ایک تصویر ایک کہانی۔۔۔شفیق زادہ/تیسری کہانی

میڈم ڈینگی سے بچ کے رہنا بابو !
سالا ایک مچھر آدمی کو ٹائیں ٹائیں فش کر دیتا ہے مگر مچھرنی، اُف توبہ ، پوچھیں مت، یہ نازک اندام پتلی کمر والی باربی ڈول پہلے بستر اور پھر بکسے میں بند کروا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق موذی ڈینگی بخار پھیلنے کی وجہ مسٹر مچھر نہیں بلکہ میڈم مچھرنی ہے جو کہ رنگین لباس اور پرفیوم پر جلدی مائل بہ کرم ہوتی ہے۔اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ مادہ کسی کی بھی ہو مادیت پرستی اس کے خون میں ہے۔ رنگین لباس اور پرفیوم تو صنفِ نازک ہی زیادہ استعمال کرتی ہیں یا پھر انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے وہ سورما جو ” نازک صنفی بطور روزی” ازخود اختیار کر لیتے ہیں۔ لہٰذا ڈینگی مچھرنی کاا آسان شکار صنفی امتیاز سے قطع نظر ان کی اپنی چمکتی دمکتی مہکتی (انسانی) سکھی سہیلی ہی ہو سکتی ہے۔ ہماری شامت کہ ہم نے پیارے میاں سے پوچھ لیا کہ اگر مچھرنی میں مادیت پرستی ہوتی ہے تو مچھر میں کیا ہوتا ہے؟

پان کی تازہ گلوری منہ میں ڈالتے ہوئے پیارے میاں نے برجستہ کہا “مادہ پرستی”۔

ایک تصویر ایک کہانی۔۔۔۔۔شفیق زادہ/پہلی تصویرکہانی

یہ جواب دونال کی بندوق کا ایسا فائر تھا جس کی داغی گئی دوسری اَن دیکھی گولی کا شکار بھی ہم ہی تھے، پہلی گولی تو حسب روایت” فرینڈلی مِس فائر ” تھی۔
ہمیں سمجھ آ گیا تھا کہ “کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ” کا کیا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔
پیارے میاں خوب جانتے ہیں کہ ہم “زن مرید” ہونے کے ساتھ “زن گزیدہ” بھی ہیں مگر انہیں ہمارے زخم کھرچنے میں ہی لذت ملتی ہے، بھلے ہمیں “مجھے تم نظر سے گِرا تو رہے ہو” والی فیلنگ ہی کیوں نہ آرہی ہو۔

زمانہ قبل از اے سی ( AC) میں ناراض بیبیاں، میاں اور مچھروں کے بےوقت بھن بھن راگنی سے بچنے کے لیے مچھردانی کو تھوڑا سا اُٹھا کر افواجِ مچھراں کو اندر اور خود باہر کھسک جایا کرتیں۔ میاں جی کو مچھروں سے بھڑا کر خود حفاظتی انتظام کا یہ کارگر نسخہ ہوا کرتا تھا۔ بیچارے میاں جی جورو کھوجنا چھوڑ کر رات بھر جا بجا کُو بہ کُو کھجانے میں ہی خرچ ہو جاتے اور یوں مطلوبِ شوہر یعنی خاتونِ گم شدہ نیند پوری کر لیا کر تیں ۔

ایک تصویر ایک کہانی۔۔۔ شفیق زادہ / دوسری تصویر کہانی

ہم نے انہیں مادام ڈینگی کی ہلاکت خیز عشوہ طرازی سے بچاؤ کی خاطر ایک جدید تکنیک کا حوالہ دیا ،جس سے دوشیزہ کی دو سے چار اور پھر بے شمار کرنے کی پیداواری صلاحیت ختم کی جاسکتی تھی۔ پیارے میاں نے ایک بار پھر ہمیں ویسی نظروں سے دیکھا جیسے آمر حکمران عوام کو دیکھتے ہیں یعنی ” جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں” والی نظر اور فرمایا “گویا آپ جمہوریت بہترین انتقام ہے کے مصداق عفیفہ کو بانجھ کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت اسے مچھرنی ہی رہنے دیں، سیاسی نظام نہ بنائیں کہ ڈلیور کرنے سے بھی جائے”۔
شہر میں موسلا دھار بارش برس رہی تھی، ہم ان کے دعوے کی تردید کرنے کا حوصلہ نہ جُٹا پائے تھے کہ بات تو سچ تھی مگر بات تھی۔۔۔۔۔۔۔ ، سو چپکے بیٹھے دیوار پر نصب ایل ایل ڈی پر ہائیڈرو الیکٹرک تباہ کاری کے شکار بد نصیبوں کا تازہ ترین اسکور کارڈ پڑھنے لگے۔

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *