قلانچ کی شاعری/آغر ندیم سحرؔ

ریاست علی راحت کی شاعری کے بارے ڈاکٹر اثر الاسلام سید لکھتے ہیں:’’ریاست علی راحت ایک ایسی نازک اور گہری آواز کے ساتھ ابھر رہے ہیں جو دلوں پر نقش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے،ان کے اشعار بالکل ایسے جیسے جان کیٹس کی شاعری،ایک لازوال حسن،ایک گہری کسک سے لبریزہے جو لمحاتی بھی ہے اور دائمی بھی‘‘۔ بقول اعتبار ساجد:’’ریاست علی راحت نے زندگی سے رس کشید کر کے کشت سخن کی آبیاری کی ہے‘‘۔بقول ڈاکٹر جواز جعفری:’’ریاست علی راحت ایک ایسا شاعر ہے جو گونگے،بہرے اور خوابیدہ لوگوں کت درمیان بیداری کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خواب سے بچھڑے ہوئے لوگ اپنے شاعر کی طرح ایک روشن صبح کے خواب میں شریک ہو جائیں‘‘۔ریاست علی راحت سے پہلا تعارف اس کی شاعری بنی،پھر جب انھیں مختلف مشاعروں میں سنا تو ایک خوش گوار حیرت ہوئی،ایک ایسا شاعر جو باقی ہزاروں لاکھوں سے شاعروں سے ہٹ کر سوچتا ہے،جس کے خواب باقی دنیا سے مختلف ہیں،جس کے شعری جہان،کسی بھی جہانِ حیرت سے کم نہیں۔
ریاست علی راحت کا فکری نظام اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے کلاسیک و جدید کے تما ذائقوں کو نہ صرف چکھا ہے بلکہ ان کا رنگ،اس کے کلام میں دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔حافظ آباد کی دھرتی سے تعلق رکھنے والا یہ شاندار قلم کار، دنیائے ادب کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ مضافات سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کا یہ شکوہ رہا کہ انھیں وہ توجہ نہیں ملتی جو مرکز میں بیٹھے شاعر یا ادیب کو ملتی ہے،یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے مگر اچھا شعر اور اچھی تخلیق اپنی جگہ خود بناتی ہے،اسے کسی سہارے اورکسی بیساکھی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ریاست علی راحت بھی اگرچہ دور مضافات میں بیٹھا ہے مگراس کا پہلا پڑائو جو ’’قلانچ‘‘کے عنوان کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے،وہ دنیا کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ریاست علی راحت کا پہلا مجموعہ کلام جس غزلیہ شاعری پر مشتمل ہے،اس کا اسلوب اور استعاراتی نظام اس قدر جاندار ہے کہ یہ کمال بڑی لمبی ریاضت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ریاست ایک طویل عرصے سے شعر کہہ رہا ہے،اس کی شاعری کی پختگی اور اسلوب کی چاشنی بھی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ مشاعروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا،اس نے جلوت کی بجائے خلوت کو اوڑھنا بچھونا بنایا ہے اور یہی خلوت اسے شاندار شعروں سے نواز رہی ہے۔
میرا ماننا ہے کہ جو شاعر مشاعراتی سیاست کا حصہ بن جاتا ہے،اس کی شاعری بے برکت ہو جاتی ہے،ہمیں اپنے استاد محترم مرحوم کیف عرفانی سے یہی سبق ملا ہے،گوشہ نشینی آپ کو نہ صرف اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے بلکہ گوشہ نشینی سے آپ دنیا کے بارے زیادہ بہتر سوچ اور سمجھ سکتے ہیں۔میں ریاست علی راحت کے اشعار ایک طویل عرصے سے سن رہا ہوں،پڑھ رہا ہوں مگر ان سے ملاقات نہیں تھی،ایک مرتبہ پھالیہ کے ایک مشاعرے میں انھیں سنا اور پھر ان کا گرویدہ ہو گیا۔میری ان سے بہت زیادہ ملاقاتیں نہیں،نہ میری ان سے کوئی دوستی یا بے تکلفی ہے مگر یہ کالم ان کے تازہ شعری مجموعے نے مجھ سے ذبردستی لکھوایا ہے۔’’قلانچ‘‘کی شاعری کسی محنتی،محبتی اور حساس آدمی کی شاعری لگتی ہے،اس کا ایک ایک شعر ان جذبات کا آئینہ دار ہے جو شاعر کے اندر کہیں مچل رہے ہیں،یہ اندر ہی اندر جذبات و احساسات کا مچلنا،خوابوں کا بننا اور ٹوٹا،یہ عمل انسان کو اندر سے کندن بناتا ہے،مجھے لگتا ہے کہ ریاست بھی کندن بن چکا ہے،اس کا اندازہ اس کے اشعار سے ہو رہا ہے۔ اچھے مجموعہ کلام کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ اسے جہاں سے کھولیں،آپ لطف اندوز ہوتے جائیں،ایک ایک مصرعہ،ایک ایک شعر اتنا شاندار اور جدو و ندرت سے بھرا ہوا ہو کہ آپ کھلکھلا اٹھیں،آج میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔جب ’’قلانچ‘‘کو پڑھنے بیٹھا تو جس جس صفحے پر گیا،ہشاش بشاش ہوتا گیا،میں سمجھتا ہوں کسی بھی بڑے شاعر کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اسے پڑھنے والے نہ صرف لطف اندوز ہوں بلکہ اس کی شاعری سے روشنی اور تازگی کشید کریں،آج میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہا ہوں۔
آپ ریاست کے  کچھ اشعار دیکھیں:
یہ خاک بدن کتنے ہی رنگوں میں اتارے
کچھ ہارے مقدر سے تو کچھ شوق سے ہارے
یہ شوق جنوں دیکھ کے حیرت میں ہے پانی
میں پیچھے بھنور کے ہوں مرے پیچھے کنارے
اک سوچ ہماری کہ جو پہنچی ہے فلک تک
افسوس زمیں تک نہ گئے ہاتھ ہمارے
وہ شخص کہ اب ہجر کے یوں جال میں آیا
نکلے گا اسی وقت کہ جب کھال اتارے
دریا تری بستی کے سبھی رنگ ہیں پھیکے
دریا ترے پانی کے سبھی ذائقے کھارے
کس وقت نہیں کٹتے ترے ہجر کے لمحے
کس وقت نہیں چلتے مری سانس کے آرے
آیا ہوں نکل کر میں ابھی خواب سے راحت
آنکھوں سے نمایاں ہیں خسارے ہی خسارے
۔۔۔۔
گرچہ مجھ سے عہد نبھا نہ پائے
تم خود سے بھی تو آنکھ ملا نہ پائے
تم مسجد میں فانوس جلا کر آئے ہو
ہمسائے کا دیا جلا نہ پائے تم
مال و زر کا ایک سمندر پا کر بھی
ہوس زر کی آگ بجھا نہ پائے تم
پانی پر تم شہر بسانے والے تھے
پانی پر تصویر بنا نہ پائے تم
راحت تیری آنکھ میں اس کا چہرہ ہے
اک چھوٹا سا خواب چھپا نہ پائے تم

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply