• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلوبل سنیما اور جمالیات بطور مزاحمت ہومی بهابها اور فینن/سائرہ رباب

گلوبل سنیما اور جمالیات بطور مزاحمت ہومی بهابها اور فینن/سائرہ رباب

کچھ عرصہ قبل ایک تحریر میں فلم “پردیس” اور “دل تو پاگل ہے” جیسی فلموں کو مغرب پر ’’عامیانہ تنقید‘‘ قرار دیا گیا۔ یہ دعویٰ اُس پیچیدگی کو نظرانداز کرتا ہے جو نوآبادیاتی دنیا کی بنیادی حرکیات میں پوشیدہ ہے۔ اگر یہ گفتگو دو برابر فریقوں کے درمیان ہو رہی ہوتی تو شاید اس تنقید کو عام اور سطحی کہا جا سکتا تھا۔ مگر نوآبادیاتی hierarchy میں جہاں ایک طرف کولونائزر (master) اور دوسری طرف محکوم (slave) ہو، وہاں مقامی ثقافت کا ہر اشارہ، ہر استعارہ اور ہر جمالیاتی انتخاب مزاحمت کا ایک subtle مگر اہم عمل بن جاتا ہے۔

اسی طرح بالی وڈ کو محض ’’پدرسری‘‘، ’’جاگیرداری‘‘ یا ’’روایتی جبر‘‘ کے نمائندہ کے طور پر پڑھ لینا بھی ایک یوروسینٹرک oversimplification ہے۔ نوآبادیات ہمیشہ ’’کمتر ‘‘ اور ’’برتر ‘‘، ’’مہذب‘‘ اور ’’غیر مہذب‘‘ کی binary قائم کرتی ہے۔ اس بائنری میں کولیونائزر کے جمالیاتی معیارات کو اصولِ کائنات (آفاقی ) بنا دیا جاتا ہے، اور محکوم کے اندازِ اظہار، اس کی قدریں، اس کے جذبات اور اس کی تہذیب کو کمتر و ناقص ثابت کیا جاتا ہے۔ اسی لیے جب یوروسینٹرک نظر “دل تو پاگل ہے”، “پردیس” یا “ہم آپ کے ہیں کون” کو صرف ’’conservative‘‘ یا ’’paternalistic‘‘ کہہ کر dismiss کرتی ہے، تو وہ دراصل اسی استعمارانہ نگاہ کا تسلسل ہے جو مقامی خودی کو پہچاننے سے انکار کرتی ہے۔

ہومی بھابھا: Hybridity بطور آزادی کی جگہ

ہومی بھابھا کی تھیوری بتاتی ہے کہ نوآبادیاتی دنیا میں محکوم دو شناختوں کے درمیان جیتا ہے:
ایک اپنی مقامی اور دوسری کولونائزر کی مسلط کردہ۔
لیکن محکوم آقا کی شناخت میں مکمل ضم نہیں ہو جاتا۔۔۔اصل مزاحمت تب بنتی ہے جب وہ کولونائزر کی زبان و طریقہ میں اپنا شامل کر کے اسکو اپنے مفاد میں ڈھال لیتا ہے۔ اس عمل کو بھابھا “subversive hybridity” کہتا ہے:
جدت کے سانچے میں رہ کر روایت کے معانی داخل کر دینا، اور یوں ایک “Third Space of Enunciation” پیدا کرنا جہاں محکوم اپنی شناخت نئے انداز میں بیان کرتا ہے۔

آج کے گلوبل نیولبرل دور میں بھی یہی عمل جاری ہے۔ جو قوم اپنی جڑوں سے کٹ کر global aesthetics کو اپناتی ہے، وہ اس میں حل (dissolve) ہو جاتی ہے۔ مگر جو قوم اپنی زبان، روایت، جمالیات اور روحانی شعور کے ساتھ global دنیا میں داخل ہوتی ہے، وہ اپنی شناخت بچا کر، بلکہ نیا بنا کر آگے بڑھتی ہے۔

فلم Animal کی مثال: شناخت کی بازیافت

فلم “اینیمل” میں انیل کپور وہ باپ ہے جو مقامی شناخت و اقدار چھوڑ کر نیولبرل ’’efficiency‘‘، ’’profit‘‘ اور ’’self-interest‘‘ کی مشین بن چکا ہے۔ دوسری طرف رنبیر کپور کا کردار اپنی جڑوں، خاندان، رشتوں اور وفاداری کی طرف واپسی کا سفر ہے ۔۔۔۔یعنی گلوبل اقدار کے مقابل مقامی masculinity کی بحالی۔۔

اس کے لیے اس کے گارڈ ’’labour‘‘ یا ’’commodity‘‘ نہیں بلکہ بھائی ہیں۔
اس کی بیوی کا گھر سنبھالنا بجائے خود گلوبل feminist prototypes کے خلاف subtle مزاحمت ہے ۔۔۔جہاں کیئر ، مامتا (motherhood) ، اور emotional labour کو کمزوری کے بجائے قوت سمجھا گیا۔

فلمیں جیسے “دل تو پاگل ہے”، “ہم آپ کے ہیں کون” یا “کبھی خوشی کبھی غم” بظاہر شہری اور جدید دنیا دکھاتی ہیں، مگر ان کے اندر ایک مضبوط مقامی روح موجود رہتی ہے..مادھوری، ماہیما، اور کاجول کی نسائیت حیا، قربانی، رشتے، وفا اور محبت کو کمزوری نہیں بلکہ روحانی طاقت کے طور پر پیش کرتی ہے، اور شاہ رخ خان مغربی “macho or aggressive hero” نہیں بلکہ جذبات، وفاداری, selflessness اور خاندان کو ترجیح دینے والا ہندوستانی مردانہ ideal بن کر سامنے آتا ہے۔ یہی وہ ثقافتی خودی ہے جس کی طرف فینن بھی اشارہ کرتا ہے۔

نوے کی دہائی تک بالی وڈ میں یہی آزاد cultural space موجود تھی، مگر وقت کے ساتھ فلمیں گلوبل aesthetics میں ضم ہوتی گئیں، جس کے نتیجے میں دامنی، لجا، دیوداس جیسی عورتیں ..جو محبت، خاندان، مامتا اور ایثار کے ذریعے مضبوط تھیں ..اب یوروسینٹرک نظر سے “patriarchy” کی علامت بنا دی گئیں، اور ان کی جگہ وہ ماڈرن feminist کردار آگئے جو خاندان اور رشتوں کے بجائے nudity، سیکس، کیریئر اور self-interest میں آزادی ڈھونڈتے ہیں۔ اس طرح مقامی شناخت کے بجائے گلوبل اقدار کا انجزاب بڑھ گیا۔

جب مادھوری، شاہ رخ یا ماہیما جیسے کردار “دل تو پاگل ہے” اور “پردیس” میں “ideal Indian self” کو رقص، لباس، زبان، اور احساس کے ذریعے پیش کرتے ہیں، تو وہ دراصل نوآبادیاتی جدیدیت کے سانچے میں رہ کر اپنی مقامی خودی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔

کرشمہ ‘” دل تو پاگل ہے” میں مغربیت (Western modernity) کی نمائندہ ہے ۔۔۔ جہاں رقص بھی ایک commodity ہے، مگر پوجا ایسی نہیں ہے۔ پوجا جب گاتی یا ناچتی ہے تو صرف اپنے لیے۔
اسی میں اس کی روحانیت ہے، اسی میں اس کی جمالیاتی مزاحمت ہے۔

یہاں “دوپٹہ”، “نگاہ جھکانا”، “رقص کا انداز”، “مادھوری یا ماہیما کا اظہارِ نسائیت” ۔۔۔ یہ سب وہ مقامی جمالیاتی کوڈز ہیں جو مغربی “individualist feminism” سے مختلف ہیں۔

یہ “pure opposition” نہیں، بلکہ subversive hybridity ہے ۔۔۔۔ یعنی وہ مغربی cinematic فارم کے اندر رہتے ہوئے اپنی تہذیبی signs واپس داخل کر دیتے ہیں۔ یہی بھابھا کی “Third Space of Enunciation” ہے، جہاں محکوم اپنی جڑوں سے جڑ کر اپنی شناخت نئے انداز میں تشکیل دیتا ہے۔

یوروسینٹرک تنقید جب ان علامات کو سیدھا “پدرشاہی یا روایتی جبر” کے خانے میں ڈال دیتی ہے تو دراصل وہ اُس تہذیبی autonomy کو نظرانداز کر دیتی ہے جو برصغیر کی نسائیت میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے ۔۔۔ شرم، حیا، قربانی، عشق ، وفا ۔۔۔۔ یہ سب محکومی یا جاگیر داری کی علامت نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی و روحانی selfhood کے اظہار کی شکلیں بھی ہو سکتی ہیں۔

یہی وہ پہلو ہے جو فینن کی The Wretched of the Earth میں بھی موجود ہے، اگر اسے یوروسینٹرک زاویے سے نہیں بلکہ neo-colonial continuity کے تناظر میں پڑھا جائے۔

فینون کے مطابق بھی حقیقی آزادی تب ممکن ہے جب محکوم قومیں مغرب کی نقالی کے بجائے اپنی تہذیبی روح، زبان اور شعور کو زندہ کریں۔۔۔یعنی hybridity اپنی مٹتی شناخت کو دوبارہ تخلیق کرے نہ کہ ختم کرے۔ ماضی کی “رومانی بحالی” حل نہیں، مگر آزادی کی جدوجہد میں ماضی سے تعلق اور روایت کی بازیافت ضروری ہے کیونکہ یہ قوم کو خودی، وقار اور فکری بنیاد دیتی ہے۔
اور یہی فلمی مثالوں میں نظر آتا ہے ۔۔۔

مادھوری یا شاہ رخ کا کردار ماضی میں جکڑا ہوا نہیں، بلکہ “نئے ہندوستان” کی وہ شکل ہے جو جدت میں رہتے ہوئے اپنی زبان، محبت، روحانیت اور تعلقات کی تعریف مغرب سے الگ بناتا ہے۔
یہی “neocolonial modern slavery” کے خلاف cultural survival ہے۔
یہ مزاحمت بندوق سے نہیں، بلکہ جمالیات کی سطح پر خودی کی بقا ہے۔

مزید برآں ہر تہذیب کے اپنے نسائی و مردانہ تصورات ہوتے ہیں۔ ہندوستانی تہذیب میں مرد کا حسن صرف طاقت نہیں بلکہ قربانی، ذمہ داری , بے غرضی اور اجتماعی بھلائی ہے، اور عورت کا حسن صرف ’’bold‘‘ اور فرینک ہونے میں نہیں بلکہ اس کے ایثار، حیا، کیئر اور خاموش محبت اور وفا میں ہے۔ ان فلموں نے دکھایا کہ مغربی “liberated” ماڈل کے برعکس ہندوستانی عورت کی اصل خوبصورتی اس کی باطنی گہرائی اور روحانی اظہار میں ہے۔۔ ۔۔

نیو لبرل دور میں نئے ماڈل: محبت پر سے اعتماد کا زوال

نوّے کی دہائی کی ہیروئن جو بہن کے لیے محبت قربان کرتی تھی (ہم آپ کے ہیں کون، دل ہے تمہارا)
اب sister-rivalry اور personal interest میں طاقت دیکھتی ہے (Hasee Toh Phasee)۔

ہیرو اب سماج، خاندان یا محبت کے لیے نہیں لڑتا۔۔۔وہ existential dilemmas میں مبتلا ‘‘self-discovery’’ کے سفر پر ہوتا ہے۔

Semiocapitalism اور Cultural Resistance

جہاں برارڈی کے نزدیک semiocapitalism پرانی شناختوں کو پگهلا کر نیی سرمایہ کاری شناختیں پیدا کرتا ہے ۔۔یہ فلمیں -نیو لبرل aesthetics کے خلاف نئی لیکن rooted identities پیدا کرتی ہیں، جو global اور modern ہونے کے ساتھ اپنی روایت، خودی اور انفرادیت (uniqueness) کو برقرار رکھتی ہیں۔ لوگ ان کرداروں کو idealize کر کے copy کرتے ہیں، اور احساس کمتری کی جگہ اعتماد حاصل کرتے ہیں ۔ اور اسی عمل میں مقامی شناختیں اور ثقافتی values دوبارہ جنم لیتی ہیں۔

نوآبادیاتی اور جدید مغربی بیانیہ نے کہا کہ یہ سب “غیرعقلی” یا “پسماندہ” اقدار ہیں، کیونکہ جدید دنیا خود غرضی، فائدے، انفرادیت, efficiency اور hyper independence کی منطق پر چلتی ہے۔اب تخلیقی تعبیر یہ ہے کہ کوئی فنکار یا قوم انہی اقدار کو نئے مفہوم میں زندہ کرے ۔۔۔۔مثلاً یہ دکھائے کہ محبت اور قربانی کمزوری نہیں، بلکہ استعمار اور سرمائے کے خلاف انسانی بقا کی علامت ہیں۔

“ہم آپ کے ہیں کون”، ” کبھی خوشی کبھی غم “بظاہر ایک روایتی خاندانی فلم ہے۔مگر تخلیقی تعبیر یہ ہے کہ اس نے neoliberal معاشی دور میں (جہاں سب کچھ مارکیٹ بن چکا تھا) ،کم سے کم رشتوں، خاندان، اور اجتماعی محبت کو مرکز میں رکھ کر دکھایا ۔۔
کیوںکہ مارکیٹ فیملی ، رشتون ، محبت اور وفا کو کمزور کرتی ہے ۔

یعنی ماضی کی اقدار (محبت، قربانی، حیا) کو نئے دور کے تناظر میں مثبت، معتبر اور جدید بنا دیا گیا۔

باہو بلی کو بھی بعض لوگ patriarchy، پرانے شاہی نظام اور oppressive structures کے glorification کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس کی اپنی cultural aesthetics، اقدار، اور ہندوستانی مرد و عورت کے مثالی تصورات ہیں، جو مغرب کے feminism اور مردانگی کے تصورات سے قطعی مختلف ہیں۔ یہی ایک مزاحمت اور فن کی خوبصورتی بھی ہے۔

فینن کہتا ہے کہ محکوم قوم اگر اپنے ماضی سے رشتہ مکمل طور پر توڑ دے تو مغرب کی نقل میں اپنی روح کھو دیتی ہے، لیکن اگر وہ ماضی کو جامد اور بے جان صورت میں اپنائے تو وہ بھی زندہ قوم نہیں بن سکتی.. محکوم اپنے ادب، موسیقی، یا زبان کو ایسے استعمال کرے کہ وہ آج کے ظلم کے خلاف بولے، مگر اپنی جڑوں سے جڑا رہے۔ ماضی کو حال کے مطابق نیی معنويت دے ۔ یہی بهابها کی ہائبرڈٹی کہتی ہے ۔

کالکی فلم نے مہابھارت کے myth کو Aldous Huxley کے ناول Brave New World والے سائنسی dystopia میں ملا کر ایک hybrid genre پیدا کیا ہے۔۔۔جو اسے ماڈرن دنیا سے relate کرتا ہے ۔
یعنی myth کو ماڈرن کونٹیکسٹ میں دوبارہ سیاسی شعور میں داخل کرنا۔۔ساؤتھ انڈین سنیما اس ہائیبرڈ مزاحمت کی عمدہ مثال قائم کرتا ہے ۔۔جیسے کانتارا ۔۔

اینیمل فلم کا سب سے اہم گانا ارجن ویلی’ ….جس میں گنڈاسا، دھوتی، کرتا، لوک دھنیں اور جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی
یہ سب ماضی اور حال کی hybrid مزاحمت ہے۔اور ماضی کی با معنی تخلیق ۔۔
یہی عمل رنگ دے بسنتی اور راون میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں بھگت سنگھ یا راون اور رام جیسے کرداروں کو نئے تناظر میں زندہ کیا جاتا ہے۔

ساؤتھ فلم ” سر (Vathi)” میں تعلیم بطور کموڈٹی کے ماڈرن تصور کو روایتی مذہبی اور ثقافتی تصور سے رد کیا گیا ۔

یہی فینن کا “ماضی سے جڑتے ہوئے حال میں نئی معنویت پیدا کرنا” ہے۔

“Laapata Ladies” میں “روایتی عورت” یا “دیہاتی زندگی” کو دقیانوسی نہیں بلکہ طاقتور، خودمختار اور organic wisdom رکھنے والی دکھایا گیا ہے۔بتاتی ہے کہ empowerment صرف مغربی feminist ماڈل نہیں۔۔۔
اپنی ثقافت کے اندر رہ کر بھی طاقتور اور خودمختار ہوا جا سکتا ہے۔
یہ وہی بات ہے جو فینون اور بھابھا دونوں کہتے ہیں کہ نوآبادیاتی یا نیو لبرل دنیا جب روایت کو “پسماندگی” کے طور پر پیش کرتی ہے، تو تخلیقی مزاحمت یہی ہوتی ہے کہ آپ اسے نئے مفہوم کے ساتھ reclaim کریں ۔۔۔

روایت + جدت = تہذیبی بقا
جیسے Laapata Ladies میں عورت مغربی feminist prototype نہیں بنتی، بلکہ اپنی ثقافت کے اندر رہ کر طاقتور ہوتی ہے

julia rana solicitors london

لہٰذا ان فلموں کو محض “state narrative” یا “bourgeois moralism” سمجھ لینا سطحی موقف ہے ۔۔ ان میں وہ hybrid resistance موجود ہے جو محکوم ثقافت کے دل میں دھڑکتی ہے۔ کیوں کہ یہی وہ “Third Space” ہے جہاں غلام کو اپنی آواز اور اپنی نظر واپس ملتی ہے۔اور فینن کی ماضی کی بازيافت میں نیی معنویت ۔
جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply