ہر انسان کی زندگی میں ایسا ناقابلِ واپسی موڑ آتا ہے جب اس کے زندہ واقف کاروں کی تعداد سے مردہ شناساؤں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ہر شخص اپنے اندر ایک قبرستان لیے پھرتا ہے جس کی آبادی ہر گزرتے سال کے بعد بڑھتی چلی جاتی ہے۔
اس بات کا ادراک مجھے اپنے والد صاحب کی زندگی کے آخری برسوں میں ہوا۔ وہ ماشاء اللہ اکیانوے برس تک جیے۔ ان کی عمر کے آخری پندرہ بیس سال بہت عجیب گزرے۔ ان کے جاننے والے، سنگی ساتھی، رشتے دار ایک ایک کر کے دنیا سے اٹھتے جاتے تھے۔ جب بھی کسی کے گزرنے کی خبر آتی، وہ کہتے، ’اچھا، وہ بھی گزر گیا؟‘ ’وہ بھی چلا گیا؟‘
مجھے لگتا تھا کہ ایسی ہر موت کے بعد ان کے اندر پھیلے قبرستان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ان کا رابطہ جیتی جاگتی دنیا سے گھٹتا اور اس غیر مرئی قبرستان سے بڑھتا جا رہا ہے۔
آخر وہ وقت آیا کہ یکے بعد دیگرے ان کے سارے کولیگ، دوست، رشتے دار رخصت ہو گئے۔ اب مجھے انہیں کسی کی موت کی خبر پہنچاتے عجیب مخمصے کا سامنا ہونے لگا۔ انہیں خبر دینا بھی ضروری ہوتا تھا، لیکن ایسی ہر خبر ان کے وجود پر تنہائی کی ایک اور تہہ پینٹ کر دیتی تھی، اور ان کے سینے کےاندر موجود خلا تھوڑا سا اور گہرا ہو جاتا تھا۔ وہ کہتے تھے، ’اب میرے زندہ رہنے کی کیا تک بنتی ہے؟ میرے ساتھ کے تو سبھی لوگ چلے گئے، میں اکیلا زندہ رہ کر کیا کروں؟‘
میں ڈھونڈ ڈھانڈ کے کسی کا نام لے دیتا تھا، ’نہیں ابا، دیکھیے، وہ فلاں بابا تو آپ سے پورے دو سال بڑا ہے،‘ یا پھر، ’فلاں کی نانی تو خود کہتی ہے کہ آپ اس سے چھ ماہ چھوٹے ہیں، خود سوچیے اگر اپنے منہ سے چھ مہینے کہہ رہی ہے تو اصل میں کتنی عمر کی ہو گی!‘
ابا کے ساتھ موت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے محسوس کیا کہ صرف ان کی طرح لمبی عمر پانے والوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، بلکہ ہر جیتے جی کی زندگی کے بیچ میں کہیں نہ کہیں ایک ٹِپنگ پوائنٹ ایسا آتا ہے جب اس کے تمام شناسا لوگوں کی آبادی کا بیشتر حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہو جاتا ہے جو زمین کے اوپر نہیں نیچے ہیں۔ گویا ہر انسان کی عمر جوں جوں بڑھتی ہے، اس کے اندر موجود قبرستان کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، حتیٰ کہ تیس سے چالیس برس کی عمر میں اندر موجود قبرستان کی آبادی زندہ شناساؤں کی تعداد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ عمر آگے بڑھنے کے ساتھ نئی شناسائیاں مشکل سے بننے لگتی ہیں، یا سرے سے بننا ہی بند ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف پرانے، اور مردہ، شناساؤں کی یادیں گہری ہوتی جاتی ہیں۔
دور کیوں جائیں، اپنی ہی بات کرتا ہوں کہ جب میں چالیس کی عمر کے قریب پہنچا تو اس وقت تک میرے دادا، نانا، نانی، والدہ، دو ماموں، تین خالائیں، تین چچا، تین پھوپھیاں، دس کے قریب فرسٹ کزن، متعدد دوسرے قریبی رشتے دار، بچپن کے کئی دوست، گاؤں میں آس پاس بسنے والے درجنوں لوگ، مہربان چہروں والے، ملائم لہجوں والے، ہمدرد بولوں والے، عدم کی دھند کا حصہ ہو گئے تھے۔ میں نے گنتی تو نہیں کی، لیکن یہ تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ہمارا گاؤں چھوٹا سا ہے، سو کے لگ بھگ گھر ہیں، جن میں پانچ سات سو لوگ رہتے ہیں، ہر گھر کے باسی ایک دوسرے کو نسلوں سے جانتے پہچانتے ہیں۔ لیکن اس چھوٹے سے گاؤں کے آس پاس بکھرے ہوئے پانچ قبرستان ہیں، جن میں سے اکثر قبروں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس کی ہیں۔ بلکہ بہت سی قبریں تو ہموار ہو چکی ہیں اور بعض اوقات جب خالی جگہ سمجھ کر کسی نومردہ کے لیے زمین کھودی جاتی ہے تو نیچے سے ہڈیاں نکل آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے گاؤں سے نکل کر قبرستان آباد کر لیے ہیں، ان کی تعداد گاؤں کی جیتی چند سو آبادی کے مقابلے پر ہزاروں میں ہے۔
جب بھی میرا گاؤں کی گلیوں میں ان گھروں کے دروازوں کے آگے سے گزر ہوتا ہے تو ہر گھر کے اندر سے مہربان مرحوموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے ابھی دروازہ کھلے گا اور ان کے پیار بھرے بول کانوں میں پڑیں گے۔
ایک گلی سے باہر سے گزروں تو بچپن کے دوست معظم شاہ کی آواز راستہ روک لیتی ہے، ’چلو انگور کی بیل کے نیچے کنچے کھیلتے ہیں۔ کل تم جیتے تھے، آج میری بدلہ لینے کی باری ہے۔ دادی اندر سو رہی ہے، ڈانٹے گی نہیں!‘
معظم شاہ چوتھی جماعت تک میرے ساتھ پڑھتا تھا، پھر اس نے سکول آنا بند کر دیا، سنا کہ اس کے بدن پر پھوڑا نکل آیا ہے۔ اس کے والد اور چچا اسے چارپائی پر اٹھا کر قصبے لے گئے، وہاں سے اس کی کفن میں لپٹی لاش واپس آئی۔ پھر اس کی دہری کمر اور چنٹوں بھرے چہرے والی دادی، والد، والدہ، چچا سبھی ایک ایک کر کے مرتے چلے گئے۔ مکین نہ رہے تو خالی گھر کیا کرتا، وہ بھی ڈھے گیا ، صرف دو دو چار چار فٹ دیواریں موہنجودڑو کی صورت باقی بچی ہیں۔
محلے کے دوسرے کنارے پر آخری گھر حسن علی کا ہے۔ اس کے دو دروازے ہیں۔ میں ادھر سے گزر رہا ہوں۔ اچانک ایسا لگنے لگا جیسے ابھی ایک نہ ایک دروازے سے حسن علی نکل آئے گا۔ وہی حسن علی جو شاندار ردم والے ایکشن سے اتنی تیز بولنگ کرتا تھا کہ وکٹیں کیا، بیٹ بھی توڑ دیتا تھا، اور لوگ اسے ’مائیکل ہولڈنگ‘ کہتے تھے۔ 2015 میں کراچی میں ہیٹ ویو آئی تو اسے بھی راکھ کر گئی۔
حسن علی کے گھر سے ملحق میری پھوپھی کا گھر ہے۔ میرے سامنے پھوپھی کا لاغر مگر نورانی چہرہ لہراتا ہے۔ ان کے قریب ہی چمڑے کی چارپائی پر پھوپھا موٹے تکیے کے سہارے لیٹے شورش کاشمیری کی کتاب پڑھ رہے ہیں، ساتھ ہی اکلوتا بیٹا بشارت بھی، جو پیدائشی نابینا ہے، مگر ہونٹوں پر مستقل مسکراہٹ کِھلی رہتی تھی اور وہ موقعے کی تاک میں رہتا تھا کہ کوئی بات پکڑ کر جگت چسپاں کر دے۔ آج یہ تینوں مٹی کے ساتھ مٹی ہیں۔ اب اس گھر میں کوئی اور رہتا ہے۔ دو ٹین ایجر لڑکے باہر ہیں۔ ایک دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا ہے، دوسرا گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھا موبائل میں مگن ہے۔ میں ان میں سے کسی کے نام سے واقف نہیں ہوں، نہ ہی مجھے دیکھ کر ان کے چہروں پر شناسائی کی لہر دوڑی ہے۔
خیر، میں اپنے ابا کے بارے میں بتا رہا تھا۔ کرتے کرتے پورے گاؤں میں صرف ایک ہی آدمی بچا جو ان سے بڑا تھا، جنوبی محلے میں خان برادری کا ایک بابا جس کے دانت نسوار کھا کھا کر کب کے جھڑ چکے تھے۔ میں اس بابے کی زندگی کی دعائیں مانگنے لگا کہ اگر وہ بھی گزر گیا تو پھر ابا کی کیا حالت ہو گی۔ پھر ایک دن گاؤں کی مسجد کے کھڑکھڑاتے لاؤڈ سپیکر سے سناؤنی آ گئی۔
’حضرات، ایک ضروری اعلان سنیے۔ ۔۔۔ قضائے الٰہی سے فوت ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازِ جنازہ۔۔۔‘
ابا کو پورے اعلان کی سمجھ تو نہیں آئی لیکن یہ ضرور پتہ چل گیا کہ کوئی مر گیا ہے۔ پوچھنے لگے، ’کس کی موت کا اعلان ہے؟‘
میں نے ٹالنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ڈانٹ کر کہا، ’بتاؤ کون مرا ہے؟‘
میں نے بتایا۔ یہ سن کر ان کے چہرے کے تاثرات اتنی تیزی سے بدلے مجھے لگا جیسے کسی غیر آباد حویلی کا آخری ستون بھی ڈھے گیا ہو۔ انہوں نے ایک آہ بھری اور آنکھیں بند کر تکیے پر سر ٹکا دیا۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہوا، ساتھ کے لوگ مر گئے، ان کے بیٹے بیٹیاں، بہویں، داماد، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں تو موجود ہیں، جن کی تعداد دو درجن کے قریب بنتی ہے۔ مگر جب میں نے غور کیا تو انکشاف ہوا کہ کسی اور زمانے میں پلنے بڑھنے والی نسل کے ساتھ آپ کی ذہنی ہم آہنگی بن ہی نہیں سکتی۔ دوسرے گاؤں پیغام بھیجنے کے لیے نائی کو دوڑانے والے زمانے میں پلنے والا چیٹ جی پی ٹی کے دور میں پیدا ہونے والے کو کیسے اپنی بات سمجھا سکتا ہے، اس سے کیسے ایک ویو لینتھ پر بات کر سکتا ہے؟
میں جب پشاور یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہاسٹل میں رہتا تھا تو ایک چینی طالب علم سے دوستی ہو گئی۔ چُو ژوان جا۔ چو ریڈیو بیجنگ میں پشتو زبان کے شعبے سے وابستہ تھا، اس نے چین ہی میں پشتو سیکھ رکھی تھی مگر اب وہ سکالر شپ پر پشاور آ کر اس زبان میں مہارت حاصل کرنا چاہتا تھا۔
چو صاحب سے کئی ماہ کی رفاقت کے دوران بےحد دلچسپ واقعات پیش آئے۔ اس کی پشتو یوں تو اچھی خاصی تھی، مگر صرف اور صرف کتابی۔ عملی زبان کا اسے قعطاً کوئی تجربہ نہیں تھا، اس لیے اکثر مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا ہو جاتی تھی۔ ایک مصیبت یہ تھی کہ اس وقت تک چینی پشتو لغت موجود نہیں تھی (شاید اب بھی نہ ہو)، اس کی بجائے وہ دو لغات سے کام چلاتا تھا۔ اس کے پاس ایک روسی-چینی لغت تھی اور دوسری پشتو-روسی۔ جب اسے کسی پشتو لفظ کی سمجھ نہیں آتی تھی وہ جلدی سے پشتو-روسی لغت میں اس لفظ کا روسی متبادل ڈھونڈتا تھا، پھر روسی-چینی لغت نکال کر اس لفظ کا چینی ترجمہ نکال لیتا تھا۔
ایک بار میں نے اسے ’کمرے‘ کے بارے میں کوئی بات کی۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آئی۔ دو تین بار لفظ دہرایا مگر بےسود۔ آخر وہ جھٹ الماری سے پشتو-روسی لغت نکال لایا۔ جلدی جلدی ورق گردانی کی، پھر میز سے دوسری لغت اٹھا کر پھرولنے لگا۔ چند منٹوں کے بعد بولا، ’اچھا، کیمرا، کیمرا! جس سے تصویریں لیتے ہیں؟‘
یہ تو صرف زبان کا معاملہ تھا، ثقافتی فرق کی تو بات ہی نہ کیجیے۔ اس کے لیے ہمارے رسوم و رواج، لباس، خوارک، تہوار، موسیقی، آرٹ، وغیرہ چیستان سے کم نہیں تھے۔ ہم دوست اس کی موجودگی میں آپس میں بات کرتے ہوئے مثال کے طور پر ضیاء الحق کی یا سلطان راہی کی، یا وارث ڈرامے کی یا فیض احمد فیض کی یا فضیلہ قاضی کی یا محمد رفیع کی یا مولانا بجلی گھر کی بات کرتے تھے تو بیچارہ روایتی چینی رکھ رکھاؤ کو ملحوظِ خاطر رکھ کر ویسے ہی سر ہلا دیتا تھا، مگر اس کے چہرے پر ایسا ہونق پن بکھرا ہوا ہوتا تھا کہ ترس آنے لگتا تھا۔
اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ کیا کچھ ایسی ہی بےبسی، بےوطنی اور کٹ کر رہ جانے کا احساس میرے والد صاحب کو بھی ہوتا تھا جب ان کے سامنے ان کے پوتے پوتیاں آپس میں بات کر رہے ہوتے تھے؟
ایسا بھی نہیں کہ میرے والد صاحب ٹیکنالوجی سے خائف یا نالاں ہوں۔ وہ ہمیشہ سے ڈائری رکھنے کے عادی تھے، اور ہر نئے سال کی ابتدا میں اہتمام سے چکنے صفحوں والی قیمتی ڈائری خرید کر لاتے تھے جس میں بعض اوقات تاریخ کے اہم واقعات اور مقامات کی پینٹنگز بھی ہوا کرتی تھی۔ اسی ڈائری میں وہ تمام اہم واقعات، حساب کتاب اور تاریخیں اپنی مخصوص اور بےمثال سوادِ تحریر میں رقم کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ہمیشہ قیمتی شیفر یا پارکر قلم ہوتا تھا، جسے وہ اپنی عادت کے مطابق بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتے تھے۔
90 کی دہائی کے اوائل میں جب پی ڈی اے کے نام سے ڈیجیٹل ڈائریاں آئیں تو والد صاحب نے بھی ایک عدد خرید لی اور مجھے ساتھ بٹھا کر اس کے سارے فنکشن بڑے شوق سے ازبر کر لیے۔ مگر یہ ڈیوائس ایک شعبدے سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ اس کی میمری چند کلوبائٹ تھی، جس میں چند سو لوگوں کے پتے اور فون نمبر ہی محفوظ کیے جا سکتے تھے۔ اگر میمری بھر جاتی تو پرانی چیزیں ڈیلیٹ کرنا پڑتی تھیں، چارجنگ کی سہولت نہیں تھی، گول سیل ڈلتا تھا، ننھا منا کی بورڈ استعمال کرنے میں بےحد کڈھب اور زبان بھی فقط انگریزی۔
آج جب میں سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ والد صاحب کو اس کے مقابلے پر اپنی ملائم کاغذ اور چرمی جلد والی ڈائری کتنے ہزار گنا بہتر لگتی ہو گی، اس لیے چند ہی ماہ کے شوق کے بعد یہ پی ڈی اے الماری ان کے سرہانے والی میز سے الماری میں اور پھر الماری سے کسی صندوق میں منتقل ہو گئی اور پھر اس کا پتہ ہی نہیں چلا کہ وہاں سے کہاں گئی۔
والد صاحب اپنی چیز کو بہت سلیقے سے سنبھال کر رکھتے تھے۔ ان کا ریڈیو دس دس پندرہ پندرہ سال چلتا تھا، یہی حال گھڑی، چھڑی، چھتری، جوتوں، واسکٹ وغیرہ کا تھا۔ بچپن میں ہم اگر ان کی کسی چیز کو ہاتھ لگا لیں تو بہت ناراض ہوتے تھے۔ اسی نفاست کی وجہ سے ان کے جوتے، کوٹ اور لباس بھی سالہاسال چلتے رہتے تھے۔
شاید وہ اپنی اسی عادت کے مطابق اپنے ذہن میں پرانی یادیں، اپنے دور کے رسم و رواج اور طور طریق کو بھی اسی ترتیب سے، اسی نفاست سے، اسی سلیقے سے سینت سینت کر رکھتے ہوں گے۔ بار بار ان کی جھاڑ پونچھ کرتے ہوں گے، بار بار پالش کرتے رہتے ہوں گے۔ نو عشروں پر محیط یادوں کے نقش اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہوں گے۔
ایک طرف زمانہ بجلی کی رفتار سے بدلا، دوسری جانب ان کی نسل کے لوگ بچھڑتے چلے گئے تو والد صاحب بھی اس باہر کی دھکم پیل، اس شور شرابے، اس ہاؤ ہو سے کٹتے چلے گئے، اور شاید اپنے اندر کی دنیا میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگے۔
اب شاید انہیں اپنی بات سمجھانے اور نئی نسلوں کی باتیں سمجھنے کے لیے چُو ژوا جا کی طرح ایک سے زیادہ لغات کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ وہ شاید کچھ عرصہ ایسا کرتے بھی رہے۔ ڈیجیٹل ڈائری کے استعمال کی کوشش بھی شاید چُو کی ڈکشنریوں کی مانند تھی، لیکن جہاں چُو دو ڈکشنریوں کی مدد سے لفظ سمجھ لیتا تھا، والد صاحب کو محسوس ہوا کہ یہاں تو ہر چند ماہ کے بعد ڈکشنری ہی بدل رہی ہے، اس لیے شاید انہوں نے تنگ آ کر خود نئے زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہی چھوڑ دی۔
اسی لیے جب گاؤں کی مسجد کے کھڑکھڑاتے لاؤڈ سپیکر سے خان بابا کی سناؤنی آئی اور میں نے ان کے اصرار پر خبر دی تو ان کے چہرے کے تاثرات اتنی تیزی سے بدلے مجھے لگا جیسے کسی غیر آباد حویلی کا آخری ستون بھی ڈھے گیا ہو۔
چو ژوان جا تو اپنے وطن لوٹ گیا، مگر بڑھاپے میں وہ موت جو آپ کو گھر میں بیٹھے بٹھائے آپ کے پیاروں کو ایک ایک کر کے مار کر آپ کی شناخت چھین کر آپ کو جلاوطن بنا رہی ہوتی ہے، اس سے بچنے کے لیے انسان کس دیس کا رخ کرے؟
جاری ہے
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں