کفنائی ہوئی کرچیوں کا نوحہ/مقصود جعفری

شہر میم نون کے ان گزرتے دنوں کو میں کسی طرح بھی بیان نہیں کر سکتا ہوں ۔ ہر طرف تیزی ہے ، ہر کوئی جلد ی میں ہے ، ہر چیز بدل رہی ہے ، ہر لمحہ بوجھل ہے ، راستے چلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ میں کسی بھی جگہ رک کر سفر کا مزہ لے سکتا ہوں ۔ روشنی میری دائیں جانب رہتی ہے اور اندھیرا ہمیشہ بائیں جانب ۔ کاریں اتنی تیزی سے گزرتی ہیں گویا پیدل چلنے والوں کو انتہائی نفرت سے گالی دے رہی ہوں ۔ بیک لائٹس منہ چڑاتی ہیں ۔ لگتا ہے سب کہیں جا رہے ہیں یا کسی بڑے تہوار کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ ہرچیز اپنی ہیت بدل رہی ہے جیسے سب نئے بننے کے عمل میں مصروف ہیں ، یا نئے بن چکے ہیں ۔ تمام قدیم چیزیں نظروں کے سامنے سے ہٹا دی گئی ہیں ۔ کاہنوں کے منہ پررنگ مل دیا گیا ہے ۔ لوگ اس تماشے سے محظوظ ہو رہے ہیں ، ہنس رہے ہیں ۔ مگر کہاں پر؟ بہت قریب سے آوازیں آ رہی ہیں مگر وہ جگہ نہیں مل رہی ۔ میں مختلف دائروں میں گھوم کر ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ایک قدم کے فرق سے بھٹکا دیا جاتا ہوں ۔
حالانکہ وہاں جانے کے لئے سب آزاد ہیں ۔ مگر کوئی بھی ابھی تک وہاں نہیں پہنچ پایا ۔ کہہ دیا گیا ہے کہ ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ لو ۔ ہر طرف لوگ یوں جا رہے ہیں جیسے اب نہ لوٹیں گے مگر وہ واپس بھی اسی یقین کے ساتھ آتے دکھائی دیتے ہیں ، سب کچھ بدل رہا ہے ۔ سورج کے طلوع و غروب کا دورانیہ گھٹتا بڑھتا رہا ہے ۔ پہلے‘ شام میرے سامنے ذرا سا رخ بدل کر اپنے بال سکھاتی تھی مگر اب شام کو اسی کے گھنے بالوں سے پکڑ کر جکڑ لیا گیا ہے ۔ میں خود پہ ایک نظر ڈالتا ہوں ، تاریخی قبرستانوں میں مدفون شہروں پر پھیلے لاوارث لمحوں کے موتیوں سے تیار کردہ لباس اب نہایت بوسیدہ ہو چکا ہے ۔ کبھی یہ لباس کسی کی نگاہِ ناز کو اسیر بھی کرتا ہو گا مگر اب یہ ممکن نہیں رہا ۔ تمام شہر کوپرانی چیزوں سے نفرت کا جنون طاری ہو چکا ہے ۔ لوگ اپنے آپ سے تمام قدیم چیزیں اتار کر نئے ملبوسات سے بدل رہے ہیں ۔ پر کیوں ؟ یہ مجھے نہیں پتا ۔ مجھ سے چھپایا جا رہا ہے ۔ جیسے مجھے یہیں چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہو ۔ سنا ہے اب فیصلے لکھے لکھائے آتے ہیں ۔ وراثتیں بدل گئیں اور خواب پرانے سمجھ کر پھینک دیے گئے ہیں ۔
سب بکھر گئے ہیں یا اجتماع ہے ؟ یہ پتا چلانا مشکل ہے ۔ روشنی سستی اور فراواں ہے مگر زاویے ساکت ہیں ۔ ہوا نے خس و خاشاک کو چھوڑ کر مصنوعی گیس سے الحاق کر لیا ہے ۔ دھوپ کی رنگت بدل کر گہری سرمئی ہو گئی ہے ۔ زمین نے سخت جبر کے ساتھ خود کو کروٹ لینے سے روک رکھا ہے ۔ میں جہاں کھڑا ہوں وہ جگہ تھوڑی نیچے ہے ۔ میں آگے بڑھتا ہوں مگر میرے پاؤں _____ ارے! میرے پاؤں زمیں میں دھنسے ہیں ۔ یہ مجھے صاف دکھائی دیتے ہیں ۔ لمبی مخروطی انگلیوں جیسی بیلیں میرے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہیں ۔ میں اپنے پاؤں چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں مگر کوئی کوشش کارگر نہیں ہوتی ۔ میں بے بسی سے کھڑا ہوں۔ سائے بے چال چلتے ہیں ۔ میں اب اپنے اطراف میں دیکھتا ہوں کہیں کوئی سمت نہیں ہے۔ راستے دائروں کی شکل میں ہیں اور مخالفت میں گھوم رہے ہیں ۔ ان راستوں پر پیدل چلنے والے بھی ایک دوسرے سے اَوازار ہیں ۔ کسی کی تھوک کسی دوسرے کی راہگزر میں پڑی ہے ۔ یوں لگتا ہے ابھی ابھی سارے اسرار کھل چکے ہیں ۔ مگر کس پر؟مجھ پر تو نہیں کھلے ہیں۔ مجھے نفرت کے ساتھ ہتک کا احساس ہوتا ہے میرے اندر برف کی سلاخ جمنے لگی ہے ۔ میں اپنی آواز ٹٹولتا ہوں مگر وہ اپنی جگہ پر نہیں ہے ۔ اسے بیدخل کر دیا گیا ہے ۔ آہ ___! میں اپنے حال سے اتنا واقف کیوں ہوں؟
میرے ارد گرد برف کے درخت اُگ آئے ہیں۔ میں جانتا ہوں یہ فریب ہے ۔ اس برف کے نیچے اصل میں آگ ہے اس سارے خرابے میں مَیں خود کو قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ میں سوچتا ہوں کہ مجھے از سرِ نو سب دیکھنا ہو گا ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں قطار میں خاموشی سے اپنی باری کے انتظار میں تھا ۔ پھر گویا سب کو کسی نے بیدار کر دیا ۔ اچانک سب بدل گئے ۔ ہر طرف تیزی سی مَچ گئی ۔ قیام ختم ہوا مگر میں ٹھہرا دیا گیا ہوں ۔ شاید گاڑ دیا گیا ہوں ۔ میں کسی مہربان نفس کی تلاش میں نظریں دوڑاتا ہوں ۔ جھَکڑ پُر سوز آواز سے چل رہے ہیں ۔ زمیں کی رنگت سیاہی مائل نیلگوں ہے ۔ تیز بتیاں ایک تواتر سے کہیں دور جل بُجھ رہی ہیں ۔ ایک غیر فطری سکوت میرے اندر قے کر رہا ہے۔ میں بھاگنا چاہتا ہوں ۔ میرے پاؤں کو اب مزید سختی سے جکڑ لیا گیا ہے ۔ تنہائی، خاموشی، میری آنکھیں جَل رہی ہیں اب ۔ میں سر جھکا کر سوچتا ہوں ، یہ لوگ مجھے خود میں شامل کیوں نہیں کرتے ؟ دو مسکراتی آنکھیں مُسکا اُٹھتی ہیں ، ایک چہرہ میری طرف بڑھتا ہے ۔ میں چونکتا ہوں اور طلب کی تمام تر شدت سے اس کی راہ دیکھتا ہوں ۔ جلد وہ مجھ تک پہنچ جاتا ہے ۔ وہ ایک جوکر ہے۔
میری آنکھوں کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے ۔ اتنی عظیم ہستی آج خود چل کے مجھ تک پہنچی ہے ۔ یا خدا!! یہ کیا بھید ہے ؟ میں ذرا سا جھک کے اس کی تعظیم کرتا ہوں ۔ وہ مجھ سے دوہرا جھکتا ہے ۔ ہم ایک لمحہ جھکے رہتے ہیں اور زمین کو تکتے ہیں ۔ زمین پر ایک قطرہ پانی کا گرتا ہے ، میں اوپر دیکھتا ہوں ، وہ مسکرا رہا ہے پر رو رہا ہے۔ میں ایک انجان اذیت میں مبتلا ہو چکا ہوں ۔ سوالات میرے ہونٹوں پر مچل رہے ہیں مگر اس نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا ہے ۔ وہ اپنی جیب سے کچھ سامان نکال رہا ہے ۔ قریب کہیں بلیاں ہمبستری کے حق میں پرتشدد مظاہرے کر رہی ہیں ۔ سارا رستہ لاپرواہی سے اُونگھ رہا ہے ۔ کسی نے ہماری طرف توجہ نہیں دی ۔ اس نے میرے چہرے پر نقش و نگار بنانا شروع کر دیے ہیں ۔ وہ یہ کام ایک مقدس فریضے کی ادائیگی کی طرح کر رہا ہے ۔ میں اس کے چہرے کو بغور دیکھتا ہوں اور اپنی ایک اُنگلی اسے چُبھوتا ہوں اور پوچھتا ہوں ، کیا تم انسان ہو؟ وہ چپ ہے اور احتیاط سے میرے چہرے پہ نقش بنا رہا ہے جیسے اپنا کوئی قیمتی اثاثہ مجھے منتقل کر رہا ہو۔
جیسے جیسے نقش بن رہے ہیں میرے اندر اذیت بڑھ رہی ہے ۔ جیسے ناخن کو گوشت سے الگ کیا جا رہا ہو۔ میں چیختا ہوں مگر پہاڑ احمقوں کی طرح کھڑے آسمانوں کا منہ تک رہے ہیں ۔ کام کرتے کرتے وہ ذرا سا پیچھے ہٹ کر مجھے تنقیدی نگاہ سے بھی دیکھتا ہے ۔ رات طاری ہونے لگتی ہے ۔ وہ اپنا کام ختم کر کے مطمئن ہو کر اپنا سر ہلاتا ہے ۔ سامان پھینکتا ہے اور پھر اپنے چہرے کے نقش و نگار دھو ڈالتا ہے میرے سامنے جو نیا چہرہ ابھرتا ہے میں اسے دیکھ نہیں پاتا وہ میرے ماتھے کو بہت عقیدت سے چوم کر تعظیماً جھکتا ہے اور پھرواپس مڑنے لگتا ہے ۔ میں اس سے دوبارہ پوچھتا ہوں ، کیا تم انسان ہو؟ وہ پلٹ کر میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتا ہے ۔ برف کے درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور تھپڑ کی گونج سے میرے قہقہے پھوٹ پڑتے ہیں ۔ وہ پلٹ کر چل دیتا ہے ۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہنستا رہتا ہوں ، ہنستا رہتا ہوں ، اتنا کہ میری آنکھوں میں پانی آ جاتا ہے ۔ میں بڑی مشقت کے بعد اس عمل پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہوں ۔
دیوآساجستوں سے اُمڈتے کالے بادل تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ اُس پل شب کی تنہائی میں میرا ذہن خالی ہے ۔ میں اپنے اندر کچھ چیزیں تلاشتا ہوں ، نور ، نغمہ، تبسم، آہ، نمی، خواہش کچھ بھی تو نہیں ہے ۔ میری زنبیل کائناتی ہے پھر بھی خالی ہے ۔ فقط ایک چچوڑتا ہوا سکوت ہے ۔ میں ادھر اُدھر سر ہلاتاہوں اور اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کے نقش و نگار مٹانے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر میرے ہاتھ تھک جاتے ہیں ۔ نیم عریاں شب ایک بوڑھی عورت کی طرح اپنا آپ مزید مجھ پر آشکار کرتی ہے ۔ اس کی خواہشات واضح ہیں ۔ میں نفرت سے منہ پھیر لیتا ہوں۔ وہ ہنس پڑتی ہے اور میرا چہرہ اپنے بوڑھے مگر فراخ سینے سے لگا لیتی ہے اُس کے پستانوں سے خشک اور سوکھے تھوک کی سی عجیب سی بُو آ رہی ہے ۔ میں بے بس ہوں اور چپ ہوں ۔ رائیگاں جانے کا دکھ اندر ہی اندر مجھے مارنے لگتا ہے ۔ مبارزت طلب کرتا ہے ۔ میں خاموشی سے دیکھ رہا ہوں میری آنکھوں کے روشن ستارے بیاباں رات میں میری حالت پہ پتھرا سے گئے ہیں ۔ میں تمام منظروں کو دہراتا ہوں مگر حدِ نظر تمام مناظر میں حائل ہے ۔
اب ہر طرف نادیدہ شے کی حکمرانی سی محسوس ہوتی ہے ۔ میں اپنی سوچ کی گہرائیوں سے سانس لیتا ہوں اور ایک تنہا گھنگھرو کھنک اُٹھتا ہے ۔ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے رات کے رعشہ زدہ جسم کو پیچھے دھکیلتا ہوں اور غور سے سنتا ہوں ۔ اک پرسوز نوحہ سنائی دیتا ہے۔ سوز و درد کی شدت سے میں تلملاتا ہوں ۔ ہوا آواز کا چہرہ بناتی ہے ۔ نئے قدموں کی آہٹ میرے قریب آ چکی ہے ۔ ایک خواجہ سرا انتہائی وقار سے میرے قریب کھڑی ہے ۔ کسی انجانے دکھ کی کسک سے میری آنکھیں خون سے لبریز ہو گئی ہیں ۔ ہوا یکایک وحشی ہو گئی ہے ۔ شیشے کی کرچیاں اُڑ رہی ہیں ، ٹکرا رہی ہیں ۔ دیو آساجستوں سے اُمڈتے کالے بادلوں میں رہ رہ کر سرخ بجلی چمکتی ہے ۔ وہ آگے بڑھی ہے ۔ اس نے میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ۔ شہر کا شورِ قیامت تھم گیا ہے ۔ ایک کالی بلی نے میرا رستہ کاٹ لیا ہے ۔ میں خوفزدہ ہو گیا ہوں ۔ میں اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا ہوں مگر وہ والہانہ وارفتگی سے میرے جسم کو ممتا بھرے جذبے سے چھو رہی ہے ۔ دور کہیں آتش بازی ہو رہی ہے ۔ وہ اچانک چونک کر اپنے ساتھ لائی گٹھڑی کو کھولتی ہے اور ایک زرق برق لباس نکالتی ہے ۔ لباس کی چمک دمک خیرہ کُن ہے ۔
اب وہ میرا لباس اُتار رہی ہے ۔ میں کسمسا کر اسے روکنا چاہتا ہوں مگر تمام اجنبی طاقتوں نے مجھے دبوچ لیا ہے ۔ ارد گرد کے لوگ ٹھہر کے دیکھتے ہیں اور پھر ایک سرد سی بیگانگی سے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ میں شرما رہا ہوں ۔ میری شرم نے اجنبی طاقتوں کو ہٹا دیا ہے ۔ اب وہ خواجہ سرا مجھے اپنا لایا ہوا لباس پہنا رہی ہے ۔ میں اندر ہی اندر سوچتا ہوں میں بھی اب نیا بن رہا ہوں ۔ میرا چہرہ مسکرا رہا ہے ۔ لباس نیا ہے مگر اپنی اس سوچ کے دوران مجھے اپنے پاؤں پر حرکت محسوس ہوتی ہے ۔ میں جھک کر پاؤں کو دیکھتا ہوں اور چونک جاتا ہوں ۔ میرے پاؤں نیلے ہو چکے ہیں اور بیلوں کی جگہ بہت سے ہاتھوں نے میرے پاؤں دبوچ رکھے ہیں ۔ خواجہ سر الباس پہنا کر اپنے گلے سے ایک ڈوری اُتارتی ہے اور میرے گلے میں ڈال دیتی ہے ۔ ڈوری میں بس ایک گھنگھرو ہے ۔ خواجہ سرا نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔ سنو! خود سے گریز کیجیو، ہرگز نہ سوچیو ۔ یہ سوچ ہی دماغ کا ناسور ہووے ہے۔ زمانے کی چال بدل گئی ہے ۔ گھور اندھیرے میں کسی ویران حجرے کے کسی سنسان گوشے میں مت بیٹھنا ۔ محل میں سینکڑوں کمرے ہیں اور بیسیوں راہداریاں ۔ پر پیچ، پر اسرار، چمکیلے بڑھکتے پیرہن پہن کر جھانجھریں چھنکا کر اور اکثر بے وجہ کھلکھلاتے ہوئے غم زدوں کا منہ چڑا دیا کرنا ۔
میں بس سر ہلا کر رہ جاتا ہوں۔ وہ الٹے قدموں واپس لوٹتا ہے ۔ اس کے اوجھل ہونے تک میں اسے دیکھتا رہتا ہوں ۔ وہ کسی گہرے بے حددود نشاں کے پیچھے سفر کر رہا ہے ۔ میں خود پر ایک نظر ڈالتا ہوں۔ کیا میں خواجہ سرا ہوں ؟ کیا میں جوکر ہوں؟ کیا میں میں ہوں؟ رات میرے سامنے بے حیائی سے ٹانگیں کھولے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ میں رات کو مارنے دوڑتا ہوں مگر پاؤں کی بے بسی آڑے آتی ہے۔ میرے پاؤں میں کئی انگلیاں گڑ گئی ہیں۔ میں پاؤں سے لپٹے ہاتھوں کا سرا تلاش کرتا ہوں۔ کئی لوگ مجھے نظر آتے ہیں، سیدھے سادے لوگ۔ پارچہ باف، آہن گر، مالی، بڑھئی ، جفت ساز، دانشور ، مؤرخ سب موجود ہیں۔ میں کسی خیال کے تحت اوپر دیکھتا ہوں۔ جو اوپر ہیں وہ نیچے نہیں ہیں اور جو نیچے ہیں وہ اوپر نہیں ہیں ۔ میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دیکھو یہاں سب موجود ہیں آؤ میرے ساتھ ہم انہیں تازہ ہوا میں لاتے ہیں ۔ سب ختم ہو جائیں گے اگر ان کو نہ نکالا گیا تو ۔ مگر میری آواز جا چکی ہے ۔
میں پاگلوں کی طرح لوگوں کو اشارہ کرتا ہوں۔ نیچے والے سمجھتے ہیں کہ میں ان سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں چلا رہا ہوں وہ اور وارفتگی سے مجھ سے لپٹ جاتے ہیں۔ میں اپنے ارد گرد کے لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش جاری رکھتا ہوں۔ چند حماقت زدہ اشکال والے لوگ میری طرف آتے ہیں ۔ وہ مجھے دیکھتے ہیں اور پھر یکایک ہنس پڑتے ہیں۔ انہوں نے نیچے والوں کو بھی تحقیر سے دیکھا ہے اور مسلسل ہنس رہے ہیں ۔ میں ان کے ساتھ مل کر کھسیانی ہنسی ہنستا ہوں ۔ میرے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہو جاتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ وہ لوگ واپس پلٹ جاتے ہیں۔ میں بس دیکھتا رہ جاتا ہوں ۔ اب میں وقت کاٹنے کے لئے زیر لب گنگناتا ہوں ۔
You’re so consumed with how much you get
you’re waste your time with hate a regret
You’re Broken, when your hearts not open
سامنے ایک سیاہ کتا تیزی سے ایک گول دائرے میں چکر کاٹ رہا ہے۔ خدا جانے اسے کہا ں پہنچنا ہے ۔ میں سر جھکا کے سفر کے بارے میں سوچتا ہوں۔ سفر راز کھولتا ہے اور چناؤ کے فلسفے میں مدد کرتا ہے۔ مگر میں کس قبیلے سے ہوں اور ہم کہاں سے سفر کر کے آئے ہیں یا ہمیں کہاں جانا ہے؟ میں نیچے والوں کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ مجھے کیوں پکڑے ہوئے ہیں۔ پرانی نسلوں کا یہی تو المیہ ہے ۔ میں اُکتا کر اب اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں اور ایسے لوگ دیکھتا ہوں جو اپنے آپ سے بھی بے خبر ہوتے ہیں ۔ انہیں نیا یا پرانا کسی قسم کا کوئی بھی حوالہ درکار نہیں ۔ یہ سفر اور سکوت کے درمیان پھنسے ہوئے لوگ ہیں ۔ اُف! میں دونوں ہاتھوں سے اب سر کوپکڑتا ہوں ۔ یا خدا ! چناؤ کے فلسفے میں ترغیب کا بھید منکشف کر ۔ ہوا میں تیزی آ گئی ہے ۔ جھکڑ چنگھاڑتے پھر رہے ہیں ۔ میں ایک جھٹکے سے اپنے پاؤں چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں مگر بے سود۔ اس میں شاید میری غلطی ہے۔ بعض اوقات ہم اپنے آپ پر خود ہی ظلم کرتے ہیں اور گہرے تضادات کا شکار ہو جاتے ہیں ، ان سے بچنا چاہیے۔ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ ہمارے کن اور فیکون کا درمیانی فاصلہ اتنا طویل ہو چکا ہے کہ اب فیکون ایک سراب لگتا ہے۔ مجھے اس سے بچنا ہو گا ۔ میں ایک آخری کوشش کرتا ہوں اور اپنے پاؤں چھڑانے کے لئے زور لگاتا ہوں ۔ میرا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ میں زمین پر گرتا ہوں ۔ میرا جسم کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر ٹکڑا زمین پر گرتے ہی ایک پرندے کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ پرندوں کا یہ چھوٹا سا جھنڈ اب کسی نامعلوم سمت کی جانب رواں دواں ہے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply