سوال پہلے قدم پر وجود اور ہستی کا اعتراف ہے۔ پھر سوال تشکیل، موانع کا تعین اور موثرات کی تحقیق ہے۔ سوال موجود ہوتے ہیں، تاہم ان کا سامنا مشقِ عمل کے دوران ہوتا ہے۔ بڑے سوال محض بڑے اتفاق سے نہیں بلکہ معمول کے حالات میں بھی پیش آ سکتے ہیں، اور کبھی یہ محض اتفاقاً بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یعنی میں ہوں، میں جو سوچتا ہوں اور پوچھتا ہوں۔

یہ دعویٰ تقریباً کہانی ہی ہے کہ سوال ہمیشہ بڑا ذہن اٹھاتا ہے اور بلند درجے سے آتا ہے۔ بہت سے سوال زبان نہیں پاتے کیونکہ ان کے پیچھے اجتماع کی طاقت نہیں ہوتی۔ سوال اپنی ابتدا میں تقریباً سادہ ہوتا ہے۔ تمدن جب ارتقأ کے مراحل میں وسعت حاصل کر لیتے ہیں تو جیسے ان کے روابط پیچیدہ ہوتے ہیں، ویسے ہی ان کے مسائل بھی پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ کبھی وہ مہم بن جاتے ہیں۔ یہی مہمات ہی سوال کہلاتی ہیں۔ جس طرح معاشروں کے مشاغل کی جہات کثیر ہوتی ہیں، اسی طرح درپیش سوالات کے موضوعات بھی کثیر ہوتے ہیں۔ ان سب سوالات کو کسی ایک مقام سے پوچھنا اور ان کے جوابات کسی ایک مقام سے آنا بظاہر بہت غیر فطری ہے۔ اسی غیر فطری روش پر میں اعتراض کرتا آیا ہوں۔
سوال کا پیدا ہونا اور جواب مہیا کرنا فطری وجہوں اور فطری ضرورتوں کی وجہ سے ہے۔ اگر کسی سوال کا جواب کامیابی کے ساتھ دیا جا سکے تو یہ کسی تہذیب کے مقاصد میں مدد کی طرح ہے اور ہر تہذیبی اکائی کا فریضہ، جس میں فخر یا فوقیت کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ البتہ قدر دانی کی اہمیت ضرور ہے کہ اس سے دیگر اکائیوں کی تشویق ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں، یا ہمارے جیسے معاشروں میں، صورتِ حال بہت مختلف ہے، اسی لیے ہماری صورتِ حال ترقی یافتہ ذہنوں اور معاشروں سے مختلف رہتی ہے۔
سوال ایک درپیش امر، ایک رخداد اور ایک واقعہ ہے۔ اسے ورزشی اور فرضی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سوال درپیش امر نہیں تو اس کے ساتھ خطاب بھی سنجیدہ نہیں ہوگا۔ سوال ایجاد نہیں کیے جاتے، نہ ان کے جواب ایجاد کیے جا سکتے ہیں۔ سوال درپیش آتے ہیں اور جواب تلاش کیے جاتے ہیں۔ تلاش موجود کی ہوتی ہے اور سوال بھی وجود پر قائم ہوتا ہے۔ البتہ سوال اور جواب بروقت ہونا چاہیے؛ قبل از وقت جواب جنون ہے اور بعد از وقت جواب غباوت۔ کامیاب معاشرے وہ ہیں جو اپنے سوالات ساتھ ساتھ حل کرتے رہتے ہیں۔ کوئی عہد اپنا بوجھ دوسرے عہد کے لیے نہیں چھوڑتا۔ یہ الگ بحث ہے کہ کسی تہذیب میں مستعدی کا یہ عمل کتنی دیر اور کن شرائط کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے اور کیا انہیں ہمیشہ مہیا رکھنا ممکن بھی ہوتا ہے۔
بڑے لوگوں کے پاس بڑی باتیں کرنے کا ایک بڑا اور محفوظ حق ہوتا ہے، لیکن مجھے ذاتی طور پر مکالمے کی مجلس میں یہ بڑے بڑے لوگ اچھے نہیں لگتے۔ ان کے ہونے سے مکالمے کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کا فہم بڑا ہوتا ہے بلکہ یہ کہ ان کا وجود اور بوجھ بھاری بھرکم ہوتا ہے، جو متوازی آوازوں کو کچل دیتا ہے۔ ہماری تاریخ اور آج کے حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔
مکالمہ دانش افزا ہے، اس عمل کو روک دینے سے سوالات حل نہیں ہوتے بلکہ الجھ جاتے ہیں۔ مکالمہ مقصد رسی کے لیے ہونا چاہیے، طے شدہ نتیجوں کے لیے بیٹھنا مکالمہ نہیں کہلاتا۔ مکالمے میں ضد اور اصرار نہیں ہوتا۔ مکالمہ دراصل صورت شناسی اور معاملہ فہمی کا عمل ہے۔ ایک سچا طالب علم ہار جیت کے لیے نہیں بلکہ مقصد رسی کے لیے مکالمے میں اترتا ہے۔ مکالمہ غور و فکر، تبال و تعادل کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کا نام ہے۔ اس دوران اطراف کی شخصیت منہا ہو جانی چاہیے۔ مکالمے کے حالات میں ہم صرف اپنا پہلو نہیں دکھاتے؛ بہت سے دوسرے پہلو سامنے آتے ہیں، کبھی احسن پہلو بھی سامنے آ جاتا ہے اور بعض اوقات سب پہلوؤں کو سامنے رکھ کر کوئی صائب نتیجہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔
سوال کسی کی ذات نہیں اور نہ ہی کسی کی جائداد ہے، اسے کھلے طور پر لینا چاہیے۔ سوچے ہوئے یا خواہش کے جواب کے لیے مکالمے میں اترنا علمی خیانت ہے۔ مکالمہ، سوال کی بنیاد اور اس کی ابعاد کو سمجھنے کے لیے علمی معاونت کا اہتمام ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اختلاف رائے کے عزم کے ساتھ اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف علمی خیانت ہے بلکہ غلبہ پسندی بھی، جسے کسی طور علمی منہاج نہیں کہا جا سکتا۔
سوال اپنی روح میں آفاقی ہوتے ہیں، البتہ ان کے ساتھ تعصب ذاتی ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے، اس کے باوجود انہیں کسی ذات میں محصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح شاید جواب بھی دائمی نوعیت کے نہیں ہوتے۔ یہی سرگرمی ہے جو انسانی ارتقأ سے پیدا بھی ہوتی ہے اور ارتقأ میں مدد بھی کرتی ہے۔ کسی کو بھی اپنے عہد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے ، ایسی کوششوں سے ملتوں کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں