وہ واقعی ہی اپنے نام کی طرح بے نظیر تھی۔۔بی بی امر نہ ہوتیں تو آج بھی امر ہونے کی جنگ لڑ رہی ہوتیں-جس عمر میں لڑکیاں باپ کی شہزادی ہوتی ہے باپ ان کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں اور وہ سہانے خواب دیکھتی ہے اس عمر میں بینظیر بھٹو کے شب و روز سزائے موت کے قیدی عظیم پاکستان کے عوامی پہلے منتخب وزير اعظم باپ کو بچانے کی جدوجہد کرتے گزرتے ہیں ۔۔وہ واقعی ہی اپنے نام کی طرح بینظیر تھی ۔نازو پلی اس بینظیر کو 24 برس کی عمر میں طویل ترین جدوجہد 11 سال کرنی پڑی-وہ مسلم اکثریتی ملک میں جمہوری حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔خواتین کے حقوق کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے- انہوں نے سیاست اقتدار کی خاطر نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی پر صرف کی۔ بے نظیر بھٹو خواتین کو بااختیار بنانا چاہتی ہیں اور اس سلسلے میں بہت سے انقلابی اقدامات اٹھائے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں پاکستان کو خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کئے۔وہ کونسل آف ویمن ورلڈ لیڈرز کی بانی رکن بھی تھیں، ایک گروپ جو 1996 میں بھٹو نے حکومت میں خواتین کے ڈویژن کے قیام کی نگرانی کی، جس کی سربراہی ایک سینئر خاتون سرکاری ملازم تھی، ساتھ ہی انہوں نے خواتین کا بینک بھی کھولا۔ تمام خواتین پولیس اسٹیشنز، خواتین افسران کے ساتھ عملہ، خواتین کو جرائم کی رپورٹ کرنے کے لیے آگے آنے کے لیے خود کو محفوظ محسوس کرنے کے لیے، اس نے بچوں کی تحویل اور خاندانی مسائل سے نمٹنے کے لیے خواتین ججوں کے ساتھ فیملی کورٹس قائم کیں، اور 1994-95 میں پہلی خواتین ججوں کا تقرر کیا گیا۔۔
1993 سے 1997 تک 5773 میگا واٹ بجلی پیداوار کر کے ضیا کی15 سال سے پیدا کی ہوہی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا۔اورآئندہ کے لیے بھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی بنیاد رکھی اور اگر نواز شریف ان منصوبوں کو نہ ختم کرتا تو پاکستان میں لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی اس کے باوجود 2004 تک پاکستانیوں نے لوڈ شیڈنگ کی شکل نہیں دیکھی۔ بجلی کے نر خ بھی 5.7 سینٹ فی کلو واٹ پر ۔ آج ڈالر بلند ترین سطح پر 178 پر ہے اس کے باوجود 10.14 روپے فی یونٹ پیداواری لاگت ہوتی جو بہت کم تھی ۔ بڑے منصوبے حبکو پاور پلانٹ 1300 میگا واٹ اور کیپکو پاور پلانٹ 1600 میگاواٹ اربوں ڈالر کی غیرملکی سرمایا کاری کی بدولت ۔1992 میں پاکستان میں کل بجلی کی پیداوار 9338 میگاواٹ جو 3 سالوں میں پیپلز پارٹی کی پاور پالیسی کی بدولت 1997 تک 5773 میگاواٹ اضافے کے ساتھ 15111 میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار پہنچ گئ ۔بینظیر بھٹو پاکستان کے میزائل پروگرام کی بانی.معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ ایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام کا آغاز بینظیر بھٹو کے دور میں ہوا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو بہت بڑے محب وطن تھے،ایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے جنہوں نے مجھ جیسے نوجوان پر بھروسہ کیا۔ ہم نے ایٹم بم پر 1974 میں اور میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا اور کم وسائل کے باوجود ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ بینظیر بھٹو نے 1989 میں میزائل ٹیکنالوجی کے پروگرام کا آغاز کیا جس نے مختصر رینج میزائل تیار کیے جو اس ٹیکنالوجی پر بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے.
بینظیر بھٹو نے 1993 میں جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر شمالی کوریا جا رہی تھے تو، پاکستانی سائنسدانوں نے ملک کے ایٹمی اور میزائل
پروگراموں پر کام کرنے سے متعلق کہا کہ وہ شمالی کوریا کے میزائل میزائلوں کے بلیو پرنٹس missile blueprints لے آئیں .اپنی جان پر کھیل کر۔ کیونکہ بینظیر بھٹو کے جہاز میں یہ بلیو پرنٹس missile blueprints تھے۔ اس جہاز کو میزائل سے گرانے کا بہت زیادہ اندیشہ تھا۔انہوں نے یہ خطرہ مول لیا کیونکہ وہ ایک بہادر قوم پرست باپ کی بہادر قوم پرست انتہاہی نڈر بیٹی تھی- بینظیر بھٹو نےایک بار کہا کہ میں موت سے بہت ڈرتی تھی مگر اُس آخری ملاقات نے جو ڈیتھ سیل میں 2 اور 3 اپریل 1979 کو بھٹو صاحب سے ہوئی یہ خوف بھی ختم کر دیا۔ بھٹو پھانسی چڑھ کر مزاحمت کی علامت بن گیا اور یہ علم بیگم نصرت بھٹو اور بیٹی نے اٹھا لیا۔یبنظیربھٹو کی شہادت سے کچھ دن پہلے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پوچھا گیا اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو پارٹی کون چلائے گا ہنس کر بولیں کارکن۔دنیا سیاست میں بے نظیر بھٹو جتنی اذیت ناک ،سفاکانہ ،طویل ،ناقابل برداشت اور طویل ترین سیاسی جدوجہد زندگی کا مقابل کوئی نہیں-ظلم کی تاریک رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو روشن صبح ضرور ہوتی ہے۔ب
حتف پروگرام پاکستان کی وزارت دفاع (MoD) کی طرف سے گائیڈڈ میزائلوں کی جامع تحقیق اور ترقی کے لیے ایک درجہ بند پروگرام تھا۔ 1989 میں ہندوستان کے مساوی پروگرام کے براہ راست جواب میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حمایت حاصل کی – وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں، حتف پروگرام کو ہندوستان کے ساتھ میزائل کے فرق کو پورا کرنے کے لیے جارحانہ طریقے سے آگے بڑھایا گیا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت نے چین اور بعد میں شمالی کوریا کے ساتھ راکٹوں پر انجینئرنگ کی تعلیم اور تربیت پر بات چیت کی۔ رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود، حتف پروگرام کو قابل عمل بنایا گیا، اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو ایلیسیا پیٹرسن فاؤنڈیشن کی ایملی میکفرقار نے “پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کی سیاسی معمار” کے طور پر بیان کیا ہے۔ 2014 میں، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بے نظیر بھٹو کی شراکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، “بے نظیر بھٹو نے اس ملک کو انتہائی ضروری میزائل ٹیکنالوجی دی۔
بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ملک کی دو بار منتخب وزیر اعظم اور کسی بھی مسلم اکثریتی ریاست میں حکومت کی پہلی خاتون سربراہ، انہوں نے اس امید کو ابھارا کہ وہ جمہوریت کو دوبارہ پٹری پر چڑھا سکتی ہیں۔ان کے سیاسی کیریئر کے آغاز میں کئی عوامل نے ان کی بے پناہ مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ نوجوان، دلکش اور پڑھی لکھی، انہوں نے ظالمانہ ایذا رسانی کے باوجود جنرل ضیاءالحق کی آمرانہ حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرنے پر بھی داد حاصل کی تھی۔اس نے پاکستانی سیاسی ثقافت اور تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ بے نظیر بھٹو دو بار وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور جب ان کا قتل ہوا تو وہ تیسری بار جیتنے کے لیے تیار تھیں۔ ان کی موت کے 18 سال بعد، پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے ان کا تاحیات مشن تقریباً پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں شامل ہو چکا ہے-
ے نظیر بھٹو شہید نے اپنے آخری خطاب میں بھی اپنے ملک کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہـ۔۔آپ کا اور میرا ملک خطرے میں ہے۔سوہنی دہرتی مجھے پکار رہی ہے۔اور ہم دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔قبائلی علاقوں میں پاکستان کا پرچم ہمشہ لہراتا رہے گا۔پاکستان کے لئے میرے والد کو شہید کردیا گیا۔میر ے دو جوان بھائی مار دئیے گئے۔شوہر کو طویل عرصہ تک جیل میںرکھا گیا۔مجھے پارٹی کی قیادت کوختم کرنے کی کو شش کی گئی۔میری ماں کو سڑکوں پرلاٹھیاں ماری گئیں۔مجھے جیل میں رکھا گیا۔لیکن ہم موت سے نہیں ڈرتے۔ہم عوام کی طاقت سے انتہا پسندوں کو شکست دیں گے۔بے نظیر بھٹو کی تقریر کا ایک ایک لفظ اس قوم اور غریب عوام کے دکھوں سے بھرا تھا۔
بینظیربھٹو کومارنے والے نہیں جانتے تھے کہ وہ جسے ختم کرنے جا رہے ہیں وہ لوگوں کے دلوں پر ہمیشہ راج کرتی رہے گی۔ وہ خوشبوکی طرح پورے منظر نامے کواپنے حصار میں لے گی
SOURCE: . Defence Journal, 1998 PAKISTAN MISSILE TECHNOLOGY
Daheem, Mohammad (18 October 2012). PAKISTAN MISSILE CAPABILITY. Pakistan Observer, 2012.
PAKISTAN MISSILE MILESTONES 1994 Wisconsin Project on Nuclear Arms Control. 1 September 2014
Collins, Catherine. “TALE IF TWO BHUTTOS. Foreign Policy. 22 November 2014.
MacFarquhar, Emily.BENAZIR AND THE BOMB. Alicia Patterson Foundation. Retrieved 22 November 2014
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں