فیملی کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟-مہ ناز رحمٰن

فیملی کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟/میں سندھ حکومت کو قبل از شادی اور بعد از شادی مشاورت کے بل کی منظوری پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
یہ میرے لیے محض ایک قانون نہیں بلکہ پاکستان کے معاشرے کے لئے میرا وہ خواب ہے جسے میں برسوں سے اپنی تحریروں، تقریروں اور قانون سازوں سے مسلسل مکالمے میں بیان کرتی رہی ہوں۔ مربوط اور باقاعدہ رہنمائی ہمارے خاندانوں کو زیادہ صحت مند، بااعتماد اور باہم سمجھ رکھنے والا بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
فیملی کونسلنگ کی اہمیت اور ضرورت
— ایک سماجی و نفسیاتی جائزہ

ہماری مشرقی معاشرت میں گھر صرف چھت اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ احساسِ تحفظ، تعلق اور شناخت کا مرکز ہوتا ہے۔ خاندان وہ پہلا ادارہ ہے جہاں ہم محبت، برداشت، گفتگو، اور تنازعات سے نمٹنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ یہی خاندان اکثر ہمارے سب سے بڑے ذہنی دباؤ، غلط فہمیوں، اور غیرضروری تلخیوں کی آماجگاہ بھی بن جاتا ہے۔ میں برسوں سے یہ بات کرتی آ رہی ہوں کہ فیملی کونسلنگ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے نہ صرف سمجھنے کی بلکہ اپنانے کی بھی شدید ضرورت ہے۔

پاکستانی معاشرے میں خاندان کا تصور مضبوط ضرور ہے مگر اکثر اس مضبوطی کے پیچھے ایک خاموش ٹوٹ پھوٹ بھی چل رہی ہوتی ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتی ہوئی نسلوں کی خلیج، میاں بیوی کے درمیان غیر مؤثر گفتگو، گھر میں ذمہ داریوں کی غیر مساوی تقسیم، جذباتی یا نفسیاتی دباؤ، اور رشتوں میں سرد مہری—یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں مگر ان پر کھل کر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فیملی کونسلنگ مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

فیملی کونسلنگ کا مقصد صرف جھگڑے ختم کرنا نہیں بلکہ خاندان کے افراد کو یہ سکھانا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کیسے سنیں، سمجھیں اور احترام دیں۔ ہمارے یہاں اکثریت اس غلط فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ گھر کے مسئلے گھر میں ہی حل ہونے چاہئیں، ورنہ بدنامی ہو گی، عزت پر حرف آئے گا، یا لوگ مذاق اُڑائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گھر کے مسائل تبھی حل ہوتے ہیں جب گفتگو کھلی، ایماندارانہ اور بے خوف ہو—اور اکثر یہی گفتگو کسی تربیت یافتہ ماہر کی موجودگی میں بہتر انداز میں ممکن ہو پاتی ہے۔

ہماری نسل نے بچپن سے ہی یہ دیکھا کہ جذبات کو دبانا اچھی تربیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ “چپ کر کے برداشت کرو”، “گھر کی بات گھر میں رکھو”، اور “وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا”—یہ وہ جملے ہیں جنہوں نے لاتعداد خاندانوں کو اندر سے کھوکھلا کیا۔ مگر آج دنیا بدل چکی ہے۔ ذہنی صحت کو ایک حقیقی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، نفسیاتی مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ قوت کی علامت ہے، اور اپنے خاندان کے ساتھ صحت مند تعلق رکھنا کسی بھی کامیاب اور خوشحال زندگی کا اہم ترین جزو ہے۔

فیملی کونسلنگ کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب گھر میں مختلف نسلیں ایک ساتھ رہتی ہوں۔ بزرگوں کی توقعات، والدین کے خواب، اور نوجوانوں کی آزاد خیالی—تینوں کا ٹکراؤ اکثر گھر میں کشیدگی پیدا کرتا ہے۔ اگر ان تینوں سطحوں پر مکالمہ نہ ہو، تو غلط فہمیاں مستقل تنازع میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کونسلنگ اس مکالمے کو محفوظ ماحول دیتی ہے جہاں ہر فرد اپنی بات بغیر خوف کے بیان کر سکے۔

خواتین کے مسائل اس بحث سے علیحدہ نہیں کیے جا سکتے۔ گھروں میں زیادہ جذباتی بوجھ عموماً خواتین ہی اٹھاتی ہیں۔ وہ بچوں کی پرورش سے لے کر گھریلو انتظام تک ہر معاملے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ مگر ان کے اپنے مسائل، دباؤ، اور جذبات اکثر کسی کو دکھائی نہیں دیتے۔ بہت سی خواتین اپنے ہی گھروں میں تنہائی، تھکن، اور عدم احترام کا شکار رہتی ہیں۔ فیملی کونسلنگ نہ صرف انہیں آواز دیتی ہے بلکہ گھر کے دیگر افراد کو بھی یہ سمجھاتی ہے کہ جذباتی محنت بھی اتنی ہی حقیقی ہے جتنی جسمانی یا معاشی محنت۔

اسی طرح والدین اور نوجوان بچوں کے درمیان خلیج بھی ہمارے معاشرے کا بڑا مسئلہ ہے۔ نئی نسل کی ترجیحات، ان کے خواب، اور ان کا ذہنی دباؤ بہت مختلف ہے۔ وہ ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات، ٹیکنالوجی اور مقابلے کا دباؤ ناقابلِ تصور حد تک بڑھ چکا ہے۔ اگر والدین اس دباؤ کو سمجھنے میں ناکام رہیں تو رشتے میں دوریاں پیدا ہونا لازمی ہے۔ فیملی کونسلر نہ صرف بچوں کی آواز والدین تک پہنچاتے ہیں بلکہ والدین کے خدشات اور فکرمندی کو بھی نوجوان نسل کیلئے قابلِ فہم بناتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ فیملی کونسلنگ صرف بڑے بحرانوں کے وقت نہیں کی جاتی۔ یہ ایک پیشگی اقدام بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے جسمانی صحت کے لیے باقاعدہ چیک اپ ضروری ہیں، ویسے ہی جذباتی اور رشتوں کی صحت کیلئے بھی وقتاً فوقتاً دیکھ بھال ضروری ہے۔ کونسلنگ خاندان کے افراد کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ جذباتی حدود کیسے قائم کریں، اختلاف کو کیسے سنبھالیں، اور محبت کو عملی سطح پر کیسے زندہ رکھیں۔

پاکستان میں بدقسمتی سے فیملی کونسلنگ کو ابھی تک وہ قبولیت حاصل نہیں ہوئی جو ہونی چاہیے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لاعلمی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کونسلنگ کا مطلب ہے کہ گھر ٹوٹنے والا ہے یا ہم خود مسئلہ حل کرنے کے قابل نہیں رہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو خاندان کو بکھرنے سے بچاتا ہے، مکالمہ شروع کرتا ہے، اور تعلقات میں نرمی اور سمجھ بوجھ پیدا کرتا ہے۔

آخر میں، میں یہ سمجھتی ہوں کہ فیملی کونسلنگ معاشرتی تبدیلی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایک صحت مند گھر ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں مکالمے کی روایت کو مضبوط کرنا ہو گا، تاکہ آنے والی نسلیں جذباتی طور پر محفوظ، ذہنی طور پر متوازن، اور رشتوں کی قدر کرنے والی ہو سکیں۔ فیملی کونسلنگ کو اپنانا کمزوری نہیں، بلکہ ایک باشعور اور ذمہ دارانہ انتخاب ہے—اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے خاندانوں کو مضبوط
یہ بل ایک اہم پہلا قدم ہے البتہ، مکمل مسودہ دیکھنے کے بعد میں امید کرتی ہوں کہ ہم سب مل کر اس کے دائرۂ کار کو مزید وسیع اور مؤثر بنا سکیں گے، تاکہ یہ واقعی ایک تبدیلی لانے والا قانون ثابت ہو۔

فی الحال، یہ ایک امید بھرا لمحہ ہے—وہ لمحہ جس کا ہم میں سے بہت سے لوگ طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply