• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ سوئم)۔۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

افغانستان طالبان اور عالمی سیاست (حصّہ سوئم)۔۔۔ڈاکٹر محمد علی جنید

ہندوستان میں انگریزوں کی سیاست و ریاست:

مشرقی سلطنتوں میں کمزوری کا ایک سبب یہ رہا ہے  کہ ان میں وراثت کے معاملات ہمیشہ حل طلب،خونی اور جتھے بندیوں،خواہش پرستیوں اور محاذ آرائیوں کی نذر ہوتے  رہے ہیں،ہمیشہ سے درباریوں اور طالع آزماؤں نے تخت کے متوقع امیدواروں پر سیاسی،معاشی اور مفاداتی سرمایہ کاری کی روش قائم رکھی ہے،بادشاہوں اور خلفا ء نے اگر چہ اپنی حیات میں ہی ولی عہدوں کا تعین کردیا تھا مگر بادشاہ کی موت یا عین حیات میں ولی عہد نہ  بنائے جانے والے شہزادوں نے بادشاہ کی جانب سے تعیناتی کو ہمیشہ  جواب ِ دعوی ٰ دیا ہے،یوں حل کردہ مسئلہ،حل طلب مسئلہ میں بدل جایا کرتا تھا۔

julia rana solicitors

چونکہ مشرق کی مسلم و غیر مسلم سلطنتیں  اور بادشاہتیں یا تو نسلی ہوا  کرتی تھیں یا پھر خاندانی نوعیت کی حامل ہوا کرتی تھیں،جن کی پشت پر نسلی،فرقہ وارانہ جتھے بندیاں حکمرانوں کے عقد و انتخاب اور استقرار کا فیصلہ کیا کرتی تھیں،اور  بہت حد تک ہم دیکھتے ہیں کہ جن کا زور صرف طاقتور حکمران ہی توڑنے کے قابل ہوا کرتے تھے۔

یہ حکمران جتنے طاقتور اور عمدہ منتظم ہوا کرتے تھے اتنی ہی انکی شخصیت کے دم پر سلطنت کی عمر ہوا کرتی تھی ،مگر اکثر طاقتور حکمرانوں کی شخصیتیں جن طوفانوں اور انقلابوں کا راستہ روکا کرتی تھیں،وہ ان شخصیتوں کی موت و کمزوری سے پانی بن کر بہہ جایا کرتی تھیں۔عین ایسا معاملہ درانی کے ساتھ بھی ہوا ،اسکی موت نے اسکے کمزور جانشینوں کو زیادہ عرصہ تک تخت و ریاست پر قابض رہنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا،پھر اسکی موت  کے بعد برصغیر میں طاقت  کا توازن کُلی طور پر انگریزوں ،مرہٹوں،اور میسور والوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا گیا  جس میں بلآخر انگریز کامیاب و کامران  رہے،واضح رہے کہ انگریز ۱۸۵۷ تک آئینی و قانونی طور پر کامل طور پر حکومتی سطح پر برصغیر پر قابض نہیں ہوئے  تھے،ہاں انہوں نے بتدریج ایسٹ انڈیا کمپنی کی نگرانی کرنا شروع کردی تھی اور انڈیا میں متعین کردہ گورنر بنگال کو متعین اسکی مشاورت سے ہوتا تھا۔یعنی امریکہ سے چین ،وہاں سے ہندوستان تک ،ایسٹ انڈیا کمپنی جو ایک جوائنٹ اسٹاک ملٹی نیشنل ادارہ تھی کی حکومت قائم تھی،لہذا ایک تجارتی ادارہ جو لندن کی ایک  عمارت میں بیٹھے کچھ ڈائریکٹرز ،بورڈ ممبرز جو پارلیمان کا رکن بھی ہوا کرتے تھے ،کے ذریعہ دنیا کی دو بڑی سرزمینوں پر بتدیج اپنا اثر و نفوذ قائم کرچکی تھی۔

اور اسکے پاس ایک لاکھ کے قریب  اپنی ذاتی فوج بھی موجود تھی،مطلب ایسٹ انڈیا کمپنی کی نجی ملکیت نے کئی ریاستوں سے بڑی فوج رکھی ہوئی تھی، اگر چہ آج کل  کی مائیکرو سافٹ ،یا وال مارٹ  جیسی کارپوریشنز کُل دنیا میں اپنی دولت،نیٹ ورک چین اور ملازمین  کو کنٹرول کررہی ہیں مگر انکے پاس کوئی ذاتی ملیشیا  موجود نہیں ہے،مگر  انکے برخلاف اس دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس وہ سب کچھ موجود تھا جو کسی ریاست کے پاس موجود ہوسکتا ہے،ایسٹ  انڈیا نے یہ قبضے صرف سازشوں کے دم پر حاصل نہیں کیے تھے  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مغل زبوں  حالی و ریاستی کمزوری کے پسِ  پشت مقبوضہ علاقوں کے ارباب حل و عقد،سیاسی قیادت کا باہمی محاذ آرائی کرکے،ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرکے،کمزور تباہ ریاستوں اور صوبوں کو تباہ کرنے،مرکز کو کمزور کرکے  خود قابض ہونے کی کوششیں شامل حال  تھیں،جنہوں نے مغل سلطنت کو تباہ حال کرکے رکھ دیا تھا کیونکہ مرکز ٹوٹ چکا تھا،صوبے آزاد  اور خودمختار ہوچکے تھے،انہوں نے مرکز کو خراج،لگان یا ٹیکس دینا بند کردیا تھا،نادر شاہ  اور درانی برصغیر سے دولت سمیٹ کر رفو چکر ہوچکے تھے۔بنگال سے یوپی تک ہندو بنیا معرکہ آرائی کرنے والی قوتوں اور صوبوں کو بشمول انگریز بھاری سود پر قرضے فراہم کر ہے تھے،جیسے بنگال کے جگت سیٹھ وغیرہ جو اپنے وقت میں دنیا کے امیر ترین سرمایہ دار بنیا  تھے۔

جب  ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایسا ہندوستان  ملا جو کمزور تھا،لاقانونیت کا شکار تھا،عدم مرکزیت ہر جگہ حاوی تھی،عالم شاہ کی تمام مساہی کہ بنگال و بہار لیکر مرکز کو مضبوط کرے ،انگریزوں ،مرہٹوں اور آزاد صوبہ داروں نے ناکام بنادی تھیں۔اسکی تمام صلاحیتیں دولت و معیشت کی کمیابی نے کُند کردی تھیں۔چنانچہ ۱۷۷۶ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی امریکی تجارت نے خود انگریز مہاجریں کو امریکہ میں اسکے خلاف کردیا اور یوں بوسٹن پارٹی  ہنگامہ آرائی اور بلآخر ۱۷۷۶ میں لارڈ کارنوالس کی جارج واشنگٹن کے ہاتھوں شکست نے کمپنی اور بلواسطہ انگلستان کو شمالی امریکی علاقہ جات  سے محروم کردیا  تھا،چنانچہ  اب انگریزوں کی توجہ کا مرکز  کامل حد تک   مقبوضہ جاتی سامراجی تناظر میں مشرق تھا،چنانچہ ۱۸۰۶ تک روہیلہ،مرہٹہ اور میسوری  برطانیوں  کے مقابل کامل طور پر تباہ حال ہوچکے تھے۔

لہذا انگریز اب پورے برصغیر پر بتدریج قابض ہوچکے تھے اور  انہوں نے عالم شاہ کو مرہٹوں کے قبضہ سے آزاد کرواکر اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔  اندھے مغل بادشاہ سے اسکو کچھ مال دیکر  دہلی کے تخت سے خود    کو قانونی جواز فراہم کروالیا تھا، اصل بات یہی ہے کہ ہمارا نابینا بادشاہ خود انگریزوں کا وظیفہ خوار تھا، اور اس سے قبل مرہٹے  اسکی غربت ختم کرنے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں پیش کرسکے تھے چنانچہ انگریزوں کے قبضہ دہلی سے قبل وہ قلاش اور اقتدار سے محروم فرد ہوا کرتا  تھا جسکا نام و اقتدار بس قلعہ دہلی سے پالم تک مشہور تھا چنانچہ  ،انگریزوں نے اس قلاش بادشاہ کو پنشن اور معمولی خاندانی خرچ فراہم کرکے اپنا مقروض بنالیا تھا۔۱۸۵۷ کے انقلابی طوفان سے قبل ہی گورنر لارڈ ڈلہوزی فیصلہ کرچکا تھا کہ بہادر شاہ دوئم کے بعد لال قلعہ مغل حکمران کو دیکھنے سے محروم رہے گا،چنانچہ  انقلاب  کے بعد جب انگریز حکومت نے براہ راست کمپنی کو ختم کرکے یہاں حکومت کرنا شروع کی تو اس دوران زار روس وسطی اشیا  ء سے لیکر گرم پانیوں تک اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو وسعت دینے میں مشغول تھا، جبکہ اسکا مخالف برطانیہ یورپی  ساحلوں سے ایشیائی  سمندروں تک تین براعظموں تک اپنا اقتدار رکھتا تھا،اسے محسوس ہوا کہ ہندوستان کی شمال مغربی پختون سرحدوں کو محفوظ بنانا ناگزیر ہوچکا ہے ۔

انگریز اور افغانستان:

چنانچہ اس نے سوچا کہ اب روسی عزائم کو مقید کرنے اور اسکے ایران پر اثر ونفوذ اور ایرانیوں کی افغانستان میں مسلسل مداخلت اور دعوؤں کو اب مقید کرنے کا وقت آگیا ہے ،لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب  افغانستان کو اپنے ہندوستانی علاقوں اور روس کے وسط میں ایک علاقہ فاضلہ(بفر اسٹیٹ ) کے طور پر مفروض کرناچاہیے لہذا اس نے افغان حکمرانوں سے معاملات طے کرنے چاہئیں ،مگر افغانوں میں کسی مستقل اور مستحکم حکومت اور فرد کی عدم موجودگی نے اسے مجبور کیا کہ وہ اقتدار کی جنگ میں اپنے کٹھ پتلی امیدوار کی پشت پناہی کرے،اس طرح افغانستان میں انگریز اثر و نفود اور فکر و نظر کے فروغ کا چلن آنا  شروع ہوا۔

درانی خاندان کی کمزوری کے مابعد جن کے وسائل ویسے بھی انگریزوں کے برصغیر پر اقتدار نے پہلے ہی محدود کردیے تھے،سردار دوست محمد خان نے ۱۸۲۳ میں جبکہ برصغیر میں پنجاب و خیبر پختون خواہ  رنجیت سنگھ کے پاس تھے،چاہا کہ اب روس و ایران کی گود میں جا بیٹھے چنانچہ  اس قسم کی خبریں جب انگریزوں کو پہنچیں  تو ان کو تشویش لاحق ہوئی۔اس نے شاہ شجاع کی پشت پناہی کی جو اس دوران ادھر اُدھر ڈول رہا تھا،شجاع کو لگا کہ انگریز جو بتدریج بنگال کے زرخیز علاقوں سے دکن تک ہندوستان میں اقتدار رکھتے ہیں اور تمام بڑی ہندوستانی سیاسی قوتیں ان سے ڈرتی ہیں، سے روابط بڑھا کر ہی کابل کے تخت پر بیٹھا جاسکتا ہے۔ادھر ایران جہاں اس وقت کا انگریز ابھی زیادہ سیاسی اثر و نفوذ قائم نہیں کرپائے تھے،افغانستان پر اپنے تاریخی مطالبہ کی خواہش میں انگریزوں اور روسیوں کو خارج کرنے پر آمادہ ہوا۔

اہل ہرات (۱۸۳۹ تا ۱۸۴۲)ایرانیوں کے ساتھ مل کر بیرونی قوتوں کے سامنے صف آراء  ہوئے ،انگریزوں نے افغانستان میں گھسنے کے   لئے ماحول ،جغرافیہ،محل  ِ وقوع،قومی نفسیات پر اس وقت بس  خام کام کیا تھا،چنانچہ وہ شجاع کو بٹھانے کے لئے دوست محمد کو تو گرفتار کرنے میں کامیاب رہے،مگر اس عرصہ میں گھات لگائے اپنے ماحول،حدود  اربع سے واقف افغانوں نے اندازاً دس ،بارہ ہزار انگریز سپاہی ہلاک کردیے تھے،اگر چہ مبالغہ کرنے والوں نے ہلاکتیں ۱۶۰۰۰ تک کی تعداد بتائی ہے،مگر ہمیں اس بیان  پر کافی شک ہے۔

دراصل انگریزوں نے افغانیوں کے متلون مزاج کا غلط اندازہ قائم کیا تھا اور شاید شاہ شجاع نے انھیں اپنی قوم  اور مزاج بدلتی وفاداریوں،لالچ اورضمیر کے مابین مسلسل چلتی کشمکش اور سب سے بڑھ کر عصبیت سے واقف نہیں کرایا تھا نہ  انہوں نے اس معاملہ کو صحیح طرح مطالعہ و تحقیق کے قابل   جانا تھا،لہذا برطانویوں نے ہندوستان میں آباد پٹھانوں پر قیاس کرکے مقامی خالص افغانوں کی بابت خام خیالی کو زیادہ اہمیت دی  تھی۔

اسی طرح افغانستان کا پہاڑی پیچیدہ جغرافیہ بھی  اقوام غیر کو شکست دینے کے لئے سب سے بڑی معاونت فراہم کررہا تھا لہذا یہاں کھلی باقاعدہ جنگ کی بجائے گوریلا جنگ یعنی گھات لگا کر حملہ کرکے بھاگنے والی جنگ ہی کامیاب طریقہ رہی ہے ،افغان روس جنگ سے طالبان امریکی جنگ تک یہی طریقہ مسلسل کامیاب طریقہ رہا ہے۔

امیر عبدالرحمان کا دور:

بتایا جاتا ہے کہ آخری بچنے والے انگریز نے انگریزوں کو افغانوں کی بابت کافی کچھ شاید بیان کردیا تھا،اب کے بعد انگریزوں کا طریقہ بدلا ہوا تھا،یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو(ڈیوائیڈ اینڈ رول) دوسرا طریقہ یہ رہا کہ کھلاؤ اور مارو(اسٹک اینڈ کیریٹ پالیسی) تیسرا طریقہ مقامی  اشرافیہ کی خرید و فروخت،چوتھا طریقہ یہ رہا کہ اپنے مفاد کا تحفظ کرنے والا حکمران تختِ کابل پر بٹھاؤ، پانچویں حکمت عملی یہ رہی کہ معاہدوں اور امداد کے بندھنوں میں افغان حکومت اور اشرافیہ کو پھنسالو۔لہذا اب کے  بعد افغانوں سے نمٹنے میں انگریز نسبتاً اس لئے کامیاب رہے کہ انہوں نے براہ راست امریکہ کی طرح وہاں حملہ اور قبضہ کرنے کی غلطی سے بہت حد تک پرہیز کیا تھا ،ایک اور اَمر اب انگریزوں کے حق میں جارہا تھا وہ یہ تھا کہ اب انگریز برصغیر پر کامل اثر و نفوذ قائم کرنے کے قابل ہوگئے تھے،انھیں اب سکھوں کے علاقوں سے گزرنے کا کوئی ڈر نہیں  تھا،اب انکے ہاتھوں میں موجودہ شمال مغربی علاقہ انکو براہ راست شمال مغربی سرحدوں سے بلوچستان تک، افغانستان تک محفوظ طریقہ سے حملہ کی سہولت فراہم کررہا تھا،انہیں  اب درّوں سے داخل ہونے کے غیر محفوط راستوں کی مجبوری بھی لاحق نہیں تھی،اوپر سے انکے پاس اب وسائل اور یجادات بھی پہلے سے زیادہ موجود  تھیں ،اس عرصہ میں  مقامی افغان بھی اب انگریزوں کی قوت اور عالمی سیادت سے واقف ہوچکے تھے،انکی فکر و نظراور ضروریات میں تبدیلی کی فضا پیدا ہونا شروع ہوگئی تھی۔

لہذا انگریزوں نے خیر سگالی کے لئے پہلا کام یہ کیا کہ سردار دوست محمد کو آزاد کردیا جس نے بعد ازاں ہرات کو واپس لے لیا،انگریزوں نے الفنسٹن کی فوج کی ناکامی کے بعد اپنی فوج اس خطہ سے بلوالی تھیں،مگر جب انہوں نے دیکھا کہ روس وہاں اپنا اثرو نفوذ بڑھا رہا ہے اور کابل انکی کٹھ پتلی بنتا جارہا ہے تو ۱۸۷۸ میں دوسری اینگلو افغان جنگ میں انگریز نئے ہتھیاروں اور نئے متعارف کردہ  جنگی طریقوں وسائل کے ساتھ میدان میں اُترا، لہذا نتیجتاً اس  جنگ کا پلڑا اسکے حق میں رہا چنانچہ  نتیجتاً اب ایوب خان کی جگہ امیر عبدالرحمٰن کو تخت نشین کیا گیا اور خارجی تعلقات کا شعبہ انگریز متعین کردہ نمائندوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا  گیا، اس دوران ہم دیکھتے ہیں کہ انگریز  اب  ایران میں بھی کافی اثر و نفوذ قائم کرچکے تھے،مگر ساتھ ساتھ  روس وہاں پھر بھی کافی اثر و نفوذ مقابل رکھتا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply