• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • منطق الطیر کے جدید فکری مطالعے پر مشتمل ایک تخلیقی و علمی مکالمہ/علی عبداللہ

منطق الطیر کے جدید فکری مطالعے پر مشتمل ایک تخلیقی و علمی مکالمہ/علی عبداللہ

یہ سلسلۂ خطوط منطق الطیر کے جدید فکری مطالعے پر مشتمل ایک تخلیقی و علمی مکالمہ ہے، جو عبداللہ اور زہرہ کے درمیان خطوط کی صورت میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں فریدالدین عطار کی صوفیانہ تمثیل کو محض کلاسیکی ورثہ نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے شعوری بحران، شناخت کے اضطراب، مادّہ پرستی، تنہائی، اور روحانی خلا کے تناظر میں ازسرِنو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
———————————————————-

خط اوّل:

زہرہ،
آج میں نے منطق الطیر کو پہلی بار نہیں، بلکہ باطن کی نظر سے دوبارہ پڑھا۔ عطار کے پرندے جب جمع ہوتے ہیں تو مجھے ہمارے زمانے کے بکھرے ہوئے انسان یاد آ جاتے ہیں- یہاں ہر ایک کے پر تو ہیں، مگر سمت نہیں ہے۔
ہُدہُد کی آواز میں مجھے آج کا وہ استاد دکھائی دیتا ہے جو بھیڑ کو نہیں، فرد کے ضمیر کو مخاطب کرتا ہے۔ مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم استاد کو سننا تو نہیں چاہتے، صرف موٹیویشنل اسپیکر چاہتے ہیں- وہ سپیکر جو ہمیں بدلنے کی بجائے صرف وقتی جوش دے۔
عطار کے پرندے اپنی کمزوری کا اعتراف کر کے سفر پر نکلے تھے، اور ہم اپنی کمزوری کو فلسفہ بنا کر بیٹھ گئے ہیں-
تم بتاؤ زہرہ، کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارا سب سے بڑا زوال یہ ہے کہ ہم نے اعتراف کی صلاحیت کھو دی ہے؟

عبداللہ

خط دوم:

عبداللہ،
آپ نے اعتراف کی بات کر کے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ آج آزادی ہمارے لیے سب کچھ ہے، مگر یہ آزادی سمت کے بغیر ہے۔ ہم اڑ تو رہے ہیں، مگر معلوم نہیں کس طرف۔
منطق الطیر کے پرندے آزاد تھے، مگر وہ اپنی آزادی کو مقصد کے تابع رکھتے تھے۔ ہمارے ہاں آزادی خود مقصد بن گئی ہے۔
ہم کہتے ہیں ہمیں کوئی قابو نہ کرے مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کے سب سے زیادہ غلام ہیں۔
ہُدہُد کی بات ماننا دراصل کسی انسان کی نہیں، اپنے اندر کی سچائی کی اطاعت ہے۔ اور یہی وہ اطاعت ہے جس سے جدید انسان سب سے زیادہ خوفزدہ ہے۔

خط سوم:

زہرہ،
وادیٔ طلب میں داخل ہونا ایک زخم مانگنے کے مترادف ہے۔ طلب تکلیف دیتی ہے، چین چھین لیتی ہے، راتوں کو بے خواب کر دیتی ہے۔ لیکن ہماری دنیا نے طلب کو خواہش بنا کر بیچنا شروع کر دیا ہے- اور خواہش تو بازار کی سب سے منافع بخش جنس ہوا کرتی ہے۔
ہم کچھ اس لیے نہیں چاہتے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے، بلکہ اس لیے چاہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ خواہش ہی زندگی ہے۔

عطار کی طلب انسان کو خالی کرتی ہے، ہماری طلب انسان کو بھرتی ہے- اتنا کہ اس کے اندر خاموشی کی بھی جگہ باقی نہیں رہتی۔ شاید اسی لیے ہم اپنے دل کی آواز سن ہی نہیں پاتے۔

عبداللہ

خط چہارم:

عبداللہ،
ہم عشق کو رومانوی گیتوں اور تصویروں کے فریم میں قید کرنا چاہتے ہیں- جبکہ عطار کے ہاں عشق ایک ایسی آگ ہے جو سب فریم جلا ڈالتی ہے۔ وہ عشق جس کا انجام سکون ہو، دراصل عیاشی ہے، عشق نہیں۔ منطق الطیر میں عشق سب سے پہلا بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہاں عقل محتاط ہو جاتی ہے اور دل بے خوف۔
جدید انسان عقل کو بچاتا ہے، دل قربان کر دیتا ہے۔ عطار کے ہاں دل بچتا ہے، انا جلتی ہے۔ بتائیں عبداللہ، کیا یہی وجہ نہیں کہ ہمارا عشق شور تو مچاتا ہے، مگر تبدیلی پیدا نہیں کر پاتا؟

زہرہ

خط پنجم:

زہرہ،
ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں معلومات بہتی ندی کی طرح ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں- مگر میں دیکھتا ہوں کہ معرفت پیاسوں کو بھی میسر نہیں۔ عطار معرفت کو “دیکھنے کا نیا زاویہ” بناتا ہے، جبکہ ہم اسے صرف “زیادہ جان لینے” تک محدود کر دیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جان لینے کے بعد بھی نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں۔
وادیٔ معرفت میں داخل ہونے والا انسان اپنی جہالت کا شعور پاتا ہے، اور ہمارے ہاں علم کا مطلب جہالت کا انکار بن چکا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں جدید انسان اور عطار کے مسافر ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔

عبداللہ

خط ششم:

عبداللہ،
عطار کے استغنا کا مفہوم چیزوں کی غلامی سے آزادی ہے، لوگوں سے لاتعلقی نہیں۔ مگر خود کفیل ہونے کا جدید نظریہ ہمیں یہ سکھانے لگا ہے کہ ہمیں تو کسی کی ضرورت ہی نہیں؛ حتیٰ کہ خدا کی بھی نہیں۔ ہم تنہائی کو طاقت کہہ کر اس کی پرستش کرنے لگے ہیں۔
درحقیقت منطق الطیر کا استغنا انسان کو دوسروں کے بوجھ سے فرار نہیں، بلکہ حق کے سہارے سے جڑنے کا نام ہے۔ ہم نے سہارا چھوڑا، اور اسے وقار کا نام دے دیا۔

زہرہ

خط ہفتم:

زہرہ،
عطار کی توحید دل کی یکسوئی ہے۔ ہمارا شعور منتشر ہے- ہم ایک بٹن پر کام کرتے ہیں، ذہن دس جگہ بھٹک رہا ہوتا ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں اور دل ای میل چیک کر رہا ہوتا ہے۔
عطار کے مسافر ایک مرکز کی طرف جاتے ہیں، اور ہم ہر وقت مراکز بدلتے رہتے ہیں۔ شاید ہم ہم نے خدا کو “ماننے” تک محدود کر دیا ہے، “مرکز بنانے” میں نہیں۔ اور یہی ہمارا سب سے بڑا روحانی انتشار ہے۔

عبداللہ

خط ہشتم:

عبداللہ،
حیرت وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنی عقل کو بٹھا کر دل کو بولنے دیتا ہے۔ ہم شور کے عادی ہیں- خاموشی ہمیں کاٹنے لگتی ہے۔ عطار کے مسافر جب حیرت میں داخل ہوتے ہیں تو سہم نہیں جاتے، جھک جاتے ہیں۔ اور ہم جب کسی نکتے پر لاجواب ہوتے ہیں تو یا تو طعنہ بن جاتے ہیں یا طنز۔ ہم نے حیرت کو کمزوری سمجھ لیا ہے، حالانکہ حیرت ہی وہ دروازہ ہے جہاں سے انکشاف داخل ہوتا ہے۔

زہرہ

خط نہم:

زہرہ،
فنا سے ہم اس لیے ڈرتے ہیں کہ ہم اسے موت سمجھ بیٹھے ہیں۔ عطار کے ہاں فنا زندگی کی سب سے مکمل صورت ہے- ایک ایسی صورت جہاں انسان کئی ٹکڑوں میں بٹ کر جینے کے بجائے ایک معنی بن کر جیتا ہے۔
اور ہم؟
ہم اپنی ساری طاقت خود کو ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں- خود کو مٹانے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔ شاید اسی لیے ہم اتنے تھکے ہوئے ہیں- کیونکہ ہم نے کبھی خود کو چھوڑ کر خدا کو پکڑا ہی نہیں۔

خط دہم:

عبداللہ،
جب تیس پرندے آخر میں یہ جان لیتے ہیں کہ سیمرغ تو وہ خود ہی ہیں، تو یہ کوئی خوشی کی چیخ نہیں، ایک لرزتے ہوئے ادراک کی خاموشی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ باہر ڈھونڈتا رہا، وہ تو اس کے اندر تھا- مگر پردوں میں چھپا ہوا۔
جدید انسان اپنی شناخت دوسروں کی نظروں میں تلاش کرتا ہے کتنے فالوور؟ کیا امیج؟ کون سا لیبل؟ جبکہ عطار کہتا ہے، جب تک تم خود سے نہیں ملتے، کوئی تمہیں شناخت نہیں دے سکتا۔ یہی منطق الطیر کا آخری اور سب سے خطرناک سبق ہے- کیونکہ یہ ہمیں ہمارے اپنے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

julia rana solicitors

زہرہ

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply