عشق تم سے اجازت چاہتا ہے۔۔رمشا تبسّم

تم نے دیکھی ہے کبھی
سولی پر لٹکی آس
خزاں میں درختوں پر سوکھتی امید
سمندر میں ڈوبتی خواہش
صحرا میں سلگتی خوشی
خاک ہوئی بصیرت
راکھ ہوئی سماعت
نیزے پر لٹکی سوچ
بھٹکتی ہوئی دیوانگی
تڑپتی ہوئی حسرتیں
سسکتے ہوئے الفاظ
ریزہ ریزہ جذبات
یا  کبھی دیکھا ہے؟
زمین میں دفن ہوتے خدشات
اوقات کو بھٹی میں پکتے ہوئے
بھنور میں پھنسی سانس
بادِ صبا سے مرتی خوشبو
شبنم کے سیلاب سے برباد ہوتا گُل
بھنورے کی آواز سے ٹوٹتی خاموشی
تتلیوں کے پروں سے اجڑتا گلشن
کوئل کی کوک سے ٹوٹتی چٹان
جذبات کی منڈیر پر چمکتا ہوا چاند
بجھے ہوئے دیے سے نکلتا سورج

نہیں؟
تو تم نے ہُو کا عالم نہیں دیکھا
تم واقف نہیں ٹوٹتے گھنگروؤں کی حرمت سے
تم جانتے ہی نہیں عشق کی آفت کیا ہے
محبوب سےمحب اور محب سے محبوب کا سرور کیا ہے
ٹوٹے وعدوں کی بے سر و سامانی کیا ہے
بے خوابی کی شادمانی کیا ہے
ہجر کی خشک سالی کیا ہے
وصل سے پھوٹتے چشمے کیا ہیں

گر کچھ نہیں دیکھا
تو سنو!
تم عشق کے ع سے ناآشنا ہو
تم عشق کے ش کی اذیت میں مبتلا نہیں
تم عشق کے ق سے راکھ نہیں ہوئے
تو سمجھو !
عشق تمہارے کھوکھلے جذبات کی گٹھڑی
اٹھانے کو تیار ہی نہیں
عشق تم سے دستبردار ہو گیا
تم عشق کے ع ش ق سے فنا ہونے کے قابل ہی کہاں ہو۔
اب !
عشق تم سے اجازت چاہتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *