ڈھانچہ/حسان عالمگیر عباسی

ثقافت، رہن سہن، رویے، اور خود ساختہ مقبول لیکن مجہول اقوال و افعال کے تسلسل سے کسی قوم و قبیلے کا مجموعی ڈھانچہ ترتیب پاتا ہے۔ نئے آنے والے بھی اسی بے روح ڈھانچے میں غیض و غضب بھرتے جاتے ہیں۔ جمہوریت بھی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ قوم کے مجموعے کا نچوڑ ہی جمہوریت ہے۔ جہاں جہاں رویے و رہن سہن بہتر ہوتا جاتا ہے وہیں وہیں سیاسی چال چلن بھی بہتر ہوتا جاتا ہے۔ جمہوریت ایک بندوبست کا نام ہے۔ یہ کوئی اول و آخر نہیں ہے لیکن یہ بند و بست جیسا بھی حقیر ہو بہرحال آزادیوں کی بات کرتا ہے۔ آزادی کی چونکہ قیمت ہوتی ہے اور جب سب کو میسر آ جائے تو نتائج بھی غیر متوقع ہوتے جاتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ تلخ حقائق سے بھرپور کسی جگہ پہ کوئی آئیڈیل نظام حکومت ہے لیکن اگر یہ روح کے مطابق چلے تو بہتری کی نوید ضرور پیدا کر سکتا ہے چونکہ یہ نظام وہیں دیرپا ہے جہاں عوام میں شعور ہے اور یہاں گالی و گولی کی سیاست بھی عین جمہوری حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں انتخابی شفافیت کا جو حال ہے وہ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ایک کثیر الثقافتی معاشرے میں جہاں صبر و تحمل یا آپسی رائے و تجزیے کے احترام کا رجحان تنے سے ہی غائب ہو وہاں یہ لچکدار اور پڑھا لکھا نظام کیسے چل سکتا ہے پہ بات تب ہو سکتی ہے جب کئی کئی برادریاں قبیلے علاقے زبانیں ایک میز پہ جمع ہو سکیں اور بات ہو سکے اور ترقی و خوشحالی پہ پیشرفت ہو پائے لیکن معاملہ اس کے سو فیصد برعکس ہے۔ بہرحال یہ ایسا نظام ہے جو رفتہ رفتہ ہی جڑ پکڑ سکتا ہے۔ اور اس نظام کی ترقی و خوشحالی و عروج میں محض مخصوص اداروں یا پارلیمان کا ہی کردار بہت محدود ہے۔ عوام کا بھی کردار ہے۔ تعلیمی اداروں کا بھی بہت بڑا فرض ہے۔ ہمارے ہاں میٹنگز اور مجالس طے تو ہوتی ہیں لیکن ان مجالس و محافل کی نمائندگی بہت مخصوص ہوتی ہے اور ہر محفل و مجلس دیگر ہزاروں لاکھوں مجالس کے برعکس سبیل کر رہے ہوتے ہیں۔ یکسانیت اول تو ہوتی ہی نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو اس پہ بات نہیں کی جاتی یا دیگر الفاظ میں اپنی اپنی دکانیں ہوتی ہیں جہاں پکوان پھیکے ہوتے ہیں۔ عدم برداشت ، فرقہ واریت ، برادری ازم اور اس سے ملتی جلتی اشیاء دکانوں میں وافر ملتی ہیں۔ اگر یہی تنوع ہے یا یہی ڈائیورسٹی ہے تو جمہوریت بھی یہی ہے اور جوں توں شعور میں اضافہ ہوتا جائے سیاسی نظام بھی ترقی کرتا رہے گا لیکن ایسا ملک جس کے اطراف میں بھی ملک ہیں اور ان سب ملکوں کا بدقسمتی سے کامن ایجنڈا بھی نہیں ہے اور فطری مماثلتوں کے باوجود بیانیوں کے تضادات کی موجودگی میں یہ روکھی سوکھی جمہوریت کیسے نام بنا سکتی ہے یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑی جھڑپ ہے۔ انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج بیش بہا ہے۔ ملکوں میں جنگ و جدل کے رجحانات تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس صورتحال میں قومی یک جہتی ہی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست ان خطوط پہ پروان نہیں چڑھ رہی بلکہ ہر گزرتے دن اس کی رہی سہی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ یہ وقت قومی یکجتی کا ہے لیکن انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سیاست کو جس نہج پہ ڈیفائن کیا گیا ہے اور جس طرح اخلاقیات کو سیاسی حلقوں میں تہ و بالا کیا گیا ہے یہ جمہوریت نہیں ہے۔ کسی بھی قوم کے محافظ اسی قوم میں سے ہی ہوتے ہیں اور اسی طرح اس قوم کے سیاسی کارکنان بھی اسی قوم سے ہی ہوتے ہیں۔ جب ایک ہی قوم ہے تو بے بنیاد رسا کشی بے ضابطگی میں شمار ہوتی ہے۔ قومی سالمیت ناگزیر ہے اور اس کے لیے موجودہ نظام کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود ساختہ ڈیفینیشنز کو جمہوریت کا نام دے دے اور دیگر جمہوری فورسز پہ اخلاقی حملے کرتا پھرے کیونکہ یوں جمہوریت کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔ سیاست کسی ایک شخص کا نام نہیں ہے۔ قوم کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور افراد تبھی قومی تقدیر بنا سکتے ہیں جب وہ شعور پیدا کریں۔ سیاست کسی ایک خاندان کی جاگیر بھی نہیں ہے۔ یہاں خاندانی نظام کو جمہوریت کا نام مل گیا ہے اور اسی نرسری میں سیاسی داؤ بیچ سیکھ کر وہی حضرات جب کسی دوسرے انسان کے گرد جمع ہو جائیں تو یہ بہت بڑا المیہ ہے اور اس المیے کو منصوبہ بندی اور ترقی و خوشحالی میں بدلنے کے لیے نوجوانوں کا کردار اہمیت رکھتا ہے! نئے آنے والوں کو یہ لڑائی بڑھانی نہیں چاہیے اور بہتر زاویے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ روایتی سیاست سے آگے بڑھ کے اس تناؤ کو کم کرنا چاہیے اور اگلے مرحلے میں ختم کر دینا چاہیے۔ نئی سیاسی کھیپ بننی چاہیے جو قومی یک جہتی کے بیانیے کو فروغ دے سکے۔ ہر وقت ہاتھ میں ہتھوڑی ہو گی تو ہر مسئلہ کیل بن جائے گا! الزام تراشی، فرقہ واریت ، مذہبی انتہا پسندی اور عسکری و سیاسی رسا کشیوں نے پہلے ہی کچھ نہیں چھوڑا ہے لہذا اس ملک کو جہاں بیرونی دنیا سے سفارتی تعلقات میں کامیابی ملے وہیں اس کا اندرونی سیاسی کلچر بھی سبز ہونا از حد ضروری ہے! اس ساری بات کا نچوڑ محض یہ ہے کہ عدم برداشت اور دیگر مشترکہ چال چلن کی بجائے اپنے حصے کی شمع جلائی جائے اور ایک دوسرے کی باشعور رائے کا احترام کیا جائے اور مشترکہ کوششوں کو سراہا جائے اور قومی یکجتی کے بیانیے کو فروغ دیا جائے!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply