آوارہ خیالات کا مسودہ/محمد امین اسد

رشید یوسفزئی کی پشتو تصنیف “پاشلی فکرونہ” کے بعد جب ان کی اردو کتاب “آوارہ خیالات” کا مسودہ سامنے آیا تو یوں محسوس ہوا جیسے ایک نئی فکری دنیا نے اپنے دروازے کھول دیے ہوں۔ ہر صفحے پر کوئی تازہ نکتہ، کوئی نئی جھلک، کوئی ایسی فکری تازگی تھی جو دیر سے ذہن میں بند گرہیں کھولتی چلی جاتی تھی۔ پڑھتے ہوئے بارہا ایسا لگا کہ رشید یوسفزئی خود سامنے بیٹھے ہیں؛ چہرے پر وہی متین خاموشی، نگاہوں میں وہی گہرا سکوت، اور گفتگو اسی محبت اور ٹھہراؤ سے جاری ہے جس کا لمس ان کی مجلس میں ملتا ہے۔ کتاب گویا ایک تحریری مکالمہ نہ رہی، ایک زندہ نشست بن گئی,ایسی نشست جس میں الفاظ نہیں، شخصیت ہم کلام ہوتی ہے۔

یہ قربت اور تاثیر میرے لیے نئی نہ تھی۔ گزشتہ برس بالمشافہ ملاقات میں انہی کا وقار، سکوت اور فکری گہرائی میرے دل پر نقش ہوئی تھی۔ “آوارہ خیالات” پڑھتے وقت وہی تاثیر دوبارہ تازہ ہوئی، جیسے ان کی مجلس کی روشنی صفحوں سے پھوٹتی ہو اور قاری کو آہستہ آہستہ ایک روشن داخلی سفر میں لے جاتی ہو۔ یہ کتاب مضامین کا مجموعہ کم اور وہ باطنی صحبت زیادہ ہے جس میں سوال زندہ رہتا ہے، فکر سانس لیتی ہے اور ذہن کسی غیر مرئی روشنی سے بھرنے لگتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا مزاج عجیب ہے۔ کوئی شخص اگر عربی، فارسی، پشتو، انگریزی, فرینچ اور کلاسیکی و جدید فلسفے کی دنیا سے واقف ہو تو اس کی علمیت کو سراہنے کے بجائے سب سے پہلے اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔ یہاں علم کم، اس کے پس منظر اور مقصد زیادہ زیرِ بحث آتے ہیں۔ اور اگر یہی شخص درسِ نظامی پڑھ کر بھی سوال اٹھانے کی جرأت رکھتا ہو، مذہبیات، لیٹریچر اور فلسفے کو ایک ہی نشست میں ہم کلام کرتا ہو، تو لوگوں کے دلوں میں تجسس کے ساتھ ساتھ بے چینی بھی جنم لینے لگتی ہے۔

رشید یوسفزئی ایسے ہی معتبر دانشور ہیں جنہوں نے علم کو رٹے کے بکسے سے نکال کر شعور کی پیاس بنا دیا۔ ان کے نزدیک سوال گستاخی نہیں، زندگی کی علامت ہے۔ ان کی تحریروں میں کبھی صوفی کی بے خودی پھوٹتی ہے، کبھی فلسفی کی کاٹ، ادیب کی آمد اور کبھی پشتون بزرگ کا وہ طنز جو نرمی کی تہوں میں لپٹا ہوتا ہے مگر دل پر سیدھا اثر ڈالتا ہے۔ وہ علم کو کمنٹری نہیں بناتے، اسے مکالمہ بناتے ہیں، زندہ، بولتا، فعال مکالمہ۔

یہ بھی سچ ہے کہ اگر انہی جملوں پر کسی یورپی فلسفی کا نام ہوتا تو شاید انہیں جامعات میں پڑھایا جاتا، مگر چونکہ یہ ایک پشتون لکھاری کی تحریریں ہیں، ہمارے معاشرتی حساسیت فوراً انہیں عقیدے کے ترازو میں تولنے لگتی ہے۔ گویا فکر کی قدر علم نہیں، کسی بیرونی تصدیق کی محتاج ہو۔ سوال کرنے کا حق بھی جیسے ایک مخصوص دروازے سے ملتا ہو،اور وہ دروازہ اکثر بند ہوتا ہے۔

رشید یوسفزئی کی زبان سادہ مگر شفاف تلوار کی مانند ہے۔ مذہبی ، ادبی یا سماجی موضوعات پر تنقید کرتے وقت یوں لگتا ہے کہ وہ لفظوں سے نہیں، صدیوں کی جمی ہوئی گرد سے نبردآزما ہیں۔ ان کی طنز تیز ضرور ہے، مگر بے ادبی سے خالی ہے؛ اس میں کاٹ ہے مگر زہر نہیں۔ ان کا قلم خون نہیں بہاتا، مگر ذہن کی رگوں میں حرکت ضرور پیدا کر دیتا ہے۔ وہ قارئین کو صرف پڑھاتے نہیں، انہیں اپنی سوچ کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور کرتے ہیں۔

رشید صاحب لکھاری کم، ایک مستقل سوال زیادہ ہیں۔ ان کی تحریریں اقوالِ زریں نہیں بلکہ ایسا مکالمہ ہیں جو قاری کو کتاب سے باہر لا کر زندگی کے بیچ کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ روایت کے دشمن نہیں، مگر اس روایت کے ضرور مخالف ہیں جو عورت کی آزادی سے خوفزدہ ہو، عقل پر پہرے بٹھاتی ہو اور سوال کو گناہ کا دوسرا نام سمجھتی ہو۔ ان کی تحریروں میں وہ دبے ہوئے معاشرے کی تھکی ہوئی صدائیں سنائی دیتی ہیں، کہیں طنز کی صورت، کہیں محبت کی نرمی میں، اور کہیں ایسی بے باکی میں جس نے ہمارے علمی ماحول میں بہت کم جگہ پائی ہے۔

وہ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں تو اس میں تکبر کی بجائے خیرخواہی جھلکتی ہے، اور جب خود کو کٹہرے میں لاتے ہیں تو اس میں بھی ایک علمی دیانت اور فکری شفافیت محسوس ہوتی ہے۔ یہی ایک سچے لکھاری کی پہچان ہے، جو اپنی ذات کو بھی سوال کے کٹہرے میں لے آئے اور پھر بھی لرزے نہیں۔

آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ رشید یوسفزئی ایک خاموش مگر شدید فکری بونچال ہیں۔ وہ نوجوانوں کو محض پڑھنے پر نہیں، سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وہ روشنی ہے جو آنکھ سے زیادہ دل میں دکھائی دیتی ہے۔ آوارہ خیالات اسی روشنی کا چراغ ہے، ایسا چراغ جس کی لو شور سے نہیں، فکر سے جلتی ہے، اور جس کا اجالا دیر تک قاری کے اندر ٹہرتا رہتا ہے۔

کتاب میں کئی مضامین ایسے ہیں جو ذہن میں دیر تک ٹھہر جاتے ہیں۔ “انتظار بہترین محنت ہے”, “عثمان لالا کی بہشت آمد”, “خودکشی: ایک یادداشت”, “تنقید اور تنقیص” اور “اختلاف کے باوجود احترام” وہ تحریریں ہیں جو پڑھنے سے زیادہ محسوس ہوتی ہیں، اور محسوس ہونے کے بعد قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply