مرے ہوئے لوگوں سے باتیں /ندا اسحاق

مرے ہوئے لوگوں سے باتیں ؛مجھے ایک ای-میل موصول ہوئی جو محض چار سطروں پر مشتمل تھی جسے ایک نوجوان نے کچھ یوں قلم بند کیا تھا کہ وہ ایک ریلیشن شپ میں ہے اور انکی گرل فرینڈ نے ان سے ایک بہت عجیب بات کہی کہ گرل فرینڈ کا ایک دوست جسکا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا لیکن وہ دوست آج بھی پورے چاند کی رات (پورنیما کی رات) میں اس سے ملنے آتا ہے اور وہ اس سے باتیں بھی کرتی ہے۔ نوجوان نے لکھا کہ وہ ایسی توہم پرست باتوں پر یقین نہیں کرتا اور میری رائے جاننا چاہی کہ اس رویہ کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔
میرے لیے اس ای-میل میں توجہ کا مرکز پورے چاند کی رات کی تھی کہ آخر بچپن کا دوست پورنیما کی رات کو ہی کیوں ملنے آتا ہے۔ اسکا ذکر آگے آرٹیکل میں کروں گی!
میں چند سطروں پر مشتمل ای-میل کی بنیاد پر کسی انسان کی نفسیاتی بیماری کو تشخیص کرنے کے حق میں بلکل بھی نہیں البتہ اس کیس کو ہم سائیکوسس (psychosis) کو سمجھنے کے لیے استعمال ضرور کرسکتے ہیں۔ فرض کریں کہ ای-میل میں جن محترمہ کا ذکر ہے اگر وہ کئی سالوں سے اپنے ایک وفات پاچکے دوست سے گفتگو کرتی ہیں تو بہت ممکن ہے کہ انہیں سائیکوسس (psychosis ) ہے۔ سائیکوسس میں انسان ”حقیقت“ سے بے تعلق یا پھر غیر منقطع ہوجاتا ہے۔ اسکزوفرینیا بھی ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کو وہ چیزیں یا لوگ دکھنے یا محسوس ہونے لگتے ہیں جو حقیقت میں ہوتے ہی نہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی مختلف علامات پر نظر ثانی کرنی پڑتی ہے اسکزوفرینیا میں، جس میں ادراکی صلاحیتیں (cognitive abilities) ، بول چال اور رویے سے منسلک مسائل شامل ہیں۔ لیکن اکثر لوگ بظاہر نارمل نظر بھی آئیں تو بھی انہیں سائیکوسس ہوسکتا ہے، اسکزوفرینیا بھی کم، زیادہ اور شدید (mild, moderate, severe) ہوسکتا ہے۔
سائیکوٹک ڈساڈر کی تشخیص ایک بہت طویل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس میں مختلف نفسیاتی اور عصبی نفسیاتی (neuropsychological) ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
میں عموماً سائیکوٹک ڈساڈر پر زیادہ بات نہیں کرتی کیونکہ پھر لوگ خود-تشخیص کرنے لگتے ہیں بنا سوچے سمجھے، اکثر لوگ جب کہتے ہیں کہ انہیں بائی پولر یا کوئی بھی پرسنلٹی ڈساڈر ہے اور جب میں پوچھوں کہ کہاں سے تشخیص کروائی، جواب آتا ہے ’چیٹ-جی-پی-ٹی ‘سے!
بیشتر لوگوں کو نیوروٹک ڈساڈر ہوتے ہیں (انزائٹی، ڈپریشن، اسٹریس سے منسلک مسائل)، اور یہ عام تھراپی سے بہتر ہو جاتے ہیں لیکن خود-تشخیص (self-diagnosis) کرکے نفسیاتی بیماریوں کا لیبل لگانا بلکل بھی درست عمل نہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ سائیکوسس میں جنیات، ماحول، بچپن میں ملنے والا ٹروما یا سر پر کسی قسم کا زخم لگ جانا، دماغ کو نقصان پہنچنا جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن میرا ذاتی طور پر یہ ماننا ہے کہ سائیکوسس کے جنیات (genetics) موجود ہوں اور ماحول میں شدید تناؤ یا بچپن میں ٹروما سے گزرنا پڑا ہو تو انسان کے اسکزوفرینیا یا کسی بھی قسم کے سائیکوسس میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں (مختلف تحقیقات بھی اسکی تصدیق کرتی ہیں)۔
مثال کے طور پر اگر ای-میل میں موجود محترمہ کی بات کریں تو بہت ممکن ہے کہ بچپن میں کچھ متعدد صدمات یا جذباتی طور پر تکلیف دہ واقعات کا بہت بڑا کردار رہا ہو ان کے سائیکوسس میں، جس کی وجہ سے کسی انسان کو ایک مر چکے دوست سے گفتگو کرنے کی نوبت آپڑتی ہے۔ بنا کسی وجہ کے یونہی کچھ نہیں ہوتا، وجوہات ہوتی ہیں جنہیں معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ای-میل میں پورے چاند کی رات کا ذکر ہے، میں نے سن رکھا تھا کہ عموماً نفسیاتی بیماریاں یا پھر سائیکوسس کے زیادہ تر کیس ہسپتالوں میں پورے چاند کی رات کو رجسٹر ہوتے ہیں، گوگل کرکے معلوم کیا کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے، تحقیق سے معلوم ہوا کہ پورنیما کی رات اور نفسیاتی بیماریوں کا آپس میں کوئی براہِ راست تعلق تو موجود نہیں البتہ اس رات چاند پورا ہونے کی وجہ سے روشنی زیادہ ہوتی ہے جس سے لوگوں کی نیند میں کمی بیشی آسکتی ہے، اور بہت ممکن ہے کہ نیند کی کمی کے باعث کچھ لوگوں کو جنہیں سائیکوسس (اسکزوفرینیا) ہے انہیں سائیکوٹک ایپیسوڈ (psychotic episode) تجربہ کرنی پڑ جائے۔
نیند میں خلل عام لوگوں کے لیے یقیناً اتنا پریشان کن نہ ہو البتہ جنہیں سائیکوسس ہو تو شاید انہیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، اس لیے بہت ممکن ہے کہ اس ای-میل والی لڑکی کو پورے چاند کی رات اپنا وہ مرا ہوا دوست دکھتا ہے اور وہ اس سے باتیں کرتی ہے کیونکہ اس رات بہت ممکن ہے کہ اسے سائیکوٹک ایپیسوڈ (psychotic episode) آتی ہو اور اس کا ”حقیقت“ سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اور اسے ایسے لوگ دکھنے لگتے ہیں جو اس دنیا میں موجود ہی نہیں!
اس کیس کا ایک تکون بنایا میں نے، جس میں پورے چاند کی رات، دوست کا انتقال اور ٹروما/فیملی ہسٹری….. یہ تینوں کا بہت پیچیدہ تعلق ہوسکتا ہے جسے سمجھنے کے لیے سائیکیٹرسٹ اور سائیکالوجسٹ دونوں درکار ہونگے۔
اس ای-میل کو پڑھ کر میرے ذہن میں اٹھنے والے کئی سوالات کا جواب مجھے یقیناً کبھی نہیں مل پائے گا لیکن میرے اندر نفسیات کا جو شرلک- ہومز موجود ہے اسے کون سمجھائے!!!!!
اسکزوفرینیا سے جھونجھ رہے افراد کو اکثر میڈیا یا پھر فلم میں پاگل یا دوسروں کو نقصان پہنچانے والا دکھاتے ہیں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا (کیونکہ اگر تو ای-میل والی محترمہ تو سائیکوسس ہے بھی، تو بھی وہ ریلیشن شپ میں تو ہیں)۔ جنہیں ڈی-آئی-ڈی (dissociative identity disorder) یا پھر اسکزوفرینیا ہو، اگر تو بلکل ہی دماغی حالت خراب نہ ہو تو یہ زیادہ تر خود کو نقصان پہنچاتے ہیں دوسروں کو نہیں۔
طنزاً کہوں تو خود کو خدائی صفات کا حامل سمجھنے والے ”نرگسیت پسند“ افراد سے کم ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں، میرے حساب سے جو ٹروما اور ابیوز آپ کو نرگسیت پسند افراد کے ہاتھوں سہنا پڑ سکتا ہے وہ دینے کی ہمت اور صلاحیت ان لوگوں میں نہیں ہوتی، انہیں تو خود ہمدردی اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسکزوفرینیا کے علاج میں سب سے اہم اینٹی-سائیکوٹک ادویات (anti-psychotics ) ہوتی ہیں جو سائیکیٹرسٹ تجویز کرتے ہیں اور وہ بھی مختلف ادویات کو مریض پر آزما کر دیکھا جاتا ہے کہ اس کے لیے کونسی اینٹی-سائیکوٹک کام کرے گی۔
تھراپسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مریض کو مختلف تھراپی تکنیک سے حقیقت سے روشناس کروایا جا سکے اور اگر ٹروما ہے تو اسے شفایاب کرنے میں مدد کی جاسکے۔ فیملی کا سپورٹ بہت اہم ہوتا ہے اس علاج کے دوران۔
اسکزوفرینیا اور ڈی-آئی-ڈی (dissociative identity disorder ) بہت مشہور نفسیاتی بیماریاں ہیں جن پر مختلف فلمیں بھی بنی ہیں، ان دونوں میں ایک واضح فرق ہے جسے سمجھنا ضروری ہوتا ہے اگر تو آپ کے ارد گرد کوئی اس طرح کی بیماری میں مبتلا ہے۔
فرض کریں کہ اگر مجھے ڈی-آئی-ڈی ہے تو وہ جو میرا بچپن کا دوست ہے جو مرچکا ہے اسکی روح میرے اندر آجائے گی اور کچھ دیر کے لیے میری شناخت بدل جائے گی، میں اسکی طرح باتیں کرنے لگوں گی۔ لیکن اگر مجھے اسکزوفرینیا ہے تو اس دوست کی روح مجھے دکھنے لگے گی اور میں اس سے باتیں کروں گی۔ یہ فرق ہے ان دونوں میں۔
ہمارے یہاں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کے اندر روح آگئی یا پھر وہ مرے ہوئے لوگوں سے باتیں کرتا ہے تو یہ اسکی کوئی غیبی طاقت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ…….. اس بیچارے انسان کو ٹروما ہے، اس کے ساتھ بار بار کچھ ایسا ہوا ہے کہ اس کے دماغ نے اس ٹروما/صدمے کو برداشت کے قابل بنانے کے لیے ”حقیقت“ سے ہی اس کا رابطہ منقطع کردیا۔ کوئی غیبی طاقت نہیں، وہ محض شدید درد سے گزرا ہے جسے برداشت کرنا اس کے معصوم، بڑھتے ہوئے اور نشونما پارہے دماغ کے لیے بہت مشکل تھا تبھی حقیقت سے ہی رابطہ منقطع کرنا پڑا دماغ کو……
لیکن ہر ٹروما سے گزرنے والے انسان کو اسکزوفرینیا نہیں ہوتا، یہ عموماً تب ہوتا ہے جب سائیکوسس کے جنیات (genetics) موجود ہوں انسان میں، ماحول میں تناؤ یا حادثات ان جنیات کو محرک کردیتے ہیں۔
بہت سے لوگ سوچ رہے ہونگے کہ اس لڑکی کو سمجھایا بھی تو جاسکتا ہے کہ یہ سب اسکا وہم ہے اور کوئی مرا ہوا انسان واپس نہیں آسکتا…..
یہ ممکن نہیں! اسے سمجھانے کے لیے پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ حقیقت سے رابطہ ٹوٹنے (اسکزوفرینیا) کی وجہ کیا تھی، اور یہ کہ مسئلہ ”منطق“ کا نہیں ہے، کیونکہ سائیکوسس ”شدید تناؤ“ یا ”جذباتی ہیجان“ کی وجہ سے ہوتا ہے — منطق (logic) کی کمی کی وجہ سے نہیں! یہی وجہ ہے کہ آپ کتنا ہی بول دیں سمجھا دیں کہ یہ محض انکا وہم ہے پھر بھی انہیں سمجھ نہیں آئے گا۔
حقیقت بہت کڑوی ہوتی ہے، جنہیں ٹروما سے گزرنا نہ بھی پڑا ہو وہ بھی اس سے نظریں چراتے ہیں، تخیلات اور امیدوں میں زندہ رہتے ہیں، ایسے میں جب حقیقت اور بھی بھیانک یا شیطانی روپ دھار کر ایک بچے کے معصوم ذہن کی نشونما کو متاثر کرتی ہے اور جب والدین یا بڑوں کا سہارا نہ ہو، تو پھر اس حقیقت سے سارے رابطے منقطع کرنا ہمارے دماغ کو واحد حل نظر آتا ہے! کیونکہ کا دماغ کا بنیادی فعل ”درد“ سے فرار یا ”درد“ کو کم کرناہے۔
میں ایک آرٹیکل لکھوں گی ”اغتراب“ یا ”ذہنی علیحدگی“ (Dissociation ) پر، جو سائیکوسس کی شکل تو اختیار نہیں کرتا لیکن جو بچے کمپلیکس ٹروما (cptsd) سے گزرے ہوں انکے دماغ کا ایک دفاعی طریقہ کار (defence mechanism) کہلاتا ہے جسے سمجھنا اور توازن میں لانا ضروری ہوتا ہے۔ اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔
اسکزوفرینیا کوئی ڈرامائی بیماری نہیں، اکثر لوگوں میں تو اسکی تشخیص تک کرنا بہت مشکل ہوسکتا ہے، البتہ اس بیماری کو میڈیا نے جتنا سنسنی خیز بنایا ہے یہ اتنی ہے نہیں۔ حقیقت سے رابطہ توڑ کر خیالوں میں بسیرا کرنے کی عادت ہم سب انسانوں کو ہوتی ہے لیکن ہم تخیلات اور حقیقت کا فرق بھولتے نہیں، خیالوں اور تخیلات میں کچھ دیر وقت گزاری کرکے حقیقت میں واپس آہی جاتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ جب حقیقت برداشت سے باہر ہوجائے یا حقیقت سمجھ سے بالاتر ہوجائے تو پھر دماغ اس سے رابطہ منقطع کرلیتا ہے جو آگے چل کر نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
(اگر کسی کو سر پر چوٹ لگنے یا کوئی جسمانی حادثہ ہوجانے کی وجہ سے سائیکوسس تشخیص ہو یا وہ اپنا ذہنی توازن کھو دے تو پھر ٹروما یا شدید تناؤ والا نظریہ اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ )

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply