• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مسلم معاشروں میں زوال اور احیاء کا بیانیہ: ایک فکری جستجو /وحید مراد

مسلم معاشروں میں زوال اور احیاء کا بیانیہ: ایک فکری جستجو /وحید مراد

مسلم معاشروں میں زوال اور احیاء کی بحث صدیوں سے جاری ہے لیکن آج تک نہ زوال کے بنیادی اسباب پر اتفاق پیدا ہوا، نہ احیاء کی درست سمت پر۔ فکری منظرنامہ عمومی طور پر دو نمایاں رجحانات میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک طبقہ پسماندگی، ناخواندگی، لاقانونیت، بدنظمی، علمی انحطاط اور سائنس و ٹیکنالوجی سے دوری کو زوال کی اصل وجہ سمجھتا ہے اور اس کے نزدیک خرد افروزی، سماجی ترقی، معاشی استحکام اور سائنسی شعور ہی احیاء کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

دوسرا طبقہ جدیدیت کو بحران کی بنیادی وجہ سمجھتے ہوئے روایت کی طرف رجوع کو واحد راستہ قرار دیتا ہے لیکن روایت کے مفہوم، دائرۂ کار اور معتبر تعبیرات پر اس کے اندر بھی کوئی واضح اتفاق موجود نہیں۔ مزید غور کیا جائے تو یہ داخلی اختلاف صرف علمی سطح تک محدود نہیں بلکہ مذہبی، فکری اور سیاسی تعبیرات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض مواقع پر یہ اختلاف شدت پسندانہ شناختوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ایک ہی فکری دائرے کے اندر باہمی مکالمہ اور سنجیدہ تبادلۂ خیال کوناممکن بنا دیتا ہے۔

زوال اور احیاء کے یہ بیانیے باہمی اختلافات کے باوجود آخرکار مغرب ہی کے جدید فکری، سیاسی اور سائنسی ماڈلز کے گرد گردش کرتے ہیں اور یہی امر ہمارے فکری تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف مغرب کو اخلاقی و فکری زوال کی علامت کہا جاتا ہے، دوسری طرف انہی مغربی علوم، ٹیکنالوجی اور معیارِ زندگی سے استفادہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ عملی سطح پر شاید ہی کوئی فرد ایسا ملے جو مغرب پر سخت تنقید کرتا ہو مگر اپنی زندگی کو مغربی سہولتوں اور تعلیم سے الگ رکھتا ہو۔ یہی تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم ابھی تک درست طور پر متعین نہیں کر سکے کہ زوال کیا ہے اور احیاء کس پہلو کا نام ہے۔

یہ بحث اس وقت زیادہ متوازن صورت اختیار کرسکتی ہے جب ہم یہ سمجھیں کہ زوال کی نوعیت صرف سیاسی، تعلیمی یا معاشی سطح تک محدود نہیں۔ زوال اس وقت سنگین شکل اختیار کرتا ہے جب ایک معاشرہ اپنے فکری ورثے کا صحیح ادراک کھو بیٹھتا ہے اور جدید دنیا کے سوالات کو یا تو محض خطرہ سمجھ کر رد کرتا ہے یا اپنی روایت کو جامد ڈھانچہ سمجھ کر ترک کر دیتا ہے۔ فکری کمزوری کی اصل علامت یہی ہے کہ معاشرہ علامتوں پر لڑتا رہتا ہے لیکن اصل مسائل کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا۔ احیاء کا سفر اسی وقت شروع ہوتا ہے جب یہ ادراک پیدا ہو کہ روایت کی اصل قوت اس کی تخلیقی اور حرکی روح میں ہے، جو ہر دور میں نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

ایک اور طبقہ جسے عموماً متجددین کہا جاتا ہے، اس بحث کا اہم جزو ہے۔ جدید فکری مباحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روایت اور تجدد کے درمیان کوئی سخت یا ناقابلِ عبور لکیر موجود نہیں۔ ہر بڑا مفکر کسی نہ کسی درجے میں اجتہادی یا تجدیدی پہلو رکھتا ہے، چاہے اس کی فکری بنیاد روایت ہی سے کیوں نہ اٹھتی ہو۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ روایت کو ایک ایسے تہذیبی و فکری تسلسل کے طور پر سمجھا جائے جو عقیدہ، فکر، اخلاق، طرزِ حیات، سیاست اور تعلیم سب کو اپنی جامع ساخت میں شامل کرتا ہے۔ روایت اپنی اصل میں ایک زندہ، متحرک اور مسلسل جاری رہنے والی حقیقت ہے جو وقت کے نئے سوالات اور انسانی تجربات کے ساتھ مکالمہ کرنے کی استعداد بھی رکھتی ہے۔ یہی تناظر اسے صرف ماضی کا حوالہ نہیں رہنے دیتا بلکہ فکری ارتقاء کا حصہ بناتا ہے۔

روایت، حتمی طور پر طے شدہ کسی تعریف میں محدود نہیں ہو سکتی۔ اس کی اصل قوت اس کا تسلسل اور تغیر ہے۔ ایک بہتی ندی کی مانند جو راستہ بدلتی ہے مگر اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔ روایت کا زندہ رہنا اسی اندرونی حرکت اور تنوع سے ممکن ہوتا ہے اور ہر دور میں نئے فکری، سیاسی اور سماجی امکانات اسی تنوع سے پیدا ہوتے ہیں۔

مسئلہ روایت کے بحران یا خاتمے کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ روایت اپنی مختلف جہات کے ساتھ بکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے اور اس تنوع کو غلطی سے بحران سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہابیت ہو یا تجدد، تصوف ہو یا علم کلام، فقہی مکاتب ہوں یا مدارس یا عوامی مذہبی شعائر، سب اسی وسیع تہذیبی روایت کے مختلف دھارے ہیں۔ اختلاف اور تنوع روایت کی کمزوری نہیں، اس کی زندگی کا ثبوت ہے۔

اسی تناظر میں یہ پہلو بھی اہمیت کا حامل ہے کہ روایت اور جدیدیت کو مکمل متقابل یا متحارب خانوں میں رکھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسلم فکری تاریخ خود اس سادہ تقسیم کی نفی کرتی ہے۔ فقہ، فلسفہ، کلام، تصوف اور سائنسی روایت سب اسی تہذیب کے اندر وجود میں آئے اور اس کے بدلتے حالات کے ساتھ مربوط رہے۔ روایت جامد پتھر نہیں، بہتا دریا ہے اور اس کی زندگی کا ثبوت ہی اس کی حرکت ہے۔ احیاء کوئی وقتی تبدیلی نہیں بلکہ روایت کے اندرونی ارتقاء کا تسلسل ہے اور اس تسلسل کو سمجھ کر ہی جدید دنیا کے پیچیدہ سوالات پر سنجیدہ گفتگو ممکن ہوتی ہے۔

بدلتے ہوئے فکری ماحول میں متجددین نے یہ امید باندھی کہ وہ ماضی و حال اور مشرق و مغرب کے درمیان فکری پل قائم کر سکیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ مشرق کے زوال کو اسی طرح احیاء میں بدلا جا سکتا ہے جیسے مغرب نے اپنے علمی و تہذیبی بحران سے نکلنے کا راستہ بنایا۔ اسی مقصد سے انہوں نے مغرب سے مکالمہ آسان بنانے کی خاطر مذہبی امور کی نئی تعبیرات تجویز کیں۔ مگر اس کوشش میں وہ نہ کوئی مربوط فکری فریم ورک بنا سکے اور نہ تہذیب کے منظم اور غیر منظم پہلوؤں یعنی ثوابت اور متغیرات کے درمیان کوئی واضح خطِ امتیاز قائم کر سکے۔ اس ابہام نے انہیں عقائد، عبادات، شعائر اور متون تک میں غیر ضروری تعبیرات کرنے پر آمادہ کیا، حالانکہ اس سطح کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی یہ انفرادی سطح پر کرنے کا کام تھا۔

مشرق اور مغرب کے درمیان حقیقی مشترکہ میدان تہذیب کا غیر منظم پہلو ہے۔وہ اخلاقی و سماجی اقدار جو انسانیت کے بنیادی اصولوں پر قائم ہیں مثلاً بقائے باہمی، انصاف، خیر، صداقت، انسانی وقار، امانت، سماجی ذمہ داری، تعاون اور امنِ عامہ۔ یہی وہ میدان ہے جہاں مغربی شہری اخلاقیات، سوشل کنٹریکٹ، کمیونٹی ماڈلز اور انسانی اقدار مشرقی روایت سے کسی حد تک ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ مکالمے کی اصل بنیاد یہی ہو سکتی تھی، لیکن متجددین نے غیر منظم حصے کے بجائے مذہب کے منظم حصے کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا، جس سے اشتعال اور تصادم پیدا ہوا۔

ایک اور فکری دبستان وہ ہے جو تنقیدِ مغرب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ طبقہ مغربی فلسفہ، سیاسی نظریات اور سماجی ماڈلز پر سخت تنقید کرتا ہے مگر قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اپنے تجزیے اور استدلال کے لیے انہی مغربی ماڈلز اور اصطلاحات سے مدد لیتا ہے۔ مسائل کی نشاندہی وہ مغربی زاویۂ نظر سے کرتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ اس کا اپنا فکری ماخذ کیا ہے، وہ کس روایتِ فکر سے بات کر رہا ہے یا اس کا علمی موقف کس بنیاد پر قائم ہے۔ یہ بھی غیر واضح رہتا ہے کہ یہ ماڈلز ہمارے نظامِ فکر کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہیں اور ان میں مذہب، وحی، روایت اور روحانیت کے بارے میں کون سے اصول شامل ہیں۔

یہ مقامی فکر اپنے تجزیے کا آغاز تو کریٹیکل تھیوری کے “ہست” سے کرتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس کا “باید” کبھی عملاً سامنے آئے گا یا محض ایک غیر متعین امکان کے طور پر ہی باقی رہے گا۔ اور اگر یہ “باید” عملی صورت اختیار کرے گا تو کیا وہ اسلامی تہذیبی تناظر سے مطابقت رکھے گا یا ہست کی طرح کریٹیکل تھیوری کا ہی باید ہوگا ؟ ان بنیادی وضاحتوں کے بغیر یہ موقف ایک مستعار تنقید کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

یہ مقامی مفکرین اپنے استدلال کا محور مغرب کے اندر موجود ناقدین کی آرا ءکو بناتے ہیں اور بعض اوقات دیگر مقامی مصنفین کو اس لیےقابل اعتنا نہیں سمجھتے ہیں کہ ان کی رسائی ان جدید مغربی مباحث تک نہیں ہوتی۔ مگر یہ مقامی مفکرین اس بنیادی حقیقت کو بیان نہیں کرتے کہ مغرب میں یہ تنقید اپنے ہی علمی و سماجی نظام کو بہتر اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کی جاتی ہے نہ کہ اسے منہدم کرنے کے لیے۔ جب اس پہلو کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے تو اس مقامی تنقیدِ مغرب کی سمت بدل جاتی ہے اور پورا تجزیہ ایک ایسے فکری مغالطے میں داخل ہو جاتا ہے جو نہ صرف ابہام پیدا کرتا ہے بلکہ مسئلے کی اصل ماہیت کو بھی دھندلا دیتا ہے۔

زوال اور احیاء کا بیانیہ محض رد یا قبول کا معاملہ نہیں۔ نہ روایت کی محض مخالفت سے حل نکلتا ہے، نہ جدیدیت کے حق میں نعرے لگانے سے، نہ مغرب کی تقلید کوئی پائیدار راستہ فراہم کرتی ہے اور نہ مغرب کی سطحی مذمت عملی طور پر کام آتی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنی روایت کی متحرک روح کو سمجھیں، جدید دنیا کے پیچیدہ سوالات اور انسانی تجربات کا درست ادراک کریں اور ان کے درمیان ایسا فکری مکالمہ قائم کریں جو نہ ماضی کی قید میں محدود ہو اور نہ مستقبل کے حوالے سے اندھی توقعات پیدا کرے۔

احیاء کسی نظام کے انہدام سے پیدا نہیں ہوتا۔یہ فہم، بصیرت، ہم آہنگی اور فکری شفافیت سے جنم لیتا ہے۔ یعنی جب کوئی معاشرہ اپنے ماضی سے سیکھ کر اپنی سمتِ سفر خود متعین کرتا ہے اور اپنے فکری ورثے کو بوجھ کے بجائے روشنی اور توانائی میں بدل لیتا ہے۔ شاید یہی وہ طریقہ ہے جس سے زوال احیاء میں تبدیل ہوتا ہے اور تہذیب خود کو نئے افق اور مواقع کے لیے تیار کرتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply