رخسانہ صبا صاحبہ کو میں نے پہلی بار اس وقت سنا جب میں ادب کی دنیا میں داخل ہورہا تھا اور ڈاکٹر صاحبہ نوجوان شاعروں کی صف میں اپنا مقام بنانے کے راستے پہ گامزن تھیں۔ بزرگ جب اُن نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے تو میں رشک کرتا تھا کہ کاش میں بھی ایک دن اسی طرح اپنے بزرگوں کی داد کا مستحق ہوسکوں۔ رخسانہ صبا شاعری کے علاوہ تنقید بھی لکھتی ہیں اور یہ دونوں ہی شعبے ان کی پہچان ہیں۔ پچھلے دنوں ان کے شعری مجموعے ’’راکھ روشن ہے‘‘ کا تحفہ ملا تو پرانے منظر یاد آگئے۔ اس کے عنوان کی طرح آپ کو کلام میں بھی روشنی اور سلگتے ہوئے احساسات کی راکھ نظر آتی ہے۔
اب بھی زخم ہے تازہ اس کے لہجے کا / اب تک ایک نشانی مجھ میں روشن ہے
سر پٹکتی رہی تیرے غم کی ہوا / بند کرتے رہے کھڑکیاں رات بھر
اور جس غزل کا یہ شعر ہے، اس پوری غزل میں آپ کو درد کی کیفیت کا بھرپور اظہار ملے گا ؎
باتیں کرتے کرتے اس کا لہجہ بھیگ گیا / ہجر کی اس بارش میں جانے کیا کیا بھیگ گیا
وہ دھیمے لہجے میں کھل کر شکوہ بھی کرتی ہیں اور للکارتی بھی ہیں۔ ان کے ہاں عورت اور مرد کے تعلق کے موضوع پر بہت کچھ ہے، جیسے نظم ’’کس دن مجھ کو پہچانو گے‘‘ جو ایک باخبر عورت کا شکوہ ہے۔ مگر اس سب کے باوجود ان کے کلام میں ذاتی دکھ اور داخلی احساسات زیادہ ہیں۔ یہی ذاتی دکھ کبھی اجتماعی آواز بن جاتے ہیں تو کبھی دل چیرتی تنہائی میں ڈھل جاتے ہیں۔ مگر رخسانہ صبا کی نظر میں سماجی، عصری اور بین الاقوامی موضوعات بھی مسلسل رہتے ہیں اور وہ معاشرے کو ٹہوکے دیتی رہتی ہیں۔ ان موضوعات میں گلوبلائزیشن، صنعتی دور کے مسائل، انسانی اقدار کی شکست اور ادب میں زوال، سب شامل ہے۔ ’’نائن الیون‘‘، ’’گوانتاناموبے‘‘ اور ایسی دوسری نظموں میں بھی اور غزلوں میں بھی ان کا عصری شعور پوری طرح بیدار نظر آتا ہے۔
بظاہر چار جانب روشنی ہی روشنی ہے / مگر چہرے بہت بے آب ہوتے جا رہے ہیں
حال ایسا تھا کہ پتھر ہوئے آئینے بھی / میں بھی حیرت لیے بستی سے نکل آئی تھی

داخلی موضوعات پر رخسانہ صبا غزلوں اور نظموں میں ذات کے اکیلے پن کو شدّت کے ساتھ اظہار کے دائرے میں لاتی ہیں۔ ان کے ہاں روشنی، راکھ، خوشبو اور خواب کے استعارے خصوصیت کے ساتھ ملتے ہیں۔ رات اور دکھ کا احساس جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ سلگتی راکھ، اس میں شعلہ اور اس کی روشنی، ان کی بے چینی کی علامتیں اور درونِ ذات کا اظہاریہ ہیں۔ دل کے بجھنے کا درد اور قربت میں فرقت کا احساس ان کے ہاں ایک طاقتور محرّک ہے۔
میری آنکھوں میں جو بھر دی تھی تری قربت نے / بس اسی ریت سے اک دشت بنا لائی ہوں
پھیل نہ جائے من آنگن میں جسم کی تاریکی / روح میں روشن درد کا شعلہ رکھنا پڑتا ہے
تیری دہلیز سے آگے کوئی رستہ ہی نہیں / کہاں لے جاؤں گی میں اپنے بھٹکتے ہوئے خواب
میں جشنِ ہجر منانے کے انتظار میں تھی / مگر چراغ کی لَو شام سے بجھی ہوئی ہے
یہ چراغ کی لو ان کا دل ہے۔ رخسانہ صبا کے لیے شاعری محض تخلیقی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل جنگ ہے، یہ زندگی سے برسرِپیکار ہونے سے عبارت ہے۔ وہ زندگی سے متعلّق ایک نظریہ رکھتی ہیں جو حسّاسیت، حقیقی عملی محبّت کی گرمی اور دو طرفہ جذبے کے اخلاص، انسانیت اور اقدار کے احترام پر مبنی ہے مگر وہ کسی اور کے نظریے اور طے شدہ منشور کی مقلّد نہیں ہیں۔ وہ ایسی باشعور تخلیق کار ہیں جو خود آگاہ ہے، جسے معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ ان کے لیے زندگی، دائروں کے سفر کا المیہ ہے اور یہ پرکار کے دائرے نہ انھیں رکنے دیتے ہیں، نہ اپنے ساتھ والوں کو آگے لے جانے دیتے ہیں۔ فطرت سے محبت اور حالات کے فطرت سوز بہاؤ کی مزاحمت ان کا ہاں واضح ہے جیسے ایٹمی دھماکوں کے پس منظر میں لکھی نظم ’’پرندے کیوں نہیں آئے‘‘۔ اسی طرح ’’پرندے شور کرتے ہیں‘‘ میں دورِ حاضر کا دکھ محسوس کیجیے جب انسان تنہائی کا شکار ہے اور بڑے بڑے گھروں میں سنّاٹے شور مچاتے پھرتے ہیں۔
سپاہِ زندگی سے برسرِ پیکار رہنا ہے / کہ ہم کو عمر بھر اب تو قلم بردار رہنا ہے
وہ جس کی روشنی سے دل کی بینائی چلی جائے / ہمیں اُس آگہی کے دام سے ہشیار رہنا ہے
نظم ’’فسونِ خواب‘‘ میں لکھتی ہیں: ’’ڈرو مت زندگی کی دھوپ سے / اور دھوپ کی گہری تمازت سے / اگر ڈرنا ضروری ہے تو اے لوگو! / کسی ایسی شبِ مہتاب سے ڈرنا / کی جس کی چاندنی / راہوں کے پیچ و خم میں الجھا دے‘‘۔
وہ زوال آمادہ قوم کو جگانا چاہتی ہیں۔ نظم ’’مجھ کو فرصت کہاں کہ بات کروں‘‘ ان تخلیق کاروں اور دانشوروں پر طنز ہے جو اپنے سماج سے کٹے ہوئے، محض اپنی ترویج میں گم ہیں۔ رخسانہ صبا تحریر کو ذات کے خول میں قید رکھنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ ادب اور ادیب، دونوں کو سماج کا حصّہ، ترجمان اور نبّاض دیکھنا چاہتی ہیں۔ ادب اور ادیب ہمیشہ ایک نہیں ہوتے، اس لیے میں نے بالخصوص دونوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ خالی خولی لفّاظی کرکے اپنا دامن جھاڑ کے اٹھنے پہ مطمئن نہیں ہوتیں بلکہ فکر اور عمل کی یکجائی کی قائل ہیں۔ نظم ’’عکس اور آئینے‘‘ اس کی اچھی مثال ہے۔ شعر دیکھیے
کہیں سے لاؤ کہانی میں اب نئے کردار / یہ داستاں تو کئی بار کی سنی ہوئی ہے
منتظر کیوں تھے بھلا وقت کی رفتار کے تم / زاویے خود بھی نگاہوں کے بدل سکتے تھے
سوچنے اور سوچ کر زندگی گزارنے والوں کا اپنا نظریۂ حیات ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات سے باہر بھی زندگی سے جڑی ہر چیز کا ایک فلسفہ رکھتے ہیں۔ ان کی نظم ’’نظمیں مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں‘‘ میں آپ کو وقت کا فلسفہ ملے گا جو ان کی سوچ کی جہات کا پتہ دیتا ہے۔ ان کی غزلوں کے کئی اشعار، شاعری کے بارے میں ان کے خیالات اور نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔
لفظوں سے تصویر بنانی پڑتی ہے / ایک کہانی روز سنانی پڑتی ہے
ایک تحیّر کے سرمائے کی خاطر / آئینے کو چھب دکھلانی پڑتی ہے
پرانی بات میں بھی اک ذرا سی حکمت سے / نیا خیال، نیا زاویہ نکل آیا
سکوتِ حرف میں گم تھا مرا تمام وجود / میں واہ واہ کے شور و شغب سے آگے تھی
اب ذرا اس شعر میں منظر کشی کا لطف اٹھائیے، جس میں تصویر آپ کو دھیرے دھیرے حرکت کرتی نظر آئے گی۔ یہ ساکت و جامد شعر نہیں ہے بلکہ پڑھتے ہوئے آپ کو اسکرین پر ایک ڈرامائی منظر دکھائی دیتا ہے۔
ابھی تک وار کرنے کا سلیقہ بھی نہیں آیا / نکالو تیر اور کھینچو کماں آہستہ آہستہ
میں نے مشاعروں میں رخسانہ صبا کی صرف غزلیں سنی ہیں مگر اس کتاب سے لگتا یہ ہے کہ ان کا دل خواہ غزل کو اوپر رکھتا ہو، ان کا دماغ نظم کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ان کا زیرِنظر کلام اس بات کا ثبوت ہے۔ وہ نظم میں زیادہ کھُل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں اور بہت سہولت سے کرتی ہیں۔ بعض نظمیں اگرچہ ڈھیلی ڈھالی بھی ہیں جو پامال اور مانوس اسلوب میں ہیں مگر وہ ان کی نمائندہ نظمیں نہیں۔ ذاتی تجربے، سماجی معاملات، گھریلو موضوعات، روزمرّہ کے چلتے پھرتے مسائل اور کرداروں کے تعلّق سے کھل کر لکھنا بظاہر آسان لگتا ہوگا مگر ہوتا نہیں ہے۔ بہت سی مصلحتیں آپ کا ہاتھ روکنے کی کوشش کرتی ہیں اور ٹھوڑی پکڑ کر منہ اٹھاتی اور پوچھتی ہیں کہ کیا واقعی یہ لکھنا چاہیے۔ درحقیقت یہ کام بہت سا خونِ جگر اور حوصلہ مانگتا ہے۔ ان کی نظم ’’آنگن میں شام‘‘ دیکھیے، اس میں سفر، شوق، سنسان سڑک پر یخ بستہ ساعت، جسم سرد، اندر کی آگ اور ان سب کے اختتام پر گھر میں بھی یخ بستگی! یہ ایک بھرپور نظم ہے۔ مگر یہ ان کی اس قبیل کی واحد نظم نہیں ہے۔
ان کی نظموں میں آپ کو بہت کچھ ملے گا جو غزل میں بھی ہے مگر اشاروں میں لیکن نظم میں اظہاریے کی صورت میں آگیا ہے۔ ’’تخلیق‘‘، ’’ابھی رات سوئی نہیں‘‘ وغیرہ اُس کیفیت کی نظمیں ہیں جب فنکار کچھ کہنے اور کہ کر کچھ پالینے کی خواہش میں تڑپتا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی اسے الفاظ مل جاتے ہیں اور کبھی صرف خلش ہی ملتی ہے اور اس کی رات کالی ہو کے رہ جاتی ہے۔ تخلیق کار کی ایک پیاس ہوتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی اور نہ کبھی بھجنی چاہے۔ یہ ہوتی ہے اپنا مافی الضّمیر بیان کرنے کی پیاس جس سے دل مطمئن ہوجائے۔ یہ جو اچھے سے اچھا لکھ کر بھی تشنگی رہ جانے کی چبھن ہے، یہی فنکار کو آگے لے جاتی ہے، مثال کے طور پہ نظم ’’کوئی دکھ ہے‘‘۔ وہ ایک ایسی نظم کی تلاش میں ہیں جس میں وہ سب کچھ کہ دیں جو کہنا چاہتی ہیں۔ یہ ہر تخلیق کار کا مسئلہ ہے جو حل نہیں ہونا چاہیے۔ لگتا ہے کہ ان کی یہ تلاش انھیں ان کی طویل نظم ’’جہاں گرد‘‘ تک لے گئی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں منزل مل گئی ہے، بلکہ امّید ہونا چاہیے کہ یہ ان کی منزل نہیں ہوگی، صرف پہلا پڑاؤ ہوگا۔
اب کچھ اس طویل نظم کے بارے میں جو اس کتاب کی آخری نظم ہے۔ جب میں نے ’’جہاں گرد‘‘ کو پڑھنا شروع کیا تو ن م راشد کی نظم ’’جہاں زاد‘‘ کا خیال آیا جو فوراً ہی دور ہوگیا۔ وجہ تھی اس کا عنوان اور طرزِ تخاطب یعنی بار بار جہاں گرد کو مخاطب کرنا۔ یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ یہ دھوکہ کسی اور کو بھی ہوسکتا ہے اور اِس کا ازالہ ضروری ہے۔ یہ نظم ’’جہاں زاد‘‘ سے بالکل مختلف ہے جو عورت کے دل اور دماغ کا مکمّل اظہاریہ ہے۔ اس میں جہاں گرد ابتداً ایک روایتی مرد ہے مگر پھر اپنی جنس کا نمائندہ بن جاتا ہے جس سے خطاب کیا جارہا ہے اور جو پورے معاشرے اور تاریخ کی علامت میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ نظم عورت کی مرد سے اور اس کے نافذ کیے نظام سے بھرپور شکایت ہے جس میں سماج، سیاست اور معیشت کے جبر اور تباہ کاریوں کا ذکر ہے۔ وہ جہاں گرد کو جہاں گرد اسی لیے کہتی ہیں کہ وہ زمانوں اور زمینوں میں حکومت، تسخیر، ملکیت اور ہلاکت کے جھنڈے گاڑتا مسلسل سفر میں ہے، اس کے پاؤں میں چکر ہے اور وہ نہ خود چین سے بیٹھتا ہے نہ کسی کو بیٹھنے دیتا ہے۔ وہ بہت سے سانحوں سے جڑے ناموں، زندہ کرداروں اور تاریخ ساز تخلیق کاروں کا ذکر بھی کرتی ہیں اور اسی تاریخ میں اپنا نام لکھوانے والی کئی عورتوں کے کارنامے بھی یاد دلاتی ہیں۔ ایک مقام پہ انسان کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے وہ صنفی حدیں پھلانگ جاتی ہیں اور خود ہی ان کا احترام بھی کرتی دکھائی دیتی ہیں جو مرد تھے اور راہ دکھاتے ستاروں کی طرح آج بھی روشنی کا ذریعہ ہیں۔ یہ نظم ان کے شعری سفر کے داخلی اور خارجی پہلوؤں کو یکجا کرکے، ذات سے نکال کر، آفاقی بنا کر، اُنھیں معاشرے اور انسانی تاریخ کا نوحہ بنا دیتی ہے۔ اس نظم کے اختتام کے قریب ایک بند میں امید کا اعلان بھی ہے مگر وہ غیرضروری ہے۔ اگر یہ اس لیے رکھا ہے کہ کہیں اُنھیں قنوطی نہ سمجھ لیا جائے تو بھائی، جسے سمجھنا ہو بلا سے سمجھے۔ نظم اس کے بغیر ہی ٹھیک ہے، مکمّل ہے اور یہ ایک بند نظم کی فضا سے لگّا نہیں کھاتا۔ یہ نظم یاددہانی اور جھنجھوڑنے کی کوشش پر ختم ہوتی ہے مگر وہ جھنجھوڑتی بھی بڑے آرام سے ہیں۔ ان کے ایک شعر پہ اپنی بات ختم کروں گا۔
میں اس مٹّی کو لمحہ لمحہ زندہ کر رہی ہوں
کوئی تو معترف ہو شعلگی کے اس ہنر کا
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں