دانش کدہ سے کچھ /راشد دانش انصاری

پستیِ عالم میں ملنے کو جُدا ہوتے ہیں ہم
عارضی فُرقت کو دائم جان کر روتے ہیں ہم
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں
موت ، انتقال اور وصال تینوں مختلف الفاظ ہیں ان کی کیفیت و نوعیت بھی الگ الگ ہے اور یہ تینوں الفاظ انسان کے خاکی جسم کے ابدی سفر کے خاتمے اور دائمی سفر کے آغاز کی داستاں کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ موت خاکی جسم کا خاتمہ ہے جس کے ختم ہونے کے بعد کوئی نام لیوا ہی نہ ہو ۔ انتقال اس دنیا سے اگلی دنیا کی طرف منتقلی کا نام ہے جب کہ وصال کادرجہ ان دونوں سے اعلیٰ  ہے جب کسی نیک بندے کا انتقال تو ہوتا ہے لیکن اس کی منتقلی وصال (ملاقات،وصل ) کی صورت میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرہ کا بھی عزیز تر ہوتا ہے جس کے جانے پر رنج و غم اور دکھ کی ناقابل بیان حالت زار محسوس کی جاتی ہے ۔

کچھ ایسی ہی کیفیت گزشتہ سال تیس مئی کو پیش آئی۔ جب ہمارے بڑے ہی ہر دلعزیز حاجی صفدر حسین کھچی صاحب کا وصال ہوا تو گاؤں کے ہر فرد کی آنکھ اشک بار تھی۔ ہر کوئی یہی محسوس کر رہا تھا کہ میرا اپنا جدا ہوا ہے ۔ کیونکہ حاجی صفدر حسین کھچی صاحب کی شخصیت بے شمار خصائص کا مرقع تھی۔ کسی بھی شخصیت کے معیار کا تعین کرنے کے لئے اس کی سماجی ،مذہبی، روحانی، اخلاقی ،نفسیاتی و عائلی ،معاشی دیگر پہلوؤں کا احاطہ کیا جاتا ہے جس سے اس کے رویوں کا علم ہوتا ہے جس سے اس کے شخصی معیارات کا بھی تعین ہوتا ہے اس حوالے سے جائزہ لیا جائے تو ہمیں حاجی صفدر حسین کھچی صاحب کی شخصیت بے مثال اور عمدہ ترین ملتی ہے ۔ جب ہم ان کی مذہبی کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ پانچ وقت کے نمازی تھے۔ اللہ کریم کے گھر کی زیارت بھی کی۔ گاؤں میں ہونے والے مذہبی معاملات میں بڑی خوش اسلوبی اور دلچسپی سے حصہ لیتے تھے۔ محافل نعت کا اہتمام کرنے میں اپنے رفقا کے ساتھ پیش پیش رہتے تھے ۔ گاؤں میں فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ سماج میں ان کا کردار لائق تحسین اور قابل تقلید ہوتا کیونکہ وہ مثبت سوچ کے حامل تھے سب کے لئے خیر و عافیت کے جذبات رکھتے تھے جس ان کی زندگی کے عمدہ کردار کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اخلاقیات کاتذکرہ کریں تو دھیما  لہجہ اور ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پہ ہوتی جو سننے والے کے دل کو موہ لیتی اور وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا ۔ اور آپ کی باتوں کا قائل ہو جاتا ۔ اگر ان کی نفسیاتی اور عائلی زندگی کے پہلوؤں کو دیکھیں تو آپ کا کردار انتہائی نفاست و شرافت کا مجموعہ تھا خوبصورت لباس زیب تن کرتے ۔ اخلاق و عادات میں بھی نفاست جھلکتی کبھی اونچے اور بلند و آہنگ لہجے میں بات کرتے نہیں سنا۔ گھر کے افراد کے خصوصا ًبیٹوں کو دوست بناکر رکھا، ان کی تعلیم و تربیت سے لے کر شادی کے معاملات کو نہایت ہی احسن انداز میں انجام دیا۔ رہنے کے انتہائی شاندار مسکن تعمیر کیا جو اپنی خوبصورتی اور دلکشی کا عمدہ نمونہ ہے۔ اگر ان کی معاشی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو بہت ہی عالی شان ملتی ہے دوست احباب اور برادری کی آنکھوں کا تارا تھے ہر کوئی اپنے ذاتی و خاندانی معاملات میں آپ کی رائے لینا مقدم سمجھتا تھا کہ بہترین انداز میں امور کی انجام دہی ہو ۔ آپ کی شخصیت گاؤں کی ان شخصیات میں شمار ہوتی ہے جو اپنے طور اطوار ، اخلاق و کردار اور سنجیدگی و متانت کے لحاظ سے معتبر ہیں سیاسی پہلو ہو یا سماجی ۔ اخلاقی ہو یا مذہبی اکٹھ ان میں آپ کی شرکت اور آپ کی رائے کو فوقیت و اہمیت دی جاتی کیونکہ آپ ہمیشہ فلاح و بہبود اور خیر و عافیت کو مدنظر رکھتے جس کی وجہ سے آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا شاید لکھوں یا یقیناً کہوں کہ آپ کی زندگی تریسٹھ برس رہی جس سے آپ کی خوش قسمتی اور نسبت حبیب خدا محبوب خدا سے بھی ملتی ہے کیونکہ اللہ کے حبیب نے بھی ظاہری طور پر تریسٹھ برس گزاری ۔ ابدی سفر کا وقت ہوا تو آپ کے چاہنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جو قرب و جوار سے تشریف لائے جس کی وجہ آپ کا اخلاق حسنہ تھا جو آپ دوران فرائض منصبی لوگوں کے ساتھ اختیار کرتے اپ واپڈا میں ملازمت کرتے تھے جب آپ کی ریٹائرمنٹ کا دن تھا تو آپ کے دفتری اہلکار آپ کو گھر تک الوداع کرنے آئے جہاں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے خوشی و مسرت کے ساتھ ساتھ اللہ کا شکر بھی ادا کرنا مقصود تھا کہ صحت و تندرستی والی زندگی کے ساتھ ملازمت سے فراغت میسر آئی جو کم کم نصیب ہوتی ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

حاجی صفدر حسین کھچی صاحب کی زندگی راقم کے لئے بہترین نمونہ ہے جنھوں نے ہمیشہ بیٹا بنا کر رکھا دکھ درد میں شریک ہوئے اور گھریلو معاملات میں بھی شریک کرتے اور بیٹوں کی حیثیت دیتے ۔ آپ کی شخصی زندگی بے شمار کمالات کا نمونہ تھی جو آج کل کی مادیت پرست زندگی میں خال خال نظر آتے ہیں ۔ آپ سے محبت کے اظہار کے لیے پیارے دوست راکب مختار کا شعر کہوں گا۔
دکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply