سوال:
میرے قریبی کام کے سیکشن میں ایک خاتون ہیں جن میں نارسسسٹک رویّے واضح ہیں۔ وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں — جیسے کہ جذبات سے کھیلنا، کبھی وِکٹم بن کر ہمدردی لینا، کبھی گیس لائٹنگ کرنا، اپنے FM (فالورز) کے ذریعے سیاست اور ڈراما کرنا، اور ماحول کو میرے خلاف موڑنا۔ میں مکمل حد بندی، پروفیشنل رہنے اور جذباتی طور پر خود کو الگ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہ پھر بھی مجھے اپنی attention orbit میں کھینچنے کی چالیں چلتی ہیں۔
ایسے ماحول میں خود کو emotionally اور mentally محفوظ رکھنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کروں؟
کیا اس صورتحال میں کوئی long-term strategy ہے جس سے وہ خود ہی interest کھو دے؟
بلکہ مجھے سمجھائیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے اور دفتری سیاست اور ڈراما کیسے چلتا ہے ؟ مجھے کیا کرنا چاہئے۔۔۔میں کم گو اور اپنے اصولوں اور کام سے کام رکھتا ہوں ان چیزوں سے پہلی دفعہ سامنا ہورہا ہے۔۔۔
جواب:
یہ ڈیٹا کم ہے آپ کو مشورہ فراہم کرنے کے لیے۔ لیکن پھر بھی میں کوشش کروں گی کہ کسی حد تک مدد کرسکوں۔
ایک تو خاتون اور اوپر سے نارساسسٹ، یہ ملاپ بہت مہلک ہوتا ہے، خواتین کو ارتقائی اعتبار سے جسمانی طور پر طاقت نہ سہی البتہ جذباتی طور پر manipulation اور tactics استعمال کرنے کی بھر پور صلاحیت ملی ہے، کیونکہ جب جسمانی طور پر کوئی جنس کمزور تھی تو بقاء کے لیے نیچر نے اسے ذہنی کھیل (mind games) کھیلنے کا ٹیلنٹ دیا ہوا ہے تاکہ وہ اپنا بچاؤ کرسکے۔
سب سے پہلے تو آپ اپنا مائنڈ سیٹ بدلیں اور اسے ایک چیلنج اور نئے تجربے کی طرح لیں۔ کیونکہ آپ جذباتی طور پر خود کو الگ تو کرنا چاہ رہے ہیں لیکن چونکہ سامنے موجود خاتون کی manipulation tactics آپ کی موجودہ ایموشنل انٹیلیجنس اور خود-آگاہی سے زیادہ مضبوط نظر آرہی ہیں تبھی وہ آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے کھینچ لیتی ہیں اپنے attention orbit میں۔ یوں سوچیں کہ ان خاتون کے ذریعے آپ کو اپنی خود-آگاہی اور ایموشنل انٹیلیجنس کا لیول بڑھانے کا موقع ملے گا۔
دوسرا یہ کہ ان خاتون کے نارساسزم کے ساتھ اس بات کو نوٹ کریے کہ آپ کہاں بہت reactive mode میں چلے جاتے ہیں؟ آپ کو خود کو نوٹ کرنا ہوگا کہ وہ کونسی tactics ہیں جو آپ کے اندر سے جذباتی ردِ عمل (emotional reaction) کو کھینچ کر باہر نکالتی ہیں اور یوں ان نارساسسٹ خاتون کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
نارساسسٹ سے نمٹنے کے لیے “گرے راک میتھڈ” کام کرتا ہے، لیکن وہ آپ پہلے ہی پریکٹس کررہے ہیں اپنے کام سے کام رکھ کر، ان کی توجہ سے بچنے کے لیے حدبندی کرنا……. لیکن پھر بھی آپ کو کھینچ کر لایا جاتا ہے اس orbit میں، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ یہاں “گرے راک میتھڈ” کے ساتھ “ایموشنل انٹیلیجنس” کی ضرورت ہے، گرے راک میتھڈ اکثر الٹا اثر کرجاتا ہے اور نارساسسٹ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑجاتا ہے۔کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ نارساسسٹ خود ہی تھک کر ہار مان جائے، لیکن کچھ کیسز میں وہ اس کھیل کو انجوائے کرنے لگتا ہے اور خواتین کو تو ویسے بھی اس قسم کے مائنڈ گیمز کھیلنے میں مزہ آتا ہے کیونکہ ان کے پاس ٹیلنٹ ہی اسکا موجود ہے۔
اپنی وائف/گرل فرینڈ یا دوست وغیرہ جو قریبی ہوں ان کے ساتھ اپنے جذبات لازمی شیئر کیا کریں، کیونکہ مرد حضرات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جذبات شیئر نہیں کرتے اور انہیں دباتے یا نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ جمع ہوئے جذبات ایک لاوا بن کر پھٹ پڑتے ہیں یا پھر وقت کے ساتھ صحت کو اثر انداز کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے قریبی رشتوں کے ساتھ اپنے جذبات یا جذباتی الجھن کو شیئر کرتے ہیں تو ہمارا نروس سسٹم منظم (regulate) ہوتا ہے اور ہم اگلے دن اٹھ کر دوبارہ میدانِ جنگ میں اترنے کی تیاری کرنے لگتے ہیں، اسے ہم سائیکالوجی میں “کو-ریگیولیشن” (co-regulation) کہتے ہیں، جو ہم اپنے قریبی رشتوں کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرکے حاصل کرتے ہیں۔ اور آپ کو سیلف-ریگیولیشن (self-regulation ) کی بھی ضرورت پڑتی ہے جس کے لیے آپ لکھائی، مطالعہ کرنا، چہل قدمی، میڈیٹیشن وغیرہ، جو آپ کو آفس میں موجود ٹاکسک لوگوں کی ٹاکسیسٹی کو کم کرنے میں کسی حد تک مدد کرسکتی ہے۔
کاش ایسے موضوعات اور مسائل پر ہمارے یہاں کسی سمجھدار دانشور نے کوئی کتاب لکھی ہوتی تو اچھا تھا، فضول موٹیویشن پر کتابیں ہیں لیکن دنیا کی اصل اور کڑوی حقیقت سے نمٹنے کے لیے کوئی بھی دانش شیئر نہیں کرتا، کیونکہ مغرب میں آفس کلچر ہمارے یہاں سے قدرے منفرد ہے اس لیے انکی کتابیں پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک میں زیادہ کارآمد نہیں ہوتیں۔ البتہ آپ رابرٹ گرین کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں اپنی سمجھ کو مزید گہرا کرنے کے لیے۔ اور ایموشنل انٹیلیجنس کے لیے کتاب “emotional intelligence 2.0” پڑھ سکتے ہیں۔ کچھ اچھے انڈین یوٹیوبرز کو بھی فالو کریے، وہ بہت کھلے اور دانش ورانہ انداز میں بات کرتے ہیں ٹاکسک کولیگز پر۔
(وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو محسوس ہو کہ آفس میں یہ سب آپ کی برداشت سے باہر ہوتا جارہا ہے، یا پھر آپ کی پروڈکٹوٹی یا صحت پر اثر انداز ہورہا ہے تو جاب تبدیل کرنے کے بارے میں سوچیے گا، کیونکہ ذہنی اور جسمانی صحت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں