کل لمز میں ناصر کاظمی کی شاعری پر گفتگو کی۔ ہجرت ، اداسی ، تنہائی ، رت جگا وغیرہ کے علاوہ ، ناصر کی شاعری کی جس پہلو پر بہ طور خاص بات ہوئی ، وہ ان کا فن شعر تھا۔
باقی بھی یہی رہتا ہے۔
رفتہ رفتہ ناصر کی شاعری سادہ ، نثر کے قریب ہوئی؛ کچھ کچھ میر کی طرح۔ ناصر کو اور باتوں کے علاوہ میر کی یہ ادا بھی پسند تھی کہ میر زبان کو شاعری بنادیتا ہے۔
یعنی وہ شاعری کے لیے خاص ، سکہ بند ، استناد یافتہ زبان کا قائل نہیں تھا، عام سی بلکہ عامیانہ زبان کو بھی شاعری بنادیتا ہے۔ جیسے پلیتھن ، کنجر جیسے الفاظ شاعری بن جاتے ہیں۔
لیکن ناصر نے خود بھی کچھ اختراعات کیں ۔ میر کے علاوہ لوگوں سے ( جیسے رلکے، لورکا ، کالی داس ، رامبو وغیرہ ) اور سب سے بڑھ کر خود فطرت اور زندگی سے بہت سیکھا۔
موسیقی اور مصوری ، ناصر کے لیے نامکمل منصوبے (unfinished projects) تھے۔ وہ ان فنون میں کامل ہونا چاہتا تھا، نہیں ہوسکا ۔انھیں ناصر نے اپنی شاعری میں مکمل کیا۔
اگرچہ مصوری اور موسیقی سے شاعری کا قدیمی رشتہ ہے مگر ناصر نے اسے ایک گہرے شخصی ولولے سے استوار کیا۔ اس نے موسیقی میں خاموشی کے کردار کو سمجھا اور مصوری میں فطرت کے معمول کی نقش گری کو شامل کیا۔ اس زمانے میں سرریئل مصوری مقبول تھی جس میں خواب اور حقیقت ، وہم اور سچائی باہم مدغم ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔
وہ موسیقی ، مصوری اور شاعری کو ان کی بنیادی سطح پر لے گئے جہاں کسی اور چیز کی ملاوٹ ہوتی ہے نہ کوئی شے ان میں ملوث ہوتی ہے، خود انسانی خیالات بھی نہیں۔ تاہم انسانی ادراک بہ ہرحال موجود رہتا ہے۔
زبان سے موسیقی پیدا کرنا آسان ہے مگر مصوری مشکل۔ زیادہ تر فطرت یا اشیأ سے متعلق تصورات کا بیان ہوتا ہے ، جسے شاعرانہ مصوری کہا جاتا ہے۔ زبان میں ہوتے ہی تصورات اور معانی ہیں۔
ناصر نے ایک عجب کوشش کی۔ شاعری میں ایک طرح سے معنی کو معطل کرکے ، زبان کی بنیادی اور غالب خصوصیت کو ملتوی کرکے ، اس میں مصورانہ گویائی اور شاعرانہ خاموشی پیدا کرنے کی کوشش ۔
واضح رہے زبان میں معانی ملتوی اور معطل ہو سکتے ہیں ، موقوف اور معدوم نہیں۔
مصورانہ گویائی ، گویائی کی انوکھی فارم ہے۔
شاعرانہ خاموشی ، اظہار کا عجب انداز ہے۔
ناصر نے انتظار حسین کو پی ٹی وی کے لیے آخری انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ شاعری عطر ہے، عطر میں باغ اور پھول دکھائی نہیں دیتے ۔ یہ بات ناصر کی ہجرت وغیرہ کی شاعری کے لیے درست ہوسکتی ہے ، مگر شاعری کے باقی حصے کے لیے نہیں جہاں پھول اور باغ ہیں ، اپنے پورے وجود سمیت۔ خوشبو تو محض ایک حصہ ہے اور وہ بھی اڑ اور بکھر جانے والا ۔
اس موضوع پر خورشید رضوی صاحب نے کل اچھی فتگو کی ۔ ناصر کا یہ شعر بہ طور خاص موضوع گفتگو بنا ۔ یہ ہم دونوں کی گفتگو میں شامل تھا۔
پھر جاڑے کی رت آئی
چھوٹے دن اور لمبی رات
خورشید صاحب نے کہا کہ انھیں اس شعر میں ہجر کا موضوع محسوس ہوتا ہے۔ سرما کی لمبی راتیں ہجر زدوں کے لیے جان لیوا ہوتی ہیں۔مختصر دن تو کسی طور کٹ جاتا ہے، مگر طویل رات کاٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ناصر ہی کا ایک اور شعر ہے :
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
ایک شاعر کے اشعار باہمی ربط بھی رکھتے ہیں اور خود شعری روایت سے بھی ایک درونی ربط کے حامل ہوتے ہیں۔ تاہم یہ شعری روایت محض اپنی زبان کی شعری روایت تک محدود نہیں ہوتی ، بلکہ خود شاعری کی روایت ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی شاعری کی روایت جس کے سبب کوئی لفظ ، کوئی بیان ، کوئی منظر ، کوئی خیال یااحساس شاعری بنتا ہے۔
شاعری بہ ہر حال “ بنانے “ کا عمل ہے۔
شاعری بنانے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہے۔
ناصر کو سوسن کے لینگر کی کتاب “ احساس اور ہیئت “ پسند تھی ۔ اس کتاب میں فن کو خالی پیالے کی تمثیل کی مدد سے واضح کیا گیا ہے۔ پیالہ سب سے پہلے کام کی چیز ہے۔ پھر وہ ایک بنائی گئی چیز ہے۔ اس کا رنگ ، ساخت ، اس کی گنجائش ہمیں اس کے فنی پیکر کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
اس کی کے بعد وہ ہمارےبصری ادراک میں قائم ہونے والی چیز ہے۔ یہاں اس کا خالی پن ہمیں انگیخت کرتا ہے۔ ایسا خالی پن جو بے کراں نہیں ، کنارے رکھتا ہے یعنی ہئیت رکھتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم اس میں اپنے بیکراں خالی پن کو سمیٹ سکتے ہیں۔اسے کنارے مہیا کرسکتے ہیں ، اپنے خالی پن کو ہیئت دے سکتے ہیں۔
پیالہ اب خالی نہیں رہتا ، ہمارے خالی پن سے بھر جاتا ہے۔ ہمارے خالی پن کو قرار کی حالت میسر آجاتی ہے۔
ناصر کی شاعری میں “ مصور انہ گویائی “ اور “ شاعرانہ خاموشی “ اسی خالی پیالے کی مانند ہے۔
بہ ظاہر جاڑے کی آمد اور دنوں کے چھوٹے ہونے اور راتوں کے لمبے ہونے میں کوئی خاص بات نہیں ، مگر یہ ایسا خالی پیالہ ہے جس میں کچھ بھی بھرا سکتا ہے ؛ فطرت کے اس معمول یا flow کو محسوس کیا جاسکتا ہے ، جو کسی اور چیز کی علامت بنے بغیر بھی مکمل ہوتا ہے اور ہم اس مکمل پن کا احساس بہت کم رکھتے ہیں ۔
مگر یہ معمول یا بہاؤ زندہ ہوتا ہے ، اور اس سبب سے یہ کسی بھی رخ کی طرف جاسکتا ہے یا ہمارے دھیان کو کسی بھی جانب لے جاسکتا ہے۔
ناصر نے اس طرح کے کئی اشعار کہے ہیں ، تاہم کئی جگہوں پر انھوں نے خالی پیالے میں کچھ نہ کچھ بھرا بھی ہے ، یعنی مصورانہ گویائی کو نمایاں کردیا ہے ۔ جیسے :
آج تو یوں خاموش ہے دنیا
جیسے کچھ ہونے والا ہے
شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہوگا
نیلی دھندلی خاموشی میں
تاروں کی دھن سنتا ہوگا
تیرے گھر کے دروازے پر
سورج ننگے پاؤں کھڑا تھا
یہ اتفاق ہے کہ آج صبح امریکی شاعر ولیم کارلوس ولیم (وفات : ۱۹۶۳)کی نظم “ بس یہ کہنا تھا” پڑھی۔ میں نے شاعری کی جس روایت کا ذکر کیا ہے، اس میں ناصر اور کارلوس کی شاعری ایک نادیدہ رشتے میں بندھی ہے۔ دیکھیے ، کیسی سادہ ، عام سی بات کو شاعری بنایا گیا ہے ۔
میں نے
وہ آلوچے کھا لیے ہیں
جو فریج میں رکھے تھے
اور جنھیں
شاید تم نے
ناشتے کے لیے
بچا کر رکھا تھا

مجھے معاف کرنا
وہ بہت لذیذ تھے
بہت میٹھے
اور بہت ٹھنڈے!
ناصر کے جاڑے والے شعر کو اس نظم کے ٹھنڈے آلوچوں سے ملا کر پڑھیے۔
ناصر عباس نیر
۱۳ دسمبر ۲۰۲
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں