمد ہیں۔ اس طرح نیوٹن کے پیش کردہ قوانین سے حرکت اور تبدیلی کا ایک قدیم مظہر فلسفے اور مابعد الطبیعیات کی بھول بھلیوں سے نکل کر سائنس کے دائرہ کار اور روزمرّہ کے تجربات کی روشنی میں آگیا۔
کیا اس کے ساتھ ارسطو کے علّت اولیٰ یا پرائم کاز کی ضرورت بھی ختم ہو گئی ؟ (جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply