فکر کی حرکیات : اصول ، سوال اور تشکیل نوء
بعض مقامی اہل فکر کا موقف ہے کہ “ہر علمی گفتگو، ہر فکری سراغ کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اصول کی پیروی میں رواں ہوتا ہے، اور اصول کا پہلا کام ہی یہ ہے کہ وہ حصر قائم کر دیتا ہے۔اب تو لگتا ہے کہ ہمارا کتابیں پڑھنا اور گفتگو کرنا بھی بے سود ہے کیونکہ ہمارا شعور بین الدفتینی ملفوظات کو ہی معروض سمجھ بیٹھا ہے۔ مسلم شعور تاریخ سے مکمل ریٹائرمنٹ پر قانع ہو چکا ہے اور اب تو لگتا ہے کہ پنشن بھی بند ہونے والی ہے۔”
اس متن میں جب کہا جاتا ہے کہ اصول حصر پیدا کرتا ہے، مسلم ذہن کتابی ملفوظات کو معروض سمجھ بیٹھا ہے اور ہمارا شعور تاریخ سے ریٹائر ہو چکا ہے، تو یہ محض روایت پسند مسلم ذہن پر ہی نہیں بلکہ جدیدیت پسند مسلم فکر پر بھی یکساں تنقید ہے۔ مقامی اہل فکر کے نزدیک یہ دونوں رویے، باہمی اختلافات کے باوجود، ایک مشترک کمزوری میں گرفتار ہیں یعنی کتابی حوالوں اور متنی اقتباسات کو تاریخی تجربے(ہست) پر فوقیت دینا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقامی مفکرین کا یہ اسلوبِ نقد کریٹیکل تھیوری (فرینکفرٹ اسکول) کے فریم ورک سے قریب تر ہے، جہاں اصولوں کی سخت گرفت، روایت کی غیر تنقیدی پیروی اور تاریخی مانوس حدود (comfort zones) کو شعور کے جمود کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم مذکورہ متن کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اس فکری نسبت کومحض علمی رعب ڈالنے کے لیےپس منظر کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اس کی نظری توضیح یا باقاعدہ فکری بنیاد فراہم نہیں کرتا، جس کے بغیر یہ تنقید کسی فلسفیانہ مقدمے کے بجائے محض ایک تاثر بن کر رہ جاتی ہے ۔
کریٹیکل تھیوری کا اصل مقصد جمود کے خدوخال واضح کر کے اسے توڑنے کے راستے دکھانا ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ اصول نے ہمیں کہاں محدود کیا؟ آزادی، خود مختاری اور تنقیدی شعور کے لیے نیا فکری وژن کیا ہے؟ طنز اور استعارات سے کام لیتے ہوئے صرف یہ کہنا کہ ہم جمود کا شکار ہیں کافی نہیں۔متبادل نظام فکر (intellectual framework) پیش کئے بغیر کوئی تنقید فعال اور نتیجہ خیز نہیں ہوتی۔
یہ متن مقامی مفکرین کی طرف سے اصول کو مسئلہ بناتا دکھائی دیتا ہے حالانکہ اصول تہذیب کی تشکیل کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اگر مسئلہ اصول کے جمود کا ہے تو اصلاح اصولوں کے ارتقاء اور نئے اصولی فریم ورک کی تشکیل سے ہو گی نہ کہ ان کے طنزیہ انکار سے۔ اصول مکالمے کا قیدخانہ نہیں، اس کا تعمیری ڈھانچہ ہیں؛ گفتگو انہی بنیادوں پر آزادی اور معنی کے نئے امکانات دریافت کرتی ہے ۔ اگر اصول مکالمے کے دشمن ہوتے تو افلاطون کے مکالمات، ابنِ رشد و غزالی کے اختلافات سے علم میں نئی وسعت پیدا نہ ہوتی ، کانٹ، ہیگل اور اقبال اصولوں کے ارتقاء کی بات نہ کرتے ۔
کانٹ نے اصولوں کو رد نہیں کیا بلکہ تنقید سے انکی حد بندی کی، عقل کے اصول متعین کیے اور بتایا کہ عقل کہاں تک معتبر ہے یوں علم مابعدالطبیعات سے نکل کر تنقیدی شعور میں داخل ہوا۔ ہیگل نے اصولوں کے باطنی تضاد کو واضح کرکے انہیں جدلی عمل میں بدل دیا اور اقبال نے اصول کو زندہ اخلاقی قوت اس طرح بنایا کہ اصول وحی سے آتے ہیں لیکن تاریخ میں ان کی تعبیراجتہاد سے ہوتی ہے۔ اصول فکر کی راہ نہیں روکتے،اسے سمت، توازن اور ربط دیتے ہیں۔ جیسے فریم تصویر کو قید نہیں کرتا اسے معنی دیتا ہے۔
مسلم فکر کو ریٹائرڈ ذہن کہنا تنقید نہیں مایوسی کی علامت ہے ۔ اسلامی روایت میں علم ہمیشہ سوال اور اصول کے ساتھ ساتھ چلا ہے۔ ہاں، جب اصول رہنمائی کے بجائے فیصلے کی کرسی پر بیٹھ جائیں تو فکر خشک ہو جاتی ہے۔ لیکن اس خرابی کو اصول کہنا ایسا ہی ہے جیسے ناکارہ صندوق کی ذمہ داری قفل پر ڈال دینا۔ اس کا ذمہ دار اصول نہیں بااثر افراد کی غلط فہمی، خوف اور جہالت ہے۔ اصول ضبط دیتے ہیں، ورنہ فکر بے ربط جذبات میں تحلیل ہو جائے۔ جس طرح منطق زبان کو نظم دیتی ہے، نحو جملے کو، اخلاق کردار کو اسی طرح اصول مکالمے کو سنجیدگی اوروقار دیتے ہیں۔ اصول سے بھاگنا حکمت نہیں فکری ذمہ داری سے فرار ہے۔
یہ کہنا کہ گفتگو، مطالعہ اور متن کا حوالہ بے سود ہو چکے ہیں، حقیقت سے زیادہ ذہنی تھکن کا اظہار ہے۔ فکر کا مقصد فوری نتیجہ نہیں،ادراک کے نئے دروازے کھولنا ہے۔ سقراط سے ہیگل تک سب اس حقیقت پرمتفق ہیں کہ سوال کے بغیر شعور کا ارتقا ممکن نہیں۔ مکالمہ عقل کی اجتماعی صورت ہے۔ مکالمے کو لاحاصل کہنا اجتماعی عقل کے دروازے پر تالہ لگانا ہےاور مقامی مفکرین کی یہ تنقید بھی مکالمے ہی کے وسیلے سے کی جارہی ہے، لہٰذا یہ دعویٰ خود اپنا ابطال ہے۔
اگر گفتگو واقعی بے معنی ہو چکی ہوتی تو مقامی مفکرین خود ہر فورم پر گفتگو نہ کر رہے ہوتے، کتابیں نہ لکھتے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیکچرز ریکارڈ نہ کرواتے۔ مکالمہ انسان کی سرشت اور معاشرت کی روح ہے۔ انسان سوچتا ہے، سوال کرتا ہے اور اپنے خیالات کو بانٹتا ہے۔ اگر کوئی ایک فرد گفتگو چھوڑ دے تو سو نئے لوگ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے آ جاتے ہیں۔ یہی انسانی جذبۂ اشتراک ہے، یہی معاشرتی نمو کا راز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی معاشرہ مکالمے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
متن محض الفاظ کا مجموعہ یا حصر نہیں بلکہ فہم اور دریافت کا ایک زندہ میدان ہے۔ متن علم کو منظم کرتا ہے، محدود نہیں کرتا۔ جب متن اور معاشرے کے درمیان مکالمے کا رشتہ ٹوٹ جائے تو تعلیم محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ گادامر کے نزدیک فہم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قاری اپنے تاریخی تجربے کے ساتھ متن کے معنی میں داخل ہوتا ہے ۔ اس معنی میں متن سے گفتگو ایک زندہ فکری تجربہ ہے، محض حوالہ بازی نہیں۔ کانٹ کے نزدیک بھی اصول، تصور رہنمائی (regulative idea) ہے،ضابطہ تحدید(restrictive law)نہیں۔وہ عقل کی حدیں اس لیے متعین کرتے ہیں کہ عقل زیادہ ذمہ دار، بامقصد اور تخلیقی انداز میں استعمال ہو نہ کہ اصول کی پابند ہو کر جامد ہو جائے۔
مقامی مفکرین جسے “شعور کی ریٹائرمنٹ” کہتے ہیں، وہ دراصل ناامیدی اور فکری تقدیر پرستی ہے۔ شعور کوئی ملازم نہیں کہ پنشن پرگزارا کرے، یہ ایک حرکی قوت ہے۔ ہیگل کے مطابق روح ہمیشہ نئے پیکر پیدا کرتی ہے، اور اقبال اسی حقیقت کو “ہر لحظہ نئی شان ، نئی آن” کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ شعور کے پنشن پر جانے کا استعارہ دراصل فکری مایوسی (intellectual nihilism) کی نشانی ہے اور مایوسی کوئی علمی انکشاف نہیں۔ فکری تجدید ہمیشہ امید اور مکالمے سے جنم لیتی ہے، رونے دھونےسے نہیں۔ نفی کا مقصد فنا نہیں، نئی تشکیل ہے؛ لیکن بعض مقامی اہل فکر نفی پر ہی پڑاؤ ڈالنا چاہتے ہیں، اثبات ان کی منزل نہیں ۔
فکر کا جمود اگر موت ہے تو اس کا علاج ماتم نہیں، مکالمہ ہے۔ مکالمہ تاریخ کی سب سے بڑی تخلیقی قوت ہے جو ہست(being) سے بننے کے سفر (becoming) کی طرف لے جاتی ہے۔ اصول اس سفر کی دیوار نہیں بلکہ راہنمائی کے چراغ ہیں۔ جب تک گفتگو، شرکت اور اصولوں کی آزادی باقی ہے، فکری موت ممکن نہیں۔ مکالمہ مر نہیں سکتا، کیونکہ یہ انسانی روح کی سانس اور شعور کی ازلی تحریک ہے ۔
گفتگو ،ادراک کو وسیع کرتی اس لیے یہ اس وقت بھی بارآور ہوتی ہے جب فوری نتائج ظاہر نہ ہوں ۔ مکالمہ نتیجہ نہیں، زاویہ بدلتا ہے۔ اگر ہم مکالمے کو بے سود کہیں تو اجتماعی عقل کا ہی انکار ہو جاتا ہے۔ اور اگر واقعی ” گفتگو بے سود ہے”، تو یہ دعویٰ بذات خود بھی بے سود ٹھہرتا ہے کیونکہ مکالمے کے ذریعے ہی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یوں یہ دعویٰ خود اپنا رد(self-refuting) ثابت ہوتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں