احتجاج یا لوٹ مار /وجوہات و تجاویز۔۔۔۔علی اختر

جلسے، جلوس ،مظاہرے، احتجاج، دھرنے، ہڑتالیں و بھوک ہڑتالیں یہ سب ہر معاشرہ کا حصہ ہیں لیکن کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کے احتجاج کے نام پر ایک مشتعل ہجوم سڑکوں پر نکلتا ہے اور پھر ڈنڈوں کی مدد سے حکومتی و ذاتی املاک تباہ کرنا شروع کردیتاہے۔ اس احتجاج کی آڑ میں لوٹ مار کا بازار بھی گرم کیا جاتا ہے۔ دکانوں کے شٹر توڑ کر سامان لوٹنا، راہ چلتے مسافروں پر تشدد اور گاڑیاں جلانا ایک عام سی بات ہے۔

اس سارے معاملے کے دوران سکیورٹی ایجنسیز، نمبر ون کمانڈو ، پولیس اور رینجرز وغیرہ نیپال کے جنگلوں میں عاشور کے دن پیش آنے والے واقعے کی مانند مر جاتے ہیں ۔ موت واقع ہو جاتی ہے انکی ۔ اور سب معمول پر آنے کے بعد کچھ نمبر ون فورس ملی نغمہ بنانے کو اور پولیس ناکے لگا کر پچاس پچاس روپے لینے کے واسطے زندہ ہو جاتی ہے ۔ انکے علاوہ چیف جسٹس صاحب بھی ہیں جو کبھی جیلوں پر چھاپہ مارتے ہیں تو کبھی ہسپتالوں کا فوری دورہ  کرتے ہیں اور توہین عدالت کا سختی سے از خود نوٹس بھی لے لیتے ہیں لیکن مذکورہ بالا صورت حال میں مصلحت کا شکار نظر آتے ہیں۔

julia rana solicitors london

اب جلسے جلوسوں میں توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ دانستہ یا نا دانستہ کیسے شروع ہوا تو اسکی تین بڑی وجوہات ہیں۔

1 : وژن سے عاری ناعاقبت اندیش لیڈر۔

ہمارے موجودہ لیڈرز کا وژن اور سوچ کس معیار کی ہے اسکا اندازہ آپکو ایک تازہ ترین مطالبہ سن کر ہوگا جو کہ  ایک لیڈر نے اپنے فالورز سے کیا ہے۔

“سپریم کورٹ کے تینوں جج واجب القتل ہیں۔ فوج جنرل باجوہ کے خلاف بغاوت کر دے۔ عمران خان یہودی کا  بچہ ہے سو اسکی حکومت بھی ختم کر دی جائے ”

اب ان سے کوئی  پوچھے کہ حضور اپکی خواہش پر یہ  سارے کام ہو چکے ہیں ۔ کیا اب کوئی  پلان ہے آپکے پاس کے ملک حکومت، عدلیہ اور فوج کے بغیر کیسے چلایا جائے۔ یا اس ساری صورت حال میں اب ملک کون سنبھالے گا ۔ سوچیں کہ کیا جواب ہوگا ان کا ۔ یہ یہی کہیں گے کہ  “بچے میرے کہنے پر یہ سب ہو گیا تو اب تمبورہ بجاؤ، میں بھی وہی کر رہا ہوں ۔ ملک اللہ کے حوالے” ۔ افسوس یہ ہے کہ  اس طرح کی حکمت و دانائی سے عاری اور ایک نفسیاتی مریض جیسی سوچ رکھنے والے لیڈر کے پیچھے بھی ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے۔ انکی پارٹیاں الیکشن لڑتی ہی نہیں اچھے خاصے ووٹ بھی لیتی ہیں ۔

آج ہمارے ملک کے وزیر اعظم جناب عزت مآب عمران خان صاحب یہ بیان دے رہے ہیں کہ  دھرنوں سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ جناب ملک سے سرمایہ تو اسی وقت باہر چلا گیا تھا اور معیشت تباہ ہو گئی  تھی جب آپ ڈی چوک میں ہفتوں کنسرٹ کر رہے تھے۔ جب آپ سول نا فرمانی کے مشورے دے رہے تھے۔ جب آپ کہتے تھے نیزہ اٹھا اور جاتی امرا  مارچ کرو ۔ آج آپ کٹورہ اٹھائے ملکوں ملکوں مارچ کر رہے ہیں۔ کیا آپکی بصارت اتنی ناقص تھی یا  آپکی ڈوریں ہلانے والوں کو یہ خیال نہیں آرہا تھا کہ  مستقبل میں کیا ہوگا ۔

کراچی کا شہری ہونے کی وجہ سے مجھے بہت اچھی طرح تجربہ ہے کہ  کس طرح منظم طریقے سے خوف و ہراس پھیلا کر پورا شہر بند کرایا جا سکتا ہے ۔ کیسے صبح صبح ایک آدھ بس نظر آتش کر کے پورے دن پہیہ جام کیا جا سکتا ہے لیکن یہ سب سکھا کر اور دکھا کر ہمارے لیڈرز نے صرف یہی بتایا ہے کہ  احتجاج کا مطلب جلاؤ گھیراؤ ہے۔ املاک تباہ کرنا ہے اور کچھ نہیں ۔ کاش کوئی  ایسا لیڈر بھی ہوتا جو اس قوم کو پر امن احتجاج کا طریقہ بھی سکھاتا۔

2 : پلاننگ اور مینجمنٹ کا نہ ہونا ۔

کراچی ملک کا بزنس حب ہے اور یہاں ہر قوم و فرقہ کے لوگ بستے ہیں ۔ ہم یہاں ہر سال اہل تشیع حضرات کئی  مواقع پر جلوس نکالتے دیکھتے ہیں ۔ اس جلوس کے شرکاء اور پورے شہر کو یہ پتا ہوتا ہے کہ  جلوس کہاں سے برآمد ہوگا اور کس راستے سے گزر کر کہاں اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے دوران سکیورٹی اور اسکاؤٹس جلوس کو منظبت کرتے ہیں ۔ ٹریفک اور دیگر امور پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب فرض کریں کہ  عاشورہ کے دن تمام امام بارگاہوں سے گھروں سے باہر نکلنے کا اعلان ہو جائے اور ایک بے ہنگم ہجوم بغیر کسی گائیڈ لائن اور نظم و ضبط کے یا حسین کے نعرے لگاتا ہاتھوں میں چھریاں اور زنجیریں لیئے سڑکوں پر ہو تو آپ کا کیا خیال ہے کہ  انجام کار کیا ہو سکتا ہے۔ مخالف فرقوں سے تصادم، تخریب کاری اور موقع سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کیا کچھ کر سکتے ہیں ۔ کیا اتنی بڑی خلقت کو بغیر پلاننگ اور کنٹرول کے سڑکوں پر لے آنا عقل مندی ہوگی ؟

یقیناً  نہیں ۔۔۔ لیکن ابھی حالیہ مظاہروں میں میں نے بہت  پڑھے  لکھےلوگوں کو فیسبک پر اسٹیٹس اپلوڈ کرتے دیکھا ” کالا فیصلہ ہے ۔ تمام ملک جام ہونا چاہئے” لیجئے سرکار ہو گیا جام کیونکہ آپ نے  صرف حکم دیا تھا ۔ طریقہ تو بتایا نہیں تھا سو اب بھگتیں بیٹھ کر۔

لیکن مجمع کو مینیج کرنا، کسی بھی عمل کے نتیجے میں ہونے والے ری ایکشن کا اندازہ کرنا عقل مند لوگوں کا کام ہے۔ جن کی  بات ہی گالی سے شروع ہو، ملک کا قرض ادا کرنے کے مضحکہ  خیز نسخے ہوں اور بات بات پر واجب القتل قرار دینے کے فتوے ہوں یہ ساری کہانی انکے دائرہ کار سے باہر کی ہے۔

3: احتساب و انصاف کا فقدان ۔

ہر بار جب بھی اس طرح کا احتجاج ہوتا ہے تو مشتعل افراد احتجاج کے دوران حکومتی و ذاتی املاک جلاتے ہیں، ٹرینیں اور گاڑیاں نظر آتش کی جاتی ہیں، دکانیں اور ٹھیلے لوٹے جاتے ہیں لیکن اس ساری کاروائی  کے بعد کے زمانے میں کوئی  احتساب نہیں ہوتا۔ کوئی  چیف جسٹس از خود نوٹس بھی نہیں لیتا ۔ مرنے والے کسی کھاتے میں ہوتے ہیں نہ  ہی جلائے جانے والے اثاثوں کا کوئی  حساب ہوتا ہے۔ یہ بے حسی اگلی بار یہ ساری تخریب کاری دہرانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے کے بعد ملک میں اربوں روپے کی املاک جلائی  گئیں پر آج تک کسی نے احتساب وانصاف کی بات کی ؟ تو بھائی  پھر اگلے احتجاج میں بھی یہی ٹرینڈ فالو کیا جائے گا سو تیاری کر رکھیں ۔

آخر میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں جن پر عمل کر کے اس احتجاجی لوٹ مار پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

1 : سب سے پہلے تو تمام سیاسی و مذہبی لیڈرز اپنے جملہ کارکنان کی کانسلنگ کریں، بلکہ پہلے تو اپنی ہی کانسلنگ کرلیں خود جانیں کہ مہذب قومیں کس طرح احتجاج ریکارڈ کراتی ہیں اور پھر دوسروں کو بھی تعلیم دیں ۔

2 : کسی بھی احتجاجی جلوس یا دھرنے کا روٹ ، دورانیہ اور طریقہ کار پہلے اناؤنسر کریں تاکہ اس بپھرے ہجوم کو قابو میں لایا جائے ۔

3 : پولیس ، رینجرز ، دیگر ایجنسیوں سے التماس ہے کہ آپ دوران لوٹ مار نیپال سے واپس آجایا کریں اور اپنا وہ کام بھی کیا کریں جسکی تنخواہ پاتے ہیں ۔

4 : انتہائی  فعال و واٹر ریزوز پر گہری نگاہ رکھنے والے چیف جسٹس صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ کم سے کم اس بار تو آپ خود کو واجب القتل قرار دینے والوں کا احتساب کریں ۔ املاک جلانے والوں کو جیل میں ڈالیں اور ایسی مثال قائم کریں کہ  اگلی بار لوگ غریب کیلے بیچنے والے کی ریڑھی لوٹتے ہوئے خدا کا نہیں تو کم از کم قانون کا خوف ضرور محسوس کریں ۔

Advertisements
julia rana solicitors

5 : تمام سیاسی لوگ موجودہ حکومت کی حالت سے سبق سیکھیں کہ  وہ جس راستے پر عوام کو ڈالیں گے کل یہی کچھ انکے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply