خاموش دستک‘ مختصر افسانے کی روشنی میں /سید مسلم حسنی

فیملی آف دی ہارٹ کے زیر اہتمام حبیب شیخ کی کتاب خاموش دستک کی تقریب رونمائی کہ موقع  پر یہ مضمون پڑھا گیا تھا۔
آج کے  برق رفتار دور میں جہاں دل اور دماغ کو قابو میں  رکھ کر ادب کےچراغ کو روشن رکھنا آسان کام نہیں ہے اور وہ بھی افسانے کی صنف جو موجودہ ادبی لوازمات اور تقاضوں کو نظر میں رکھتے ہوئے مکمل کرنا ایک جوئے شیر کے لانے کے مترادف ہے۔
آج کے اس دور میں افسانہ جیسے قوی ،منفرد اور دلکش تحریر یں لکھی جارہی ہیں جو قاری کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہیں اور لوگ ان کو پڑھ کہ اپنے ذوق و شوق کی پیاس بجھاتے ہیں ۔ حبیب شیخ صاحب بھی افسانے لکھنے والوں کے ایسے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
حبیب صاحب سےمیری رسم و راہ تقریبا 15 سال کے عرصہ پہ محیط ہے۔ جب ہم کراچی یونیورسٹی المنائی  کے سلسلے میں کام کر رہے تھے ۔ جوں جوں ملاقاتوں میں اضافہ ہوا ان سے قربت بڑھتی گئی۔ مجھے یہ احساس ہو گیا تھا کہ دل میں ادب اور حق گوئی کا جودیا ٹم ٹما رہا ہے وہ ضرور ایک دن شمع فروزاں بن کر ہمارے ادب کے ماحول میں روشنی اور آگہی پیدا کر ے گا ۔ بقول خود ان کے کہ یہ دبی ہوئی چنگاری عرصہ سے ایک شعلہ بننے کی  منتظر تھی ۔
آج ہم وہ شعلہ ایک روشن چراغ بن کر ’خاموش دستک‘ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں
آئیے ۔اب حبیب صاحب کے افسانوں کو تاریخ کے پس منظر میں دیکھتے ہیں ۔ ان کے دل سے جو شعلہ نمودار ہوا ہے اس کا عصرحاضر کے افسانوں کی روشنی میں تجزیہ کریں کہ ’خاموش دستک‘ افسانے کی بلند و بالا عمارت میں کس منزل پہ کھڑا ہے اور کیا وہ ادبی تقاضے پورا کرتا ہے ۔
یہاں میں عرض کرتا چلوں کہ میں کوئی نقا د نہیں ہوں، تنقید ایک بڑا وسیع فن ہے ۔ ادب سے میری دلچسپی جزوی طور پہ ہے۔
ہماری ناول اور افسانوں کی کہانی کی ابتدا قدیم داستان گوئی سے شروع ہوئی ہے جو ہندوستان میں مہابھارتا اور عربی فارسی و اردو کی داستانوں امیر حمزہ ،الف لیلی اور فسانہ عجائب کی صورت میں ہمارے سامنے آئیں اور لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنی۔
وقت کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے، رجحانات اور ارتقائی حالات کی تبدیلی سے داستان گوئی کی اہمیت تبدیل ہو تی گئی اور جوں جوں انگریزوں کا ہندوستان میں تسلط بڑھا معاشرے کے ادب میں نئی راہیں بنتی ہوئی نظرآئیں ۔
انیسویں صدی میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے چھاپے خانے سے انگریزی کی کتابوں کے تراجم جب سامنے آئے تو اردو ادب میں بھی نمایاں تبدیلی پیدا ہونے لگیں ۔ لوگوں نے انگریزی ترجموں کی کتابیں پڑھیں تو لکھنے والوں کے نظریات اور خیالات میں مغربی طرز و اسلوب شامل ہوگئے ۔
مدتوں سے قاری طویل داستانوں اور کہانیوں میں پلاٹ اور کردار نہ ہونے کی وجہ سے اُکتا چکے تھے ۔ وہ داستان کی تکرار اور طوالت سے عاجز تھے ،جب عوام کو ناولوں میں پلاٹ ،کردار اور اختصار ملا تو ناول  مقبول ہو نے لگے  ۔اردو زبان میں پہلےناول نگار ڈپٹی نذیر احمد کا ناول  مراۃ لعروس اور تو بتہ النصوح، اور رتن ناتھ سرشار کا فسانہ آزاد ہند وستان میں بہت مشہور ہوئے۔
انیسویں صدی کہ زمانے میں یورپ میں اعلی ناول اور افسانے لکھے گئے ۔ چیکوف، موپساں ،او ہنری سمرسٹ ماہم کے افسانوں اور ترجموں نے ادبی دنیا میں تحلکہ مچا دیا تھا دوسری جنگ عظیم کے بعدتقریبا ہر ملک میں اعلی افسانہ نگار پیدا ہوئے تو لوگوں میں ان کی مقبولیت روز بہ روز بڑھتی رہی ۔
اردو میں پریم چند کرشن چندر ،سعادت حسین منٹو، انتظار حسین اور دوسرےقلم کاروں نے اعلی افسا نے لکھ کراردو ادب کو نیا مقام دیا ۔
آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ لوگ اپنی عدم الفرصتی روزگار کےحصول میں مصروف ہیں ان کے پاس وہ وقت نہیں ہے کہ طویل ناولیں اور افسانے پڑھیں اس کے علاوہ لوگوں نے اپنی تفریح و طبع کے لیے دوسرے ذرائع بھی دریافت کر لیے ہیں ۔
پرنٹ میڈیا کے اعداد و شمار کے حساب سے کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد بدستور کم ہو رہی ہے ۔ ادب پڑھنے والوں کی تعداد 2012 میں 45 فیصدتھی تو 2022 میں گھٹ کے 37 فیصد رہ گئی ہے جبکہ عورتوں کی 47 فیصد اور مردوں کی 27 فیصد ہے یعنی عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ادب پڑھ رہی ہیں۔ انگلینڈ میں بھی طویل ناول پڑھنے والوں کی تعداد مختصر افسانہ پڑھنے والوں کی تعداد سے کم ہو گئی ہے
میرے نزدیک کامیاب افسانے کی پہچان یہ ہے کہ اگرافسانہ ایک ہی نشست میں پڑھا جائے اور قاری کا دل اُسے ادھورا چھوڑنے کو نہ چاہے تو سمجھ لیں کہ وہ افسانے کے کامیابی کی دلیل ہے۔
بلا شبہ افسانہ نگار کا حساس دل اور سماجی شعور اس کو لکھنے پر اکساتا ہے مگر نقادوں کے خیال میں افسانے میں رومانت ،مثالیت ،فطرت نگاری، حقیقت پسندی ،مکالمے میں اظہار کی قوت ،گفتگو بامحاورہ ، سادہ،حسسیت میں درد ،جذبے کا بھرپور بیان ، حکومت اور معاشرے کا صحیح علم اور انسانی نظریات سے واقفیت کا علم ہونا ضروری ہیں اور انہی اوصاف سے وہ کامیاب افسانہ نگار سمجھا جاتا ہے مگر ایسا کم ہوا ہے کہ یہ سارے اوصاف ایک ہی افسانہ نگار میں موجود ہوں ہاں یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ہر افسانہ نگار اپنے ایک مخصوص ماحول اور انداز تخیل کی روشنی میں لکھتا اور پہچانا جاتا ہے۔یقینا طویل افسانے لکھنا قدرے آسان ہے۔ مختصرافسانوں میں رنگینی الفاظ اور جمالیاتی اظہار کم ہوتا ہے کیونکہ افسانہ نگار اختصار کو نظر میں رکھتا ہے۔ جیسے اچھاشاعر پورا مضمون کو سمیٹ کر ایک شعر میں باندھ کر مکمل کرتا ہے۔ اسی طرح کامیاب افسانہ نگار بھی کہانی کا خیال رکھتےہوئے مختصر دلکش حسین الفاظ میں اپنی بات مکمل کر تا ہے۔
آیئے اس تناظر میں حبیب شیخ کی 46 افسانوں کی قوس و قزا ’خاموش دستک‘ پر نظر ڈالتے ہیں ۔
سب سے پہلے کتاب کے مخصوص سر ورق اور عنوان کو دیکھئے۔ یہ خود ایک کہانی سے کم نہیں ہے ۔ دروازے پر دستک دیتا ہوا خاموش کردار دراصل اس سماج پر احتجاج کی علامت ہے جو ظلم نا انصافی اور تعصب سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھ میں شمع ہے جوآگہی اور امید کی علامت ہے۔ یہ انتخاب نہایت معنی خیز اور دل آفرین ہے۔
حبیب صاحب کے مختصر افسانے کی کہکشاں جو مختلف عنوانوں سے سجی ہوئی ہے وہ ستاروں کی طرح عہد حاضر کے موضوع سخن ، اہم حالات واقعات اور کیفیات کو ظاہر کرتی ہے۔ان کا کمال یہ ہے کہ معاشرے کے اتنے وسیع مضامین کو صرف چند صفحوں میں افسانہ کے تقاضے مکمل کر دیتے ہیں ۔ جو مختصر افسانے لکھنےکی ایک اچھی مثال ہے۔
جب حبیب شیخ کا حساس دل مذہب کے نام پر جھوٹے توہین رسالت کے الزام پر عیسائی کو قید سےرہائی ملتی ہے تو لوگ پھر اس کی جان لینا چاہتے ہیں تو وہ اپنی جان بچانے کی خاطر دوبارہ جیل جانے کی درخواست کرتا ہے تو وہ چوڑے کو پھانسی دو ‘ جیسا افسانہ لکھتے ہیں۔
جب پھول بیچنے والی بچیاں اغوا ہوں تو حبیب شیخ کا دل روتا ہے تو کم سن بچیوں کے استحصال پہ پھول والی لڑکی جیسا افسانہ تخلیق کرتے ہیں ۔ دڑاڑ، تین مورتیاں علامتی افسانے کی اچھی مثالیں ہیں گدھ اور گڑیا اُن گھر کے ملازم بچیوں کا ذکر ہے جوظلم کی شکار ہوتی ہیں ۔ عراق میں امریکی جنگ سے پیدا ہونے والی زیادتیاں ہوں یا افغانستان میں طالبان حکومت کے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہو ان پر قلم اٹھا کرانہوں نے قاری کے دل پر دستک دی ہےغلیل کی قوت ،عراقی بچہ کاسایہ اور حرف ہ جیسے افسانے محکومانہ ظلم کے خلاف احتجاج ہیں ۔ پاکستان اور ہندوستان کہ معاشرے کی مکرو ہ رسومات پربھی احتجاج کیا ہے۔ اقتدار کے خاطر مذہبی کارڈ کھیلنا اور اچھوت مسلمان ہندو ڈیلیٹ، رام نام ست جیسی کہانیاں لکھی ہیں جو ہمارے معاشرے کے رویوں پر ایک بھر پور طمانچہ ہیں۔
حبیب شیخ نے اس دور کے اہم سیاسی اور معاشرتی مسائل پر قلم اٹھا کر ہماری خوابیدہ انسانی حمیت واحساسات کو جگانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ ان کا اظہار اگرچہ سادہ ہے۔ ان کے بیان میں وہ جمالیاتی منظر کش اور محاورے تونہیں ہیں مگر جو بھی افسانے لکھے ہیں ان کو سماج اور معاشرے کے جیتے جاگتے واقعات کو سامنے رکھ کےبیان کئیے ہیں تاکہ قارئین اور حکام کے خوابیدہ إحساس جاگ اٹھیں ۔انہوں نے دیباچے میں خود اعتراف کیاہےکہ سماج اور معاشرے کے ظلم اور زیادتی کو بیان کرنا وہ ایک مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں ۔ حبیب شیخ نے ایمانداری سے اپنے خیالات قاری تک پہنچا دیے ہیں اب یہ قاری پہ منحصر ہے کہ وہ ان کو کس طرح قبول کرتا ہے۔
’خاموش دستک‘ ان کا پہلا مختصر افسانوں کا مجموعہ ہے جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ چنگاری عرصے کے بعد شعلے میں تبدیل ہوئی ہے ۔ مگر ہر شعلہ کی نوعیت مختلف ہوتی ہے اور سائنس بھی بتاتی ہے کہ شعلے کے درجات اس کی شدت ، تپش اور روشنی آلات سے جانچے اور پرکھے جاتے ہیں۔ اگر جذبہ سچا ہو اور لگن کی آگ میں تیزی ہو تو ایک دن وہ شعلہ ضرور چراغ بن کر معاشرے پہ اثر انداز ہو گا اور ادب میں ایک معتبر مقام حاصل کرے گا۔ یہ حبیب صاحب نے مختصر افسانے لکھنے کی پہلی کامیاب کوشش ہے مجھے امید ہے کہ حبیب شیخ کے آنے والے افسانوں کی کہکشاں بھی اپنے جمالیاتی حسن وفن کے ساتھ اور بھی درخشاں ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ حبیب صاحب کے پاس حساس دل کے ساتھ ایسے اچھے دل آفریں ، پیچیدہ اور اچُھوتی کہانیوں کے پلاٹ کا خزانہ موجود ہے جس سے ہم لوگ آئیندہ بھی فیض یاب ہوتے رہیں گے۔کتاب: خاموش دستک
مصنف: حبیب شیخ
سالِ اشاعت: 2024 ء
آئی ایس بی این نمبر:
978-969-7836-10-9
ناشر: آواز پبلیکیشنز، پاکستان،
0300-5211201

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply