تیس سالہ نرما نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔ درختوں کے پتوں میں ہلکی سی سرسراہٹ تھی، جیسے کائنات اس کے اندرونی طوفان سے ہم آہنگ ہو رہی ہو۔
شبیر کی دنیا اور نرما کی دنیا اب دو الگ راستے بن چکے تھے۔ ایک وہ دنیا تھی جو لمس، آواز، رنگ، ذائقے اور خوشبو سے جڑی تھی،جس میں شبیر جیتا تھا۔ اور دوسری وہ دنیا تھی جو نرما نے شعور کی بلندیوں پر جا کر دریافت کی تھی،جس میں نہ کوئی شے تھی، نہ کوئی آواز، مگر پھر بھی سب کچھ تھا۔۔غیر معمولی قوتیں، اپنی ذات کی پہچان، کائنات کی پہچان۔
نرما نے خود سے سوال کیا: “کیا شعور کی یہ بلندیاں اس محبت سے زیادہ قیمتی ہیں جس نے مجھے زندگی کی پہلی پہچان دی تھی؟ کیا وہ حاصل، جس کے لیے میں نے خود کو بدل ڈالا، اس قربت سے بڑھ کر ہے جو مجھے شبیر کی بانہوں میں محسوس ہوتی ہے؟ بہرحال اب مجھے ایک بہت اہم فیصلہ کرنا ہے،زندگی کا سب سے زیادہ اہم فیصلہ۔”
نرما دس ماہ کی ریاضت، مشقت، اور طرز زندگی بدلنے کے بعد اس قابل ہو چکی تھی کہ اعلیٰ شعور کی وادی میں جھانک سکے۔ ابھی اسے اگلے کئی مہینے سخت محنت کرنی تھی تا کہ وہ اعلیٰ شعور کی منزل تک پہنچ جائے، وہاں سے اس دنیا کو دیکھے، اس میں حقیقت اور غیر حقیقت کیا ہے، کنڈلی کو پا کر بصیرت کے عدسے سے دنیا کو سمجھے، وجود و بے وجود کی صحیح پہچان کر سکے۔
نرما گزشتہ شام میں کھو گئی۔۔جب شبیر اسے اعلی شعور کی دنیا کو بھلا دینا چاہتا تھا اور اسے پیار سے سمجھا رہا تھا تو نرما اس کےبانہوں کے حصار سے نکل کر پانی پینے کے لئے باورچی خانے چلی گئی تھی۔ کوئی ایک منٹ کے بعد زور سے بولی۔” جب رات میں تم نے خواب دیکھا تو تم اسے حقیقی سمجھ رہے تھے کہ نہیں۔”
“کیا فرق پڑتا ہے یار کہ اس وقت میں نے خواب کو حقیقت سمجھا کہ نہیں۔ اب تو مجھے پتا ہے کہ وہ محض ایک خواب ہی تھا، غیر حقیقی۔ ”
نرما کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔” اور یہ دنیا؟ یہ بھی تو ایک خواب ہو سکتا ہے۔ ایسا کہ غالب نے بھی کہا ہے ۔ ؎
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے”
“یار! میرے لئے یہی حقیقت ہے۔ میں اپنے حواسِ خمسہ سے اسے چھو سکتا ہوں، دیکھ سکتا ہوں، سونگھ سکتا ہوں، اس کی آوازوں کو سن سکتا ہوں، اس دنیا کی بے شمار چیزوں کو چکھ سکتا ہوں۔ تو یہ دنیا تو مادے سے بنی ہوئی ہے۔۔غیرحقیقی نہیں ہے۔”
“دو دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں کوئی پھل ہاتھ میں پکڑ کر کھا رہی تھی۔ لیکن وہ تو سب ایک دھوکا ہی تھا نا۔”
“تو کیا ! کیوں مجھے بور کر رہی ہو؟”
نرما آہستگی سے کرسی پہ بیٹھ گئی۔” میں پتا کروں گی اس دنیا کے بارے میں۔”
“وہ کیسے! مراقبے سے یا کسی جادو کی چھڑی سے”۔ شبیر نے ایک قہقہہ لگایا ۔” واپس آجاو واپس ۔۔حقیقی دنیا میں ،جس میں ہم نے ایک دوسرے کو پایا ہے۔ میں تمہارے فلسفوں سے بیزار ہو گیا ہوں۔”
“میں اس مسئلے کی گہرائی تک پہنچنے کے لئے اور سفر کروں گی۔”
“اور سفر! وہ کہاں کا؟”
“شعور کا سفر—ابھی مکمل نہیں ہوا۔”
شبیر فوراً اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز سے پورا گھر لرز گیا تھا۔
نرما کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔پھر اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی ڈائری کھولی، اور اپنی الجھن کو کاغذ پہ بکھیرتی رہی ۔”میں شعور کی منزل کے پاس پہنچ چکی ہوں، مگر وہ دل کی منزل نہیں ہے۔ اب مجھے فیصلہ کرنا ہے،کیا میں اس دنیا میں واپس آؤں جہاں شبیر میرا منتظر ہے، یا اس دنیا میں رہوں جہاں میں خود کو پا چکی ہوں، مگر اُسے کھو بیٹھی ہوں۔”
نرما نے شبیر کے نام ایک خط لکھ کر میز پر رکھ دیا اور خود پارک میں چلی گئی۔
“پیارے شبیر! میں تمہاری دنیا میں واپس آنا چاہتی ہوں۔ لیکن پہلی جیسی نرما نہیں،بلکہ ایک بدلی ہوئی نرما ۔ نہ میں تمہیں کھونا چاہتی ہوں نہ اس دنیا کو جسے میں نے قریب سے دیکھا ہے، جس نے مجھے اپنی ذات کی گہرائیوں میں جانے کا راستہ بتایا ہے اور کائنات کی بلندیوں سے جوڑ دیا ہے۔ اب اس بدلی ہوئی نرما کو قبول کر لو۔ ”
جب وہ واپس آئی تو سب سے پہلے اس کی نظر میز کی طرف گئی۔ اس نے جلدی سے نوٹ اٹھا لیا ۔
“میری پیاری نرما! شاید ۔۔میں ایسا کر پاوں جو تم چاہتی ہو!”
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں