ہم اپنے دکھوں؍ کمزوریوں اور اپنے اندر کے خوف میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ ہم اپنے اندر کی طاقت کو نہیں پہچانتے ؍ ہمیں خود پر بھروسہ نہیں رہا اور ہم خود کو ؍ اپنے اندر موجود انسان کو نہیں پہچان پا رہے ؍ اس طرح ہم صرف وہ زندگی جی رہے ہیں اور وہ کام کر رہے ہیں جو ہم سے ہمارا ڈر؍ اندیشے اور وسوسے کروا رہے ہیں
ہم اس بھیڑ چال کا حصہ بن چکے ہیں کہ جس کے چلتے نہ ہم اپنی قیمت جانتے ہیں ؍ نہ اپنے آپ کو پہچانتے ہیں اور نہ ہی ان خوشیوں ؍ ان نعمتوں؍ ان صلاحیتوں اور نہ ہی ان فضائل کا حساب رکھتے ہیں جو قدرت نے ہمیں عطا کی ہیں۔
دوستوفسکی (Fyodor Dostoyevsky ) کا ایک بہت عمدہ قول ہے کہ
“انسان صرف اپنی پریشانیاں گنتا ہے ۔۔وہ اپنی خوشیوں کا حساب نہیں کرتا ”
یعنی ہماری عادت یہی ہے کہ ہم ہر دکھ؍ تکلیف اور پریشانیوں کو گنتے رہتے ہیں لیکن جو خوشیاں زندگی ہمیں دیتی ہے انکی قدر نہیں کرتے
ہماری نظر اس پر ہوتی ہے جو نہیں ملا بجائے اس کے کہ ہم اس پر غور کریں جو مل چکا ہے ۔
انسان خود کو ادھورا اس وقت محسوس کرتا ہے جب وہ مزید کے پیچھے بھاگتا ہے ۔پریشانی خود سے محسوس ہوتی ہے لیکن خوشی کو محسوس کرنے کے لیے سوچ بدلنی پڑتی ہے یعنی خوش رہنے کے لیے انسان کو شعوری کو شش کرنی پڑتی ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ انسان خود کی طاقت کو بھول جاتا ہے اور اپنی تکلیفوں کو بہت بڑا سمجھتا ہے ۔
اور اب یہ انسانی سوچ صرف فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے؍ اداروں اور نوجوان نسل کے مزاج کو متاثر کرتی ہے ۔ پریشانیاں گننے کی عادت اور خوشیوں کو نظر انداز کرنا ایک اجتماعی نفسیات بن چکی ہے ۔جس کا اثر ہمیں کںٔی سطحوں پر نظر آتا ہے ۔جیسا کہ
1۔اداروں میں منفی سوچ
ہمارے تعلیمی؍سرکاری اور نجی اداروں میں اکثر شکایت ملتی ہے کہ وسائل کم ہیں ؍ سہولتیں ناکافی ہیں؍ سسٹم خراب ہے اور مشکلات زیادہ ہیں لیکن جو مثبت چیزیں موجود ہیں۔
جیسے باصلاحیت افراد ؍ اصلاح کی کوششیں ؍ اردگرد بہترین وسائل کا ہونا اور بہترین قوانین ان پر ہماری توجہ نہیں جاتی اور ان کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں اور نتیجے کے طور پر اداروں میں شکایت اور ناامیدی بڑھ جاتی ہے جسکی وجہ سے مثبت پہلو نظر انداز ہوجاتے ہیں۔
2۔نوجونوں پر منفی سوچ کے اثرات۔
آج کا نو جون اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگی سے کرتا ہے اور اپنی خوبیوں کو پسے پشت ڈال کر اپنی خامیوں کو مد نظر رکھ کر اپنے کام سر انجام دیتا ہے جس کی وجہ سے منفی نتیجہ ہی حاصل ہوتا ہے اور جناب آج کی سونے کی چڑیا یعنی سوشل میڈیا کے استعمال نے ان مسائل کو مزید ہوا دی ہے
3۔معاشرے پر منفی سوچ کے اثرات
ہمارے معاشرے میں بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ ہر گفتگو کی بنیاد شکایت پر ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے یہ الفاظ عام ہوگئے ہیں کہ حکومت بری ہے؍ حالات خراب ہیں ؍ یہاں مسائل بہت زیادہ ہیں یہ سب لیکن ان پر ہماری توجہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ہم اکثر اچھے کام نظر انداز کر جاتے ہیں ؍ بہتری کی رفتار کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی روایتی سوچ کو خود پر اور معاشرے پر حاوی کرلیتے ہیں یعنی ہم ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے جو ہمیں حاصل ہیں جیسا کہ امن کی نعمت؍ مذہبی آزادی ؍ خاندان کا نظام ؍ قدرتی وسائل اور محنتی عوام یہ وہ پہلو ہیں جو ترقی کی بنیاد بنتے ہیں مگر ان پر توجہ نہیں دی جاتی۔
اور جب ہم منفی سوچ پر فوکس کرتے ہیں تو تعمیر و ترقی والے ذہن تنقیدی سوچ میں بدل جاتے ہیں ؍ ایک دوسرے کا احترام نہیں رہتا ؍ غصہ اور بد اعتمادی بڑھ جاتی ہے
ہر شخص کو لگتا ہے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا اور اس طرح عملی جدوجہد شکوہ میں بدل جاتی ہے ۔
اور کہیں نہ کہیں اس مایوسی اور نہ امیدی کی وجہ ہمارا مطالعہ سے ؍ کتابوں اور ہماری مقدس کتاب قرآن مجید سے دوری ہے ؍
قرآن مجید فرقانِ حمید میں جگہ جگہ مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے ۔
*۔علامہ اقبالؒ کا نظریہ خودی اور امید
انھوں نے لکھا ہے کہ
نہیں اقبال نا امید اپنی کشتی ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اقبالؒ انسان کے دل؍ اسکی محنت؍ اسکی امید اور اسکی صلاحیت کی بات کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں انسان کی ٹوٹی ہوںٔی زندگی ؍ تھکا ہوا دل؍ بکھرے خواب ؍ مشکل راستے اور پیچیدہ حالات انسان کی ذندگی کو ویران کرتے ہیں۔لیکن تھوڑی سی کوشش؍ تھوڑا سا حوصلہ ؍ تھوڑی سی دعا؍ سچی محبت؍ صبر اور خودی انسان کی زندگی کو تازگی بخشتی ہے۔ یعنی ذندگی میں تھوڑی سی حرارت سے ویران وجود بھی زرخیز ہوجاتا ہے ۔
اسی طرح ان کی پہلی فارسی کی تصنیف ” اسرارِ خودی” انسان کے باطنی وجود؍ قوتِ خود ارادی اسکے شعور اور اس کی اصل طاقت پر گفتگو کرتی ہے۔
اقبال کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ انسان پریشان ہوتا ہے بلکہ وہ خود کو نہیں جانتا ۔ آپ جناب فرماتے ہیں کہ انسان اپنے اندر ایسی قوت رکھتا ہے جو کائنات کو بدل سکتی ہے؍ زمیں سے سونا نکال سکتی؍ اسے سبز لباس پہنا سکتی ہے؍انسان دنیا میں مختلف آفات؍ مشکلات اور پریشانیوں سے گزرتا ہے لیکن اصل انسان وہ ہے جو ان مصیبتوں کا مقابلہ کردار ؍ برداشت ؍ اور مضبوطی سے کرتا ہے اور انسانی عظمت اس کے علم؍ اخلاق؍ ہمدردی اور اعلی سوچ میں پوشیدہ ہے۔
انسان کو دوسرے جانوروں پر فضیلت حاصل ہے کیوں کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔انسان فطرت کا ایک اہم حصہ ہے ۔وہ زمیں کی پیداوار ؍ پھولوں کی خوشبوں اور کائنات کے حسن سے لطف اٹھاتا ہے ۔لیکن اسے کا کام صرف اس حسن کو دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس کا خیال رکھنا بھی ہے۔ انسان جب غرور ؍ خودغرضی؍ اور بے حسی کا شکار ہوتا ہے تو اس کی انسانیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ غلط سوچ ؍ غلط ارادے اور منفی رویے اسے تباہی کی طرف لے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھے اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ انسان کی اصل پہچان اس کا بلند کردار اور اعلیٰ اخلاق ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں