کیا فلسفہ بھی ضروری ہے؟(حصہ اوّل)۔۔۔مہک جہانزیب

گزشتہ دنوں ایک پرانی سہیلی سے بات ہو رہی تھی ۔باتوں باتوں میں اُس نے اپنے بریک اپ کا بتایا۔جب اس نے اپنے ساتھی سے بےحد دلی لگاؤ کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس واقعے سے اسے کافی دھچکا پہنچا ہے تو میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُسے دلاسہ دیا اور ایرک فرم (فلسفی اور مصنف) کی کتاب سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ” محبت ایک فن ہے اور فن میں پُختگی اسی صورت ممکن ہے جب اسے بار بار دُہرایا جائے”لہذا دل برداشتہ نہ ہو ۔ یوں سمجھ لو ایک تجربہ تھا جو ناکام ہوا۔ حوصلہ رکھو تجربہ ہی تو تھا۔دوبارہ کوشش کرنا لیکن اچھا ہوگا کہ تم پہلے ایرک فرم کی کتاب “آرٹ آف لوننگ” پڑھ لو۔

میری اس بات پر وہ مُسکرائی اور کہا کہ تم فلسفیوں کی طرح باتیں کرتی ہو ۔ تم جانتی ہو کہ مجھے فلسفے کا مضمون کبھی بھی پسند نہیں تھا ( میری یہ سہیلی پہلے شعبہ فلسفہ میں میرے ساتھ ہی پڑھتی تھی لیکن پھر بعد میں اس نے کسی اور شعبے میں داخلہ لے لیا تھا اوراسی میں ماسٹر کیا)اور کہنے لگی “چھوڑو فلسفے کی ایک کتاب میری زندگی نہیں بدل سکتی۔”

کہنے کو تو یہ محض جان چُھڑانے کے لئے کہی گئی ایک بات تھی لیکن اس نے میری توجہ ایک خاص مسئلے کی طرف مبذول کرائی اور وہ یہ کہ آخر کیوں لوگ فلسفے کے مضمون کوبالکل ہی ایک الگ تھلگ یا یوں کہنا بہتر ہوگا کہ کوئی آفاقی علم سمجھتے ہیں؟اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لئے لوگ اپنے طور پرنکالے گئے نتائج جیسے حل کی طرف تو جاتے ہیں ،اس کے باوجود کہ یہ حل کئی بار ناکام بھی ہو چکے ہوں(جیسا یہ میری سہیلی کے معاملے میں ہے کہ ناکام محبتوں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن اس مسئلے کا حل فلسفے میں کہیں نظر نہیں آتا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نتیجہ بناءپڑھے نکالا گیا ہے)لیکن فلسفہ کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ شعبئہ فلسفہ میں پڑھتے ہوئے اس قسم کے رویوں کا میں نے بارہا سامنا کیا ہے۔ لوگوں کی اس عمومی سوچ کے مدنظر میری کوشش ہوگی کہ اپنی اس تحریر میں فلسفے کے عملی پہلو کو کسی طور واضح کروں۔

معاشرہ اور نظریات:
معاشرہ بحیثیت مجموعی بےشمارنظریات کا گڑھ ہوتا ہے جس میں انسان ایک ہی وقت میں کئی ایک نظریات کو مانتے ہوئے اپنی زندگی بسر کررہا ہوتا ہے۔ان میں سیاسی نظریات، مذہبی عقائد اور مختلف اوقات میں قائم کی جانے والی آراء وغیرہ شامل ہیں۔عموماًلوگ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ روز مرہ کی زندگی میں کن نظریات کو مانتے اور ان کا پرچار کرتے ہیں جیسا کہ یہ ایک عام بولا جانے والا جملہ ہے کہ میں کسی سیاسی پارٹی کے نظریہ کو نہیں مانتا لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ایسا ممکن ہے؟ نہیں کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کو زندگی بسر کرنے کے لئے کسی نا کسی سمت کا تعین کرنا پڑتا ہے ورنہ انسان بطور جاندار اورکسی کُرسی یا میز میں فرق کیا باقی رہے گا؟ البتہ یہ بالکل ممکن ہے کہ یہ اپنے مخصوص نظریات کے حوالےسے لاعلم ہو۔ Ayn Rand (فلسفی اور ناول نویس) نےاپنی کتاب “فلاسفی :ہُو نیڈز اِٹ “(Philosophy: Who Need’s it?) میں کچھ ایسے جملوں کی فہرست بنائی ہے جو کہ روزمرہ کی بول چال کا حصہ تو ہیں لیکن لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کو سماج میں متعارف کروانے والے صاحبان کون ہیں۔جیسے “اتنے یقین سے مت بولو۔ کوئی چیز بھی اس قدرحتمی نہیں ہوتی”۔ یہ فلسفی ڈیوڈ ہیوم اوراس کے بعدآنے  والے کئی فلسفیوں کاماننا ہے۔”یہ بات کہنے میں تو اچھی ہے لیکن کرنے میں نہیں”(افلاطون)۔ “تمہارے مطابق یہ ٹھیک ہے میرے مطابق نہیں”(ویلیم جیمز)۔”میں ثابت نہیں کر سکتا لیکن مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ صحیح ہے”(ایمینول کانٹ)۔”یہ مطلبی ہے اس لئے بد ہے” (کانٹ)۔”پہلے کرو پھرسوچو”(جان ڈیوی) ایسی کئی اورمثالیں ہمیں اپنے معاشرے میں مل سکتی ہیں۔

دیکھا جائے توان جملوں میں روزمرہ درپیش معاملات کودیکھنے اور سمجھنےکا مخصوص نظریہ پوشیدہ ہے اور لوگ ان ہی پوشیدہ نظریات کے لاشعوری طور پر اطاعت گزار ہوتے ہیں۔اس اطاعت گزاری سے یہ لوگ سماج میں تو اپنی جڑیں مضبوطی سے گاڑھ  لیتے ہیں لیکن اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی بے چین ، غیر مطمئن اور بیزار ہوتے ہیں۔ کیونکہ اطاعت گزاری یا کنفرمٹی کا المیہ یہ ہے کہ یہ اطاعت گزار کو زندگی گزارنے کا ایک طریقہ فراہم کرتی ہے جس کے تحت زندگی گزارنی ہے مگراس طریقہ کارکو بنانے میں ان افراد کا اپنا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اس لئے انھیں اپنی زندگی پر کوئی کنٹرول دکھائی نہیں دیتا جو کہ افراد کو بیزاری اور بیقراری کے تاریک کنویں میں دھکیلتا جاتا ہے۔

فلسفہ کیوں ضروری ہے؟
ہماری بنیادی اقدار ہمیں وراثت میں ملتی ہیں جیسے مذہبی عقائد کہ اس کائنات کا کوئی تخلیق کار موجود ہے، اخلاقی اقدار اور زندگی جینے کا ڈھنگ وغیرہ ۔ یہ اقدار اور روایات سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو جوں کی  توں منتقل ہوتی جاتی ہیں جس سے زندگی میں ایک مستقل تسلسل دکھائی دینے لگتا ہے۔اس تسلسل کی وجہ سے زندگی بنا کسی تبدیلی کے ایک ڈگر پر چلتی محسوس ہوتی ہے ۔ جبکہ فلسفہ ہمارے سماج کی کئی ایک انداز سے توجیح اور تشریح کر کے زندگی کے تسلسل کی لڑی توڑ دیتا ہے۔”جرنل آف فلاسفی آف لائف”میں جولائی 2015 کو چھپنے والے مضمون”فلاسفی فور ایوری ڈے لائف” میں شاعرArthur Rimbaud کے حوالےسے لکھتا ہے کہ وہ اخلاقی اقدار کو عقل کی کمزوری قرار دیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان اقدار کو بنانے میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔قدیم یونانی فلسفی ہیراکلائٹس (Heraclitus) کہتا ہے کہ دنیا میں کوئی شے ساکت نہیں ہے۔ ہر شے مسلسل تبدیلی کے عمل سےگزر رہی ہے۔اس کا کہنا ہے:آپ ایک دریا میں دو مرتبہ اپنا پاؤں نہیں رکھ سکتے ۔ مستقل صرف تبدیلی ہے۔یوں سوچ کے تسلسل کو توڑتے ہوئے فلسفہ فرد کو مختلف پہلوؤں سے سوچنے کی جانب مائل کرتا اور ساتھ ہی تبدیلی کے امکانات کو سامنے لاتا ہے۔
اس بات پر ایک سوال جو قارئین کے ذہن میں آ سکتا ہے وہ یہ کہ ایسے توبہت سے مضامین ہیں جو کہ سوچنے کے مختلف زاویے فراہم کرتے ہیں جیسے نفسیات،معاشرتیات،علم تاریخ اورایجوکیشن وغیرہ۔ دراصل فلسفہ کی ایک اہم بات جو اسے باقی علوم سے اوپر رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ فلسفہ پڑھنے والے کسی بھی نظریے کو پرکھنے کا پیمانہ تنقید رکھتے ہیں۔ اس پیمانے کا تقاضا ہے کہ یہ فرد کے اندھے اعتماد والے رویے کا قتل کرتا ہے اور کسی بھی معاملے کے ہر ایک پہلو پر سوال اُٹھا کر اس کی پوری طرح سے قلعی کھول کر رکھ دینےکے رویہ کی پرورش کرتا ہے۔ اس کے بعدکسی مخصوص بات ، امر یا نظریہ کو کائنات میں موجود ہرممکنہ وضاحت کی مدد سے ترک یا اپنایا جاتا ہے اور یہ کام فلسفہ کی شاخ منطق (Logic)کے اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ اس رویے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ فرد کا رشتہ کبھی بھی سیکھنے کے عمل سے ٹوٹنے نہیں دیتا۔ فلسفے سے صحیح معنوں میں دلچسپی رکنےن والا فرد ایک عامیانہ واقعے سے بھی اسی رویہ کی وجہ سے بہت کچھ سیکھ لیتا ہے۔
ایک چھوٹا سا بچہ جو کہ ابھی دُنیا کو سمجھنے کے عمل میں مصروف ہے ، اپنے سوالوں کی طاقت سے ہر واقعہ کی جڑ میں پُہنچ کر اسے سمجھنے والے منفرد رویے کا مالک ہوتا ہے لیکن وقت اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ سماج بچے سے اس رویہ کوچھین کر اس کے ہاتھ میں جواباًاقدار کی ایک کتاب تھما دیتا ہے۔ فلسفہ وہ علم ہے جو اپنے پڑھنے والے فرد میں موجود اس بچے کو دوبارہ زندہ کر کے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے مواقعوں کی راہ کھولتا ہے۔سقراط اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ جس کاتاحیات یہ طریقہ رہا کہ وہ اپنے آس پاس لوگوں سے سوالات کر کے ہی سیکھتا تھا۔ فلسفے میں اس عمل کی اہمیت کے پیش نظراس کو سقراط کے نام سے منسوب کرکے سقراطی طریقہ یاSocratic Method کہا جانے لگا۔فلسفہ کُل اور جُز کو علیحدہ علیحدہ کرکے دیکھنے اور دونوں کے درمیان رشتے کو سمجھنے کےفہم کا نام ہے۔ اسے فلسفے کی زبان میں میریولوجی”Mereology” کہا جاتا ہے۔انسانی دماغ لا تعدادخیالات اور تصورات کا گڑھ ہے۔ فلسفہ درحقیقت ان تصورات کو منظم کرکےمستحکم نظریات بنانے کا فن ہے۔نظریات کی تخلیق کاری کے اس عمل میں انسانی ذہن تصورات کی پیچیدگیوں کو سلجھاتا ہے جس سےاظہار خیال کی وضاحت آسان ہو جاتی ہے۔ یوں فلسفہ آپ کی زندگی میں موجود پیچیدگیوں کو ختم کرتا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اظہار خیال کا گر بھی سکھاتا ہے۔مختصراً کہا جائے تو فلسفہ انسان کوتخلیق کار بناتا ہے جبکہ سماج پُجاری۔ٖFabian Freyenhegan اپنی کتاب “ایڈورنوز پریکٹیکل فلاسفی” میں کیا خوب لکھتا ہے کہ فلسفہ اطاعت گزاری پر ایک تنقید اور سماج میں رائج روایات کے خلا ف ایک بھرپور بغاوت ہے۔

فرداور فلسفہ کا تعلق:
اب میں آپ سے سوال کرتی ہوں۔آخر اس سماج میں ایسا کوئی ہے جس کی زندگی سے فلسفے کا کوئی تعلق نہیں؟ کیا ایسا بھی کوئی شخص ہوگا جو سماج میں رائج اصولوں کی غلامی میں جینا چاہے گا؟ شاید ہی ایسا کوئی انسان ہو جو اپنی زندگی کا خود تخلیق کار نہ بننا چاہے۔زندگی کے معنی اور مقصد کیا ہیں؟میرے وجود کے ہونے کی دلیل کیا ہے؟حقیقت اور بھرم میں فرق کیا ہے؟ غم اور خوشی کیا ہے؟ خدا کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ وجود بذات خود کیا ہے؟ نیکی اور بدی کیا ہے؟ اس دُنیا کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ جاننا کیا ہے؟ محبت کیا ہے؟ حسن کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو کبھی ایسے سوالات بےچین نہیں کرتے؟

جاری ہے

Mehak Jehanzeb
Mehak Jehanzeb
جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ کی طالب علم ہیں ۔ سیاسی ،سماجی اور انسانی حقوق کے لئیے سرگرم ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیا فلسفہ بھی ضروری ہے؟(حصہ اوّل)۔۔۔مہک جہانزیب

  1. بہت اچھا ہے فلسفہ کو عمل میں دیکھنے کی ضرورت ہے عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کے یہ ایک تخیلاتی اور بے عملی کا علم ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *