سال کے آخری دن ہمیشہ ایک خاص کیفیت لے کر آتے ہیں۔ یہ دن صرف کیلنڈر کے چند خانے نہیں ہوتے بلکہ یہ پورے سال کی تھکن، خوشیوں، دکھوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا خلاصہ ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے سال ختم ہونے لگتا ہے، انسان کے اندر خود سے سوال کرنے کی ایک خاموش سی عادت جاگ اٹھتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دیتے ہیں،مگر دل کے کسی حصے میں ایک لمحے کو ٹھہراؤ آ جاتا ہے، جہاں انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے۔
گزرتا سال ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ ہم بہت سے منصوبے بناتے ہیں، بہت سی امیدیں باندھتے ہیں، مگر وقت اکثر ہمیں ایسے راستوں پر لے جاتا ہے جن کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ کچھ خواب پورے ہو جاتے ہیں، کچھ ادھورے رہ جاتے ہیں اور کچھ خواب ہمیں یہ سکھا جاتے ہیں کہ ہر خواہش پوری ہونا ضروری نہیں ہوتی۔ یہی تجربات انسان کو وقت کے ساتھ سنجیدہ اور سمجھ دار بناتے ہیں۔
سال کے اختتام پر انسان سب سے پہلے اپنی ذات کی طرف لوٹتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس نے کن لوگوں کو خوش کیا اور کن کو دکھ دیا، کن رشتوں کو وقت دیا اور کن کو نظر انداز کر دیا۔ بعض اوقات ہمیں یہ ماننے میں دیر لگتی ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں، مگر یہی اعتراف آگے بڑھنے کا راستہ کھولتا ہے۔ جو قومیں اور افراد اپنی غلطیوں کو مان لیتے ہیں، وہی دراصل سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر دیکھا جائے تو گزرتا سال کئی تلخ حقیقتیں سامنے لے کر آیا۔ ہم نے برداشت میں کمی دیکھی، اختلاف رائے کو دشمنی بنتے دیکھا اور بات چیت کی جگہ شور اور الزام تراشی کو فروغ پاتے دیکھا۔ سچ بولنا مشکل ہوتا گیا اور خاموشی کو اکثر عقل مندی سمجھ لیا گیا۔ اس کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا کہ معاشرہ مکمل طور پر مایوس کن ہو چکا ہے۔ ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مشکل وقت میں دوسروں کے کام آئے، جنہوں نے بغیر کسی مفاد کے انسانیت کا ساتھ دیا۔
یہ سال ہمیں یہ بھی بتا گیا کہ جذبات میں آ کر کیے گئے فیصلے اکثر نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ غصے میں کہی گئی باتیں دلوں میں دراڑ ڈال دیتی ہیںاور انا کی بنیاد پر لیے گئے فیصلے رشتوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ سال کے آخری دن ہمیں موقع دیتے ہیں کہ ہم اپنی ان کمزوریوں پر غور کریں اور طے کریں کہ آئندہ ہمیں زیادہ تحمل اور سمجھ داری سے کام لینا ہے۔
نئے سال کی آمد ایک نئی امید کی علامت ہوتی ہے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ صرف تاریخ بدلنے سے حالات نہیں بدلتے، مگر انسان کی فطرت ہے کہ وہ نئی شروعات سے امید باندھ لیتا ہے۔ یہی امید انسان کو دوبارہ محنت پر آمادہ کرتی ہے، دوبارہ خواب دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ نئے سال کے آغاز پر کیے گئے وعدے اگرچہ ہمیشہ پورے نہیں ہوتے، مگر یہ وعدے ہمیں بہتر بننے کی نیت ضرور دلاتے ہیں۔
نیا سال ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ ہم یہ سوچیں کہ ہمارے لیے اصل اہمیت کس چیز کی ہے۔ کیا ہم ساری توانائی شکایت میں صرف کر دیں گے، یا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیا ہم دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے رہیں گےیا اپنی ذمہ داری بھی قبول کریں گے۔ یہی سوچ ہمیں ایک بہتر فرد اور بہتر شہری بنا سکتی ہے۔
اجتماعی طور پر بھی نئے سال میں ہمیں زیادہ سنجیدہ رویے کی ضرورت ہے۔ مسائل کا حل وقتی نعروں میں نہیں بلکہ مستقل کوشش میں ہے۔ ہمیں اختلاف رائے کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا اور ایک دوسرے کی بات سننے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو تقسیم کے بجائے جوڑ سکتا ہے۔
نئے سال کے موقع پر شکر گزاری کا احساس بھی ضروری ہے۔ ہم اکثر اس بات پر افسوس کرتے رہتے ہیں جو ہمیں حاصل نہیں ہو سکی، مگر اس پر کم غور کرتے ہیں جو ہمیں ملا۔ صحت، زندگی، سیکھنے کے مواقع اور رشتے، یہ سب بڑی نعمتیں ہیں۔ شکر انسان کو سکون دیتا ہے اور صبر اسے مضبوط بناتا ہے۔
وقت کی قدر بھی نئے سال کا ایک اہم سبق ہے۔ جو وقت گزر گیا، وہ واپس نہیں آئے گا۔ آنے والا سال ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے وقت کو بہتر انداز میں استعمال کریں، غیر ضروری بحثوں سے بچیں، اور اپنی توانائی مثبت کاموں میں لگائیں۔ اپنے خاندان کو وقت دیں، اپنی صحت کا خیال رکھیں اور اپنی ذات کی بہتری کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔
نیا سال ایک نیا باب ضرور ہے، مگر اس پر لکھنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے پچھلے سال کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا، اپنے رویوں میں بہتری لا لی اور امید کو عمل کے ساتھ جوڑ دیا، تو آنے والا سال واقعی بہتر ہو سکتا ہے۔ ورنہ صرف سال بدلنے سے حالات نہیں بدلتے۔
یہی مناسب وقت ہے کہ ہم گزرتے سال کو شکایت کے بجائے شعور کے ساتھ رخصت کریں اور نئے سال کا استقبال خوش فہمی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ شاید یہی سوچ ہمیں ایک متوازن معاشرہ اور ایک بہتر مستقبل دے سکے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں