• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ملتان میں بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کیلئے قابلِ عمل روڈ میپ-تجاویز/سعد مکی شاہ

ملتان میں بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کیلئے قابلِ عمل روڈ میپ-تجاویز/سعد مکی شاہ

اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سالانہ تقریباً ستر سے اسَی لاکھ سیاح آتے ہیں اور وہاں کی سیاحت سے آمدنی سالانہ سات سے آٹھ ارب ڈالر ہے ۔
ایران میں طویل عرصہ قیام اور تقریباً پورے ملک کی جہانگردی کے دوران میں نے دیکھا کہ بلاشبہ سیاحوں کی اکثریت مذہبی زائرین پر مشتمل ہوتی ہے جو دنیا بھر سے آتے ہیں ،مگر عرب ، چائینیز ، جرمن ، آسٹریلین ، روسی ، ترکش ، آذربائیجانی ، ترکمانستانی ، یورپین ، اسکنڈے نیوین ممالک کے بےشمار گروپس بھی سستی سیاحت کیلئے ایران کا رخ کرتے ہیں ۔ میں وہاں سوچا کرتا تھا کہ اگر فقط ایران سے ہی سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جائے تو پاکستان میں سیاحت کو بہت فروغ مل سکتا ہے ۔
تقابلی جائزہ لیں تو پاکستان میں سالانہ چھ سات لاکھ غیر ملکی سیاح آتے ہیں اور سیاحت سے سالانہ آمدن فقط ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر ہے ۔
خیر یہاں ہمارا موضوع ہمارا اپنا شہر ملتان ہے کہ کیسے ملتان کو بین الاقوامی سیاحتی شہر بنایا جائے اور وہ کونسے اقدامات ہیں کہ جن کے کرنے سے ہمارے پُر امن شہر ملتان کی طرف بین الاقوامی سیاحوں کو راغب اور متوجہ کر کے صرف ملتان میں کم از کم ایک لاکھ سیاحوں کی آمد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔
آذر بائیجان میں غالباً ملتان کا ایک جڑواں شہر بھی ہے جہاں شاید حال ہی میں ملتان انتظامیہ نے کچھ ملتانی ثقافتی اداروں کے قیام کی کاوش کی ہے ۔
ملتان کو ملک و بیرونِ ملک کے سیاحوں کیلئے ایک مضبوط، دلکش اور جدید سیاحتی شہر بنانے کیلئے صرف نعرے نہیں بلکہ انتہائی عملی اور قابلِ عمل اقدامات درکار ہیں۔ نیچے میں وہ اقدامات ترتیب وار دے رہا ہوں جو اگر حکومتِ پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور نجی شعبہ مل کر کریں تو ملتان واقعی ایک عالمی سیاحتی مقام بن سکتا ہے۔
ملتان میں سیاحت کے فروغ کیلئے انتہائی عملی اقدامات

1 ۔ تاریخی مقامات کی عالمی معیار پر مرمّت اور مینجمنٹ
شاہ رکن عالم، بہاءالدین زکریا ، قدیمی دروازوں، حسین آگاہی بازار ، قدیمی مساجد اور قلعہ ملتان کی سائنسی بنیادوں پر بحالی ۔
صفائی ، لائٹنگ ، فرش ، بیت الخلا ، سکیورٹی اور پارکنگ کو بین الاقوامی معیار تک لانا ۔

2 ۔ ملتان قلعہ کو Multan Fort Heritage Park بنانا
قلعے کے اندر میوزیم، کیفے، آڈیو گائیڈز، فوٹو پوائنٹس، رات کی روشنیوں کا شو (Light & Sound Show) شروع کیا جائے۔
باہر چھوٹا سا Handicrafts Street بنایا جائے تاکہ سیاح خریداری بھی کر سکیں ۔

3 ۔ سیاحتی انفارمیشن سینٹرز کا قیام
گھنٹہ گھر ،شاہ رکن عالم ، ہائیکورٹ چوک ، ملتان ایئرپورٹ پر جدید ٹورسٹ انفارمیشن سینٹرز
یہاں سے نقشے ، بروشرز ، گائیڈز ، ٹکٹ ، سوینئرز ملیں ۔

4 ۔ ملتان کی برانڈنگ City of Saints & Sufism
ایک مکمل سیاحتی کمپین
نئے لوگو اور سلوگن کے ساتھ
مختصر ڈاکومنٹریز مختلف زبانوں میں دنیا کے سوشل میڈیا کے سیاحتی پلیٹ فارمز پر شیئر ہوں ۔
انٹرنیشنل میڈیا پر پروموشن
جیسے ترکی نے قونیہ کو City of Rumi بنا کر کیا

5 ۔ زائرین روٹس
ایک سیاحتی روٹ جس میں
بہاءالدین زکریا ، شاہ رکن عالم ، شاہ شمس تبریز ، دیگر معروف مزار ، قدیمی مساجد شامل ہوں
روٹ کیلئے نقشے، سائن بورڈز، فوٹو اسپاٹس، بیٹھنے کی جگہیں ، بینچز ۔

6 ۔ ملتان انٹرنیشنل صوفی فیسٹیول ہر سال ،
انٹرنیشنل صوفی موسیقی
بین الاقوامی خطاطوں کیلئے خطاطی کی نمائش و انعامی مقابلے ، قوالی ، دستکاری
بین الاقوامی محققین سیمینارز انٹرنیشنل کتاب میلہ
گلوکاروں کے شوز ، آرٹس کونسل میں تھیٹر ، ڈرامے ،
یہ فیسٹیول ملتان کو عالمی نقشے پر دوبارہ زندہ کر سکتا ہے ۔

7 ۔ قدیمی بازاروں کی Beautyification
حسین آگاہی ، اندرون پاک گیٹ ، اندرون بوھڑ گیٹ ، حرم گیٹ ، درگاہ بازاروں میں آرٹسٹک سجاوٹ ، چھت نما شیڈز ، سنگل پلیٹ فارم پر دستکاری کے آئٹمز کے سٹالز

8 ۔ اسپورٹس ٹورزم
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کو PSL اور انٹرنیشنل میچز کیلئے مستقل فعال رکھنا
روایتی کھیل کشتی اور کبڈی کے انٹرنیشنل ٹورنامنٹ آرگنائز کئے جائیں ۔
Multan Desert Jeep Rally (بہاولپور کی طرز پر) شجاع آباد/جلالپور پیروالا میں انعقاد کیا جائے ۔

9 ۔ ملتان آم ، سوھن حلوہ اور دستکاری کو برانڈ بنانا
Multan Mango Festival
Multan Blue Pottery Expo
Multan Khussa Show
سیاح غذائی اور ثقافتی یادگاریں خریدنے کے لئے آئیں گے

10 ۔ درگاہوں کے قریب جدید “Ziyarat Hotels & Guest Houses”
زائرین کیلئے صاف ستھرا، سستا، پرسکون قیام
حکومت One Star Ziyarat Hotels کا سرٹیفکیٹ جاری کرے اور سیاحوں کیلئے سستی ترین رھائشی عمارات کا بھی بندوبست کرے

11 ۔ ٹور گائیڈز کی ٹریننگ
یونیورسٹیوں میں ’’Tourism & Culture Guide Certification’’ شروع کیا جائے۔
گائیڈز کو اردو + انگلش + فارسی + عربی کی تربیت۔

12 ۔ ملتان ریور فرنٹ (Chenab River Tourism)
چناب کنارے
Boat rides
تکے، چائے، فوڈ اسٹریٹ
چھوٹے کیبن/ ہٹس
فوٹو پوائنٹس

13 ۔ سمارٹ ٹورسٹ موبائل ایپ ، نقشہ ، اوقات کار ، ہوٹل بکنگ ، ٹیکسی ، ٹکٹ

14 ۔ فلائٹ کنیکٹیویٹی بڑھانا
قابل عمل کوشش کہ دوبئی ، ایران ، آذر بائیجان ،
ترکمانستان ، جدہ ، دوحہ ، عراق ، کوالالمپور ، استنبول سے براہ راست فلائٹس بحال ہوں/ بڑھیں۔

15 ۔ رات کے وقت Historical Lighting
شاہ رکن عالم ، قدیمی دروازے ، ملتان کینٹ ، درباروں ، مزاروں ، مساجد ، مندر ، گرجا گھروں ، خونی برج ، ملتان کے دروازوں ، پرانی عمارات ، عسکری جھیل پر فنکارانہ روشنی ھو تاکہ شہر فوٹو گرافی اور نائٹ ٹورزم کیلئے بہترین بنے۔

16 ۔ ملتان شہر کا ایک جدید میوزیم ، قدیم ملتان ،صوفی کلچر ، دستکاری ،خطاطی
ڈیجیٹل اسکرینوں پر دکھائے جائیں ۔

17 ۔ فوڈ ٹورزم ، ملتانی سوہن حلوہ ،روایتی ملتان پکوڑے ،
زندہ دل چائے

18 ۔ ٹریفک ، صفائی ، تجاوزات کا مستقل کنٹرول
سیاح سب سے پہلے صفائی اور نظم و ضبط دیکھتے ہیں ۔
ملتان میں یہ سب سے کمزور پہلو ہے ، جس کے بغیر کوئی شہر سیاح نہیں کھینچ سکتا ۔
19) Airbnb طرز کا “Multan Homestay Program”
شہریوں کو ترغیب دی جائے کہ گھر کا حصہ سیاحوں کیلئے مختص کریں ۔
حکومت سیکیورٹی چیک سسٹم فراہم کرے ۔

20 ۔ ملتان کو UNESCO World Heritage Nomination
شاہ رکن عالم یا قدیم ملتان قلعہ کو عالمی ورثہ کے طور پر نامزد کرنے کی کوشش۔
یہ ایک Game Changer ہو گا ۔

21 ۔ جس طرح پاکستان میں ٹور آپریٹرز ایران ، عراق ، شام اور دنیا کے مختلف ممالک میں زائرین کو لے جاتے ہیں ۔۔۔
اسی طرح ملتان سے ٹور آپریٹرز مختلف ممالک کے ٹور آپریٹرز سے کولیبریشن کریں اور یہاں سیاح منگوائیں ۔

22 ۔ پاکستانی سفارت خانوں کو بھی دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سیاحتی سیمینارز منعقد کر کے غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی سیاحت کی طرف راغب کرنا چاہیئے ۔
ہر سفارت خانے میں ملتان کی ضلعی انتظامیہ ملتان کے تعارف پر مبنی ڈاکومنٹریز ، سوغاتیں ، دستکاریاں ، بلیو پاٹری ، نیلی ٹائلیں ، آم ، سوہن حلوہ پہنچائیں ۔
اگر ان اقدامات میں سے صرف 40 ٪ بھی عملی ہو جائیں تو ملتان پاکستان کا لاہور اور ترکی کا قونیہ بن سکتا ہے۔
سیاحت سے ریونیو/ زرمبادلہ ملے گا ۔ ہزاروں نوکریاں ، شہر کی عالمی شناخت ،
مقامی اقتصادی ترقی اور
ثقافتی احیاء ممکن ہو جائے گا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply