کدّو ۔ سیدرضاشاہ جیلانی

کراچی کے حالات اور اسکی سیاست پر لوگ کچھ اس طرح سے تبصرے کرتے ملتے ہیں کہ جیسے کراچی کے تمام مسائل اور اسکا حل صرف انکی سیاسی بصیرت اور انکے سحر انگیز تجزیاتی ٹوٹکوں کے پیچھے ہی چھپا.

مجھے اس وقت تو بہت ہی عجیب لگتا ہے جب کچھ چلے ہوئے ناکارہ کارتوس بھی کراچی کی سیاسی صورتحال  پر کچھ اس طرح سے گولہ باری کرتے ہوئے ملتے ہیں جیسے کراچی کی عوام انکے کہے میں آجائے گی اور تو اور اس شہر کو پاکستان کے دوسرے شہروں کی سیاست سے ایسے جوڑ دیتے ہیں کہ جیسے گوشت کیساتھ بیچارے آلو  کا شوربہ. میرے دوست احباب بھی بڑے سادہ لوح ہیں اور مجھے اکثر و بیشتر مختلف فورمز پر بلا لیتے ہیں وہ یہ جانتے بھی ہیں کہ میرا تعلق کراچی سے نہیں ہے مگر پھر بھی اس کی سیاسی ہل چل کے روز و شب کیسے گزر رہے ہیں؟ لیاری کہاں جا رہا ہے؟ نائن زیرو کی کیا سوچ ہے؟ اور بلاول ھاؤس کی سندھ رینجرز سے کب ٹھننے اور پھر بننے والی ہے.؟ وہ ایسی باتوں پر مجھ سے پر مزاح سا مکالمہ کروا دیتے ہیں جس سے وہ خود بھی کافی لطف اندوز ہوتے ہیں اور انکے دوست احباب بھی.

کچھ روز قبل ایک مرحوم ایم این اے صاحب کی فاتحہ خوانی میں جانے کا شرف حاصل ہوا وہاں سندھ پر حکومت کرنے والی جماعت کے لوگوں نے اپنے دکھ درد بیان کیئے کہ کیسے انہیں اب نیب سمیت نجانے کتنے اداروں کے چھوٹے سے چھوٹے افسران کی بھی ڈانٹ ڈپٹ سننے کو ملنے لگی ہے. ان میں سے اکثر افراد کا یہ رونا بھی تھا کہ جو غلطیاں ان سے سرزد ہوئیں ہی نہیں ان کے  گناہ بھی گنوائے جا رہے ہیں جبکہ پارٹی کے “بڑوں ” کے کئیے گئے گناہِ عظیم بھی۔ “بڑوں کی غیر موجودگی ” میں ھم معصوموں کے گلے ڈالے جا رہے ہیں. وہیں  اسلام آباد سے آئے  اُن ہی کی پارٹی کے اعلٰی عہدے پر فائز اور سابق مشیر صاحب بابو جی ٹائپ نے یک دم فرمایا کہ شاہ صاحب…

سارا کیا قصور کراچی والوں کی سیاست کا ہے یہ لوگ بھی نا بس….اگر یہ لوگ ھماری حکومت کا ساتھ دیں تو ہم آج ایک بار پھر سے مضبوط ہو سکتے ہیں مگر کراچی کے سیاست دانوں کا ہمیں بخوبی علم ہے ایک دن آئے گا انہیں دوبئی والی سرکار سے  صلح کرنی ہی ہوگی.

ایک صاحب ھمارے ساتھ بیٹھے تھے ھم سے بھی مخاطب ہوئے..کیوں شاہ جی کیا لگتا ہے آپکو؟ انکی بات میں دم خم ہے یا ایویں ہی دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ سب ھماری طرف متوجہ ہوئے. ڈرائنگ روم کی فضا ایک دم خاموش ہوگئی. ہم گلہ صاف کرتے ہی ان صاحب سے پوچھ بیٹھے..

لگتا ہے آپ کراچی کی عوام اور اسکی سیاست کو خوب جانتے ہیں. یہ کہنا ہی تھا کہ ان صاحب کے سینے میں جیسے ہوا بھر گئی اور چہرہ مبارک سرخ. صاحب فرمانے لگے جی جی گزشتہ حکومت میں مجھے بھی ایک عدد پلاٹ ملا تھا. اور اکثر پارٹی کے کام وام کے سلسلے میں آنا جانا رہتا تھا پر بدقسمتی کہ اس دور میں لیز کینسل ہوگئی.

میں نے سب کو متوجہ پا کر کہا. کراچی کیا ہے آج آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں کوئی دل پر نا لے اس لطیفے سے آپ لوگ بڑے شاہ جی قائم علی شاہ کا ایک دم سے جانا اور نئے شاہ مراد علی شاہ کا آنا سمجھ جائیں گے اور یہ بھی سمجھ جائیں گے کے کراچی کیا چیز ہے اور کیسے سیاست کے بڑے بڑے بتوں کو زرا دیر میں پاش کر دیتی ہے..

اوروں کیطرح سابق مشیر صاحب بھی گھورنے لگ گئے..

میں نے کہا عرض کیا کہ لاہور سے کراچی کے لیئے ایک ٹرین چلی. ٹرین میں آمنے سامنے ایک فیملی بیٹھی تھی ایک لاہور کی اور ایک کراچی کی. لاہور والے صاحب نے کراچی کی فیملی کے ایک بچے سے کہا کہ بیٹا کچھ باتیں کرتے ہیں کب سے خاموش ہیں. کچھ بولتے ہیں تاکہ وقت گزر جائے. بچے نے کہا کس موضوع پر؟ لاہوری صاحب نے فرمایا کہ ایسا کرتے ہیں کہ کراچی کے حالات پر بات چیت کرتے ہیں آپ بھی وہاں کے ہیں. بچے نے کہا انکل پہلے میرے بات کا جواب دیں. صاحب نے فرمایا.. ہاں ہاں بولو بولو..بچے نے کہا کہ وہ بات یہ ہے کہ کّدو دیکھا ہے آپ نے؟ اُسکا بیج پاکستان میں سفید بنگلادیش میں پیلا اور ھندستان میں گلابی کیوں ہوتا ہے؟ لاہوری صاحب نے سوچتے ہوئے فرمایا.. مجھے نہیں معلوم..بچے نے کہا کہ پتا کّدو کا نہیں ہے اور چلے ہیں کراچی پر گفتگو کرنے……….

میرا یہ لطیفہ سن کر سب اُن سابق مشیر صاحب کی جانب دیکھ کر خوب کھِل کھلا کر ہنسے اور وہ صاحب سر جھکا کر موبائل میں مصروف ہو گئے. مجھے کان میں ہلکی سی آوازیں آنے لگیں. لگتا ہے متحدہ کے ہیں… نہیں نہیں جماعتی ہونگے دیکھو ہلکی سی داڑھی بھی تو ہے..

کسی نے کہا نہیں نہیں پکے جیالے ہیں جیالے…

 اور ہم اس دوران اپنے ہم پیشہ دوستوں کے ساتھ کئی سیلفیاں لے چکے تھے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کدّو ۔ سیدرضاشاہ جیلانی

  1. کدو غیر سياسى ھوتے ھیں. انکى بظاہر کوئی سياسى وابستگی نھیں مگر پھر بھی سياسى گفتگو اور بالخصوص کراتشى کے حالات پہ ھونے والی گفت و شنيد پر بندھ باندھنے کے واسطے بھترين نسخہ ثابت ھوا ھے.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *