صفی سرحدی متوجہ ہو۔۔”میں مر جاؤں”؟۔۔۔۔عارف خٹک

میں جب مر جاؤں،تو سٹیٹس لگا کر مُجھ سے پیار مت جتانا۔ بلکہ گھروں میں بیٹھی ان بیٹیوں اور بہنوں کا سوچنا،جن کے بالوں میں چاندی اُتر آئی ہے۔اُن کے دم توڑتے خوابوں میں دوبارہ سے زندگی کے رنگ بھر دینا،اور اُن کو اپنا لینا۔میں سمجھوں گا یہ خراج تحسین ہے آپ کی طرف سے مُجھے۔

میں جب مر جاؤں تو میرے خلاف سٹیٹس مت لگانا،کہ بہت بڑا فحش نگار تھا۔بلکہ کوٹھوں یا گھروں میں قید طوائف نام کی اُس بےبس عورت کےلئے ضرور سوچنا۔جو اپنے پیاروں کا پیٹ بھرنے کے لئے اپنےآپ کو بیچ رہی ہیں۔ اُن کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہی معاوضہ بغیر کسی سودے کے دے دینا۔ میری روح خوش ہوجائےگی۔
میں جب مرجاؤں تو یہ مت سوچنا کہ کسی ایجنسی کا آلۂ کار تھا۔ بلکہ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوکر ظُلم کے خلاف ڈٹ جانا۔ اُس کے لئے آواز اُٹھانا۔خواہ اُس کا تعلق آپ کے نظریاتی یا مذہبی گروہ کے مخالف کیمپ سے ہی کیوں نہ ہو۔ اُس کو احساس دلانا کہ آپ اکیلے نہیں ہو۔ آپ کے ایساکرنے سے مُجھے پھر سے جنم مل جائے گا۔

میں جب مرجاؤں تو کبھی کسی محفل میں یہ مت کہنا۔۔کہ عارف خٹک بہت عیاش بندہ تھا،اللہ اس کی مغفرت کرے۔ بلکہ خود سے وعدہ کرلینا کہ زنا اور نشہ میں خود پر حرام کرلیتا ہوں۔ میرے ہاتھ سے دوسروں کی عزتیں محفوظ رہیں گی۔بس میں واپس آجاؤں گا۔

میں جب مرجاؤں تو میری فحش نگاری کو کسی ادبی مقالے کا نام مت دینا۔کیوں کہ میں اپنے غیرت مند قبیلے کا بڑا ہی بے غیرت انسان ہوں۔ جو مزاح اور فحش نگاری کے لبادےمیں ان کو جھنجھوڑے جارہا ہے۔ ان مقالوں سے میری کریہہ صورت نکال کر ان رنگین کرداروں میں اپنے آپ کو ڈُھونڈ لینا۔ اگر آپ اپنے آپ کو پہچان سکیں تو یہی میری کامیابی ہوگی۔

میں جب مرجاؤں تو کبھی مجھے کھوجنے کی کوشش مت کرنا۔ اس لئے کہ آپ شرمندہ ہوں گے۔کیوں کہ میرے گاؤں میں آج بھی پینے کا پانی نہیں ہے۔ آج بھی میرے گاؤں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کو بیدردی سے قتل کیا جاتا ہے۔ آج بھی میری بہنیں اور مائیں مرد کی غلامی میں بخوشی زندگی گُزار رہی  ہیں۔اور یہ سب دیکھ کر آپ مجھ پر لعنت بھیجیں گے۔ لہذا میری عزت کی لاج رکھنا۔ مجھے مرنے کے بعد شرمندہ نہ ہونے دینا۔

میں اگر غیر طبعی موت مارا جاؤں تو میرے لئے آواز ہرگز مت اُٹھانا۔ کیونکہ میں آج اور ابھی ان کو معاف کررہا ہوں۔ بلکہ کوشش کرنا کہ ان کو ذرا سا شرمندہ کر سکو۔کیوں کہ میں اپنی زندگی بھرپور طریقے سے جی چکا ہوں۔ بس ان کو جتا دینا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم سے بہرہ مند کرلیں۔ میں سمجھوں گا میرا مشن مکمل ہوگیا ہے

میں جب مرجاؤں تو ہر گز مجھے خراج تحسین مت پیش کرنا۔بلکہ کوشش کریں کہ آئندہ کسی ماں کا بیٹا مذہب، غیرت اور حمیت کے نام پر قتل نہ ہو۔کیوں کہ مائیں بُہت مشقت اُٹھا کر بچوں کو بڑا کرتی ہیں۔مارتے وقت ایک لمحے کیلئے ضرور سوچنا کہ اس کا رب بھی وہی ہے جو تیرا ہے۔ اس کا خالق بھی وہی ہے جو تیرا ہے۔اور جان لینا صرف خالق کا حق ہوتا ہے۔پس تم خالق بننے کی کوشش ہرگز مت کرنا۔

اگر آپ یہ سب کروگے تو مُجھے ہمیشہ اپنے آس پاس پاؤگے۔صرف نام اور مقامات تبدیل ہوتے رہیں گے۔ بس مجھے محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *