جب علماء خاموش ہوجاتے ہیں تو جاہل مکالمہ کرتے ہیں۔ علم کبھی زہریلا نہیں ہوتا انسانی رویے زہریلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔وحید مراد
کچھ اہل فکر کا موقف ہے کہ علمی گفتگو کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ بہت جلد منتشر اور زہریلی (toxic) ہو جاتی ہے۔ فریقین کو یہ تک معلوم نہیں رہتا کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور گفتگو کا اصل محور کیا ہے۔ اگر ہم موضوع زیر بحث کی حقیقت کو سمجھنے، اس کی بنیادیں جاننے اور اس کے اثرات کے دائرے میں انسان کی تشکیل کے حالات کو واضح کرنے کے وسائل فراہم نہیں کر سکتے تو ایسے علم سے دستبردار ہوکرخاموش ہو جانا ہی بہتر ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ فلسفہ ہو یا علم الکلام، صوفی روایت ہو یا انسانی حقوق کی تحریکیں اور چاہے سائنسی انقلاب،ان سب کی جڑیں مکالمے میں پیوست ہیں۔ سقراط نے اپنی دانائی کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اعتراف کیا تھا کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ اسی اعترافِ لاعلمی نے سوال کو جنم دیا اور جہاں سوال زندہ رہے وہاں علم کی شمع کبھی نہیں بجھتی ۔
اہلِ علم خاموش بھی ہو جائیں، تو کوئی ناپختہ شخص ہی اگر سوال اٹھانے کی جرات پیدا کرلے تو یہی جستجو علم کی بنیاد بن جاتی ہے۔ افلاطون کے الفاظ میں، سچائی صرف اُن کی میراث نہیں جو علم کے دعوے دار ہیں بلکہ اُن کی بھی ہے جو جہالت کے اندھیرے میں روشنی کی جستجو کرتے ہیں۔
کوئی شخص نہ مطلق عالم ہوتا ہے اور نہ مطلق جاہل، یہی فلسفۂ علم کی اساس ہے۔ علم کوئی جامد اورمدفون خزانہ نہیں بلکہ مسلسل حرکت اور تجدید کا عمل ہے۔ ہر علم میں خطا کا امکان پوشیدہ ہے اور ہر لاعلمی میں سچ کی ایک کرن۔ کارل پوپر (Karl Popper)نے بجاکہا کہ سچائی کی تلاش میں نظریات کی آزمائش اور غلطیوں کی تصحیح کا نام علم ہےیعنی غلط سوال یا غلطی بھی علم کا راستہ ہموار کر سکتی ہے ۔
جہالت اس وقت تک جہالت ہے جب تک وہ اپنی لاعلمی سے بے خبر ہو۔ اور جب جہالت اپنی لاعلمی سے آگاہ ہو جائے تو وہ امکانِ علم بن جاتی ہے ۔ کیرکگارڈ (Kierkegaard) اور سارتر (Sartre) کے مطابق بھی لاعلمی یا وجود کی محدودیت وہ پہلا دروازہ ہے جو شعور اور علم کی طرف کھلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جاہل سوال کرتا ہے تو وہ علم کے قریب آتا ہے اور جب عالم سوال سے بھاگتا ہے تو وہ جہالت کے قریب ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں یہی ہوا کہ جب کلیسا نے سوال کو جرم بنا دیا تو مکالمہ چرچ کی دیواروں سے باہر ابھرا اور نشاۃ الثانیہ کے نام سے دنیا بدل گئی۔ اور جب مدرسوں نے مکالمے سے خوف کھایا تو فلسفہ اور سائنس انہی دروازوں سے باہر جنم لینے لگے۔ نظام علم اگر اپنے اندر مکالمہ بند کر دے تو تاریخ اور معاشرہ نیا مکالمہ خود تراش لیتے ہیں۔ کیونکہ علم کا معیار سکون نہیں، جستجو ہے۔
مکالمہ تب جنم لیتا ہے جب استاد و شاگرد، عالم و جاہل، حاکم و محکوم سب کو انسانی اور وجودی مرتبے میں برابر مانا جائے۔ میخائل باختن (Mikhail Bakhtin) کے مطابق سچائی اکیلی آواز سے جنم نہیں لیتی بلکہ متعدد آوازوں کے باہمی تفاعل (polyphony) سے پیدا ہوتی ہے۔ سچ کسی فرد کی جاگیر نہیں، بلکہ اجتماعی شعور اور مشترکہ تخلیق کا حاصل ہے۔
علم اور مکالمہ بذاتِ خود کبھی زہر (toxic) نہیں بنتے؛ زہریلا وہ رویہ ہوتا ہے جو سچائی، سنجیدگی اور تواضع سے خالی ہو۔ جب نیت صاف ہو، جستجو زندہ ہو اور ذہن کھلا ہو تو سوال شر کو بھی خیر کی طرف موڑنے کے امکانات رکھتا ہے۔ ہر تضاد اپنی نفی کا بیج اپنے اندر رکھتا ہے؛ مکالمہ تضاد کو دشمنی نہیں بناتا، اسے نئی معنویت عطا کرتا ہے اور فکر کو وسعت دیتا ہے۔
مکالمے کا انکار اورخاموشی محض توقف نہیں، وجودی زوال ہے۔ ہائیڈگر (Heidegger) کے مطابق جب سوال و تجسس دم توڑ دے تو وجود پژمردہ ہوجاتا ہے؛ انسان زندہ تو رہتا ہے مگر صرف ایک عدد کی صورت میں، شعور کے حامل وجود کی طرح نہیں۔ سقراط نے اسی لیے کہا تھا کہ سوال اور مکالمے کے بغیر زندگی، زندگی نہیں،فقط بقا ہے۔ معاشرہ جب اختلاف، سوال اور مکالمے سے منہ موڑ لے تو اس کی فکری توانائی (cognitive vitality) خشک ہوجاتی ہے۔ ہجوم کا سکوت دراصل عدم کا پہلا اعلان ہے۔

علم کوئی مسند نہیں جس پر بیٹھ کر ابدی اقتدار کا دعویٰ کیا جائے۔ علم اپنی” دانست” کے انکار سے شروع ہوتا ہے اور یہی انکار حرکت اور بصیرت کی بنیاد بنتا ہے۔ جب علم تسلط بن جائے تو وہ مکالمہ نہیں کرتا، حکم دیتا ہےاور یہ لمحہ علم کی زندگی نہیں، موت ہے۔ ابن خلدون کے مطابق علم جب معاشرتی ضرورت سے کٹ جائے تو الفاظ باقی رہ جاتے ہیں، معانی دم توڑ دیتے ہیں۔ علم کا کام رہنمائی ہے؛ وہ یہ فریضہ چھوڑ دے تو معاشرہ اپنی سمت خود تراشتا ہے، خواہ وہ سمت بظاہر غیر علمی ہی کیوں نہ ہو۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں