شہر کی گلیوں، بازاروں اور پُرشور ورکشاپوں میں اگر کبھی چند لمحوں کے لیے رک کر آنکھ کھلی رکھ کر دیکھا جائے تو ایک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے،ہمارے درمیان ایک ایسی نسل زندہ ہے جو ابھی زندگی کے اصول سمجھ بھی نہیں پاتی اور انہیں روٹی کی دوڑ میں شامل کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہئیں، مگر وہ اوزار تھامنے پر مجبور ہیں۔ ان کے کندھوں پر بستہ سجانے سے پہلے ہی ذمہ داریوں کا بوجھ رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کے چہروں پر معصومیت کے بجائے تھکن، دھوئیں اور تپتے لوہے کی بُو ہے۔ یہ کہانی صرف ایک بچے کی نہیں، یہ کہانی پاکستان کے ہزاروں، لاکھوں بچوں کی ہےجو ہوٹلوں میں چائے بنا رہے ہیں، ورکشاپوں میں انجن کے نیچے رینگ رہے ہیں، فیکٹریوں میں سانس کے ساتھ زہر اندر کھینچ رہے ہیں۔
چائلڈ لیبر پاکستان کا وہ المیہ ہے جسے ہم عادت بنا چکے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے، غیر انسانی ہے، غیر قانونی ہے مگر پھر بھی اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ جیسے سب کچھ ٹھیک ہے یا جیسے ہمارے دیکھنے نہ دیکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر فرق پڑتا ہےاور سب سے زیادہ ان بچوں کی زندگیوں پر۔ وہ بچے جنہیں ہم کبھی “چھوٹو” کہہ کر پکارتے ہیں، وہ حقیقت میں اپنی معصوم عمر کی قیمتی سانسیں خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔
چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات پر نظر ڈالیں تو سب سے پہلی چیز غربت کھڑی نظر آتی ہے۔ غربت وہ بے رحم زنجیر ہے جو بچوں کو اسکول سے دور اور مزدوری کے دائرے میں دھکیل دیتی ہے۔ اس کے ساتھ بے روزگاری اور مسلسل بڑھتی مہنگائی نے گھر کے سربراہوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انہیں اپنے بچوں سے بھی مشقت لینی پڑتی ہے۔ ایک مزدور باپ جس کی روزانہ کی آمدن گھر کے کرایے اور آٹے کی بوری کے درمیان ہی ہانپنے لگتی ہے، وہ کیسے یہ برداشت کرے کہ اس کا بچہ اسکول میں بیٹھ کر مستقبل بنائے؟ اس کے سامنے تو آج کی بھوک ہے۔ آج کی بھوک کل کے تعلیمی خواب کو بھی نگل جاتی ہے۔
دوسری طرف صنعت کاروں اور مالکان کی بے رحمی بھی اس مسئلے کو طاقت دیتی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ بچے کم اجرت پر، زیادہ وقت اور بغیر کسی قانونی تحفظ کے کام کرتے ہیں۔ یہ بچے نہ تو کسی یونین سے جڑے ہوتے ہیں، نہ اپنی بات کہنے کی ہمت رکھتے ہیں، نہ کسی احتجاج کا سہارا۔ یہی خاموشی صنعت کاروں کیلئے سب سے بڑا منافع ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بچوں کے ہاتھوں سے نکلنے والا کام انہیں بڑوں سے کہیں سستا پڑتا ہے۔ اسی لیے انہیں بچہ مزدوری “سادہ حل” دکھائی دیتی ہے۔ یہ حل سادہ ضرور ہے، مگر وحشیانہ بھی ہے۔
حکومتی قوانین، خاص طور پر چائلڈ لیبر ایکٹ، کاغذ پر جتنا مضبوط ہے، زمینی حقیقت میں اتنا ہی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر بچے کام نہیں کرسکتے۔ کچھ صنعتوں میں سولہ سال سے پہلے اجازت نہیں۔ کہیں حفاظتی تربیت ضروری ہے، تو کہیں کام کے اوقات کی پابندی لازم۔ مگر فیکٹریوں میں جھانک کر دیکھیں تو وہاں کوئی قانون نہیں، صرف مشینوں کی دھڑکن ہےاور اس دھڑکن کے درمیان بچوں کی سانسیں پھنسی ہوئی ہیں۔حکومتی اداروں کے چھاپے عارضی ہوتے ہیں، چند فائلیں اور جرمانے ہی رہ جاتے ہیں اور قانون حقیقت میں کاغذوں میں قید رہتا ہے۔
گلی محلوں میں ایک اور چہرہ بھی نظر آتا ہےوہ بچے جنہیں میں “گلی کے چھوٹے استاد” کہتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جنہوں نے زندگی کی ساری تعلیم خود سیکھی ہے۔ انہوں نے اسکول کی دیوار کبھی اندر سے نہیں دیکھی، مگر وہ اینٹ اٹھانے کا زاویہ جانتے ہیں، پانی کی موٹر مرمت کرنا جانتے ہیں، ٹائر کھولنے کی رفتار سیکھ چکے ہیں، چائے کے کپ کا وزن توازن کے ساتھ اٹھانا جانتے ہیں۔ یہ بچے اتنے چھوٹے مگر اتنے بزرگ لگتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ ان کے چہروں پر وقت کی پختگی ہے مگر ان کے دل ابھی عمر کی نازکی میں ہی قید ہیں۔
چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا نقصان بچے کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ یہ بچے جب چھوٹی عمر سے محنت مزدوری میں پھنس جاتے ہیں تو ان کی ذہنی نشوونما رک جاتی ہے۔ ان میں اعتماد کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے ذہن میں بس یہی حقیقت چھا جاتی ہے کہ دنیا میں ان کی جگہ صرف یہی ہے۔۔۔ ایک مزدور، تابع فرمان، اور خاموش محنتی۔وہ خواب دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ ان کے اندر کے سوال دب جاتے ہیں۔ وہ سیکھتے نہیں، بس کام کرتے رہتے ہیں۔ کام کرتے کرتے وہ بڑے ہوجاتے ہیں، مگر ان کے خواب بچے ہی رہ جاتے ہیں۔
صحت پر ہونے والا نقصان اپنی جگہ ایک مستقل صدمہ ہے۔ دھواں، کیمیکل، شور، بھاری اوزار۔۔۔یہ سب کچھ بچوں کی ہڈیوں، پھیپھڑوں اور دماغ پر ایسے وار کرتے ہیں جیسے لوہے کی ضربیں۔ کئی بچے کمر کے درد کے ساتھ جوان ہوتے ہیں، کئی کی آنکھوں کی روشنی کم ہوجاتی ہے،کچھ بچوں کے ہاتھ ایسے زخمی ہوتے ہیں کہ وہ زندگی بھر صحیح طرح کام نہیں کر پاتے۔ مگر ان کے پاس علاج کا راستہ کہاں؟ وہ تو ایک دن کی مزدوری چھوڑنے سے بھی ڈرتے ہیں۔
ان بچوں کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کبھی بچپن جی نہیں پاتے۔ دوسرے بچوں کو کھیلتے، دوڑتے، کتابوں میں رنگین تصویریں دیکھتے، بستوں میں کاپیاں رکھتے، صبح اسکول کی گھنٹی سن کر کلاس میں بھاگتے دیکھ کر وہ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں؟ یہ بچے زندگی کی دوڑ بہت پہلے شروع کر دیتے ہیں، مگر انہیں کبھی نہ جیتنے دیا جاتا ہے نہ رکنے۔
اگر معاشرہ واقعی تبدیلی چاہتا ہے تو اسے صرف ہمدردی کے لفظوں سے نہیں، حقیقی اقدامات سے اس اندھیرے کو توڑنا ہوگا۔ حکومت کو قوانین پر سختی سے عمل کرانا ہوگا، مالکان کو سزا کا خوف حقیقی محسوس کروانا ہوگا، والدین کو ریاست کی طرف سے معاشی سپورٹ دینی ہوگی تاکہ وہ اپنے بچوں کو پڑھا سکیں اور معاشرے کو خود یہ تہذیبی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کسی بچے سے کام کروا کر اپنے ضمیر پر بوجھ ڈالنا چاہتے ہیں یا اس کے ہاتھوں میں کتاب دے کر اس کا مستقبل روشن کرنا چاہتے ہیں۔
چائلڈ لیبر کا خاتمہ ایک قانون سے نہیں ہوگا۔۔۔یہ تب ختم ہوگا جب سماج فیصلہ کرے گا کہ بچپن بیچا نہیں جاتا۔ بچے مزدور نہیں ہوتے، بچے امید ہوتے ہیں اور امید کو ہمیشہ، ہر حال میں، محفوظ رکھنا چاہیے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں