سعودی فلم “نورہ”/منصور ندیم

یہ حالیہ ریلیز ہونے والی سعودی فلم “نورہ” پر تبصرہ ہے، جو آج کل یہاں مقامی سینماؤں میں دکھائی جارہی ہے، یوں تو یہ بہت ہی عام سے کہانی پر مبنی فلم ہے، مگر بطور موضوعاتی اور اپنے جغرافیے کی نسبت سے یہ بین الاقوامی سطح کی بہترین موضوعاتی فلم ہے۔ اس فلم کا بنیادی خیال ایک دیہی لڑکی “نورہ” ہے جو پینٹنگ میں دل چسپی رکھتی ہے، اس فلم کا دور سنہء 1990 کی دہائی اور مقام سعودی عرب ہے، سب سے کمال کی بات یہ ہے کہ یہ پہلی ایسی فلم ہے جو سعودی عرب میں العلاء شہر میں فلمائی گئی ہے۔

نورہ کی کہانی سنہء 1990 میں سعودی عرب کے ایک گاؤں میں پیش آنے والے واقعات کا خاکہ ہے، جہاں نورہ نامی ایک لڑکی اس گاؤں میں پوری دنیا سے الگ تھلگ پر رہتی ہے، وہ فطرت کی طرف سے اپنے اندر تخلیقی صلاحیتیں رکھتی ہیں لیکن وہ اسے جانتی نہیں، وہ اس گاؤں کے ایک سکول میں پڑھتی ہے، اوہ کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کو نہ جان سکتی اگر اس گاؤں میں ایک استاد “نادر” نہ آتا، “نادر” نورا میں چھپی صلاحیتوں کو جان لیتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ گاؤں سے باہر امکانات کی ایک وسیع دنیا موجود ہے، پوری کہانی صرف دو لوگوں کے درمیان میں گھوم رہی ہے جو ایک دوسرے کو اپنے اندر موجود تخلیقی صلاحیتوں اور فن کی دنیا دریافت کرتے ہیں۔ مجھے تو یہ فلم بہت اچھی لگی ہے، کیونکہ ہر ایسی فلم جس کا بنیادی تھیم خواتین کی خود مختاری کا احساس ہو، مجھے پسند آتی ہیں، موضوع بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دیہی علاقے میں موجود ایک لڑکی کو دنیا میں اس کی پینٹنگ سے متعلق صلاحیتیوں کے پہچان کے سفر کی داستان ہے، یہ فلم دکھاتی ہے کہ سعودی عرب کے دیہی علاقوں کی زندگی پچھلے عشروں میں کیسی تھی، جس وقت وہاں پر فنون وغیرہ کے لئے تشہیر یا آگاہی کی ایسی کوئی گنجائش نہیں تھی، جہاں نورہ نے گاؤں میں رہ کر پوری دنیا کے ساتھ چلنے کے خواب دیکھے، یہ فلم ابھی سینماؤں میں عربی زبان میں ہی ہے، یا انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ سینما میں دکھائی جارہی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس فلم کو لکھنے والے اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن تینوں کام ہی توفیق الزیدی نے کئے ہیں، فلم بھی مکمل طور پر سعودی عرب میں فلمائی گئی ہے، اس فلم کے سارے اداکار بھی مقامی سعودی ہیں جن میں یعقوب فرحان، اور نورہ کا کردار ادا کرنے والی ماریہ بہروی، معروف سعودی اداکار عبداللہ السدھن ہیں۔ نورہ کو سعودی عرب میں پہلی فیچر فلم مانا جا رہا ہے، اس فلم کی اسکرین پلے نے سعودی فلم اتھارٹی سے ایوارڈ بھی جیتے ہیں اس فلم کو باقاعدہ سعودی وزارت ثقافت کی حوصلہ افزائی بھی مل رہی ہے، کیونکہ یہ صحرا اور دیہی علاقے کی نمائندگی بھی کر رہی ہے اور العلاء کی ثقافت کی دنیا میں پہچان بھی بنے گی۔ کیونکہ العلاء اس وقت پوری دنیا میں سیاحتی طور پر قدرتی خوبصورتی اور دلکش ورثے کے طور پر ایک غیر معمولی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply