خود بدلتے نہیں ’’قانون‘‘ کو بدل دیتے ہیں۔محمد فاتح ملک

جمہویت کا پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی انفرادی اور نجی زندگی کو جیسے وہ چاہیں گزارنے کی آزادی ہوتی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں ایسی جمہوریت کبھی قائم ہی نہیں ہوئی۔ اسلام بھی اسی بات کا درس دیتا ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی میں حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ چنانچہ مدینہ میں قائم ہونی والی ریاست میں کسی کے مذہب، ان کی عبادات اور تقریبات پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ تھی۔ اگر حکومت یا ادارے کسی کا مذہب اور رہن سہن  اور ذاتی کردار میں ٹانگ اڑانے لگ جائیں تو حکومت  کا پہیہ آگے نہ چل سکے۔ کیونکہ کروڑوں لوگ اس کی زد میں آئیں گے۔

کیپٹن صفدر جن کی ناجائز دولت کا کیس عدالت میں سنا جا رہا ہے اور عدالت میں انہیں گرفتار کر کے پیش کیا گیا ۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان ثابت کرنے کے لئے دین کا سہارا لیا۔ اقبال نے کہا تھا
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
کیپٹن صفدر نے بھی کچھ ایسا ہی سوچا۔ ’’ خود  بدلنا نہیں قانون بدل دیتے ہیں‘‘۔  کیپٹن صفدر نے اسمبلی میں جو پُر جوش خطاب فرمایا اس کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے

پاکستان میں فوج سمیت کسی بھی محکمے میں اعلی عہدوں میں بیٹھے ہوئے احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں اس لیے اُنھیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔ ان کو حیرت ہے کہ جنرل عبد العلی ملک، ان کے بھائی اور ائیر مارشل ظفر خان احمدی تھے۔ اسلام کے نام پر بنائے اس ملک میں احمدیوں کو ایسے کلیدی عہدوں پر نہیں ہونا چاہیے۔  احمدی ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔  اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب فزکس ڈپارٹمنٹ کا نام بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی انہوں نے  کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اس پر احتجاج کریں گے ۔ انصاف کی کرسی پر کسی بھی ایسے شخص کو نہیں بٹھانا چاہیے جس کا تعلق احمدی برادری سے ہو۔

یہ تقریر کسی مسلک کے عالم دین نے نہیں  بلکہ اسلامی جمہویہ پاکستان کے ایم این اے کی طرف سے کی گئی۔ مذہب کو آڑ بنا کر اپنے آپ کو الزاموں سے بچانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کا پاکستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ مختلف علمائے دین تو یہ کام آئے روز کیے رکھتے ہیں۔ لیکن سیاستدان بھی ایسے کام کرتے رہتے ہیں۔ جب مولوی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھے تو انہوں نے آئین میں دوسری ترمیم کر کے ان کو خاموش کروانا چاہا، ضیاء الحق کو اپنا مارشل لاء جائز ثابت کرنے کے لیے بھی اسلام اور دین کا سہارا لینا پڑا۔ ہمارے موجودہ آرمی چیف کے خلاف پراپیگینڈہ مذہب کے نام پر ہی کیا گیا۔ اس لیے پاکستان میں یہ روز مرہ  کی بات بن چکی ہے۔ اب آئیے آپ کو کیپٹن صفدر کی فلاسفی سے بھی آگاہ کر دوں۔

احمدیوں کو ملک کے لئے زہر قاتل قرار دینے والے ڈاکٹر صفدر شاید بھول گئے کہ پاکستان  کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام نے ملک کا نام ساری دنیا  میں روشن کیا۔ اور چند دن قبل ہی انٹرنیشنل اٹامک انرجی  IAEA نے اپنے پیڈ کوارٹر میں ان کا مجسمہ نصب کیا۔ شاید وہ خود کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکے اس لیے انہیں یہ بات ملک کے لیے ’’زہر قاتل‘‘ لگی ہوگی۔ یا پھر نوبل انعام لینا ملک کے لیے ’’زہر قاتل‘‘ ہے۔  اور جس شعبہ طبعیات کا نام بدلنے کا مشورہ انہوں نے اسمبلی میں دیا شاید وہ بھول گئے کہ چند ماہ قبل ان کے اپنے ہی سسر اور اپنی ہی پارٹی کے قائد نواز شریف صاحب نے اس شعبہ کی عمارت کا نام ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کیا تھا۔ شاید ان کے اپنے ہی عقیدہ ختم نبوت کے منافی کام کر رہے تھے؟ یا پھر ان کے قائد اور سسر ہی ملک کے غداروں کو ملک کا ہیرو بنانے چلے ہیں؟(پہلے گھر کی خبر لو پھر ملک کو سنبھالنا)۔

اب آئیے فوج کو پاک صاف کرنے والے بیان کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔ جن قادیانی جرنیلوں کے نام لیے ان کے بارے میں کچھ معلومات تو ہوں گی ان کے پاس۔ انہوں نے 1965 اور 1971 کی جنگ میں کیا کار ہائے نمایاں سر انجام دئے۔ جنرل عبد العلی ملک فاتح چونڈہ پاک فوج کے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کی کمان کی اور دشمن کو پست کر دیا۔ رات کی تاریکی میں ایسے کارنامے انجام دیے کہ تاریخ کے صفحات اس سے بھرے پڑے ہیں۔ جائیں اور جا کر چند صفحات کا ہی مطالعہ کر لیں۔ ان کے بھائی جن کا ذکر کیپٹن صفدر صاحب نے کیا انہوں نے کشمیر میں چھمب جوڑیاں میں فوج کمان کرتے ہوئے جس طرح دشمن کی پیش قدمی روکی اور فتح کے جھنڈے گاڑے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ اکھنور پر قبضہ ہونے ہی والا تھا کہ قادیانی جزنیل کی جگہ مسلمان جرنیل یحیی خان  کو کمان سونپ دی گئی تو انہوں نے کیا کیا؟ وفادار اور ملک کا محافظ کون سا جرنیل ثابت ہوا؟ تاریخ تو قادیانی جرنیل کا نام بتاتی ہے۔ ان قادیانی جرنیلوں اور سپوتوں کو جو اعلیٰ فوجی اعزازات دیے گئے وہ ان کے کارناموں کی تفصیل بتاتے ہیں۔ کیپٹن صفدر بھی فوج میں رہے ہیں وہ بتائیں انہوں نے کون سی جنگ جیتی؟ یا کس جنگ میں اپنی بہادری کی داستانیں رقم کیں؟ (ملک کے نام نہاد وفادار تو کوئی کارنامہ انجام نہ دیں اور جو ملک کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں ان کے خلاف قانون سازی کی جائے۔ کیا یہ ہے انصاف؟)ایک قراردار ان لوگوں کے خلاف بھی پاس کروائیں جنہوں نے ان شخصیات کو اعلیٰ اعزازات دیے یا ملک دو لخت ہو جانے کے بعد پاک فضائیہ کا پہلا سربراہ مقرر کیا۔

کیپٹن صفدر سے درخواست ہے کہ ایک بل قومی اسمبلی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف بھی پیش کریں جنہوں نے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی کو بنا دیا۔ کشمیر اور فلسطین کا کیس اقوام متحدہ میں لڑنے کے لئے ایک قادیانی کو چنا۔ قائداعظم کو ملک دشمن قراردیں جنہوں نے پاک فوج کا پہلا سپہ سالار ایک عیسائی چنا۔ پاکستان کا پہلا وزیر قانون ایک ہندو کو بنایا۔ پہلے  اس بل کو منظور کروائیں پھر کسی اور کو غدار کا سرٹیفکیٹ دیں۔ میرا کیپٹن صفدر سے سوال ہے کہ کیا غداروں کابھی کوئی  مذہب ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو میر جعفر اور میر صادق کا کیا مذہب تھا؟ بہادر شاہ ظفر کے خلاف غداری کر کے انگریزوں کا ساتھ دینے والے غدار کون تھے؟ ملک کو دولخت کرنے والوں کا مذہب کیا تھا؟

اس کے ساتھ ساتھ کیپٹن صفدر کو چاہیے کہ وہ ایک بل یہ بھی قومی اسمبلی سے منظور کروائیں جس میں  پاکستان کے جھنڈے سے سفید رنگ ہی ختم کر دیا جائے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر لیا گیا یہاں کسی اقلیت کو رہنے کی اجازت نہ دی جائے ، ان کے حقوق ہی نہ ہوں۔ اگر ایسا قانون بنانا جائز بلکہ عین ’’ثواب‘‘ ہے تو ہندوستان کو بھی حق دے دیں کہ وہ اپنی فوج، عدلیہ اور لوک سبھا سے سب مسلمانوں کو فارغ کردیں۔ برطانیہ اور کینیڈا میں جب کوئی مسلمان فوج یا اعلیٰ عہدے پر پہنچتا ہے تو سارا ملک یہ شور کیوں نہیں مچاتا کہ عیسائیوں کے ملک میں مسلمان کیسےاس عہدے پر پہنچ گیا؟بلکہ فخر سے کہا جاتا ہے کہ غیروں کے ملک میں بھی مسلمان اعلیٰ عہدوں پر ہیں۔ ان ممالک کو بھی چاہیے کہ بل منظور کریں اور مسلمانوں پر پابندی لگوا دیں۔  روہنگیا والوں کو اگر ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو پھر یہ بھی ان کا حق ہوا کہ غیر مسلم اکثریت ملک میں مسلم اقلیت کا کیا کام؟

اگر ان سوالوں کا جواب نہیں ہے تو یہ کیسا قانون ہے جو آپ بنائیں تو جائز کوئی دوسرا بنائے تو غیر اسلامی اور ناجائز ؟اصل مسئلہ قادیانی یا عقیدہ ختم نبوت نہیں  بلکہ دین اور اسلام کا سہارا لے کر اپنے آپ سے اس تفتیش کو ہٹانا ہے ۔ اپنی لوٹی ہوئی غیر قانونی دولت کو بچانے کے لیے خدارا ملک ، قانون ، آئین اور اسلام کو بدنام نہ کریں۔ اسلام کا سہارا لے کر اپنے سیاہ کارناموں کو سفید کرنے کی کوشش نہ کریں۔کیپٹن صاحب!  خود بدلیں نہ کہ قانون۔لیکن افسوس کہ
’’خود بدلتے نہیں ’قانون‘ کو بدل دیتے ہیں‘‘!!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خود بدلتے نہیں ’’قانون‘‘ کو بدل دیتے ہیں۔محمد فاتح ملک

  1. ہمیں بہت افسوس ہوا کہ آپ کو قادیانیوں کے بارے میں عوامی جذبات اچھے نہیں لگے۔
    یہ الگ بات کہ جمہوریت اور پاکستانی اکثریت کیپٹن صفدرکے ذاتی کردار سے متفق نہ ہونے کے باوجود بھی اس کے بیان سے متفق ہے۔
    لیکن چوں کہ آپ کو جمہور کی رائے پسند نہیں آئی تو جمہور ہتھیار ڈالتے ہوئے آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ سارا ملک قادیانیوں کے حوالے کردیا جائے۔ سارے عہدے ان کے سپرد کردیے جائیں۔ بلکہ قادیانی کیا سیدھا پوراپاکستان اٹھاکر اسرائیل کی جھولی میں رکھ دیا جائے۔
    یہ جھنڈے کا سبز رنگ ہی ختم کردیا جائے۔ مذہبی طبقہ تو چوں کہ لبرلز کے ہاں جاہل ہے لہذا ان کا کا کیا حق ہے ملک میں۔
    چوں کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے نوبل انعام لیا تھا اس لیے اسے امام العیدین بنادیا جائے پاکستان میں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *