خدا گم نہیں ہوا۔۔سعید چیمہ

خدا تعالیٰ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اسباب پیدا فرما چکے ہیں، زمین و آسمان کی پیدائش مکمل ہو چکی ہے، آسمان میں ستارے سجا دئیے گئے ہیں، زمین کو پہاڑوں کی مدد سے ٹھہرا دیا گیا ہے، سمندروں، دریاؤں، صحراؤں، بیابانوں، جنگلات اور نباتات سے زمین کی خوبصورتی کو دو چند کیا گیا ہے، گویا کہ تخلیقِ کائنات میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی خامی نظر نہیں آتی، خدا تعالیٰ کا منصوبہ یہ ہے کہ میں اپنی تخلیقات میں سے ایک مخلوق کو ارادہ و اختیار کی قوت دے کر ایک عرصے تک مہلت دوں گا اور پھر مہلت ختم ہونے پر پوچھوں گا کہ تم نے ارادہ و اختیار کو کیسے استعمال کیا؟ جو ارادہ و اختیار کا غلط استعمال کرے گاتو اسے پھر سخت سزا دوں گا اور جو کوئی ارادہ اختیار کے باوجود میرے احکامات کی پیروی کرے گا تو میں اس کے بدلے اسے جنت میں محلات کی ابدی بادشاہی بخش دوں گا، خدا نے اپنا یہ منصوبہ تمام مخلوقات پر پیش کیا، اس منصوبے کو اپنانے کی صورت میں خطرات بہت تھے، قدم قدم ناکامی کا خدشہ تھا، مگر اجر بھی بہت بڑا تھا، تمام مخلوقات نے خطرات کے پیش نظر اس منصوبہ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا، مگر حضرتِ انسان کی عظمت کے کیا کہنے، خود پر حد سے زیاادہ اعتماد تھا یا نادانی مگر ہم اس منصوبے کا حصہ بننے کو تیار ہو گئے، اور پھر وہ دن آن پہنچا ہے جب تمام اولادِ آدم کو عالم ارواح میں جمع کر کے سوال پوچھا جا رہا ہے کہ

أَلَستُ بِرَبِّكُم (کیا میں تمھہارا رب نہیں ہوں؟)

tripako tours pakistan

قَالُواْ بَلَىٰ شَهِدنَا (سب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، بلکہ ہم اس پر گواہ بھی ہیں)

عالمِ ارواح میں اس وقت عجب ماحول ہے، تمام ارواح اس وقت سر جھکائے کھڑے ہیں، سر اٹھانے کا کسی کو یارا نہیں، خدا کی کبریائی اور عظمت و جلال سے ہر کوئی مرعوب ہے، لیکن ایک روح ایسی بھی ہے جو تھوڑی بے چین ہے، جو بے حد متجسس ہے، جو خدا سے سوال کرنا چاہتی ہے، خدا بھی آخر خالق ہے، اپنی مخلوق سے کیسے غافل رہ سکتا ہے، فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس تو عرش کے قریب لایا جائے، وہ روح عرش کے نزدیک آ گئی، پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو، خدا نے کہا۔ میں کچھ سوالات پوچھنا چاہتی ہوں، اس روح نے کہا۔

جب ہم آپ کے منصوبے کا حصہ بننے کے لیے  تیار ہو گئے تھے تو اس طرح سب ارواح کو جمع کر کے عہد لینے کا کیا مقصد تھا، اس روح نے پہلا سوال کیا،

یہاں تو تم سب فوراً گویا ہو گئے کہ بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں، مگر دنیا میں جانے کے بعد تم اس عہد کو بھلا بیٹھو گے، ابھی تو تم اپنی بات پر خود ہی گواہ بن رہے ہو لیکن ایک مدت بعد جب دنیا کے مکین بنو گے تو ظالم ہو جاؤ گے، یہاں تو ہمارے رعب و دبدبے سے تمہارے سر جھکے جاتے ہیں، مگر دنیا میں تم ہمارے مقابل آ جاؤ گے، ایک مدت بعد جب قیامت قائم ہو گی تو پھر بھی عذر پیش کرو  گے کہ ہمیں پتہ ہی نہ تھا کہ کوئی خدا بھی ہے، اس دن پھر ہم اس عہد کو تمھہارے سامنے پیش کر دیں گے جو ابھی تم کر رہے ہو، خدا کے لہجے میں ایسی شفقت تھی کہ دنیا کی کسی زبان کا کوئی لفظ بھی اس شفقت کو بیان نہیں کر سکتا۔

ابھی آپ نے کہا ہے کہ ہم اس عہد کو بھول جائیں گے جو ہم نے آپ کے ساتھ کیا ہے، تو پھر امتحان کس چیز کا؟ ایک چیز جو ہمیں یاد ہی نہ رہے گی اس کی بنیاد پر ہم سے پوچھ گچھ کیوں کر کی جائے گی؟ روح نے دوسرا سوال کیا،

فکر نہ کرو، ہم اپنے بندوں پر ظلم نہ کریں گے، ان کی ہدایت کے لیے برابر انہی میں سے پیغمبر بھیجتے رہیں گے، جو انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلائیں گے، خدا نے پھر اسی شفقت کے ساتھ جواب دیا۔

پھر تو یہ بات یقینی ہو جائے گی کہ سب لوگ جنت کے حقدار ٹھہریں، آخر کون ہو گا جو آپ کے پیغمبر کی بات سے روگردانی کرے گا، روح نے جیسے خدا کے جواب پر تبصرہ کیا۔

نہیں ایسا نہیں ہو گا، دنیا کی عیش و عشرت، سکون و لذت اور مال و زر کی فراوانی آڑے آئے گی، لوگ پیغمبروں کا انکار کریں گے، صرف انکار ہی نہیں کریں گے، بلکہ ان کی جان کے درپے بھی ہو جائیں گے، وقت کے جلیل القدر پیغمبران کو قتل کریں گے، کھلی نشانیاں، دلائل اور معجزات کے باوجود بھی ہم پر ایمان نہ لائیں گے، خدا نے تبصرے پر جواب دیا۔

آپ اپنے پیغمبروں کو کیسے معجزات عطا فرمائیں گے، اور جو معجزات دیکھنے کے بعد بھی جو  ایمان نہ لائیں گے، ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟ روح نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا،

پیغمبران کا سب سے بڑا معجزہ ان کی دعوت ہو گی، ان کا کلام ہو گا، مگر لوگ چوں کہ مادیت پرستی میں کھو جائیں گے، اس لیے اسلوبِ دعوت اور دلائل کو رد کردیں گے اور پیغمبران سے مافوق الفطرت چیزوں کا مطالبہ کریں گے، کوئی کہے گا کہ اس پتھر میں سے اونٹنی نکالو، کوئی کہے گا کہ خدا ہم سے خود کلام کرے ہم پھر ایمان لائیں گے، قطعی دلیل کے طور پر ہم پیغمبروں کو معجزات بھی عطا کریں گے، کسی کو عصا اور یدِ بیضا کا معجزہ عطا کیا جائے گا، کسی پیغمبر کی دعا سے پتھر میں سے پلی پلائی اونٹنی نکل آئے گی، کوئی پیغمبر بن باپ پیدا ہو گا، لیکن ان عظیم معجزات کے باوجود بھی لوگ ہم پر ایمان نہ لائیں گے، اور پھر ہم ایسوں کو دنیا میں ہی عذاب کا مزہ چکھا دیں گے، کسی پر پتھروں کی بارش ہو گی، کسی کو تیز آندھی آ لے گی، کوئی زلزلے سے اوندھے منہ کر دئیے جائیں گے، کوئی بندر بنا دئیے جائیں تو کوئی سیلاب میں ڈبو دئیے جائیں۔

لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ ہم دنیا میں انسان کو کھلی چھٹی دیں گے چاہے تو ہماری اطاعت میں سر جھکا لے چاہے تو ہمارے مدِ مقابل آ جائے، اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کو دنیا میں عذاب کا مزا چکھا دیں گے؟

ان لوگوں کا جرم ہی ایسا ہو گا کہ وہ دنیا میں عذاب کے مستحق ٹھہرائے جائیں گے، وہ دل سے ہمیں سچا جان لیں گے، معجزات کو بھی حق مانیں گے، مگر اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہم پر ایمان نہ لائیں گے، ہٹ دھرمی سے کام لیں گے، ایسوں کا جرم شدید ہو گا اسی لیے عذاب ان کا مقدر کر دیا جائے گا، یہ معاملہ صرف پیغمبران کے معاصرین کے ساتھ کیا جائے گا، بعد والوں کے ساتھ نہیں، بعد والے اگر ہمیں جھٹلائیں گے تو ان کا معاملہ آخرت پر اٹھا رکھا جائے گا، خدا نے معاملہ کو واضح کیا،

لیکن جو پیغمبر کے ہم عصر نہیں ہوں گے، وہ آپ پر کیوں کر ایمان لائیں گے، انہوں نے نہ پیغمبر کو دیکھا ہو گا نہ معجزات کو؟

پیغمبر کے بعد اس کی تعلیمات برقرار رہیں گی، ہم ہر پیغمبر کو کتاب دیں گے جو دلائل  و براہین سے بھری ہو گی، جو کوئی تعصبات کو پرے رکھ کر ہماری کتاب کا مطالعہ کرے گا، وہ یقیناً حق تک پہنچ جائے گا، ہم سچائی کے کھوج کی جبلت اور بنیادی اخلاقیات ہر انسان میں ودیعت کریں گے، جو کوئی سچائی کا متلاشی ہو گا وہ لاریب ہم پر ایمان لے آئے گا، شرط صرف یہ ہو گی کہ اسے تعصبات سے چھٹکارا پانا ہو گا، خدا تعالیٰ نے جواب دیا،

لیکن دنیا میں آپ خود کو ظاہر کیوں نہیں کریں گے؟

ہم نے یہ دنیا کچھ قوانین کے تحت بنائی ہے، بظاہر سب کچھ اسباب کے تحت ہو گا مگر اسباب کے پیچھے ہماری ہستی ہی کارفرما ہو گی، اگر معاملہ یہی ہوتا کہ سب ایمان لے آئیں تو ہمارے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ ہر زمانے کے لوگوں پر اپنے آپ کو ظاہر کر دیتے، مگر ہم نے کائنات امتحان کی غرض سے بنائی ہے تا کہ تم کو جانچ سکیں کہ کون با ایمان رہتا ہے اور کون ہمارا منکر ہوتا ہے، جو تلاش کرنے والا ہو گا وہ اسباب کا پردہ پھاڑ کر ہمیں تلاش کر لے گا اور جو کوئی اپنی فطرت کا خون کر کے ہمیں سے منہ موڑے گا تو پھر ہم قیامت کے دن اس سے پوچھ لیں گے،

اگر لوگ پیغمبر کے ہم عصر نہ ہوں اور آپ کے خلاف بغاوت کرتے رہیں تو ایسوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟

ایسوں معاملہ ہم قیامت پر اٹھا رکھیں گے، ہمیں معلوم ہے کہ لوگ ہمیں گالیاں بھی دیں گے، ہمارے ذات پر بھی سوالات اٹھائیں گے، ہم سے لوگوں کو بدظن بھی کریں گے، مگر ہم اایسوں سے ہم صرف یوم الدین کو حساب لیں گے،

مگر آپ کو کوئی گالی کیوں دے گا؟

جب لوگ کہیں گے کہ خدا کا بیٹا بھی ہے اور بیوی بھی تو وہ ہمیں گالی دے رہے ہوں گے، جب  ہر طرف غلغلہ بلند ہو گا کہ فلاں بت یا ہستی بارش لانے پر قادر ہے یا خدائی معاملات پر اختیار رکھتی ہے تو ایسے لوگ ہمیں گالی نہ دے رہے ہوں گے تو کیا کررہے ہوں گے،

اور پھر اس کے بعد روح کے سوالات کا سلسلہ ختم ہوا  اور خدا سے ملاقات کا انتظار شروع ہوا جو قیامت کو ختم ہو گا۔

پسِ تحریر: امر جلیل صاحب نے ایک افسانہ لکھا ہے کہ “خدا کھو گیا ہے” جس پر کافی ہنگامہ برپا ہوا، ہم نے بھی وہ افسانہ پڑھا اور تہیہ کیا کہ امر صاحب کو دلیل کی صورت میں جواب دیا جائے گا کہ خدا کھویا نہیں ہے بس معاملہ یہ ہے کہ آپ خدا کو تلاش نہیں کر رہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *