شدت پسندی سے اَٹے سماج میں مکالمے کا ناپید رواج ۔۔سویرا خان

مقتل اب کے ذرا نئی دھج سے سجا ہے۔ من چاہے کی مدح سرائی میں  نو دریافت حدیں پار کی جا رہی ہیں۔ مقتل گاہ میں رائے سے اختلاف رکھنے والے کے لیے کہیں جائے سکون نہیں۔ جو ہم سے اختلاف ِ رائے کرے گا، گویا وہ غدار ہے؛ اس کے سوا کچھ نہیں۔ پست فکری کا یہ عالم ہے کہ جو کسی سے متفق نہیں، اس کے لیے کسی کا خود ساختہ عدالتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے، جہاں سے فیصلہ آتا ہے کہ مار دو، لٹکا دو،کوڑے مارو،ہاتھ کاٹ دو، زبانیں کھینچ لو۔

مشاہدہ میں آتا ہے کہ اختلاف رائے سے زیادہ مخالف سوچ کی تضحیک سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ مباحث میں مکروہات کا بے دریغ استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ ایک نا مختتم میراتھن پورا زور لگا کے جاری ہے۔ اس دوڑ میں شریک ہر فریق کو بالآخر تھکن سے چور ہو کے گر پڑنا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

شدت پسندی کی وہ لہر چل نکلی ہے کہ اب مجنوں کی محبت کی شدت بھی ڈرانے لگی ہے۔ نفاق نے معاشرے کے حسن کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ ہر کس و نا کس اس شخص کو قرار واقعی سزا دینا چاہتا ہے، جس پر سچا جھوٹا کوئی سا بھی الزام ہو۔ یہاں اس دیس میں مجرم اور ملزم کا فرق مٹ چکا ہے۔ “تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔”

کوئی شک نہیں کہ تعصب غلام بناتا ہے، اور متعصب کے ہاتھ اختیار آ جائے تو وہ اپنے ما تحت، یا کم زور پر ظلم ڈھاتا ہے۔ آئین و قانون مذاق محض بن کے رہ گیا ہے۔ اپنے تئیں اخلاق کے اونچے سنگھاسن پر بیٹھے، تصوراتی عدالتیں قائم کر کے اپنی دانست میں   ملزم کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں، خود ہی استغاثہ ہیں، خود ہی فرد جرم عائد کرتے ہیں اور منصف بن کر نا صرف سزا سناتے ہیں، بلکہ موقع مل پائے تو مخالف نقطہء نظر رکھنے والے کو تختہء دار پر بھی لٹکانے کو تیار ہیں۔

اپنے ارد گرد دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی مباحث کے دوران میں متعدد عزیز و اقارب ایک دوسرے سے ناراض ہو چکے ہیں۔ کیا مکالمے کا نتیجہ یہی کچھ ہے؟ ہمیں تو اساتذہ نے بتایا تھا کہ مکالمہ اذہان کو روشن کرتا ہے، مگر یہ مکالمہ نہیں، در اصل ایک دوسرے پر لفظوں کی یلغار ہے جو روحوں کو بسمل، دلوں کو چھلنی کر رہی ہے  اور آپسی تعلقات کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ افواہیں نشر کرتے ابلاغی ادارے، صحافت کا جنازہ تو کب کا نکال چکے اور اب  قوم کی اجتماعی اخلاقیات تباہ کرنے میں بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔ کوئی ہے جو خواص و عوام کو مکالمے کے اصول سکھائے؟ ہے کوئی جو اظہار رائے کی آزادی اور دشنام طرازی کے مابین فرق بتلائے؟ ہے کوئی جو تعلیم دے کہ ہر شخص اپنے حالات، تجربات اور مشاہدے کی بنیاد پر مختلف نتائج پر پہنچتا ہے، اس لیے ایک ہی معاملے پر مختلف نقطہء نظر ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ آجر، اجیر، تاجر، دکان دار، خریدار اور سیاست دان، بیورو کریٹ، سپاہی، وکیل، مُلا، صحافی، حتیٰ  کہ عوام میں کوئی فرشتہ نہیں، نیز کسی کو شیطان بنا کر دکھانے سے بھی کوئی اچھا انسان نہیں ثابت ہو جاتا۔ ہم یہ کب سیکھ پائیں گے کہ زندگی اپنے محاسن پر گزاری جاتی ہے، مخالف کی کمی کوتاہیوں، خامیوں کے سہارے نہیں۔

ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ اپنی رائے قائم کرے، مگر رائے اور گالی میں تفاوت کو سمجھے۔ کسی کا گریبان پکڑنے کی آزادی انتشار پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔ اعلیٰ  ظرفی یہی ہے کہ اپنے سے جدا رائے رکھنے والے سے اختلاف کے با وجود احترام کی نسبت رکھیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہم سب اس مملکت کے باشندے ہیں۔ ہم سب کے حقوق یکساں ہیں تو ترقی اور تا بناک مستقبل کے خواہش مند شہریوں پر لازم ہے کہ یہاں ایسے ماحول کو پروان چڑھائیں، جس میں صحت مند مکالمے کی روایت ڈالی جا سکے۔ جہاں خواب دیکھنا جرم نہ ہو، تعبیریں پانے کے لیے جستجو کرنے والوں پر پتھر نہ برسائے جائیں۔ روا داری کے بیج نہ بوئے گئے تو ہماری نسلیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہو جائیں گی۔ نہ جانے وہ کون لوگ ہیں، جو اپنے بچوں کے لیے ایسا سماج تعمیر کر رہے ہیں، جہاں ان کی اولاد کسی کی رائے سے اختلاف کرے تو اس کی عزت، جان و مال کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ شدت پسندی آتش کی  مانند ہے اور اس کے لیے کوئی اپنا پرایا نہیں؛ جو اس کی لپیٹ میں آیا، اس کا کام اسے بھسم کرنا ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply