آگرہ اور میں

آگرہ اور میں
عمران عاکف خان
(تاپتی ہاسٹل،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی)
آگرہ کا بہت نام سنا،بہت قصے سنے،آگرہ ،یہ اور آگرہ وہ،کبھی اسے ’مغل اعظم‘ اکبر نے اپنا پائے تخت بنایا تھا،شاہ جہاں نے اسے تاج محل،لال قلعہ،مغل گارڈن جیسے عظیم تحفے دیے۔اس سنہری دور کے بعدمیاں نظیر اکبر آبادی، جیسے عوامی شاعر اور میر تقی میر و مرزا غالب کی جائے پیدئش سے اسے نسبت خاص ہے،پھر جب یہ دور ختم ہوا تو عاشق حسین سیماب اکبر آبادی نے قصر الادب کے نام سے ایک علمی و ادبی محل تعمیروہاں کیا۔ اسی آگرہ کو میں بھی ایک ادبی پروگرام کے بہانے دیکھنے گیا۔حالاں کہ آگرہ والوں نے حتی المقدور اعلا سے اعلا انتظام کررکھا ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ آج کا آگرہ اپنی تمام رونقیں اور تابانیاں کھو چکا ہے۔آگرہ اپنی چمک دمک سے محروم کردیا گیا اور اس کی بہاریں اب محض اس کے بیرونی علاقوں میں سمٹ کر آگئیں،اندرون میں تو خاک اڑتی ہے اور خدا جھوٹ نہ بلوائے تو میں کہو ںکہ اگر شہر آگرہ کے اندرون یا وسط میں ’تاج محل‘نہ ہوتا تو آگرہ کب کا ماضی کا قصہ بن چکا ہوتا۔اس کے مکینوں نے اس کا جو حشر بنایا ہے ،اللہ کی پناہ!چوڑے اور کشادہ راستوں پر ٹریفک اور بے ہنگم بھیڑ بھاڑ کا عالم یہ ہے کہ دہلی جیسی میٹرو سٹیز بھی شرماجائیں۔
میرا قیام ایم جی روڈ پر واقع پرنس راج ہوٹل میں تھا۔پرو گرام سے قبل میں نے منتظمین سے شہر آگرہ پیدل گھومنے کی گزارش کی اور ان سعادت مندوں نے اسے مان بھی لیا۔چنانچہ میں بغیر وقت گنوائے اس نعمت عظمیٰ سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایم جی روڈ سے چوراہا مان سنگھ کی جانب چل پڑا۔چوراہا واقعی چوراہا تھا مگر کیا چوراہا؟نہ اس کے سر ے کا پتا اور نہ چھور کا۔اس پر چوطرفہ بائیکس،دس روپے سواری والے آٹو،بے فکر نوجوانوں کی بلیٹ بائیکس جو بلیٹ ٹرین بنی جارہی تھیں،ثروت مندوں کی کاروں کی ٹیں ٹیں ،پیں پیں،عجیب سا منظر تھا۔ایسا لگتا تھا جیسے ان سب کو شہر بدر کیا جارہا ہو اور یہ اس بدریت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے ہوں ۔ایک جگہ ایک برقعہ پوش عورت رونے لگی۔رونے سے زیادہ اس کی گالیاںبرج بھاشا کو فروغ دے رہی تھیں: ’نپوتے،جے تو پیدا ہوگوا،ماں کے ۔۔۔۔۔۔بہن کے۔۔۔۔‘خدا جانے اور کیا کیا بکے جارہی تھی۔دراصل انھیں ایک بائیک سوار نے پیچھے سے ٹکرماردی تھی اور اب وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا تھا مگر غصے سے بھڑکے عوام اس سے نہ جانے کس کس جنم کا بدلا لے رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد اسے اس کیے کی سزا مل گئی۔
میں وہاں سے دونوں پائوں سے بھاگا،پتا نہیں کس ناہنجار کی مجھ پر نظر پڑے اور وہ بغیر کچھ پوچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں سے میں بجلی گھر بس ڈپو پہنچا۔یہاں پرنس سنجے ہوٹل،اپنی رونق و شکوہ سے عظمت رفتہ کا احساس کرارہا تھا۔اس کی اندرونی کنڈیشن کیسی تھی خدا جانے مگر بیرونی کنڈیشن اسے خوبصورت بنائے ہوئے تھی۔یہاں بھی ایک چورا ہاتھا اور گول چکر وہاں بنا ہوا تھا۔اچانک کسی بد قسمت کی فری وائی فائی میرے لینوا وائب موبائل نے کیچ کی اور وہاٹس ایپ،فیس بک،جی میل کے میسج تیزی سے آنے لگے۔میں انھیں ریڈ کرنے لگا اور جب ضروری پیغامات کی اطلاعات مجھے مل چکی تو وہاں سے آگے بڑھاہی تھا کہ دوتین سائیکل رکشے والے میری طرف بڑھے’بابو کہاں جانا ہے،بس دس روپے دینا،میرے ساتھ بیٹھو،آئو آئو‘یا اللہ چند ثانیوں میں وہ کتنا کچھ کہہ گئے اور میں بس یہ کہہ سکا کہ نہیں جی !مجھے تو بس یہیں جانا ہے۔‘یہ سن کر وہ جس تیزی سے آئے ،اسی تیزی سے پلٹ گئے۔
بجلی گھر چوراہے پر لگی ایک ہورڈنگ نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کی۔وہ آگرہ کے ہوزری بازار کے کسی شوروم کا اشتہار تھا ،چمکتے دمکتے غرارے ، شرارے،لہنگے،کامدار کپڑے اور ہوزری کی متعدد صنعتیں اس میں اس سلیقے سے پرنٹ تھیں کہ میں میرا من اس بازار کو دیکھنے کے لیے مچل ہی تو گیا ———اور پھر میرے قدم خود بہ خود اس جانب اٹھ گئے۔ایک دو افراد سے پوچھ کر میں پندرہ منٹ میں اس جگہ پہنچ گیا جہاں ہندی اور انگلش میں لکھا تھا ’آگرہ ہوزری بازار آپ کا سواگت کرتا ہے۔یا ویلکم ٹو آگرازہوزری مارکیٹ‘———کیا دکانیں تھیں اور کیا ان کی سجاوٹ،انھیں دیکھ کر وہ کدورت زائل سی ہو گئی جو ابتدامیں ہوئی تھی۔یہاں کی بھیڑ ،قیامت کی بھیڑ تھی،حشر سا بپا تھا ،عورتیں،بچے،نوخیر لڑکیاں،شاپ اونرز کی للچائی نظریں اور دکانوں پر تعینات لڑکوں کی پکاریں،یا اللہ غضب غضب۔۔۔۔۔اسی دم ایک شناسا کا فون آگیا،جسے پک اپ کر ناخود میرے وجود واحساس سے بھی ضروری تھا۔میں نے پک اپ کیا اور کچھ سنا کچھ نہ سنا،بس بس ہاں ہوں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فون ختم۔
ایک موڑ کے نکڑپر چھولے کلچے بن رہے تھے۔آوارہ گردوں کی بھیڑ میں ایک اور آوارہ گرد شامل ہوا،یعنی میں !اور ایک پتّے کی فرمایش کردی۔یہاں سے قدم اٹھائے اور’ نواب حوض‘ کی جانب چل پڑا۔حالاں کہ نہ وہاں نواب صاحب تھے اور نہ حوض کا پتا ،نشان ۔مگر اس سے مجھے کیا لینا دینا،بس سیر کرنی تھی ، یہاں ٹیڑھی میڑھی اور اونچی نیچی گلیوں میں واقع دو ریہ دکانوں نے’ عصمت چغتائی ‘کی ’ٹیڑھی لکیر‘ بنا رکھی ہے۔عجیب سا الجھائو اور عجیب سی الجھن،حساس طبائع کے لیے وہاں طبی اور نفسیاتی نقطۂ نظر سے جانامناسب نہیں ہے،ورنہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ایک جگہ تو مجھے گھٹنے پکڑ پکڑکر چڑھنا پڑا،ایک بڑے میاں کی تو لاٹھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔رکشے والے سواروں کو اس طرح کھینچ رہے تھے جیسے کسی سرکش بھینس کو گوالہ کھینچتا ہے اور وہ نتھنے پھلا پھلا کر ،پیر گھسیٹ گھسیٹ کر کھنچنے سے منع کرتی ہے۔میں دیر تک اس منظر کو دیکھا کیا اور زیر لب مسکراتا رہا۔اس ڈھلان کے اتار پر میونسپلٹی کی پول کھولتا ہوا ڈرینج سے نکلا شراٹے مارتا ہواپانی تھا،جس میں لوگ پائینچے اٹھااٹھاکر گزرہے تھے۔ایک ہائی ہیل وئیر لڑکی کا پیر پھسلا اور وہ ایسی گری جیسے اسکیٹنگ کررہی ہو۔لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی،نوجوانوں نے موبائیل کھول کر ویڈیو بنا نا شروع کر دیا۔ کچھ تو سیلفی لینے لگے۔کچھ لوگ زور زور سے چلا رہے تھے،مگر کسی جیالے کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس مصیبت زدہ کی مدد کر تا ۔اچانک ایک جانب سے شہری خطے مں تعینات پولیس کے دو جوان کپڑوں سمیت کود پڑے ۔
میں نے ایک نظر دور تک ڈالی پھر ’سب ایسا ہی ہوگا‘کہہ کر واپس پلٹ گیا۔پھر وہی ڈھلان تھی ،قدم ایسے سنبھل سنبھل کے پڑرہے تھے جیسے گلو ب سے اتررہا ہوں ۔اترتے وقت ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے’ قرۃ العین بلوچ‘، سمجھارہی ہوں:
گلّی گلّی بنّی اے نی سمئے
پیر سنبھال کے اتارئیے نی سمئے
سمّی میری وار،میں واری
میں واری آں نے سمئے
اور میں ایسے ہی اتررہا تھا اس کے باوجود بھی ایک جگہ لڑکھڑایا ،پھر سنبھل ہی تو گیا ورنہ چودہ طبق کیسے روشن ہوتے ہیں مجھے پتا چل جاتا۔
میںنے کسی دوشیزہ کی مانند سینہ تھام لیا،بے ہنگم دھڑکتے دل پر اپنا ہی ہاتھ رکھا۔وہاں سے تھوڑی دور جگہ ایک مداری ڈگڈگی بجا کر بندروں کو نچا رہا تھا۔وہیں دوچار بے مروت لوگ اور لڑکے ’اینمل رائٹس کمیشن ‘کو فون لگارہے تھے اور مداری ان سے رحم کی اپیل کررہا تھا۔
’آگرہ بازار‘ ایک’ حبیب تنویر ‘نے دیکھا اورایک میں نے ،میں نے کیا دیکھا اب تو بز م بھی رخصت ہو چکی تھی اور انجمن بے رنگ ہو چکی تھی۔میں آگے کیا دیکھتا،عافیت اسی میں سمجھی کہ الٹے پیر واپس چلوں اور پھر چل بھی پڑا۔دل برداشتہ ہوٹل پہنچا،منتظمین کو پریشان پایا۔ان کی طیش زار آنکھیں پوچھ رہی تھیں’تو مہمان یا گھمکڑ،ارے اجنبی شہر میں کوئی ایسے گھومتا ہے،پتا نہیں کہاں سے آگیا۔‘اور میں ان کے تیوروں کی پروا کیے بغیر چینجنگ میں لگ گیا۔کھانا کب کا آکے ٹھنڈا بھی ہو چکا تھا مگر میں نے اسے نہایت دل جمعی سے کھایا۔حیران لوگ،حیران شہر اور میں خود حیران،سارا جہاں مجھے ’حیران پورم ‘لگ رہا تھا۔اسی عالم حیرانی میں شام ہو گئی۔پھر میرا من للچایا اور ’شام کا آگرہ‘ دیکھنے کا من کیا۔من کا کرنا تھا کہ پیر کسی میکانیکی سسٹم کی مانند خود بہ خود آورہ گردی کے لیے تیار ہو گئے۔اس دفعہ میں عیدگاہ کالونی کی جانب چل پڑا۔کالونی کی آمد سے بہت پہلے ہی درگاہوں،ہرے ہرے نشانات،گندے پانی کے نالوں،جھاڑ جھنکاڑ اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،اس پر مستزاد یہ کہ ریہڑی اورٹھیلوں کی گہما گہمی کا عالم،شور جو تھا وہ ان سب ہنگامہ آرائیوں پر فائق تھا۔بے کار اور بے فکر یا زندگی کی بہاروں سے مایوس لوگوں کے جمگھٹے جا بہ جا تھے۔ایک سڑک میں بڑاسا گڑھا تھا ۔حد تو تب ہوئی جب میونسپلٹی کے عملے اس کی حلقہ بندی بھی نہ کی تھی،وہ موت کا نشان بنا سڑکے بیچوں بیچ یوں ہی کھلا پڑا تھا ۔آنے جانے والے کناروں سے جان بچا بچا کر نکل رہے تھے۔سائیکل رکشوں،ای رکشوں اور موٹر سائیکلوں اور دیگر ویکلس نے رہی سہی آسانیاں مشکل کر دی تھیں۔عید گاہ کالونی پہنچتے پہنچتے ایسے نظارے کئی مقامات پر دکھے۔بالآخر میں عیدگاہ کالونی پہنچ گیا۔یہاں کیا تھا؟کچھ بھی تو نہیں،مگر میرا جنون تھا جو یہاں تک لایا۔یہاں ایک ٹھیلے پر موٹے موٹے بیر بک رہے تھے ،میں نے بھائو پوچھا۔اسّی روپے کلو!یاخدا،مجھ سے وہ عالم مہنگائی دیکھا نہ گیا اور اپنا سا منہ لے کر آگے بڑ ھ گیا۔اب شام گہری گہری ہوتی جا رہی تھی اور یہاں کی بے رنگ رونقوں پر تاریک سائے چھاتے جارہے تھے۔
نہ جانے وہ کونسی ساعت تھی جب میرے سر کے ایک حصے میں درد شروع ہوا اور پھر بتدریج بڑھتے بڑھتے پورا سر اس کی جکڑ و پکڑمیں تھا۔جلد جلد میں ہوٹل پہنچا اور پاس ہی واقع ڈسپنسری سے پین کلر ٹیبلیٹ لیا۔ہوٹل پہنچا تو ایک لڑکا میرے روم کے سامنے کھڑا مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔’کیا ہے بھائی!‘میں نے اس سے پوچھا۔اور وہ بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔میں درد سر یا بخار میں بھن رہا تھا اور دنیا میرا مذاق بنانے پر تلی تھی،مگر مجھے کیا پروا۔میں نے لرزتے ہاتھوں سے خود ہی دوا لی اور چادر اوڑھ کے لیٹ گیا۔ہائے آگرہ،واہ آگرہ،کیوں آگرہ،نہیں آگرہ،کیا یہی ہے آگرہ؟عجیب عجیب سے لفظ تھا جو درد سے بھنتے سر میں آتے اور درد کی شدت بڑھا کر کہیں گم ہوجاتے ۔
ان ہی دنوں میری زندگی میں ایک عظیم الشان ہستی کی انٹری ہوئی تھی،اس کا نام۔۔۔۔نہیں نام رہنے دیں۔۔۔۔۔بس اتنا کافی ہے کہ اس عالم آتشی میں اس کی یادیں راحت دل،راحت جاں،راحت جہان تھیں۔میں نے موبائل اٹھایا اور اس کا نمبر ڈائل کیا ،مجھے بنگالی میں کمپیوٹرائز پیغام ملا:’جنو تو کول کرے آچھن اوجے دوجی کال پر بزی آچھن‘ اور پھر اس کا ہندی و انگلش میں ترجمہ۔ایک بار ،دوبار، تیسری بار آخر مل ہی گیا اور جانب آخر سے پک اپ ہوتے ہی جیسے میرے درد کا دھارا پھوٹ پڑا۔میں ان سے درد بیان کررہا تھا اور وہ نہایت رحم و کرم سے میرے جلتے بھنتے سر پر بھیگا بھیگا کپڑا رکھ رہی تھی،یعنی ہستی،مجھے کیسا سکون ملا تھا ،بیان کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔اگر پروین شاکر کے الفاظ میں کہوں تو :
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
واہ کیا لطف و سرور کا عالم تھا اور کیا وہ سماں ۔۔۔۔۔اس کی مترنم آوازکانوں کے رستے دل و دماغ میں بس کر کلفتوں کا ازالہ کررہی تھی ،پھر ایک وقت وہ آیا کہ در دسر کم ہونے لگا اور میں ان سے اجازت لے کر سوگیا۔جانے کتنی دیر تک سوتا رہا۔وہ تو کوئی باہر سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا جس نے نیند کا سلسلہ توڑا۔اب تک کچھ نقاہت باقی تھی مگر سردرد تو کافور ہوچکا تھا۔میں اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔سامنے پروگرام کنویز کھڑے تھے۔
’عمران! تمھیں کیا ہوا ہے؟ ‘اس دفعہ ان کا لہجہ رحم لبریز تھا ۔
میری آنکھیں نم ہو گئیں ،مگر نہایت حسن ادب سے میں نے انھیں پلکوں میں چھپا لیا۔جہاں دیدہ کنویز سے یہ عالم نہ چھپ سکا مگر انھوں نے بھی اسی حسن ادب کا مظاہرہ کیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بستر پر بیٹھ گئے۔
’کھانا کھایا تھا تم نے عمران!‘ وہ کسی شفیق ماں کی طرح پوچھ رہے تھے۔
’جی !‘میرا مختصر جواب تھا۔دونوں جانب حسن ادب تھا۔
’اچھا توسنو!کل کا شڈول یہ ہے کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہوتے ہی تاج محل اور لال قلعہ چلیں گے!ٹھیک ہے نا!‘
’جی!‘
’اوکے گوڈ بوائے!‘ کہہ کے وہ چلے گئے۔
میں نے دروازہ بند کرلیا۔
دوسرے دن پروگرام ختم ہونے کے دیگر ضروری مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد دن رہتے ہم لوگ تاج محل کے لیے روانہ ہو گئے۔بہت جلد جمنا کے کنارے صدیوں سے قائم تاج محل پہنچ گئے ۔آج کل اس کے آس پاس کے علاقے کو ’تاج گنج‘ کہا جاتا ہے۔تاج محل اب پہلے جیسا نہ رہا بالکل کالا ہو گیا،اس کی رونقیں جانے کون لے گیا۔میں کیا،وہ خود زبان حال سے شاہ جہاں کو پکارتا رہتا ہے:
شہر کی رونقیں مٹنے لگیں ہیں!
ترا آنا ضروری ہو گیا ہے!!
یا ’خو شبیر سنگھ شاد‘ کے الفاظ میں:
مری خاموشیاں اب مجھ پر حاوی ہو رہی ہیں!
کہ کھل کر بات کرنا اب ضروری ہو گیا ہے!
یعنی اب وہاں کچھ نہیں بچا،اس کی رہی سہی چمک ان نظروں نے لوٹ لی جو رات دن اس پر پڑتی ہیں اور اس کے پرو شکوہ کنگورے دھیرے دھیرے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔وہاں کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد لال قلعہ جانا ہوا ۔ہاں! لال قلعہ میں اب بھی کچھ یادگاروں سمیت قائم و دائم ہے اور دیکھنے والے اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھتے ہیں۔سیلفیاں لیتے ہیں اور باغ و چمن کی سیر کرتے ہیں۔گندگی پھیلاتے ہیں اور دیواروں پر نام لکھتے ہیں فلاں vsفلاں،کہیں کہیں چاک سے سیمبل آف لووَ یا لوگو بنے ہوئے ہیں اور ان کے قطر میں نام بھی۔کیا عجیب بے ہودگی ہے اور کیا عجیب جنریشن جس کے حوالے یہ وطن اور یہ آثار قدیمہ کردیے گئے۔میں تو دل برداشتہ ہی ہو گیا۔بلکہ پل پل مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو۔ایسا نہیں کہ میرے لطیف جذبات مرچکے ہیں یا میں زندگی سے مایوس ہوں،ہاں! یہ بد چلنی ضروری مجھے بری لگتی ہے۔گائڈ کی لن ترانیاں جاری تھیں اور میرا وہاں دم گھٹ رہا تھا۔دھت ہے ایسے آگرہ پر ،میں نے پروگرم آرگنائزر س سے اجازت لی اور اسی شام سامان سمیٹ کر دہلی آگیا ۔اب میں آگرہ سے بہت دور ہوں،اتنی دور کہ وہاں کی ہوا تک بھی مجھ تک نہیں پہنچ سکتی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *