فینن: ثقافت اور ذہنی آزادی
فرانز فینن (Frantz Fanon) کہتا ہے کہ استعمار سب سے پہلے ’’دماغ‘‘ کو غلام بناتا ہے۔
“Colonialism colonizes the mind.”
فینن کے نزدیک نوآبادیاتی غلامی صرف سیاسی اور معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور جمالیاتی غلامی بھی ہے۔ غلام کو یہ احساس دیا جاتا ہے کہ اس کی زبان، لباس، یا موسیقی کمتر ہے۔ اس لیے فن کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنی خوبصورتی پر یقین دوبارہ حاصل کرے۔
اسی لیے فینون کے نزدیک ثقافتی بازیافت (cultural reclamation) سیاسی آزادی کی تمہید ہے۔
جب کوئی قوم اپنی زبان، موسیقی، رقص، یا کہانیوں کو زندہ کرتی ہے، تو وہ دراصل اپنی شناخت اور خودی واپس لاتی ہے۔
فرانتز فینون نے The Wretched of the Earth میں لکھا کہ
“At the beginning, the native intellectual produces work which is not fighting literature, but a literature of lament. Yet even this lament is a form of resistance.”
یعنی ابتدا میں محکوم صرف درد بیان کرتا ہے، مگر یہی درد مزاحمت کی بنیاد بن جاتا ہے۔
اسی طرح اٹتونیو گرامچی کے نزدیک طاقت صرف معیشت یا ریاستی جبر سے نہیں، بلکہ ثقافتی ہیجمنی (Cultural Hegemony) سے بھی قائم رہتی ہے۔ اس لیے مزاحمت کی پہلی شکل اکثر ثقافتی یا علامتی ہی ہوتی ہے کیونکہ یہی وہ میدان ہے جہاں “consent” یعنی رضامندی پیدا کی جاتی ہے۔
برصغیر میں جب نوآبادیات نے قبضہ کیا تو انہوں نے صرف زمین نہیں لی، جمالیات کی تعریف بھی بدل دی۔ دیسی موسیقی، زبان، شاعری اور لباس کو “غیرمہذب” کہا گیا۔ یہ وہی عمل تھا جسے ایگلٹن “سیاسی جمالیات” کہتا ہے .. یعنی طاقت نے خوبصورتی کے معنی اپنے مفاد کے مطابق طے کیے۔
نوآبادیاتی نظام نے عوامی فن کو “لوک” کہہ کر نیچا دکھایا، اور مغربی فن کو “اعلیٰ” قرار دیا۔ مگر مقامی فنون … چاہے وہ صوفیانہ قوالیاں ہوں، ٹھمری ہو یا لوک کتھائیں … دراصل عوامی شعور کی سیاست تھے۔ یہ محض لوکل آرٹ فارمز نہیں بلکہ اجتماعی تجربے کی زبان تھے، جنہیں مٹانا نوآبادیاتی کنٹرول کا حصہ تھا۔
اسی لئےجب ایک نظام انسان کے خوابوں پر قبضہ کر لیتا ہے تو آزادی کی جدوجہد خواب دیکھنے کے حق سے شروع ہوتی ہے۔
’’دل تو پاگل ہے‘‘ میں کرشمہ کپور کا مغربی رقص اور ملبوسات ایک globalized aesthetic دکھاتے ہیں،
جبکہ مادھوری کا رقص، لباس، کردار اور موسیقی ہندوستانی جمالیات کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ محض لباس کا فرق نہیں ، بلکہ ثقافتی خودی (cultural assertion) کا بیان ہے۔
مادھوری کے کردار میں مشرقی رومان، احساس، اور روایت سے جڑی ہوئی محبت کی اخلاقیات زندہ ہیں۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں فن کی فارم خود مزاحمت بن جاتی ہے۔جیسا کہ فینون کہتا ہے، یہی “pre-political resistance” ہے جو آگے چل کر شناختی اور فکری آزادی کی بنیاد بنتی ہے۔
یہی ثقافتی خودی ہمیں فلم ” پردیس” میں بھی ” گنگا اور ارجن” کے کردار میں دکھائی دیتی ہے ۔
فلم ” تال ” میں ایشوریا رائے کا کردار جدید موسیقی کی انڈسٹری میں داخل ہو کر بھی اپنی لوک گائیکی اور روایتی رقص کو برقرار رکھتا ہے۔ فلم خود یہ دکھاتی ہے کہ “ماڈرن پلیٹ فارم ” پر “local form” کو assert کرنا بھی ایک مزاحمت ہے۔
فلم “کانتارا ” یا ” پشپا ” میں رقص، ڈھول، قبائلی نغمے،یہ سب مل کر ایک ایسی form بناتے ہیں…جو صرف کلچر نہیں دکھا رہی ۔۔ بلکہ سامراجی جبر کے خلاف عوام کی روحانی مزاحمت کا منظر تخلیق کر رہی ہے۔
فلسطینی شاعر محمود درویش کی نظم “Identity Card” میں
“Write down!
I am an Arab.”
ایک سادہ جملہ نہیں، بلکہ شناخت کی بازیافت کا اعلان ہے ۔۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی یا نوآبادیاتی جمالیات میں زندگی کا مطلب انفرادی لذت، آزادی، سیکس ، desire, travel یا وجودی تنہائی (existential loneliness) کے گرد گھومتا ہے ۔۔۔ جیسے فلم “زندگی نہ ملے گی دوبارہ ” یا “یہ جوانی ہے دیوانی “، ” تماشا” جیسی فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف “خود کو پانے” اور “pleasure experience” کرنے میں ہے۔ یہ وہ “existential vacuum” ہے جسے سرمایہ دارانہ تمدن نے رومانوی خوبصورتی بنا دیا ہے۔
اس کے برعکس جنوبی ہند یا پنجابی فلموں میں ہیرو اجتماعی بہبود، قربانی، رشتوں کی حرمت اور محبت کی اخلاقیات کا نمائندہ ہوتا ہے۔ تو یہ بھی ثقافتی خودی کی assertion ہے ۔فلم “Pushpa” میں ہیرو اپنی “میں” کو نہیں بلکہ اپنی “کمیونٹی” کو بچانے کے لیے لڑتا ہے ۔۔سلطان راہی کا مولا جٹ یا نظام ڈاکو صرف طاقت یا انتقام کی کہانیاں نہیں، ہیرو کا مقصد “خود کو پانا” نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف اپنے قبیلے اور عوام کا وقار بچانا ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مقامی جمالیات عالمی سرمایہ دارانہ “existential art” کے خلاف مزاحمت بن جاتی ہیں ۔۔آج جب پاکستانی یا بھارتی سنیما مغربی سانچوں میں کہانیاں لکھتا ہے ۔۔۔ جہاں کردار ایسی الجھنوں میں مبتلا دکھائے جاتے ہیں جو اس خطے کے لوگوں کے حقیقی تجربے سے جڑی ہی نہیں ہوتیں ۔۔۔تو لوگ ان سے جڑ ہی نہیں پاتے اور اجنبیت alienated محسوس کرتے ہیں ۔
فن کی زندہ مزاحمت
مارکوز کہتا ہے کہ حاکم طبقے اصل آزادی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ آزادی اُنہیں خطرہ لگتی ہے، اور رفتہ رفتہ “ممنوع” (taboo) بنا دی جاتی ہے۔ مارکیوز کے نزدیک مزاحمت کا آغاز فرد کی سطح سے ہونا چاہیے ۔۔یعنی چھوٹے چھوٹے ذاتی انکاروں سے، جو انسان کی آفاقی آزادی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ روزمرّہ کی مزاحمتیں، چاہے غیر آزاد معاشروں میں ہوں، آنے والی آزاد زندگی کی جھلک دکھا سکتی ہیں۔ جیسے شکیل جعفری کتنی خوبصورتی سے مزاحمت کا بیج بوتی ہے
تتلی فاحشہ ہے پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے
شریعاً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا یہ کافر ہے
یا جگر مراد آبادی کا یہ شعر:
یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
سرمایہ داری انسان کو مشین بنا دیتی ہے، مگر اپنے دکھ، محبت اور خواب کو زندہ رکھنا خود مزاحمت ہے۔ یہی فن کا کردار ہے .. انسان کو یاد دلانا کہ وہ محض پرزہ نہں بلکہ محسوس کرنے ، تخلیق کرنے اور بدلنے والا وجود ہے ..یہ بتاتا ہے کہ انسان ابھی مرا نہیں، اس کے اندر احساس کی آگ باقی ہے۔
بعض مارکسی نظریہ دان کہتے ہیں کہ آرٹ فریب (illusion) ہے،کیونکہ یہ حقیقت سے الگ ایک دنیا بناتا ہے۔
مارکیوز کے مطابق “aesthetic illusion” فریب نہیں بلکہ آزادی کا تجربہ ہے۔ جب ہم کسی فلم میں انصاف یا محبت کی کامیابی دیکھ کر آزادی محسوس کرتے ہیں، تو یہی احساس خواب کو جنم دیتا ہے، اور خواب تبدیلی کی سمت پہلا قدم ہے۔
سرمایہ داری ہر شے کو ’’استعمال‘‘ کے پیمانے پر تولتی ہے، حتیٰ کہ محبت اور الفاظ کو بھی۔ مگر فن اس منطق کو توڑ دیتا ہے، کیونکہ ایک نظم یا نغمہ نفع کے بغیر بھی دل میں اترتا ہے۔ یہی آزادی کی پہلی مشق ہے۔
مارکیوز کہتا ہے، جب نظام ہر چیز کو جذب کر لے، تو حقیقی مزاحمت وہی ہے جو استعمال نہیں ہو سکتی … یعنی ایسا فن جو آزاد ہو، مقصد سے ماورا۔ یہی بات مابعدِ نوآبادیاتی مفکرین بھی کہتے ہیں ۔۔۔مقامی، عوامی اور روزمرہ جمالیات خود آزادی کی طرف سفر ہیں۔ فن اگر ساختی مزاحمت نہ بھی کرے، تو حسّی اور تخلیقی سطح پر ضرور مزاحمت کرتا ہے۔ وہ دل، زبان، اور خواب بدل دیتا ہے .. اور انقلاب وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
جیسا کہ جالب کہتا ہے:
اَک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گھُٹتا ہے گنبدِ بے در میں
اے دیدہ ورو! اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
اور اوتار سنگھ پاش کے الفاظ میں:
سب توں خطرناک ہوندا ہے
مُردہ شانتی نال بھر جانا، ساڈے سُپنیاں دا مر جانا
ایسا فن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جبر کے اندر بھی انسانیت زندہ ہے۔
فرینکفرٹ اسکول کے مفکرین (ایڈورنو، ہورک ہائمر) کہتے ہیں کہ آج فن صنعت بن گیا ہے .. موسیقی اور فلم منافع کے لیے بنتے ہیں، مگر اس کے اندر بھی مزاحمت کی گنجائش باقی ہے۔ اسٹریٹ ڈانس، ریپ، فوک گیت، اور صوفی کلام … یہ سب عام لوگوں کے دکھ بیان کر کے طاقت کے نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔۔
جیسے مائیکل جیکسن کا ” they dont really care about us”, “alright” , ” ساڈا حق ” ، “295”, ” بلھا کی جاناں میں کون “، ” اج اکھاں وارث شاہ نوں ” ۔۔۔
یوں فن اور ثقافت دو دھاری تلوار ہیں . وہ طاقت کو مضبوط بھی کر سکتے ہیں اور سماجی تبدیلی کا ہتھیار بھی بن سکتے ہیں۔
اور فن، خواہ وہ لوک کہانی ہو، قوالی، یا فلم ہو ۔۔۔
اگر وہ انسان کو احساس، تعلق، اور تخیل واپس دیتا ہے،
تو وہ محض فن نہیں ۔۔۔
ایک زندہ مزاحمت ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں