گلگت بلتستان میں قوم پرستی کسی علیحدہ پسند گروہ یا کسی دُوسرے قوم سے نفرت کی بنیاد پر سیاست کا نام نہیں بلکہ خطے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کے مطابق حقیقی عوامی مسائل کی حل کیلئے جدوجہد کا نام ہے۔ جو افراد سے شروع ہوکر اب باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اس خطے کی متنازعہ حیثیت اور اس بنیاد پر سیاسی سماجی اور معاشی حقوق کا حاصل نہ ہونا ہے۔ یعنی خطے کی سیاست میں قوم پرستی ایک لمبی اور پُر جوش کہانی کا نام ہے۔ لیکن بدقسمتی سے قوم پرست جماعتوں کا پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کا رحجان کم نظر آتا ہے اور عوام کچھ نہ کرنے اور مسلسل عوام مخالف فیصلوں کے باوجود وفاقی اور مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں، یعنی خطے انتخابی سیاست میں کبھی بھی اتنی پذیرائی نہیں ملی جتنی ملنی چاہیے تھی۔ لوگ پرامن سیاسی کوشش کو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن جب ووٹ ڈالنے کا وقت آتا ہے تو ہمیشہ وہی وفاقی پارٹیاں جیت جاتی ہیں جو گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کے بارے میں واضح جواب نہیں دیتے اور نہ ان کے منشور میں گلگت بلتستان ہوتا ہے۔ یہ صورتحال ایک تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے وزیراعظم اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، جن قراردادوں کے تحت یہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔ تو دوسری طرف وہی وزیراعظم گلگت بلتستان میں جلسہ عام میں یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنائیں گے۔ آئین کے مطابق یہ بات ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے ریاستی موقف کے مطابق درست ہے، کیوں کہ صوبہ بنانے کا مطلب ہے مسئلہ کشمیر کو ایک طرف سے ختم کرنا ہے۔ لیکن جب کوئی مقامی قوم پرست لیڈر اس حقیقت کو عوام کے سامنے لاتا ہے تو اسے غداری اور ریاست مخالف سرگرمیوں جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود، الیکشن میں ووٹ انہی وفاقی پارٹیوں کو ملتے ہیں جو اسی جھوٹے بیانیے پر سیاست کرتی ہیں۔ یہ صورتحال ایک سوال کھڑا کرتی ہے: پاکستان کے دوسرے علاقوں سے زیادہ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود کیا گلگت بلتستان کے عوام میں سیاسی سمجھ بوجھ کی کمی ہے؟ یا پھر تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے اور لوگ اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں؟ تاریخ بتاتی ہے کہ گلگت بلتستان میں قوم پرست سیاست کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ کرنل مرزا حسن خان کی گلگت لیگ، مرحوم بابو اسحاق شگری کی بلتستان لداخ مومنٹ، مرحومہ ملکہ بلتستانی کی گلگت بلتستان نیشنل الائنس، جوہر علی خان ایڈووکیٹ کی ملت پارٹی، قراقرم نیشنل موومنٹ، انجینئر منظور پروانہ کی گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ، عبد الحمید خان کی بلاورستان نیشنل فرنٹ، اور نواز خان ناجی کی بلورستان نیشنل فرنٹ جیسی تنظیمیں سالوں سے اس نظریے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ اسٹوڈنٹس سیاست میں بھی بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے قوم پرستی کے جذبے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لمحہ فکریہ یہ بھی ہے ان میں سے زیادہ تر پارٹیاں الیکشن میں حصہ ہی نہیں لیتیں۔ ان میں سے بیشتر کا الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن تک نہیں ہے۔ نواز خان ناجی کی پارٹی اس معاملے میں ایک مثال ہے، جنہوں نے قوم پرست جماعت کی حیثیت سے تین بار الیکشن جیتے لیکن ان جماعت بھی پورے گلگت بلتستان میں اپنا سیاسی جماعت پھیلانے میں ناکام نظر آتا ہے یا عین ممکن ہے ان کے منشور میں شامل نہ ہو۔ الغرض خطے میں قوم پرست جماعتیں ایک پریشر گروپ تو بن گئیں، لیکن انتخابی سیاست میں ان کا کوئی خاص مستقبل نظر نہیں آتا۔ 2013 کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم پر یہ تمام پارٹیاں ایک ساتھ اکٹھی ہوئیں اور کئی کامیاب تحریکیں چلائیں، لیکن آج وہ کمیٹی بھی مختلف حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اگر قوم جماعتوں کی سیاسی ناکامیوں کا مزید جائزہ لیں تو زیادہ تر قوم پرست لیڈروں نے شروع میں تو نظریے کی بہت بات کرتے ہیں، لیکن اقتدار ملنے پر انہوں نے اپنے نظریات کو چھوڑ کر وفاقی جماعتوں میں شامل ہو جاتے گئے۔ اسی طرح قوم پرست جماعتوں کا پارلیمانی سیاست دور رہنے کی وجہ سے عوام میں اپنی پہچان نہ بنا سکیں۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وفاقی جماعتیں بے تحاشہ وسائل، پیسہ اور سرکاری طاقت سے الیکشن جیت جاتی ہیں۔ جبکہ قوم پرست جماعتوں کو معاشی مسائل کا شدید سامنا رہتا ہے۔ یہاں بات قابل غور ہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی نے عوامی مفادات کے خلاف جس میں لینڈ ریفارم، گرین ٹورزم، معدنیات جنگلات سے عوام کی مالکانہ حقوق چھیننے کی قانون سازی کے بعد عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، لہذا یہ بہترین موقع ہے کہ تمام قوم پرست جماعتوں الیکشن میں آذاد امیدوار کی حیثیت سے بھرپور حصہ لیں۔ اور اپنے منشور کو مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے قراردادوں کے حوالےسے ریاست پاکستان کا اصولی موقف اور اس بنیاد پر گلگت بلتستان میں حکومت کی تشکیل کیلئے گراس روٹ لیول پر کمپین چلائیں۔ خطے کی معروضی حالات کے پیش نظر گلگت بلتستان کے قومی پرستوں کا متحدہ پلیٹ فارم خطے کی بقاء کا ضامن اور وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر قوم پرست جماعتیں اب بھی ایک نہ ہوئیں تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ علاقہ اپنی شناخت، اپنے وسائل حقوق کھو دے گا۔
تحریر۔ شیر علی انجم
وما علینا الاالبلاغ
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں