وجود کا سفر /علی عبداللہ

 

Whose woods these are I think I know….
برف سے ڈھکے جنگل کی طرف رکے ہوئے مسافر کی یہ بات یقیناً ایک لمحے کا بیان نہیں، بلکہ پوری انسانی تاریخ کا یہ ایک گہرا، تہہ در تہہ استعارہ ہے۔ رابرٹ فراسٹ نے یہ منظر ایسے وقت میں لکھا جب بیسویں صدی صنعتی شور، مشینی رفتار اور ذہنی بے سمتی کے نئے زخم لے کر دنیا کے سامنے آ رہی تھی۔ ایک شخص کا جنگل کے کنارے رک جانا دراصل اس جدید زمانے کے مقابل ایک خاموش احتجاج ہے- جیسے کوئی انسان اپنی صدیوں پرانی جبلّت کو یاد کر رہا ہو کہ فطرت ہی وہ پہلی جگہ ہے جہاں شعور نے خود کو پہچانا تھا۔

یہ “woods” کسی ایک جغرافیے کا نام نہیں بلکہ یہ وہ داخلی کائنات ہے جہاں انسان اپنی تھکن، خواہشات، وسوسوں اور نامکمل ارادوں کے ساتھ بار بار پناہ لیتا ہے۔ اس جنگل کی معنویت دانتے کے “selva oscura” سے لے کر روسو کی “natural solitude” تک ایک مسلسل روایت میں چلتی ہے- کہیں یہ راستہ بھٹک جانے کی علامت ہے، کہیں آزادی کی، کہیں روحانی جستجو کی۔ فراسٹ نے اسے نہ مکمل روشن کیا، نہ مکمل اندھیرے میں رکھا؛ اس نیم تاریک کیفیت میں انسان کی موجودگی ایک ایسے عہد کی علامت بن جاتی ہے جو سستانا چاہتا ہے مگر رک نہیں سکتا۔

ایک جگہ گھوڑے کی بے چینی شاعر کو یہ باور کرواتی ہے کہ یہ رکے رہنے کی جگہ نہیں- دراصل یہ وہ جدید شعور ہے جو ذمہ داری، وقت، اور معاشرتی تقاضوں کا بوجھ اٹھائے ہر انسان کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ تھورو نے اسے “the civilizing call of society” کہا تھا- وہ آواز جو جنگل کی خاموش گہرائی سے انسان کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ فراسٹ کے یہاں بھی یہی کشمکش ملتی ہے؛ دل خاموشی کو چاہتا ہے، مگر قدم وعدوں کے اسیر رہتے ہیں۔

اور پھر وہ مصرعہ کہ جو جدید انسان کے اجتماعی ضمیر کا حصہ بن چکا ہے،
“And miles to go before I sleep.”
یہ “sleep” محض نیند نہیں؛ اس کے اندر سکون، موت، اور ذمہ داری تینوں جمع ہیں۔ مفکرین اسے “existential withdrawal” (خود کو عارضی طور پر دنیا سے الگ کرنا) کے قریب رکھتے ہیں- یہ وہ کیفیت ہے جس میں فرد شدید تھکن کے باوجود اپنے آپ کو دنیا سے مکمل کاٹنے کی ہمت نہیں کرتا۔ زندگی ایک مسلسل سفر ہے، اور اس سفر کا وقفہ بھی اپنے اندر ایک بوجھ رکھتا ہے۔

یہی تضاد، خاموشی کی کشش اور ذمہ داری کا بوجھ اس نظم کو آج کے انسان کے لیے بھی اتنا ہی تازہ رکھتا ہے جتنا 1923 میں تھا۔ آج جب دنیا تیز رفتار شہروں، ڈیجیٹل تھکاوٹ، اور مسلسل اطلاعات کے بوجھ میں ڈوب چکی ہے، “woods” ایک نفسیاتی پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ جدید نفسیات اسے Burnout Escape Imagery ( ذہنی تھکن سے نجات کا تصور) کا نام دیتی ہے- وہ تصویریں جن میں ذہن اپنی بقا کے لیے خاموشی کا سہارا لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فراسٹ کا مسافر، اپنی محدود رفاقت اور ادھورے سکون کے ساتھ، اصل میں ہمارے ہی اندر بیٹھا ہوا انسان ہے۔

اور پھر بھی، یہ نظم مکمل اداسی پر ختم نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے وہ اخلاقی روایت بھی موجود ہے جو مشرق و مغرب دونوں کے فکری ورثے میں پائی جاتی ہے- غزالی کی خلوت، ابنِ عربی کی خلوة فی الجلوة اور اقبال کے ہاں تنہائی فکر کی وہ کیفیت جس میں سکون مقصد نہیں، بلکہ جوش و خروش اور باطنی توانائی کی تجدید ہے۔ فراسٹ کا مسافر اسی روحانی روایت کے قریب کھڑا ہے؛ رک کر سوچے بھی، مگر چلے بھی ضرور۔

julia rana solicitors london

یوں “Stopping by Woods” ایک چھوٹا سا بیانیہ نہیں، ایک مکمل فکری زمزمہ ہے- یہاں انسان اپنے اندر کے موسموں کو پہچانتا ہے، اور پھر اپنے سفر کی ازلی مجبوری کو قبول کر لیتا ہے۔ یہی وہ جمالیاتی اور فکری توازن ہے جس نے اس نظم کو ادب کے بڑے متون کے ساتھ کھڑا کر دیا؛ سادگی کے پردے میں چھپی ہوئی گہرائی، اور خاموشی کے اندر بولتی ہوئی یک صدائی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply