رویوں کے نشتر ۔ مصطفےمعاویہ عباسی

تحریک تقسیم ہند میں سب سے ذیادہ کردار اور قربانی بنگال کے لوگوں کی تھی۔ انکی یہ جدوجہد رنگ لائی، متحدہ ہندوستان کی خونی تقسیم کے نتیجہ میں پاکستان معرض وجود میں آیا، لیکن بنگالیوں کو پاکستان کی عوام نے کبھی بھی اپنے برابر کا پاکستانی یا عام شہری بھی قبول نہیں کیا۔ انہیں ان کے لباس، کھانے کے طریقوں، قد اور ان کے گہرے رنگ کی وجہ سے مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا, انکی مادری زبان کو بھی قبول نہ کیا گیا اور غدار کے لقب تک سے نوازا گیا۔ اسی تضحیک آمیز رویہ کی وجہ سے مسلمان کہلانے اور ایک پاکستانی قوم بننے کی خواہش کرنے والے بالآخر چوبیس ہی برس کے بعد اقلیت سے الگ ہو گئے۔ بنگال جو مشرقی پاکستان تھا بنگلہ دیش بن گیا، ہماری تاریخ پہ ایک ایسا دھبہ جو ہمیں ہمیشہ شرمندہ کرتا ہے۔ اگر موجودہ پاکستانی عوام اور اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بنگالیوں سے اس قدر ہتک آمیز نہ ہوتا تو شاید اکثریت علحیدگی کے باوجود اپنے نام سے وہ پاکستان نہ ہٹاتی جس کیلیے انھوں نے فقط چوبیس برس قبل قربانیاں دیں تھیں۔ لیکن انہیں اس قدر صدمہ اور دکھ پہنچایا گیا کہ وہ پاکستان نام سے ہی بیزار ہو گئے۔

کسی بھی قوم یا گروہ کا رویہ کسی دوسری قوم یا گروہ سے اگر نفرت اور توہین پر مبنی ہو تو یہ ناممکن ہے کہ متکبر ، گھٹیا ذہنیت اور لوگوں کو دکھی کرنے والے گروہ سے دکھ سہنے والا گروہ پیار اور محبت کی پینگیں بڑھا سکیں۔ جب چپے چپے پر آپ کو یہ باور کروایا جائے کہ تم ہمارے محکوم اور غلام ہو ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ یہ رویہ اپنانے والوں سے محبت اور ان کا احترام کریں۔ تحقیر فقط نفرت اور بیزاری کو ہی جنم دیتی ہے۔

اس ساری تمہید کا مقصد یہ تھا کہ میرے علم میں بہت بار یہ بات لائی گئی ہے کہ آزاد کشمیر کے وہ لوگ جو ہیرون ممالک جدوجہد کرتے ہیں، اگر واپس وطن آئیں تو نفرت انگیز رویہ کا نشانہ بنتے ہیں۔ چھٹی پر پاکستان آنے والوں کو ہوائی اڈوں سے لیکر راولپنڈی ، کہوٹہ وغیرہ کے علاقوں میں پولیس اور مقامی آبادی کے لالچ اور لوٹ مار کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ اور اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ یہاں مزید ستم ظریفی کہ مغربی ممالک سے آنے والوں کو غیر قانونی سفر یا جعلی ڈاکومنٹس کا الزام لگا کر مجبور کر سیا جاتا ہے کہ وہ رشوت دے کر جان چھڑائیں۔ افسوس یہ کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ یہ باہر رہنے والے، خواہ کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی علاقے سے گئے، لاکھوں یوروز اس ملک میں زرمبادلہ کے طور بھیجتے ہیں۔ یہ لوگ جو اپنے ملک میں بہتر مواقع نہ ہونے کے باعث پردیس جا کر محنت کرتے اور بالواسطہ پاکستان کی معاشی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں، بدقسمتی سے وطن واپسی پر ایسے روئیے کا سامنا گرتے ہیں جو نرم سے نرم الفاظ میں بھی تذلیل ہوتا ہے۔

پاکستانی حکام کا یہ رویہ کشمیری کمیونٹی میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کل یہی کشمیری بھی بنگالیوں کی طرح صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر اپنے ہاتھ کھڑے کرلیں۔ ایسے میں آزاد کشمیر حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا نظام اور طریقۂ کار متعارف کروائے کہ جس سے لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری ازالہ کیا جا سکے، تاکہ جو کشمیری عوام خود کو لا وارث سمجھتے ہیں اور وہ بھی جو کشمیریوں کو محکوم اور لا وارث سمجھتے ہیں؛ ان سب کو علم ہو جائے کہ کشمیری نہ تو لا وارث ہیں اور نہ ہی کسی کے غلام ہیں۔ کشمیریوں کو بہت ساری شکایات ہیں کہ پاکستان میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
میں یہاں ایک برقی نامہ شئیر کر رہا ہوں۔ محترم عبدالحمید امین لکھتے ہیں؛

“کشمیر بنے گا پاکستان، اس نعرے کا آج اندازہ ہوا جب عام پاکستانی شہریوں کی جانب سے ہماری تذلیل کی گئی، پاکستان پولیس کے سامنے۔ پھر بھی ہمارے ضمیر کی آواز، کشمیر بنے گا پاکستان ہے۔ دھیرکوٹ جانے والی گاڑی سے پولیس اہلکار لب سڑک رشوت طلب کر رہے تھے، اس دوران ایک نوجوان کی طرف سے سارے واقعے کو کیمرے کے ذریعے عکس بند کرنے پر پولیس اہلکار غصے میں آگئے اور نوجوان سے کیمرہ چھین لیا ۔ حیرت اس وقت ہوئی جب مقامی لوگ پولیس کی سپورٹ کرنے لگے کے ادھر چوری کے واقعات ہوتے ہیں اس لیے چیکنگ ضروری ہے۔ انہیں بتایا گیا کے جناب چیکنگ کرنی ہے تو گاڑی کی کریں نہ کہ ڈرائیور کو دور لے جا کر اکیلے میں رشوت طلب کریں۔ اس بات پر ان سفید ریش داڑھیوں میں سجے معززین نے ہمیں ہی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ ہر گالی کشمیری کہ کر شروع ہوتی اور فحش لفظ پہ ختم۔ ہم چیختے رہ گئے کہ خدارا ہماری قوم کو تو گالی نہ دو۔ ایک چیز واضع طور پر محسوس کی کہ پولیس مقامی آبادی کی سپورٹ سے رشوت لیتی ہے ۔ شاید اس لیے کہ مقامی آبادی اس جگہ پر پولیس کی مدد سے ڈاکے ڈالتی ہے مگر دونوں کے ہاتھوں لٹنے والے کشمیری ڈرائیور اور دیگر مسافر ہیں۔ دریائے جہلم کے اس پار پہنچ کر ایسے ہی محسوس ہوا جیسے فلسطینی تل ابیب سے سفر کرتا ہوا غزہ پہنچا ہو۔ اہل پاکستان کی محبتوں کا شکریہ”

میں اتفاق کروں گا کہ ہر شخص ہی ایسا نہیں ہے۔ مگر ایک مچھلی سارے تالاب کو خراب کرتی ہے اور کچھ لوگ پوری قوم کو بدنام۔ کچھ اہل ہوس کی یہ دست اور زباں درازیاں ہمارے کشمیری بھائیوں کو ہم سے دور کر رہی ہیں۔ ہم سب کو ضرورت ہے کہ حکام کی توجہ اس طرف دلائیں اور اس ظلم کے خلاف آواز بنیں۔ پھر ایک بار ہمارے ہی بھائی ہم سے نفرت کریں، یہ شاید کسی کو بھی منظور نہ ہو۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *