اُس نے کرسی کو چُھوا۔ کرسی ٹھوس نہیں تھی؛ وہ گوندھے ہوئے شک کی ایک ڈھیلی سی شکل تھی۔ وہ جانتا تھا کہ بیٹھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے عمل کا حصہ تھا جو ہمیشہ کیا جاتا ہے۔ بیٹھنا، سوچنا، انتظار کرنا۔ مگر کس کا؟ یا کس چیز کا؟
کمرے میں رنگ تھے، لیکن وہ رنگ دیواروں پر نہیں تھے۔ وہ اس کی آنکھوں کے پیچھے دھند کی طرح تیر رہے تھے۔
پیلا رنگ: ماضی کی ایک میٹھی چیخ۔
نیلا رنگ: وہ فیصلہ جو کبھی کیا ہی نہ گیا۔
سرخ رنگ: ایک گہرا زخم جو موجود نہیں تھا۔
وہاں ایک کھڑکی تھی۔ کھڑکی سے باہر کا منظر مستقل مزاجی سے بدل رہا تھا۔ پہلے ایک پرسکون سمندر، پھر یکدم ایک بلند و بالا پہاڑ، اور پھر فوراً ہی کتابوں کا ایک ڈھیر۔ منظر کی تبدیلی اتنی تیزی سے ہوتی تھی کہ آنکھ کا پردہ اسے ایک واحد، بے معنی شور کے طور پر محسوس کرتا تھا۔
کھڑکی کے شیشے پر ایک لکیر تھی—موٹی، عمودی لکیر۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لکیر اس کے اور باہر کی دنیا کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی، وہ لکیر اتنی شفاف ہو جاتی کہ اسے محسوس ہوتا کہ وہ اس کے وجود کا حصہ ہے، اور وہ باہر کے منظروں کے درمیان لکیر ہے۔
اس نے اٹھ کر لکیر کو چھونا چاہا۔ جیسے ہی اس کی انگلی شیشے کے قریب پہنچی، لکیر نے گھوم کر ایک لہر کا روپ اختیار کر لیا اور کمرے میں تیرنے لگی۔ یہ لہر کوئی علامت نہیں تھی، یہ خالی تھی۔
وہ لہر کے ساتھ چلنے لگا۔ اس کے ہر قدم پر فرش نرم ہوتا گیا، جیسے قدم بادل پر پڑ رہے ہوں۔ یہ چلنا کسی منزل کی طرف نہیں تھا، یہ صرف توازن برقرار رکھنے کا ایک ناگزیر عمل تھا۔
“نام!” ایک سرگوشی گونجی۔ سرگوشی اس کے اپنے کانوں سے نہیں، بلکہ اس کی کلائی پر موجود گھڑی سے آئی تھی، جس میں سے سوئیاں غائب تھیں۔
اُس نے اپنا نام یاد کرنے کی کوشش کی۔ ہر حرف ایک بلبلے کی طرح اس کی زبان پر آتا اور فوراً ہی پھٹ جاتا۔ نام کا وزن ہی کتنا ہوتا ہے؟ کیا یہ اتنا ہی بھاری ہوتا ہے جتنا وہ نیلا فیصلہ جو کبھی نہیں لیا گیا؟ یا اتنا ہی ہلکا جتنا وہ دھواں جو پیالی میں نہیں تھا؟
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کرسی کے بغیر بیٹھے گا۔ اس نے اپنے جسم کو ایک لچکدار ‘س’ کی شکل میں موڑا اور ہوا میں معلق ہو گیا۔
وہاں معلق ہونے سے، اس نے پہلی بار اوپر دیکھا۔ کمرے کی چھت ایک آئینہ تھی۔ لیکن آئینے میں اس کا عکس نہیں تھا؛ اس میں دوسرے لوگ تھے۔ وہ لوگ میزوں پر بیٹھے تھے، لکھ رہے تھے، ہنس رہے تھے، اور پیالیاں اٹھا رہے تھے۔ ان سب کے نام تھے۔ ان کی دیواریں ٹھوس تھیں، ان کی منزلیں واضح تھیں۔
اور پھر اُسے محسوس ہوا کہ شاید یہ سارا عمل—کرسی، کھڑکی، لکیر، اور لہر—ایک ایسا عمل ہے جو وہ اپنے حقیقی وجود کو محسوس کرنے کے لیے دہراتا ہے۔ یہ تجرید اس کی واحد ٹھوس حقیقت تھی۔
وہ آہستہ سے نیچے اُترا اور لہر (جو اب ایک نقطہ بن چکی تھی) کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“میں انتظار کر رہا ہوں،” اُس نے کہا۔
“کس کا؟” نقطے نے لہر بن کر پوچھا۔
“اُس چیز کا جو کبھی نہیں آئے گی۔”
اور یہ اعتراف کرتے ہی، تمام رنگ—پیلا، نیلا، سرخ—اچانک تیز ہو گئے، گھومے، اور پھر ایک دم سے پھٹ کر خاموشی میں بدل گئے۔ وہ ایک بار پھر خالی، بے رنگ کونے میں کھڑا تھا۔ کرسی، جو اب محض ایک امکان تھی، اس کے پیچھے موجود تھی۔ اور وہ اگلے قدم کے بارے میں سوچنے لگا—وہ قدم جو اس بار بھی کہیں نہیں جائے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں