گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(2)۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اتوار کی شام تھی۔ کل کی بارش کی وجہ سے آج موسم سہانا لگ رہا تھا۔ اس کے گھر کے لان میں پرندے چہک رہے تھے۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سب حمدوثنا کر رہے ہوں۔ وہ انہیں دیکھ کر مسکرا ئے جا رہی تھی۔ اچانک قریبی مسجد سے عصر کی اذان کی آواز بلند ہوئی۔ طیبہ نے سر پر دوپٹہ رکھا۔ اس نے وضو کیا اور کمرے میں نماز پڑھنے کے لیے چلی گئی۔ اس نے قبلہ رخ جائے نماز بچھایا اور نماز پڑھنا شروع کی۔طیبہ نے آج مکمل 8 رکعتیں پڑھیں۔ ورنہ عموماً 4 فرض ادا کرتی تھی۔ آج کا دن خاص تھا۔ سلام پھیرنے کے بعد اس نے دعا مانگنا شروع کی۔ اس کا چہرہ نور سے دمک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں گول موتیوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ وہ دعا مانگ رہی تھی کہ اچانک اس کے samsung glaxy S7 پہ بیپ ہوئی۔ اس نے فوراً دعا ختم کی اور لپک کر صوفے پر جا بیٹھی۔ یہ حنان بن احد کا واٹس ایپ (Whatsapp )پہ ٹیکسٹ تھا۔
“جانو آج رات 8 بجے Gogi Garden ۔۔انشااللہ”
یہ ٹیکسٹ پڑھتے ہی اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس کے گلاب جیسے ہونٹ پھڑپھڑانے لگے۔ اسے یوں لگا کہ جیسے اس کی دعا قبول ہوگئی ہو۔ وہ ایک بار پھر سجدے میں گرگئی۔ سجدے سے اٹھنے کے بعد اس نے ریپلائی کیا۔۔
“اوکے جانو انشااللہ”
خوشی کے آنسو اس کے گال سے ٹپکنے لگے۔ وہ باہر لان میں آگئی۔ ہر طرف حمدوثنا جاری تھی۔ خوبصورت چرند پرند، خوبصورت پھول، سب کچھ اتنا خوبصورت لگ رہا تھا آج۔ وہ رہ رہ کر قدرت کی خوبصورتی پر حیرت میں ڈوبی جارہی تھی۔ اس نے اپنی Rado کی تھرڈ کاپی گھڑی پہ نظر جمائی۔ ابھی پانچ ہی بجے تھے۔ ابھی اس کی باضابطہ پہلی Date میں تین گھنٹے باقی تھے۔ تین گھنٹے اسے تین سال کی طرح محسوس ہونے لگے۔ اس نے ٹہلنا شروع کر دیا۔ وہ کوہ قاف سے آئی ایک شہزادی کی طرح معلوم ہوتی تھی۔ لمحے گزرتے رہے۔
مغرب کا وقت ہو گیا۔ اس نے نماز پڑھی۔ پہلی ڈیٹ( Date )کے صحیح طرح ہو جانے کے لیے دعا مانگی۔ اس نے Gogi Garden جانے کی تیاری شروع کردی۔ اپنی امی جان کو اس نے یہ بتا رکھا تھا کہ سہیلی ماہٙم کے گھر میلاد پر جارہی ہوں۔ اس نے Khaadi کا سیاہ لباس جس پہ دھاری دار لائنیں بنی ہوئی تھیں زیب تن کیا۔ اس کی ددھیا رنگت کی وجہ سے اس پہ سیاہ لباس بہت سوٹ کر رہا تھا۔ اس نے بال سنوارے، ہلکی گلابی لپ سٹک لگائی۔ پرفیوم لگایا۔ تیار ہو کر وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ آئینے میں نظر آنے والی کوئی لڑکی نہیں تھی بلکہ جنت سے آئی حور معلوم ہو رہی تھی۔ اس نے مختلف زاویوں سے اور مختلف انداز سے 17،18 سلفیاں بنائیں۔
“جانو میں روانہ ہونے لگی ہوں۔” اس نے حنان کو ٹیکسٹ کیا۔
حنان نے “اوکے جانو” کہتے ہوئے دھڑکتے دل والی Emoji تین بار بھیجی۔
اسے ایسےلگا جیسے حنان نے کہا ہو:
“قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے۔”
وہ گھر سے باہر نکلی۔ ۔نکلتے وقت اس کی والدہ نے اسے پیار کیا اور کہا:
“بیٹا ! میلاد سے واپس وقت پر آجانا۔”
اس نے Careem App سے کار منگوائی۔ وہ عموماً “مناسب سواری” کا انتخاب کرتی تھی۔ مگر آج اس نے “بزنس” کا انتخاب کیا۔ سات منٹ میں کار آگئی۔ اور وہ Gogi Garden کی جانب رواں دواں ہو گئی۔
4 نمبر گیٹ پر پہنچ کر اس نے رائیڈ اینڈ کرائی، کرایہ ادا کیا اور حنان کو ٹیکسٹ کیا۔
“کہاں ہیں آپ؟”
“میں آیا بیٹھا ہوں۔ 4 نمبر گیٹ سے اندر Gogi Garden پیچھے کی طرف آجاؤ جانو۔”
طیبہ اندر آئی۔ اس نے اپنے جاز( Jazz) کے نمبر سے حنان کو کال کی۔
“آپ کا مطلوبہ بیلنس اس کال کو ملانے کے لیے ناکافی۔۔۔”
اسے یاد آیا کہ اس کا دو گھنٹے والا پیکج کب کا ختم ہو چکا تھا۔ اس نے Whatsapp سے حنان کو کال کی۔ حنان اسے بتاتا گیا کال پر اور وہ چلتی گئی۔ حتی کہ وہ اس کے قریب پہنچ گئی۔ کال ختم ہوئی۔
دونوں نے سلام دعاکی۔ اور جھاڑیوں کے ساتھ لگے بینچ پر بیٹھ گئے۔ Gogi میں اس وقت کافی اندھیرا تھا۔ پھر بھی وہ اس کو دیکھ سکتی تھی۔ حنان نے براؤن کلر کی Royal Tag کی شرٹ اور Diners کی بلیک جیز پہنی ہوئی تھی۔ وہ بے حد پیارا لگ رہا تھا۔ اس پر فواد خان کا شبہ ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حنان بھاگ کر نشتر پوائنٹ پہنچا اور وہاں سے دو Milo کے جوس لے کر واپس آ بیٹھا۔ اس نے ایک Milo کا جوس اور ایک ڈیکو مکھن ٹافی طیبہ کی طرف بڑھائی۔ نشتر پوائنٹ والے حنان کو 5 روپے بقایا دینے کی بجائے ہمیشہ یہی ٹافی پکڑا دیتے تھے۔
طیبہ نے اس کے ہاتھ سے Milo اور ڈیکو مکھن ٹافی لی۔ وہ اس وقت اسے ایک مہرباں فرشتے کی طرح لگ رہا تھا۔ طیبہ کو حنان پہ بہت پیار آرہا تھا۔ وہ اپنی داڑھی سے اپنے محلے کی مسجد کا امام لگتا تھا اور اپنی چال سے فوجی معلوم ہوتا تھا۔ طیبہ اپنے آپ کو اس کے قریب پا کر خوش قسمت محسوس کر رہی تھی۔
انہیں Gogi Garden میں سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ انہوں نے دیکھا تو دو پیار کرنے والے ان کے قریب آ رہے تھے۔ طیبہ اور حنان فوراً اٹھے اور قریب موجود خوبصورت لکڑیوں سے بنے Hut پر چڑھ گئے۔ انہوں نے یہاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھا۔ یہاں مناسب روشنی ہونے کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سے دیکھ سکتے تھے۔ قدرت کا سکوت، ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا اور پھولوں کی خوشبو سے ماحول معطر ہو چکا تھا۔ وہ ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔ طیبہ کو ایسے لگ رہا تھا جیسے حنان کی زبان سے موتی جھڑ رہے ہوں۔ حنان کا ٹوٹا ہوا دانت اسے ‘نظر بٹو’ معلوم ہو رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادرا کیے جارہی تھی۔
وہ ایک دوسرے کے قریب ہونے لگے۔ انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ حنان نے اپنے ہونٹ اس کی طرف بڑھائے۔ ہونٹ آپس میں ٹکرائے۔۔ اچانک نشتر بوائز ہاسٹل کی مسجد سے عشا کی اذان کی آواز بلند ہوئی۔
وہ دونوں الگ ہوئے۔ طیبہ نے نیچے پڑا دوپٹہ فوراً سر پہ رکھا۔ وہ دونوں مکمل خشوع وخضوع کے ساتھ اذان سننے لگے۔ طیبہ کو ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے خود حنان اذان دے رہا ہو۔
جونہی اذان ختم ہوئی وہ دونوں پھر سے ایک دوسرے میں گم ہو گئے۔ پانچ منٹ بعد طیبہ نے پھر سے نیچے گرا جامنی دوپٹہ اٹھایا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ دونوں کے چہروں سے نور ٹپک رہا تھا۔ دونوں کے بدن خوشبو سے مہک رہے تھے۔
10 بجے طیبہ نے رخصت چاہی۔ اس کا صبح فارما کا لیکچر تھا جسے وہ مِس نہیں کر سکتی تھی۔ اس کی حاضری پہلے ہی 54 فیصد تھی۔ حنان اس کا ہاتھ تھامے گیٹ نمبر 4 تک گیا اور خود رکشہ روک کر اسے سوار کیا۔
“خدا حافظ” طیبہ نے کہا۔
“اللہ حافظ”
واپسی پر طیبہ کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ نشتر روڈ سے گزرتے ہوئے پراٹھوں کی خوشبو ‘من وسلویٰ ‘ کی طرح اس کے نتھنوں کو چھو رہی رہی تھی۔ اس کو رکشہ ایک Land Cruiser لگ رہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ رکشہ چلانے والے انکل کو ہٹا کے خود چلانا شروع کردے۔
گھر پہنچ کر، رکشے سے اتر کر اس نے کرایہ پوچھا۔ یہ سن کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ حنان نے رکشے والے کو چپکے سے کرایہ بھی دے کر اسے روانہ کیا تھا ۔ حیرت اور رشک سے اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے۔
اس نے ڈوربیل بجائی۔ اس کی امی نے دروازہ کھولا۔۔ اور اس کا ماتھا چوما۔
“میلاد کیسا رہا بیٹی؟”
“الحمدللہ بہترین ہو گیا امی”
وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ ایک بار پھر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ سیاہ لباس اسی طرح چمک رہا تھا۔ اس کا میک اپ ویسے کا ویسا تھا۔ البتہ اس کے ہونٹوں پہ لگی سرخی ختم ہو چکی تھی۔ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ اس کی پہلی باضابطہ Date بہت کامیاب رہی۔
یہ سوچتے ہی اس نے فوراً جائے نماز بچھائی اور سجدے میں گر گئی !
جاری ہے

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *