“اکمل حنیف کا تخلیقی “ردِّ عمل…..سید حامد یزدانی

“اکمل حنیف کا تخلیقی “ردِّ عمل
گھر کی تقسیم اس طرح ہوئی ہے
صرف  رشتے بچا کے بیٹھ گئے

کینیڈا کے قصبہ واٹر ڈاؤن میں سال دوہزار پچیس کے موسمِ خزاں کے کنارے بیٹھا آج میں پاکستان کے دل لاہور میں مقیم اپنے عزیز اور نوجوان شاعر دوست اکمل حنیف کا اوّلین اردو شعری مجموعہ ’’ ردّعمل‘‘ پڑھ رہا تھاجو رشتوں کی قدروقیمت اور ان کی ناقدری کے دُکھ سے عبارت ہے۔عزیزتخلیق کار دوست جناب نوید صادق کے توسط سےمیرے حلقۂ احباب میں شامل ہونے والےاس نوجوان شاعر کی تخلیقی کاوشوں پر نظر ڈالتےہوئے بعض مقامات تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ شعر نہیں کہہ رہے معاشرہ میں بدلتی قدروں کے ہاتھوں ٹوٹنے والے احساسات کے نازک شیشے کی کرچیاں چُن رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کرچیاں ہاتھ کونہیں بلکہ دل کو زخمی کرتی ہیں اور نتیجتاً آنکھیں نہیں، دل روتا ہے، خون کے آنسو روتا ہے۔اسی لیے شاعر کا حساس دل رشتوں کو کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی قیمت پر بچا لینے کی خواہش رکھتا ہے۔’’ردِ عمل‘‘ نے یوں تو کئی جگہ مجھے روکا مگر جانے کیوں زیادہ دیر میرا خیال درج ِ بالا شعرکی نرم گرم چھاؤں میں بیٹھا رہا اوراس نے غیر محسوس طور پرمیری سوچ کا رُخ شاعری سے سوشیالوجی کی جانب موڑ دیا۔سوشیالوجی وہ مضمون ہے جسے میں نے برسوں پڑھا اور پڑھایا ہے۔کینیڈا سے ماسٹرز آف سوشل ورک کی ڈگری حاصل کرنے سےبرسوں قبل میں نےسوشیالوجی ہی میں اپناپہلا  ایم۔ اے کیا تھا۔
یہ شعر پڑھتے ہوئےمیں سوچنے لگا کہ سوشیالوجسٹس یا سماجیات کے ماہرین کے نزدیک بھی توسماج رشتوں کے تانے بانے سے تشکیل پاتا ہے اور ان تمام تر رشتوں کی بنیاد سماجی تفاعل یا بین ِ عمل پر استوار بتائی جاتی ہے اور یہ سماجی تفاعل ’عمل‘ اور ’ردِ عمل‘ کے تال میل سے ظہورپزیر ہوتا ہے۔جیسے ’سوال‘ ایک عمل ہے اور ’جواب‘ اس کا ردعمل تو ’گفت گو‘ یا بات چیت ان کا نتیجہ۔یعنی اگر ردعمل نہ ہوتو کلام ہی کلام ہوگا ’مکالمہ‘ کبھی پیدا نہ ہوسکے گا۔ایک ہی ہاتھ کو چاہے کتنے ہی زور سے ہوا میں ہلاتے جائیے کوئی آواز پیدا نہ ہوگی جب تک کہ دوسرا ہاتھ اس سے ٹکرائے گا نہیں۔جیسے ہی دوسرا ہاتھ پہلے سے ٹکرائے گافضا تالی سے گونج اُٹھے گی اورماحول کچھ وقوع پزیر ہونے سے آشنا ہوگا۔اسی سماجی تفاعل یا بینِ عمل کی عارضی صورتیں جب مستقل شکل اختیارکرتی ہیں تو سماجی ادارےجنم لیتے ہیں،معاشرتی نظام وجود پاتا ہے اور ثقافت کی خوشبو نمو پاتی ہے جس کی رنگارنگی سے ایک جغرافیائی خطہ ہی نہیں سارا کرۂ ارض متنوع عقائد و نظریات،فکر وفن،زبان و بیاں،تعمیرات ، سیاسیات اور باہمی تعلقات سے مہک اٹھتا ہے۔یوں دیکھیں تو دنیا کا سارا نظام ہی سماجی تفاعل یا بامعنی رابطہ پر قائم ہے۔اسی تفاعل کے بطن سے تعاون، مسابقت اور تصادم جیسے عوامل جنم لیتے ہیں جن کی صورت پزیری کا مشاہدہ ہم اپنی روزمرہ کی گھریلو اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی کرسکتے ہیں اور مختلف ملکوں کے باہم تعلقات کی نوعیت میںبھی۔
سوشل میڈیاپر جا بجا دندناتی نام نہاد ’انسپیریشنل سپیکرز‘کی فوج کوبھی آپ نے اکثر یہ بات کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ معاملہ کیا رُخ اختیار کرے گا؟ اس کا ایک فی صد انحصار آپ کے عمل پر جب کہ ننانوے فی صد ردعمل پر ہے۔افسوس، یہ مقررین اپنے ’فالوورز‘ بڑھانے کی مسابقت یا دوڑ میں ایک دوسرے سے الجھتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ خاص کر جب ان کے دلائل کمزور پڑنے لگیں۔ انھیں ایسا محسوس ہونے لگے کہ وہ ہارنے والے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ کہ ایسے ’رہنماؤں‘ کو سننے سے کیا حاصل جو ’سپورٹس مین سپرٹ‘ ہی سے محروم ہیں۔اکمل حنیف تو پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں:

 

ایسے لوگوں کی حمایت نہیں کرنا مجھ  کو
لڑ پڑیں، کھیل میں جب ہار نظر آنے لگے

سوشل میڈیا پر ’واہ،واہ’ سمیٹنے والے ان ’اداکاروں‘ کی مواصلاتی قربت کے بجائے کیوں نہ ایسے پرانے اور مخلص دوستوں کی صحبت میں چند گھڑیاں بسر کی جائیں جن کے بارے میں ہمارے شاعر کہتے ہیں:

بھول جاتا ہوں مسائل میں زمانے کے سبھی
اک غنیمت ہیں مِرے دوست پرانے والے

دوستوں کی انہی بے لوث قربتوں کا ذکر حضرتِ یزدانی جالندھری نے اپنے مجموعہ ’’توراتِ دل‘‘ میں یوں کیا ہے:

غنیمت ہے جو کچھ لمحے کو چند ااحباب مل بیٹھیں

وگرنہ  اِ س زمانے میں میسر ہے کہاں  یہ بھی

واقعی، اب’اصل‘ ملاقاتیں کم کم ہی ہوتی ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ بالمشافہ رابطوں کی جگہ اب برقی رابطے لیتے جارہے ہیں۔اور یہ بھی غنیمت ہے کہ کچھ رابطے باقی تو ہیں۔سلام دعا کی کوئی صورت تو باقی ہے ابھی۔
سماجیات کے تناظر میں دیکھیں تو’السلام علیکم‘ اور ’وعلیکم السلام‘ کے خیرسگالی اور محبت بھرے رابطہ سے لے کر کھیلوں کے مقابلوں تک،پاک ۔چین دوستی سے لے کر پاکستان اور بھارت تصادم اور عرب ۔اسرائیل تنازعہ تک یہی ’سماجی تفاعل‘ اپنی کسی نہ کسی صورت میں کارفرما ہے؛کہیں تعاون کی صورت میں، کہیں مسابقت کی شکل میں اورکہیں تصادم کے رُوپ میں۔ ذرا سا بھی غور کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ دوطرفہ دوستیاں اور باہمی دشمنیاںکسی نہ کسی عمل کے ردِ عمل ہی کا نتیجہ ہیں۔جیسا کہ عرض کیا انہی روابط کی صورتیں ہمارےمنضبط سماجی ادارے ہیں جن میں ’خاندان‘ کو متفقہ طور پربنیادی حیثیت حاصل ہے۔کیوں کہ یہی وہ ادارہ ہے جس میں انسانوں کی اکثریت کی افزائش اور اساسی تربیت ہوتی ہے۔یہیں سے انسان زندگی کے شعوری سفر کے پہلے زینہ پر قدم رکھتا ہے، جذبہ و احساس سے تعبیر رشتوں کی ڈور ی سے منسلک ہوتا ہے اور شخصیت سازی کے سادہ و پُرپیچ بہاؤمیں ہاتھ پاؤں مارنے کی سعی کا آغاز کرتا ہے۔اس مرکزہ سے حاصل ہونے والی سردمہری اور گرم جوشی کی دولت اور نفرت و محبت کے سکے ہی بسا اوقات وہ عمربھر دوسروں میں تقسیم کرتا رہتا ہے۔
دل چسپ امر یہ کہ ہماری اردو شاعری کا دامن بھی ان بنیادی رشتوں کے تذکرہ سے محروم نہیں مگر یہ ذخیرہ ہمیں بہت حد تک ’نظم‘ تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم ماں کے حوالہ سے حضرتِ اقبال ؒ سمیت متعدد اہم شعرا کی نظموں سے آگاہ ہیں۔ اسی طرح والد اور دیگر رشتے بھی ’منظوم‘ صورت میں مل جاتے ہیں۔مگر ہماری اردو غزل کے حضور ’محبوب‘ کے علاوہ کوئی بھی اور باریابی نہ پاسکا۔ میں اپنے عہد کی جانب دیکھتا ہوں تو پاکستان کی حد تک یا کہہ لیجیے کہ اپنے آس پاس اوّل اوّل میں نے عارف عبدالمتین، حفیظ صدیقی، زاہدہ صدیقی، راسخ عرفانی، خالد احمد اورچند ایک اور شعرا کے ہاںان خوبصورت رشتوں کا جمال آفریں اظہار دیکھا۔ماں باپ کی محبت کا موضوع خیربعد کے شعرانے’مسابقت‘ کے جذبہ کے تحت خوب ’’اچھالا‘‘ مگر دوسرے رشتے ان کے اشعار میں خاطر خواہ جگہ نہ پاسکے۔ہاں، بھائیوں کا بازو ہونا یا ’شریکا‘ ہونا کہیں کہیں مل جاتا ہے۔مگریہاں میں اپنے دوست شاعر اکمل حنیف کو خصوصی داد دینا چاہوں گا جنھوں نے اپنے شعری مجموعہ ’’ردِ عمل‘‘ کا انتساب بھی ان خوب صورت رشتوں کے نام کیا ہے اور پھر جابہ جا ان خوب صورت رشتوں کو اپنے اشعار کا موضوع بنایا ہے۔ چند اشعار آپ بھی پڑھیے:

دیکھتا ہوں جب بھی اکمل پیڑ تپتی دھوپ میں

مجھ کو آتی ہے نظر اس میں شباہت باپ کی
۔۔۔۔۔
دل زمانے میں جب لگا نہ کہیں
ماں کے پہلو میں جاکے بیٹھ گئے
۔۔۔۔۔۔
توڑ دے جسم و روح کا بندھن
میرا وہ سانس آخری، تم ہو
۔۔۔۔۔
تھکن کافور ہوجاتی ہے دن بھر کی
مِرے بچو! تمہارے مسکرانے سے
۔۔۔۔۔

بچوں کی یہ ان مول مسکراہٹیں، والدین کی دعائیں اور باوفا شریکِ سفر کا پیار۔۔۔یہ سب اس مرکز کی دین ہیں جسے ہم خاندان کہتے ہیں۔یہی افراد کے بنیادی روابط کا منبع ہے۔اس امر سے کون انکار کرسکتا ہے کہ معاشرہ کا سارا ’کاروبار‘ ہی روابط اور ان کے نتیجہ میں قائم ہونے والے رشتوں پر چل رہا ہے۔یہ رشتے اور تعلقات جس نوعیت کے ہوتے ہیں اُسی نوعیت کاطرزِ عمل اور برتاؤ ہم فریقین میں دیکھتے ہیں۔کہیں ہمیں محبت کے گلاب مہکتے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں نفرت کے خار۔کہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے تو کہیں دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ۔افسوس،اب  بہت سے قریبی رشتے مادی ضروریات اور مطلب براری کی نذر ہوکر رہ گئےہیں۔اکمل حنیف کے’’ردِ عمل‘‘ کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔

رنگ  بدلا ہے لہو کا  بھی  زمانے کی طرح
اب تو بھائی بھی ضرورت کے سبب ملتے ہیں

انسان کوایک سماجی جاندار یا معاشرتی مخلوق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ سماجی زندگی کے مشاہدات اور تجربات سے بہت کچھ سیکھتا ہے اور جو کچھ سیکھتا ہے وہ اس کی فکر، اس کی سوچ اور اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پھول دنیا کے کسی بھی خطہ میں کھلے وہ رنگ و خوشبو ہی لٹاتا ہے۔ یہی عالم محبت کا ہے۔اس کی افادیت بھی کسی خطہ، عقیدہ یا سماج سے مشروط نہیں۔ یہ بھی ہوا کی طرح عالم گیر ہے۔ماں بیٹے کے معصوم پیار سے پھوٹتی دل کش شعائیں عمر بھر انسان کا ساتھ دیتی ہیں۔انہی شعاؤں کا گزر جب طیفِ شباب میں سے ہوتا ہے تو وقت کے افق پرعشق و محبت کی ہفت رنگ دھنک پھیل جاتی ہےاور یہی رنگ بزرگوں کی شفقت بھری چادر سے مَس ہوتے ہیں تو حرفِ دُعا کی صورت سات آسمان عبور کرجاتے ہیں۔ان دعاؤں میں ماں کی دعا موثر ترین ہوتی ہے اور جسے اس کا حصار مل جائے اُس جیسا خوش بخت اور کون ہوگا؟

پریشانیاں  دور رہتی ہیں مجھ سے
میں رہتا ہوں ماں کے حصارِ دعا میں
۔۔۔۔
دل زمانے میں جب لگا نہ کہیں
ماں کے پہلو میں جاکے بیٹھ گئے

ماں کی دعا اور قُرب کے پہلو ہی میں تو باپ کی محبت و شفقت کا سرسبز پیڑایستادہ ہے۔

باپ  جیسا  لگا  مجھے  اکمل
جب بھی اس پیڑ سے ملا ہوں میں

یہ امر بھی اپنی جگہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ دنیا کثیر رنگی ہے۔یہاں صبح بھی ہے اور شام بھی، دن بھی ہے اور رات بھی،محبت بھی ہے اور نفرت بھی، سخاوت بھی ہے اور بخیلی بھی، فراخ دلی بھی ہے اور تنگ نظری بھی، خوشی بھی ہے اور غم بھی۔وقت اور جذبات کی یہ بوقلمونی ہی زندگی کے بہاؤ کی ضامن و گواہ ہے۔کہیں ہمیں یگانت کا گیت سنائی دیتا ہے اور کہیں بیگانگی کا ترانہ۔کہیں پیار کا نغمہ گونج رہا ہے اور کہیں جنگ کا طبل۔ ذرا قریب سے مشاہدہ کریں تو لامحالہ یہ سب کسی نہ کسی ’’ردِ عمل‘‘ ہی کا شاخسانہ نکلتے ہیں۔
یہاں ایک طرف والدین سے دعائیں لینے والے اور ان کی اطاعت کرنے والے بچے ہیں اور دوسری جانب زمانے کی چال کو نہ سمجھنے والی نادان اور مطلبی اولاد جن کے اعمال پر ’ردَ عمل‘ کا اظہار کرتے ہوئےہمارے شاعر اکمل حنیف کا قلم بھی آنکھوں کی صورت اشک بار ہوجاتا ہے:

نہیں کوئی جو بوڑھے باپ کے جذبات کو سمجھے
سبھی کو ہے وراثت میں لکھی تحریر سے مطلب
۔۔۔۔۔
ماں باپ کی نشانی تھا کل تک جو ایک گھر
بچوں نے  بیچ ڈالا ہے  حصے نکال کر
۔۔۔۔۔
کاٹ  ڈالومری شاخوں کو مگر دھیان رہے
تم نے اک عمر گزاری ہے مری چھاؤں میں

جیسے ناخلف اولاد ماں باپ کی قدر نہیں کرتی اسی طرح بے حِس معاشرے اپنے افرادکی ضروریات کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وقت گواہ ہے کہ جس معاشرہ سےرواداری و انصاف کی فصل کاٹ دی جائے وہاں ظلم، جبر اور ناانصافی کے سرکنڈے ہی اگا کرتے ہیں جو خشک ہوکر مزید آگ بھڑکانے ہی کے کام آتے ہیں۔نہ ان سے سکون کا رزق حاصل ہوتا ہے اور نہ امن طروات۔جو افراد، جو خاندان اور جو معاشرےاس آگ کی تپش سے دوچار ہوتے ہیں ان کے اندر باہر سوائے نفرت اور غصہ کے کچھ باقی نہیں رہتا۔آپ باہم دست وگریباں بھائیوں کو دیکھ  لیجیے، منافق دوستوں پر نظر ڈال لیجیے،لڑتے ہوئے قبائل کا جائزہ لے لیجیے یا پھر جنگوں میں ملوث ممالک کی تاریخ پڑھ لیجیے۔جذبوں کی زیریں لہروں کے دوش پر ’عمل‘ اور ’ردِ عمل‘ کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والے طوفان ہی دکھائی دیں گے۔
ایسے منفی ماحول پر ایک باشعور تخلیق کار کا ’ردِ عمل‘ کتنا فطری ہے! آپ بھی دیکھیے۔کبھی تووہ سرپھری ہوا کے مقابل اپنی ہمت کا چراغ جلا کر رکھ دیتا ہے:

آنکھیں دِ کھارہی تھی مجھے سرپھری ہوا
رکھنا پڑا چراغ  جلا کر  منڈیر  پر

اور کبھی اس کا ’ردِ عمل‘ بے حسی کی اذیت ناک خاموشی میں احتجاج کی چیخ بن کر گونجنے لگتا ہے:

اک اذیت ہے یہ خموشی بھی
اس لیے روز چیختا ہوں میں

ہاں، دل دُکھانے کا عمل کسی دوست سے سرزد ہوا ہوتو اس کا ردِ عمل مختلف بھی ہوسکتا ہے۔رد عمل کی یہ صورت دیکھیے:

کاٹ دیتا ہے وہ میری بات جب

مسکراہٹ،  خامشی  ردّ عمل

اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حساس شاعرکا اظہار محض حرفِ احتجاج تک ہی محدود نہیں رہتا وہ اپنے ماحول کو، اپنےسماج کواقبالؒ کی ہم۔ نوائی میں خیر کا، خودی کا سبق بھی یاد دلاتا ہے، انھیں مسائل کے حل کے لیے عملی قدم اٹھانے کی تعلیم بھی دیتا ہے اور اربابِ بست و کشاد کوبھی زبانی دعوؤں سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے

خودی کا فلسفہ  اکمل سنا کر
میں لوگوں کو جگانا چاہتا ہوں
۔۔۔۔۔۔
مسائل حل نہیں ہوتے فقط ’حل‘ بولنے سے
زباں میٹھی نہیں ہوتی کبھی ’پھل‘ بولنے سے
۔۔۔۔۔
ہمارے مسئلوں  کا  حل  اگر  ممکن  نہیں  تو  پھر
تِرے جلسوں،تِرے دعوؤں، تِری تقریر سے مطلب؟
۔۔۔۔

ہم جانتے ہیں کہ شاعر سماجیات کے ماہر سے کچھ مختلف ہوتا ہے۔وہ ظاہری اور سائنسی عوامل کے اسباب و علل کی تہوں میں بہتے احساسات اور امکانات کا احاطہ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ وہ عروج وزوال کی رسمی داستانوں اور نفرت و محبت کے غیر رسمی قصوں کے الفاظ پر ہی غور نہیں کرتا بلکہ ان کے بین السطور متن کوبھی اپنے قلب و ذہن میں جذب کرلیتاہے۔ وہ محض نوشتۂ دیوار ہی نہیں پڑھتا بلکہ پس دیوار بھی دیکھنے لگتا ہے اور یہ کارنامہ اُس کی تخلیقی آنکھ انجام دیتی ہے:
تیری آنکھوں سے زمانے کو میں دیکھوں، اکمل

اور  مجھ  کو  پسِ دیوار  نظر  آنے  لگے

اور اس عمل میں جو کچھ دکھائی دیتا ہےاسے وہ  اپنے تخلیقی وجدان کی راہداریوں سے گزارتے ہوئے فن کے قلعہ تک لے جاتا ہے جہاں سے اُسے اظہارکا وہ فقیرانہ وثیقہ حاصل ہوتا ہے جس پر شاہانِ جہاں بھی ناز کرتے ہیں۔مگر سچا تخلیق کار اپنے اندر اس فقیر کو ہمیشہ جگائے رکھتا ہے جو دنیاوی حرص و ہوا، مفاد پرستی اور خود غرضی سے متفر ہے اور قربانی،خدمت اور اخلاص کے جذبے سے سرشار ہے۔
کاش زمانہ ایسےدرویشوں کی قدر کرے جو زبان حال سے پکار پکار کرکہہ رہے ہیں
مل گئے ہیں تو کرو قدر ہماری لوگو

ہم سے درویش تو قسمت کے سبب ملتے ہیں

سچی بات یہ کہ شاعر کی یہی درویشانہ طبع اس سے حمدِ باری تعالیٰ کے ایسے دل پزیر اشعار لکھواتی ہے:
خدا کی حمد وثنا   لاالہ الااللہ

ہرایک غم کی دوا  لاالہ الااللہ

یہ ہوگئی مِرے ایمان کی گواہی بھی
ردیف  ِ حمد  ہوا  لاالہ الااللہ
قبول ہونے لگی ہرمِری دعا ، اکمل
جو روکے میں نے کہا  لاالہ الااللہ

دنیا اگر کلمہ طیبہ کے الفاظ میں چھپی محبت محسوس کرلے تو وہ اس کی عالم گیر کشش کے رازسے بھی آگاہ ہوجائے۔دین سے سچی محبت اہلِ ایمان کی رگوں میں لہو کی طرح رواں دواں ہوتی ہے۔اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عشق ان کے سر کا تاج ہے۔اہلِ عقل کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں۔

عشق  و ہ مسئلہ ہے  دنیا کا
عقل والوں سے حل نہیں ہوتا

عقل سے انسان فن سیکھ سکتا ہے ، عشق کرنا نہیں۔اس کے لیے تو ایک پُرگداز دل درکار ہوتا ہے۔ہاں، کچھ خوش قسمت ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی فکر کو عشق رنگ بنا لیتے ہیں اور اپنے ہنر اور فن کومحبت آشنا کرلیتے ہیں۔پھر بھی فن کی معراج پانا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں کیوں کہ فن کی حقیقی معراج توصیف ِ صاحب ِ معراج (ﷺ) ہے۔حضرت حسانؓ و کعبؓ و زھیرؓ سے چلتا نعت کا کارواں رومیؒ و سعدیؒ و جامیؒ تک پہنچا اور وہاں سے محسنؒو رضا ؒ وحالی واقبال کو ساتھ لیتا ہوا ندیم و تائب وخالد تک پہنچا اور ان اکابر کے بابرکت الفاظ کے سائے سائے اب ہم سب اپنے اپنے انداز میں، اپنے اپنے رنگ میں نعت ِ نبی ؐ گنگنا رہے ہیں۔ نعت کی اس دل خوش کُن فضا میں اکمل حنیف کی صدا کس خوب صورتی سے گونج رہی ہے۔ آپ بھی سُنیے:
مِری آنکھوں میں ایسے بس گئے جلوے مدینے کے

تبھی  دن رات آتے ہیں مجھے سپنے  مدینے کے
مِرے دل کی یہی ہے آخری خواہش کہ جیتے جی
میسر ہوں مجھے بھی روز و شب ان کے مدینے کے
نبیؐ کے در پہ صبح و شام ہوتی حاضری اپنی
اگر ہم لوگ بھی اکمل مکیں ہوتے مدینے کے

عقیدت و مودت کے یہ پاکیزہ جذبات ایک ایسے پاک صاف دل ہی کے مکیں ہوسکتے ہیں جو سراسر محبت ہو۔اثبات اور خیر کا داعی ہو۔امن و سکوں کا حامی ہو اور سب کی بھلائی کا خواہاں ہو۔فرقہ وارانہ منافرت کے بجائے اخوت اور بھائی چارے پر یقین رکھتا ہو۔ جس کا عقیدہ منافرت کا نہیں بلکہ محبت کا پیام بر ہو۔جو اللہ اور رسول ؐکے بعد اہلِ بیتؓ سے وفا کا بھی دم بھرتا ہو اور اصحابِؓ رسول سے بھی اظہارمحبت کرتا ہو۔کیوں کہ ان سب سے محبت کے بغیر زندگی بیکارہی تو ہے۔چناں چہ ہمارا شاعر اپنی کاوشوں میں جہاں وہ آلؓ ِ رسول سے محبت کا دم بھرتا ہے وہیں اصحابؓ ِ رسول سے محبت کو بھی کردار کا معیار قرار دیتا ہے:

julia rana solicitors london
جس کی نظر میں سارے صحابہؓ ہیں معتبر
میری نظر میں صاحبِ کردار ہے وہ شخص

حصولِ برکت کی نیت سےاپنے تاثرات کے اخیر میںخوب صورت شاعر اکمل حنیف کے اوّلین اردو شعری مجموعہ کی اشاعت پر ان کے لیےوہی دعائیہ الفاظ لکھنا چاہتا ہوںجو میرے اوّلین اردوشعری مجموعہ ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ ( مطبوعہ ۱۹۹۲)کے فلیپ پر جناب خالد احمد نےمیرے حرفِ اظہار کے لیے رقم کیے تھے:
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ کے صدقےاکمل حنیف کی کوشش کو بارآور رکھے۔آمین ثم آمین!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

سیّد حامد یزدانی
 نومبر ۲۰۲۵
(کینیڈا)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”“اکمل حنیف کا تخلیقی “ردِّ عمل…..سید حامد یزدانی

Leave a Reply