جنوبی پنجاب ایک وعدہ نہیں کیفیت ہےیہ وہ خطہ ہے جو یاد دلانے نہیں آتا مگر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کا مطالبہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے جس کی بنیاد انتظامی مسائل علاقائی محرومیوں اور غیر مساوی ترقی پر ہے ۔۔مختلف ادوار میں اس مطالبے کی حمایت کی گئی تاہم یہ مطالبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا ۔
جنوبی پنجاب کی بات اکثر ترقیاتی اعداد و شمار میں کی جاتی ہے۔ مگر اس خطے کو سمجھنے کے لیے اعداد نہیں احساس چاہیے ۔ یہاں کا مسئلہ صرف سڑکوں؍ اسپتالوں؍ یا دفاتر کا نہیں ہے؍ بلکہ نظر انداز ہونے کا ہے۔جب فیصلے دور بیٹھ کر ہوں اور اثر زمین پر پڑے تو فاصلے بڑھتے ہیں۔یہاں کے نوجوان خواب تو دیکھتے ہیں لیکن ان خوابوں کے لیے شہر بدلنا پڑتا ہے۔
یہاں کی مائیں دعائیں تو دیتی ہیں لیکن اکثر بیٹوں کو رخصت کر کے ۔۔۔یہ وہ دکھ ہے جس کا کسی رجسٹر ؍ کسی فائل میں اندراج نہیں ہوتا۔
وہ مٹی جو سونا اگاتی ہے، جہاں کے لوگوں کے لہجوں میں مٹھاس ہے، جہاں محبت کسی اعلان کی محتاج نہیں اور جہاں خاموشی بھی اپنے اندر ایک مکمل گفتگو رکھتی ہے ۔وہ خطہ جنوبی پنجاب کہلاتا ہے ۔یہ وہ سر زمین ہے جہاں زمین فصل نہیں دیتی بلکہ صبر اگاتی ہے۔۔یہاں کے لوگ کم بولتے ہیں لیکن جب بولتے ہیں تو ان کے الفاظ میں دھرتی کی خوشبو ہوتی ہے۔شاید اس لیے یہ خطہ شور کی سیاست سے دور مگر دکھ کی گہرائی میں بہت قریب ہے ۔
جنوبی پنجاب کی پہچان کسی ایک شہر تک محدود نہیں یہ بہاولپور کے سرخ محلات ، ملتان کے نیلے گنبدوں؍ ڈیرہ غازی خاں کی پہاڑی خاموشی؍ رحم یار خان کی زرخیز زمینوں ، مظفر گڑھ کی دریا کنارے بسی بستیوں ، اور راجن پور کے سرحدی حوصلوں کا مجموعہ ہے؍ یہاں دریائے سندھ، چناب اور ستلج ایسے بہتے ہیں جیسے وقت کو نرمی سے آگئے لے جایا جا رہا ہو۔
بہاولپور: وقار اور تاریخ کی حسین داستان
بہاولپور ایک شہر نہیں ایک تہذیبی یاد داشت ہے، نوبی ریاست کی شائستگی؍ دربار محل، نور محل اور صادق گڑھ پیلس آج بھی اس بات کی گوہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ کبھی مرکزِ اختیار بھی رہا ہے
بہاولپور کی مٹی میں وقار ہے اور یہاں کے لوگوں کی آنکھوں میں ایک خاموش سوال۔ ۔کیا تاریخ صرف یاد رکھنے کے لیے ہوتی ہے یا انصاف کے لیے بھی؟
ملتان اولیاء کا شہر
جسے جنوبی پنجاب کی روح کہا جاتا ہے۔یہاں شاہ رکن عالمؒ؍ بہأو دین زکریاؒ اور شمس تبریز ؒ کے مزار صرف مذہبی مقامات نہیں بلکہ فکرِی تسلسل کی علامت بھی ہیں ملتان کی مٹھاس آم سوہن حلوہ اور گرم لہجے یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت نرمی میں بھی ہوسکتی ہے
سرائیکی زبان
سرائیکی زبان کسی ایک دور کی پیداوار نہیں اسکی جڑیں قدیم سندھی، ملتانی اور دراوڑی اثرات میں ملتی ہیں ۔ یہ زبان دریاؤں کے ساتھ ساتھ بہتی رہی،؍ سرحدوں میں نہیں بندھی ۔ سرائیکی ی بولنے والا جب بات کرتا ہے تو وہ صرف لفظ ادا نہیں کرتا وہ احساس منتقل کرتا ہے۔
یہ زبان احتجاج کم اور دعا زیادہ لگتی ہے ؍ شاید اسی لیے سرائیکی وسیب کی محرومی بھی شور نہیں کرتی ۔
کہا جاتا ہے کہ وعدہ پورا نہ ہو تو جھوٹ بن جاتا ہے مگر جنوبی پنجاب کے ساتھ کیے گئے وعدے فلسفہ بن گئے
لوگوں نے سیکھ لیا امید کو چیخنے کی ضرورت نہیں بلکہ سنبھا ل کر رکھنا ہوتا ہے
یہاں وعدے کیے گئے دہرائے گئے ،گ مگر لوگ ٹوٹے نہیں
انھوں نے زبان کو بدلا نہیں
انھوں نے محبت کو چھوڑا نہیں
ایک وعدہ جو لبوں تک آیا
مگر وقت کی گرد میں کہیں کھو گیا
جنوبی پنجاب کا مسئلہ صرف ایک صوبے کا قیام نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا مسئلہ ہے جب وعدے کیے جائیں اور پورے نہ ہوں تو اعتماد متزلزل ہوتا ہے ۔ جنوبی پنجاب کی عوام نے دہائیوں تک صبر کیا مگر اب وہ محض بیانات نہیں عملی اقدامات چاہتے ہیں علاقائی محرومیوں کا اازالہ ناگزیر ہے ۔جنوبی پنجاب صوبہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انتظامی انصاف کا ایک جائز حق ہے اور جب تک اس حق کی ادائیگی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا تب تک یہ وعدہ وفا نہ ہوسکے گا ۔
اصل سوال یہ نہیں کہ جنوبی پنجاب کو کیا ملا
بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے کبھی سمجھنے کی کوشش کی؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں