رات نے اپنی تاریکی کے سیاہ پر پھیلا رکھے تھے، جب نسیم کے ابو کی بےبسی، بند آنکھوں کی بھیگی پلکوں سے ٹپک رہی تھی۔ اکھڑتی ہوئی بے ربط سانسیں پچکے ہوئے زرد گالوں کی ڈھلان پہ اتر کر کسی آندھی طوفان کی پیشین گوئی کر رہی تھیں۔ انکی، انجانے خوف سے لرزتی انگلیاں خزاں کے پتوں کی طرح بے سکون خشک ہونٹوں کو چھو لینےکی سکت نہ رکھتی تھیں۔ ڈاکٹرز ہمت ہار چکے تھے۔ اندیشہ ہاۓ دور و دراز نے یہ جاننے پرمجبور کر دیا کہ شائد ہسپتال کے آئی سی یو میں وینٹی لیٹرکے بستر پر پڑے اس لا علاج مریض کی زندگی کی پتنگ کٹنے کو تھی۔ سب رشتےدار جو محبت اور غم کی ڈور سے بندھے ہسپتال چلے آئے تھے، وہ مریض کی بے حرکت بند انکھوں کو دیکھ کرمسیحاؤں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہے تھے کہ موت کے بے رحم ہاتھوں کو بڑھنے سے روک لو۔۔۔ انکی نگاہیں، مریض کی ڈوبتی نبضوں کو سہارا دیتی آکسیجن کی مشین اور سانسوں کو مانیٹر کرتی اسکرین پر مرکوز تھیں۔
نسیم جو خاموشی سے وہاں کھڑا لبوں کو ہلاتے ہوۓ کچھ پڑھ رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ جانے کیوں، وہ سوچنے لگا، سب کے سب ڈاکٹرز پر کیوں انحصار کرتے ہیں۔ وہ تو ایک وسیلہ بنتا ہے شفا دینے والی ذات اللہ کی ہے۔ اپنے والد کی حالت دیکھ کر اس کا کلیجہ پھٹا جا رہا تھا۔ وہ اپنے مشفق باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ سب کو چھوڑ کرسرعت کے ساتھ مسجد کی طرف چلا گیا۔ راستے میں اس نے ایک بھکاری کو ہاتھ پھیلاتے دیکھا۔ اس کا غمگین دل اور زیادہ پسیج گیا۔ جو کچھ اس کی جیب میں تھا اس نے سوال کرنے والے فقیر کو دے دیا۔ اس کے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ وہ نڈھال قدموں کے ساتھ مسجد میں چلا گیا اور اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہو کر، گڑ گڑا کر دعائیں کرنے لگا۔
اللہ سے دعا مانگتے مانگتے نسیم پر رقت طاری ہوگئی۔ دعائیں کرتے کرتے اسے وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہ رہا ۔ یہاں تک کہ فجر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ تیز قدموں سے چلتا ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا صبح کی ٹھنڈی ہوا اسکے مضطرب دل کو تازہ دم کر رہی تھی۔ اسے لگا جیسے اس کے دل کی دھڑکن کو قرار آ رہا ہو۔ وہ جیسے ہی اسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ڈاکٹرز کے چہرے پہ رات جیسی نا امیدی کی جگہ اطمینان اور خوشی کی چمک نمایاں تھی۔ اس کے والد نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ اور انکی سانسیں بحال ہو رہی تھیں۔ اللہ بڑا کار ساز ہے، وہ سوچنے لگا۔ اس کی آنکھی ایک بار پھرآنسوؤں سے ڈبڈبا گئی تھیں۔ مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔ اس کا سرشکر باری تعالیٰ میں نگوں ہو گیا۔ کیونکہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔ وہ مرادیں بر لاتا ہے، کوئی اس سے رجوع تو کرے۔ وہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔ چپکے چپکے اللہ سے باتیں کرکے دیکھو! اس سے سچے دل کے ساتھ جو مانگیں وہ مل جاتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں